TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان - مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان - نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 17 of نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 17 of 19 · 5 Hadith
۔ (۹۱۲۷)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ: رَکِبَ اَبُوْ اَیُوْبَ الْاَنْصَارِیُّ اِلٰی عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ اِلٰی مِصْرَ فَقَالَ: اِنِّیْ سَائِلُکَ عَنْ اَمْرٍ لَمْ یَبْقَ مِمَّنْ حَضَرَہُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَّا اَنَا وَاَنْتَ، کَیْفَ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِیْ سِتْرِ الْمُؤْمِنِ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ سَتَرَ مُؤْمِنًا فِی الدُّنْیَا عَلٰی عَوْرَۃٍ، سَتَرَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) فَرَجَعَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَمَا حَلَّ رَحْلَہُ یُحَدِّثُ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ۔ (مسند احمد: ۱۷۵۹۳)
۔ ابن جریج نے کہا: سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سوار ہوئے اور مصر میں سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پہنچے اور کہا: میں تم سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کرنے لگا ہوں کہ صحابہ کرام میں سے میں اور تم ہی باقی رہ گئے ہیں، جو اس کے بیان کے وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر تھے، تو بتلائیے کہ تم نے مؤمن کا پردہ رکھنے کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کون سی حدیث سنی تھی؟ انھوں نے کہا: جی میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے دنیا میں کسی مومن کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر پردہ ڈالے گا۔
Takhreej
(۹۱۲۷) تخریج:المرفوع منہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ، فان ابن جریج لم یدرک احدا من الصحابۃ، أخرجہ : الطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۱۰۶۷، والحمیدی: ۳۸۴ (انظر: ۱۷۴۵۴)
9127
Sahih
۔ (۹۱۲۸)۔ عَنْ مُنِیْبٍ، عَنْ عَمِّہِ، قَالَ: بَلَغَ رَجُلًا مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ سَتَرَ اَخَاہُ الْمُسْلِمَ فِی الدُّنْیَا سَتَرَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) فَرَحَّلَ وَھُوَ بِمِصْرََ فَسَاَلَہُ عَنِ الْحَدِیْثِ قَالَ: نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ سَتَرَ اَخَاہُ الْمُسْلِمَ فِی الدُّنْیَا سَتَرَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالَ: وَاَنَا قَدْ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۶۷۱۳)
۔ منیب اپنے چچے سے بیان کرتے ہیں کہ جب ایک صحابی کو پتہ چلا کہ ایک دوسرا صحابی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ حدیث بیان کرتا ہے کہ جس نے دنیا میں اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کی تو اللہ تعالیٰ قیامت والے دن اس کی پردہ پوشی کریں گے۔ پس اس آدمی نے رخت ِ سفر باندھا، جبکہ وہ دوسرا آدمی مصر میں تھا، بہرحال وہ اس کے پاس پہنچا اور اس حدیث کے بارے میں سوال کیا، اس نے جواباً کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہفرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے دنیا میں اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کی،اللہ تعالیٰ قیامت والے دن اس کی پردہ پوشی کریں گے۔ یہ حدیث میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی۔
Takhreej
(۹۱۲۸) تخریج:مرفوعہ صحیح لغیرہ، وھذا اسناد ضعیف، منیب لا یعرف، وعمہ مبھم، مؤمل سییء الحفظ (انظر: ۱۶۵۹۶)
9128
Sahih
۔ (۹۱۲۹)۔ عَنْ مَکْحُوْلٍ، اَنَّ عُقْبَۃَ اَتٰی مَسْلَمَۃَ بْنَ مَخْلَدٍ بِمِصْرَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ رَکِبَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ اِلٰی مَسْلَمَۃَ بْنِ مَخْلَدٍ وَھُوَ اَمِیْرٌ عَلٰی مِصْرَ) وَکَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَوَّابِ شَیْئٌ، فَسَمِعَ صَوْتَہُ، فَاَذِنَ لَہُ، فَقَالَ: اِنِّیْ لَمْ آتِکَ زَائِرًا وَلٰکِنِّیْ جِئْتُکَ لِحَاجَۃٍ اَتَذْکُرُ یَوْمَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ عَلِمَ مِنْ اَخِیْہِ سَیِّئَۃً فَسَتَرَھَا سَتَرَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ؟)) فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: لِھٰذَا جِئْتُ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۸۵)
۔ مکحول کہتے ہیں: سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا مسلمہ بن مخلد کے پاس مصر میں گئے، ایک روایت میں ہے: سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سوار ہوئے اور سیدنا مسلمہ بن مخلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پہنچے، جبکہ وہ مصر کے امیر تھے، ان کے اور پہرے دار کے مابین کوئی تکرار ہو گیا، سیدنا مسلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خود آواز سن لی اور ان کو اندر آنے کی اجازت دے دی، انھوں نے کہا: میں اس بار تمہاری زیارت کے لیے آیا ہوں نہ اپنی کسی ضرورت کے لیے، بات یہ ہے کہ کیا تمہیں وہ دن یاد ہے، جس دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ جس کو اپنے بھائی کی کسی برائی کا پتہ چلا، لیکن اس نے اس پر پردہ رکھا تو اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس پر پردہ ڈالے گا۔ ؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، مجھے یاد ہے، انھوں نے کہا: جی میں اس مقصد کے لیے آیا تھا۔
