TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان - نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان - نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 19 · 4 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۸۹۸۵)۔ عَنْ وَابِصَۃَیَعْنِی ابْنَ مَعْبَدٍ الْاَسَدِیَّ قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَنَا اُرِیْدُ اَنْ لا اَدَعَ شَیْئًا مِنَ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ اِلَّا سَاَلْتُہُ عَنْہُ وَحَوْلَہُ عِصَابَۃٌ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَیَسْتَفْتُوْنَہُ، فَجَعَلْتُ اَتَخَطَّاھُمْ، فَقَالُوْا: اِلَیْکَیَا وَابِصَۃُ! عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ، فَقُلْتُ: دَعْوْنِیْ فَاَدْنُوَ مِنْہُ فَاِنَّہُ اَحَبُّ النَّاسِ اِلَیَّ اَنْ اَدْنُوَ مِنْہُ، فَقَالَ: ((دَعُوْا وَابِصَۃَ، اُدْنُ یَا وَابِصَۃُ!)) مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلاثًا۔ قَالَ: فَدَنَوْتُ مِنْہُ حَتّٰی قَعَدْتُّ بَیْنَیَدَیْہِ، فَقَالَ: ((یَا وَابِصَۃُ! اُخْبِرُکَ اَوْ تَسْاَلُنِیْ؟ )) قُلْتُ: لا بَلْ اَخْبِرْنِیْ، فَقَالَ: ((جِئْتَ تَسْاَلُنِیْ عَنِ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ؟)) فَقَالَ: نَعَمْ، فَجَمَعَ اَنَامِلَہُ فَجَعَلَ یَنْکُتُ بِھِنِّ فِیْ صَدْرِیْ وَیَقُوْلُ: ((یَا وَابِصَۃُ! اسْتَفْتِ قَلْبَکَ وَاسْتَفْتِ نَفْسَکَ۔ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ۔ اَلْبِرُّ مَا اطْمَاَنَّتْ اِلَیْہِ النَّفْسُ، وَالْاِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِی الصَّدْرِ، وَاِنْ اَفْتَاکَ النَّاسُ وَاَفْتَوْکَ۔))(مسند احمد: ۱۸۱۶۹)
۔ سیدنا وابصہ بن معبد الاسدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پا س آیا، میرا ارادہ یہ تھا کہ نیکی اور گناہ کی ہر صورت کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کروں، مسلمانوں کی ایک جماعت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، وہ لوگ مختلف سوال کر رہے تھے، میں ان کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنے لگا، انھوں نے مجھے کہا: وابصہ! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دور ہٹ جا، لیکن میں نے کہا: مجھے چھوڑ دو، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہونا چاہتا ہوں، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے تمام لوگوں میں محبوب ترین ہیں، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وابصہ کو چھوڑ دو، وابصہ! آؤ میرے قریب ہو جاؤ۔ دو تین دفعہ یہ ارشاد فرمایا، پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوا اور آپ کے سامنے جا کر بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وابصہ! میں از خود تمہیں کچھ بتلا دو یا تم سوال کرو گے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ خود کچھ فرما دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آئے ہو، میں نے کہا: جی ہاں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی انگلیوں کو اکٹھا کیا اور وہ میرے سینے پر لگانے لگے اور فرمایا: وابصہ! اپنے دل سے پوچھ لیا کرو، اپنے دل سے پوچھ لیا کرو، تین بار فرمایا، نیکی وہ ہے جس پر نفس مطمئن ہو جائے اور گناہ وہ ہے جو نفس میں کھٹکے اور اس کے بارے میں سینے میں تردّد پیدا ہو، اگرچہ لوگ تجھے فتووں پر فتوے دیتے رہیں۔
Takhreej
(۸۹۸۵) تخریج:اسنادہ ضعیف من اجل الزبیر ابی عبد السلام، ثم ھو منقطع بینہ و بین ایوب، أخرجہ الدارمی: ۲۵۳۳، وابویعلی: ۱۵۸۶(انظر: ۱۸۰۰۶)
8985
Zaeef
