TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان - مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان - نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 13 of نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 13 of 19 · 8 Hadith
۔ (۹۱۰۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ۔)) قَالُوْا: لِمَنْ؟ قَالَ: ((لِلّٰہِ وَرَسُوْلِہِ وَلِاَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۳۲۸۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دین خیرخواہی ہے۔ صحابہ نے کہا: کس کے لیے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی، اس کے رسول اور مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے۔
Takhreej
(۹۱۰۳) تخریج:صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی: ۱۱۱۹۸، والبزار: ۶۱، ابویعلی: ۲۳۷۲(انظر: ۳۲۸۱)
9103
Sahih
۔ (۹۱۰۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنََّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ۔)) ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ۔ قَالَ: قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لِمَنْ؟ قَالَ: ((لِلّٰہِ وَلِکِتَابِہٖوَلِاَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۷۹۴۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دین خیرخواہی ہے۔ تین بار فرمایا، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی، اس کی کتاب اور مسلمانوں کے لیڈروں کے لیے۔
Takhreej
(۹۱۰۴) تخریج:متن الحدیث صحیح، وقد تکلم بعض اھل العلم علی الاختلاف الذی وقع فی الاسناد، أخرجہ النسائی: ۷/ ۱۵۷ (انظر: ۷۹۵۴)
9104
Sahih
۔ (۹۱۰۵)۔ عَنْ تَمِیْمِ نِ الدَّارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ، اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ۔)) ثَلاثًا۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((اِنَّمَا الدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ۔)) قَالُوْا: لِمَنْ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((لِلّٰہِ وَلِکِتَابِہٖ وَلِرَسُوْلِہِ، وَلِاَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنِ وَعَامَّتِھِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۶۴)
۔ سیدنا تمیم داری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دین خیرخواہی ہے، دین خیرخواہی ہے۔ تین دفعہ فرمایا، ایک روایت میں ہے: صرف اور صرف دین خیرخواہی کا نام ہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی، اس کی کتاب، اس کے رسول، مسلمانوں کے حکمرانوں اور عام مسلمانوں کے لیے۔
Takhreej
(۹۱۰۵) تخریج:أخرجہ مسلم: ۵۵، وعلقہ البخاری فی صحیحہ فی باب قول النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : الدین النصیحۃ للہ ولرسولہ ولائمۃ المسلمین وعامتھم۔ (انظر: ۱۶۹۴۰)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کے لیے خیر خواہییہ ہے کہ اس کی وحدانیت کے بارے میں صحیح اعتقاد رکھا جائے اور خلوص نیت کے ساتھ اس کی عبادت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی خیرخواہییہ ہے کہ اس کی تصدیق کی جائے اور اس کے احکام پر عمل کیا جائے، رسول کے لیے خیر خواہییہ ہے کہ اس کی نبوت ورسالت کی تصدیق کی جائے اور اس کے اوامر و نواہی کے تقاضے پورے کیے جائیں،ائمہ مسلمین کے لیے خیرخواہییہ ہے کہ امورِ حق میں ان کی اطاعت کی جائے اور ان کی بغاوت نہ کی جائے اور عام مسلمانوں کے لیے خیر خواہییہ ہے کہ ان کی مصلحتوں کی طرف ان کی رہنمائی کی جائے۔
9105
Sahih
۔ (۹۱۰۶)۔ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ اَبِیْیَزِیْدَ عَنْ اَبِیْہِ عَمَّنْ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((دَعُوْا النَّاسَ فَلْیُصِبْ بَعْضُھُمْ مِنْ بَعْضٍ فَاِذَا اسْتَنْصَحَ رَجُلٌ اَخَاہُ فَلْیَنْصَحْ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۴۷۱)
۔ ایک صحابی ٔ رسول ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں کو چھوڑ دو تاکہ بعض بعض سے نفع حاصل کر سکے، ہاں جب کوئی کسی سے نصیحت طلب کرتے تو وہ نصیحت کرے۔
Takhreej
(۹۱۰۶) تخریج:حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ البخاری فی التاریخ الکبیر : ۳/ ۱۵(انظر: ۲۸۲۸۲)
Explanation
فوائد:… لوگوں کو چھوڑ دینے سے مراد یہ ہے کہ بیچنے والوں اور خریدنے والوں کو چھوڑ دو، وہ آپس میں سودا کر لیں گے، تم بیچ میں آ کر قیمتوں کے مشورے نہ دو اور دلّالی نہ کرو، ہاں جب کوئی آدمی مشورہ طلب کرے تو ذاتی مفاد سے بالا تر ہو کر اس کی خیرخواہی کر دی جائے۔
9106
Sahih
۔ (۹۱۰۷)۔ عَنْ جَرِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: اُبَایِعُکَ عَلَی الْاِسْلامِ فَقَبَضَ یَدَہُ وَقَالَ: ((النُّصْحُ لِکُلِّ مُسْلِمٍ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۷۴)
۔ سیدنا جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لیا اور فرمایا: ہر مسلمان کے لیے خیر خواہی کرنی ہو گی۔
Takhreej
(۹۱۰۷) تخریج:حدیث صحیح (انظر: ۱۹۱۶۱)
9107
Sahih