Takhreej
(۹۱۲۹) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۱۰۶۷(انظر: ۱۶۹۶۰)
9129
Sahih
۔ (۹۱۳۰)۔ عَنْ دُخَیْنٍ کَاتِبِ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِعُقْبَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ لَنَا جِیْرَانًایَشْرَبُوْنَ الْخَمْرَ وَاَنَا دَاعٍ لَھُمُ الشُّرَطَ فَیَاْخُذُوْھُمْ، فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ، وَلٰکِنْ عِظْھُمْ وَتَھَدَّدْھُمْ، قَالَ: فَفَعَلَ، فَلَمْ یَنْتَھُوْا، قَالَ: فَجَائَ ہُ دُخَیْنٌ، فَقَالَ: اِنِّیْ نَہَیْتُھُمْ فَلَمْ یَنْتَھُوْا، وَاَنَا دَاعٍ لَھُمُ الشُّرَطَ، فَیَاْخُذُوْھُمْ، فَقَالَ عُقْبَۃُ: وَیْحَکَ، لا تَفْعَلْ، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ سَتَرَ عَوْرَۃَ مُؤْمِنٍ، فَکَاَنَّمَا اسْتَحْیَامَوْؤُوْدَۃً مِنْ قَبْرِھَا۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((کَانَ کَمَنْ اَحْیَا مَوْؤُوْدَۃً مِنْ قَبْرِھَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۳۰)
۔ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے کاتب دُخَین کہتے ہیں: میں نے سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: ہمارے بعض پڑوسی شراب پیتے ہیں، میں ان کے لیے پولیس کو بلاتا ہوں تاکہ وہ ان کو پکڑ لیں، لیکن انھوں نے کہا: ایسا نہ کر، البتہ ان کو وعظ و نصیحت کر اور ڈرا، اس نے ایسے ہی کیا، لیکن وہ باز نہ آئے، سو دُخَین دوبارہ آگیا اور کہا: بیشک میں نے ان کو منع کیا ہے، لیکن وہ باز نہیں آئے، اس لیے اب میں ان کے لیے پولیس والوں کو بلانے لگا ہوں تاکہ وہ ان کو پکڑ لیں، سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تجھ پر افسوس ہے، ایسے نہ کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کویہ فرماتے ہوئے سناتھا کہ جس نے کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالا تو گویا کہ اس نے کسی درگور کی جانے والی بچی کو زندہ کر دیا۔ ایک روایت میں ہے: وہ اس شخص کی مانند ہو گا، جو درگور کی جانے والی بچی کو قبر سے زندہ کر دے۔
Takhreej
(۹۱۳۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لاضطراب فی اسنادہ، ولجھالۃ ابی الھیثم، أخرجہ ابوداود: ۴۸۹۲ (انظر: ۱۷۳۹۵)
9130
Zaeef
۔ (۹۱۳۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لا یَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِی الدُّنْیَا، اِلاَّ سَتَرَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۲۳۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو بندہ بھی دنیا میں کسی بندے کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت والے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔
Takhreej
(۹۱۳۱) تخریج:حدیث صحیح(انظر: ۹۲۴۸)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ہاں اسلام کا اظہار کرنے والے وجود کے اکرام کا اندازہ لگائیں، کسی کی پردہ پوشی کرنا کوئی عمل نہیں ہے، بلکہ ہلکا سا صبر کر کے زبان کو کنٹرول کرنے کا نتیجہ ہے، لیکن صد افسوس امت ِ مسلمہ مسلمان کی اس شان کو پہچاننے سے قاصر ہے اور ہر کوئی دوسرے کی عیب جوئی کر کے اپنے آپ کو کامل مسلمان ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپنی ذات کے منفی پہلو اور دوسروں کے مثبت پہلوؤں کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا اور پھر اپنی ذات کو دوسروں کے مثبت پہلوؤں سے متصف کرنے کی کوشش کی جاتی، لیکن معاملہ اس کے برعکس ثابت ہوا اور ہر ایک نے اپنے مثبت پہلو کے زعم میں دوسرے کے منفی پہلوؤں پر خوب کیچڑ اچھالا، یہ گناہ والاکام تو ہے ہی سہی، لیکن اس کا بڑا نقصان یہ ہوا کہ لوگوں کو ان کی اصلاح کا موقع نہیں ملا اور ان کے مزاجوں میں فساد آ گیا۔
9131
Sahih

Chapters

19
01
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
4 Hadith
02
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
26 Hadith
03
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
10 Hadith
04
اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
05
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
06
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
07
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
7 Hadith
08
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
09
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
6 Hadith
10
مہمان کے لیے تکلف نہ کرنے کا بیان
2 Hadith
11
ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
9 Hadith
12
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
2 Hadith
13
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
8 Hadith
14
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
6 Hadith
16
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
17
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
18
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
9 Hadith
19
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
No chapter matched that.