۔ (۸۹۸۶)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جِئْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَسْاَلُہُ عَنِ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ، فَقَالَ: ((جِئْتَ تَسْاَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ ؟)) فَقُلْتُ: وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ! مَاجِئْتُ اَسْاَلُکَ عَنْ غَیْرِہِ، فَقَالَ: ((الْبِرُّ مَا انْشَرَحَ لَہُ صَدْرُکَ، وَالْاِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ صَدْرِکَ، وَاِنِْ اَفَتَاکَ عَنْہُ النَّاسُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۱۶۲)
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: میں نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کرنے کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھنے آئے ہو؟ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، میں اس کے علاوہ کوئی سوال کرنے کے لیے نہیں آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نیکی وہ ہے، جس پر تجھے انشراح صدر ہو جائے اور گناہ وہ ہے، جو تیرے سینے میں کھٹکنے لگ جائے، اگرچہ لوگ تجھے فتوی دیتے رہیں۔
Takhreej
(۸۹۸۶) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… جب کسی کام کے بارے میں انشراح صدر نہ ہو، بلکہ شک وشبہ سا پیدا ہو رہا ہو اور اس کے گناہ ہونے کا وہم پڑ رہا ہو تو اس کو ترک کر دینا چاہیے۔
8986
Zaeef
۔ (۸۹۸۷)۔ عَنْ اَبِیْ ثَعْلَبَۃَ الْخُشَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَخْبِرْنِیْ بِمَا یَحِلُّ لِیْ وَیُحَرَّمُ عَلَیَّ؟ قَالَ: فَصَعَّدَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَصَوَّبَ فِی النَّظْرِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْبِرُّ مَاسَکَنَتْ اِلَیْہِ النَّفْسُ وَاطْمَاَنَّ اِلَیْہِ الْقَلْبُ، وَالْاِثْمُ مَالَمْ تَسْکُنْ اِلَیْہِ النَّفْسُ وَلَمْ یَطْمَئِنَّ اِلَیْہِ الْقَلْبُ، وَاِنْ اَفْتَاکَ الْمُفْتُوْنَ۔)) وَقَالَ: ((لاتَقْرَبْ لَحْمَ الْحِمَارِ الْاَھْلِیِّ وَلا ذَا نَابٍ مِّنَ السِّبَاعِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۹۴)
۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ان چیزوں کے بارے میں بتلائیں جو میرے لیے حلال اور مجھ پر حرام ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی طرف نگاہ بلند کی اور پھر پست کی اور فرمایا: نیکی وہ ہے، جس پر نفس کو تسکین ملے اور دل کو اطمینان ہو اور برائی وہ ہے کہ جس پر نہ نفس کو سکون ملے اور نہ دل مطمئن ہو، اگرچہ فتوی دینے والے فتوی دیتے رہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید فرمایا: گھریلوں گدھے کے گوشت اور کچلی والے درندے کے قریب نہ جا۔
Takhreej
(۸۹۸۷) تخریج:اسنادہ صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۵۸۵ (انظر: ۱۷۷۴۲)
Explanation
فوائد:… مطلع ہونے والے لوگوں سے مراد معاشرے کے وہ باوقار اور فاضل لوگ ہیں، جن سے شرم محسوس کی جاتی ہے۔ بلا شک و شبہ شریعت ِ اسلامیہ میں نیکی اور گناہ والے امور کا وضاحت کے ساتھ تعین کر دیا گیا ہے۔ ان احادیث ِ مبارکہ میں جو قانون پیش کیا گیا ہے، یہ انتہائی سلیم الفطرت اور خدا شناس لوگوں سے متعلقہ ہے، نہ کہ عوام الناس سے، کیونکہ عام لوگوں کے پاس اتنی معرفت ِ الٰہییا اتنا شعور یا اتنا ذوق ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے نفس کی روشنی میں نیکییا برائی کا تعین کر سکیں۔ جیسا کہ علامہ عبیداللہ مبارکپوری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌نے کہا: اس حدیث کا تعلق ان لوگوں سے ہے، جن کے باطن آلائشوں سے صاف اور دل گناہوں سے پاک ہوتے ہیں،یہ حدیث عوام الناس سے متعلقہ نہیں ہے، بالخصوص گنہگار لوگ، کیونکہ وہ بیچارے تو بسا اوقات گناہ کو نیکی اور نیکی کو گناہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ (مرعاۃ المفاتیح: ۱/ ۱۱۷) عصر حاضر میں لوگوں کی کیفیت نے مبارکپوری صاحب کے مفہوم کی بہت حد تک تائید کی ہے۔ ہر ایک نے اپنی زندگی کے لیے نیکی و بدی کے خود ساختہ معیار بنا رکھے ہیں، جو عالم ان کی کسوٹی کی مخالفت میں فتوییا دلائل پیش کرے گا، اسے یا تو اتنی اہمیت ہی نہیں دی جائے گی کہ اس کی بات پر توجہ کی جائے یا پھر اسے کہا جائے گا کہ اسلام میں اتنی سختی نہیں ہے۔ ایک مثال یہ ہے کہ ایک آدمی بہت کم بولتا تھا، دوسروں کے بارے میںتبصرہ نہیں کرتا ہے اور بے ضرر سا انسان تھا، لیکن بے نماز تھا، تلاوتِ کلام پاک سے بعید تھا، عورتوں کے پردے والے معاملات کی پابندی نہیں کرتا تھا، ہلکا ہلکا نشہ بھی کرتا تھا اور داڑھی مونڈتا تھا۔ صرف اس کی خاموشی کو دیکھ کر دنیوی سطح کے مطابق پڑھے لکھے لوگوں نے کہا کہ وہ تو کوئی فرشتہ ہے، کیونکہ وہ خاموش رہتا ہے اور کسی دوسرے آدمی کے معاملے میں کوئی دخل نہیں دیتا۔ یہ کسی کو نیکیا بد کہنے کا عوام الناس کا معیار ہے کہ بے نماز کو فرشتہ کہا جا رہا ہے، جائز حد تک خاموشی اچھا وصف ہے، لیکن سارے کا سارا اسلام اسی خصلت میں پنہاں نہیں ہے۔ عوام الناس کے لیے معیار قرآن اور حدیث ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں نیکیوں اور گناہوں کو سمجھیں اور پھر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے تقاضے پورے کریں۔
8987
Sahih
۔ (۸۹۸۸)۔ عَنِ النَّوَاسِ بْنِ سَمْعَانَ الْاَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اِنَّہُ سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْبِرِّ وَالْاِثْمِ ؟ فَقَالَ: ((اَلْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْاِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ صَدْرِکَ وَکَرِھْتَ اَنْ یَّطَّلِعَ النَّاسُ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۸۳)
۔ سیدنا نواس بن سمعان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو یہ جواب دیا: نیکی تو حسنِ اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے، جو تیرے سینے میں کھٹکے اور یہ بات تجھے ناپسند لگے کہ لوگ اس پر مطلع ہو جائیں۔
Takhreej
(۸۹۸۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الترمذی: ۲۳۸۹ (انظر: ۱۷۶۳۳)
8988
Sahih

Chapters

19
01
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
4 Hadith
02
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
26 Hadith
03
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
10 Hadith
04
اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
05
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
06
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
07
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
7 Hadith
08
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
09
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
6 Hadith
10
مہمان کے لیے تکلف نہ کرنے کا بیان
2 Hadith
11
ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
9 Hadith
12
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
2 Hadith
13
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
8 Hadith
14
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
6 Hadith
16
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
17
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
18
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
9 Hadith
19
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
No chapter matched that.