۔ (۹۰۸۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو رضی اللہ عنہ ، اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَیُّ الْاَعْمَالِ خَیْرٌ؟ قَالَ: ((اَنْ تُطْعِمَ الطَّعَامَ، وَتَقْرَاَ السَّلامَ عَلٰی مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ۔)) (مسند احمد: ۶۵۸۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا کھانا کھلانا اور سلام کہنا ہر شخص کو، تیری اس سے معرفت ہو یا نہ ہو۔
Takhreej
(۹۰۸۴) تخریج:أخرجہ البخاری۱۲، ۲۸، ۶۲۳۶، ومسلم: ۳۹ (انظر: ۶۵۸۱)
Explanation
فوائد:… مہمان کے اکرام کی بنیاد ذاتی معرفت نہیں ہونی چاہیے، جیسا کہ اکثر لوگوں کا رویہ بن چکا ہے، آج کل دو چیزوں کو ہی ترجیح دی جا رہی ہے، ایک ذاتی معرفت اور ایک سرمایہ داری، جس مہمان میں یہ دو صفات نہ ہوں، اس کے ساتھ تو دعا سلام لینا گوارہ نہیں کیا جاتا، یہ فرق اسلامی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہے۔
9084
Sahih