۔ (۹۱۰۸)۔ عَنْ زَیَادِ بْنِ عِلاقَۃَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِیْرَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَامَ یَخْطُبُیَوْمَ تُوُفِّیَ الْمُغِیْرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ فَقَالَ: عَلَیْکُمْ بِاتِّقَائِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَالْوَقَارِ وَالسَّکِیْنَۃِ حَتّٰییَاْتِیَکُمْ اَمِیْرٌ، فَاِنَّمَایَاْْتِیْکُمُ الْآنَ، ثُمَّ قَالَ: اسْتَعْفُوْا لِاَمِیْرِکُمْ فَاِنَّہُ کَانَ یُحِبُّ الْعَفْوَ، وَقَالَ: اَمَّا بَعْدُ فَاِنِّیْ اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: اُبَایِعُکَ عَلَی الْاِسْلامِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : وَاشْتَرَطَ عَلَیَّ ((وَالنُّصْحَ لِکُلِّ مُسْلِمٍ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((وَتَنْصَحُ لِلْمُسْلِمِ وَتَبْرَاُ مِنَ الْکَافِرِ۔)) فَبَایَعْتُہُ عَلٰی ھٰذَا وَرَبِّ ھٰذَا الْمَسْجِدِ! اِنِّیْ لَکُمْ لَنَاصِحٌ جَمِیْعًا ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَنَزَلَ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۶۵)
۔ زیاد بن علاقہ کہتے ہیں: جس دن سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوئے، اس دن سیدنا جریر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کھڑے ہو کر مسلمانوں سے خطاب کیا اور کہا: تم پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور نیا امیر آنے تک وقار اور سکینت اختیار کرو، بس وہ ابھی آنے والا ہے۔ پھر کہا: اپنے امیر سیدنا مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے معافی کا سوال کرو، کیونکہ وہ معافی کو پسند کرتے تھے۔ ایک حدیث بھی سن لو، أَمَّا بَعْدُ! میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور کہا: میں اسلام پر آپ کی بیعت کرتا ہوں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ پر یہ شرط لگائی کہ میں ہر مسلمان کے لیے خیرخواہی کروں۔ ایک روایت میں ہے: اور تو ہر مسلمان کے لیے خیرخواہی کرے اور کافر سے براء ت کا اظہار کرے۔ اس مسجد کے ربّ کی قسم! میں نے اسی چیز پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، اور اب میں تم سب کی خیرخواہی کر رہا ہوں۔ پھر انھوں نے بخشش کا سوال کیا اور نیچے اتر آئے۔
Takhreej
(۹۱۰۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۸، ومسلم: ۵۶ (انظر: ۱۹۱۵۳)
9108
Sahih
۔ (۹۱۰۹)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: اَحَبُّ مَاتَعَبَّدَنِیْ بِہٖعَبْدِیْ اِلیَّ النُّصْحُ لِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۴۴)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چیز، جس کے ذریعے بندہ میری عبادت کرتا ہے، یہ ہے کہ میرے لیے خیرخواہی کی جائے۔
Takhreej
(۹۱۰۹) تخریج:اسنادہ ضعیف جدا، عبیداللہ بن زحر الافریقی ضعیف، وعلی بن یزید بن ابی ھلال الالھانی واھی الحدیث، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۸۸۰(انظر: ۲۲۱۹۱)
9109
Zaeef
۔ (۹۱۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، رَفَعَہُ، وَقَالَ شَاذَانُ مَرَّۃً: عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ۔)) وَذَکَرَ شَاذَانُ اَیْضًا حَدِیْثَ ((الدَّالُّ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۷۱۸)
۔ سیدنا ابو مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ شخص امانتدار ہو تا ہے، جس سے مشورہ طلب کیا جائے۔ شاذان راوی نے یہ حدیث بھی ذکر کی: نیکی پر رہنمائی کرنے والا اس نیکی کو کرنے والے کی طرح ہے۔
Takhreej
(۹۱۱۰) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر ف: ۱۷/ ۶۲۹ (انظر: ۲۲۳۶۰)
Explanation
فوائد:… مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کرنے کا مطلب ہے کہ مسلمان کے لیے خیر و بھلائی کو پسند کرنا، یہ بڑی جامع احادیث ہیں، بظاہر تو دو چار الفاظ پر مشتمل ہیں کہ ہر مسلمان کے لیے خیر خواہی کرنی ہو گی۔ لیکن دوسرے تمام مسلمانوں کے جملہ حقوق بیان کر دیئے ہیں، کسی کے لیے خیر چاہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حتی الوسع اس کو فائدہ پہنچایا جائے، اس کو اچھا مشورہ دیا جائے اور اس کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے، بالخصوص جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے مشورہ طلب کرے تو مشورہ دیتے وقت تمام مفید اور مضر پہلوؤں کو واضح کیا جائے اور کسی بخل سے کام نہ لیا جائے۔ اگلے باب کی احادیث پر غور کرنے سے خیر خواہی کا مفہوم سمجھنے میں مدد ملے گی۔
9110
Sahih

Chapters

19
01
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
4 Hadith
02
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
26 Hadith
03
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
10 Hadith
04
اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
05
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
06
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
07
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
7 Hadith
08
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
09
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
6 Hadith
10
مہمان کے لیے تکلف نہ کرنے کا بیان
2 Hadith
11
ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
9 Hadith
12
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
2 Hadith
13
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
8 Hadith
14
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
6 Hadith
16
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
17
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
18
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
9 Hadith
19
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
No chapter matched that.