TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان - ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان - نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 19 · 6 Hadith
۔ (۹۰۸۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَیُّ الْاَعْمَالِ خَیْرٌ؟ قَالَ: ((اَنْ تُطْعِمَ الطَّعَامَ، وَتَقْرَاَ السَّلامَ عَلٰی مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ۔)) (مسند احمد: ۶۵۸۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا کھانا کھلانا اور سلام کہنا ہر شخص کو، تیری اس سے معرفت ہو یا نہ ہو۔
Takhreej
(۹۰۸۴) تخریج:أخرجہ البخاری۱۲، ۲۸، ۶۲۳۶، ومسلم: ۳۹ (انظر: ۶۵۸۱)
Explanation
فوائد:… مہمان کے اکرام کی بنیاد ذاتی معرفت نہیں ہونی چاہیے، جیسا کہ اکثر لوگوں کا رویہ بن چکا ہے، آج کل دو چیزوں کو ہی ترجیح دی جا رہی ہے، ایک ذاتی معرفت اور ایک سرمایہ داری، جس مہمان میں یہ دو صفات نہ ہوں، اس کے ساتھ تو دعا سلام لینا گوارہ نہیں کیا جاتا، یہ فرق اسلامی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہے۔
9084
Sahih
۔ (۹۰۸۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیِوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَحْفَظْ جَارَہُ، وَمَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًا اَوْ لِیَصْمُتْ۔)) (مسند احمد: ۶۶۲۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی ضیافت کرے، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے ہمسائے کی حفاظت کرے، اسی طرح جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔
Takhreej
(۹۰۸۵) تخریج:صحیح لغیرہ (انظر: ۶۶۲۱)
9085
Sahih
۔ (۹۰۸۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ ضَیْفَہُ۔)) قَالَھَا ثَلاثًا، قَالُوْا: وَمَا کَرَامَۃُ الضَّیْفِیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((ثَلاثَۃُ اَیَّامٍ، فَمَا جَلَسَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَہُوَ عَلَیْہِ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۴۹)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات تین بار ارشاد فرمائی، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مہمان کا اکرام کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین دن، اور اس کے بعد بھی اگر وہ بیٹھا رہے تو ضیافت اس پر صدقہ ہو گی۔
Takhreej
(۹۰۸۶) تخریج:صحیح لغیرہ (انظر: ۱۱۷۲۶)
9086
Sahih
۔ (۹۰۸۷)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لا خَیْرَ فِیْمَنْ لا یُضِیْفُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۵۵)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس آدمی میں کوئی خیر نہیں ہے، جو مہمان نوازی نہیں کرتا۔
Takhreej
(۹۰۸۷) تخریج: حدیث حسن (انظر: ۱۷۴۱۹)
Explanation
فوائد:… اسلام انسانیت کی تکریم اور غمگساری کا خواہاں ہے، اسی خواہش کا تقاضا ہے کہ مہمان کی عزت کی جائے، اس کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا جائے، حسب ِ استطاعت اور خوش دلی سے اس کی مہمانی کی جائے اور اس کے آرام و راحت کا خیال رکھا جائے۔ اسلام نے نہ صرف مہمانی پر زور دیا، بلکہ اس کے تمام آداب مقرر کر دیے اور جہاں مہمان نوازی کو اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان لانے کا تقاضا قرار دیا، وہاں مہمان کو بھی تنبیہ کر دی کہ وہ اپنے میزبان کے پاس اتنا نہ ٹھہرے کہ وہ اس سے تنگ آ جائے۔ بہر حال مہمان نوازی سے جی چرانا خیرو بھلائی سے محرومی کاباعث ہے، مہمان خیرو برکت کا باعث بنتا ہے، جب سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کی بیوی نے خود کو اور اپنے بچوں کو بھوکا رکھ کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مہمان کی میزبانی کا حق ادا کیا تو ان کے اندازِ میزبانی پر اللہ تعالیٰ مسکرائے اور یہ آیات نازل فرما دیں: {وَیُؤثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِھِمْ وَلَوْکَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہِ فَأُولٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ} (سورۂ حشر: ۹)… اور وہ (دوسرے حاجتمندوں کو) اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ اُن کو سخت بھوک ہو اور جو لوگ نفسوں کی بخیلی سے بچ گئے، وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔ (الصحیحۃ:۳۲۷۲) اس سے بڑی سعادت کیا ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے عمل پر تعجب کرے اور مسکرائے اور رہتی دنیا تک اپنے کلام میں اس کا تذکرہ کر دے۔ لہٰذاہمیں خوشنودیٔ الہی کے حصول کے لیے، فقر و فاقہ سے نہ ڈرتے ہوئے فراخ دلی سے مہمان کی خدمت کرنی چاہئے، اللہ تعالیٰ خیر و برکت کے دروازے کھول دے گا۔ غور فرمائیں کہ میزبانی کے وصف سے محروم شخص کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بے برکتا اور خیر سے محروم قرار دیا ہے۔ قارئین کرام! یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ہم لوگ معرفت اورعدم معرفت کو سامنے رکھ کر مہمانوں کی میزبانی میں بہت زیادہ فرق کرتے ہیں۔ مثلا ایک مہمان کی پرتکلف خدمت کی، ایک کو صلح شلح پہ ٹال دیا، ایک کو اتنا کمتر سمجھا کہ اسے چائے وائے کا ست کرنا بھی گوارہ نہ کیا اورکسی کے لیے تو گھر سے نکلنا ہی مناسب نہ سمجھا اور بچے یا خادم کے ذریعے اسے کوئی پیغام بھیج دینا ہی کافی سمجھ لیا۔ احباب! یہ فرق کیوں ہے؟ کیا اس لیے نہیں کہ پہلے سے جناب کی دوستی تھی، دوسرے سے کچھ دعا وسلام تھا اور تیسرا اجنبی تھا۔ کیا ایسی میزبانی میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نام دکھائی دیتا ہے؟ کیا اسلام کے رشتے کو مد نظر رکھا گیا ہے؟کیا مہمان کییہ خدمتیں بطورِ مہمان ہیںیا ذاتی تعلق کی بنا پر؟ میزبانی کے ایسے انداز سے ہمیں باز آ جانا چاہئے، یہ مسکراہٹوں کے تبادلے اور دنیاداری ہے۔
9087
Sahih
۔ (۹۰۸۸)۔ عَنْ مَالِکِ بْنِ نَضْلَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! رَجُلٌ نَزْلَتُ بِہٖفَلَمْیَقْرِنِیْ وَلَمْ یُکْرِمْنِیْ ثُمَّ نَزَلَ بِیْ اَقْرِیْہِ اَوْ اَجْزِیْہِ بِمَا صَنَعَ قَالَ: ((بَلِ اقْرِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۹۸۶)
۔ سیدنا مالک بن نضلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک آدمی کے پاس گیا، اس نے نہ میری ضیافت کی اور نہ میری عزت کی، پھر اگر وہی آدمی میرے پاس آ جائے تو کیا میں اس کی ضیافت کروں یا اس کو اس کے کیے کا بدلہ دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلکہ تو اس کی ضیافت کر۔
Takhreej
(۹۰۸۸) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الطیالسی: ۱۳۰۳، ۱۳۰۴، والطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۶۰۸، والحاکم: ۱/ ۲۴ (انظر: ۱۵۸۹۱)
9088
Sahih
۔ (۹۰۸۹)۔ عَنْ سِنَانِ بْنِ سَنَّۃَ صَاحِبِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((الطَّاعِمُ الشَّاکِرُ لَہُ مِثْلُ اَجْرِ الصَّائِمِ الصَّابِرِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۲۳)
۔ صحابی ٔ رسول سیدنا سنان بن سنّہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شکریہ ادا کرنے والے کھانے والے کا اجر روزہ رکھنے والے اور صبر کرنے والے کی طرح ہے۔
Takhreej
(۹۰۸۹) تخریج:حدیث حسن (انظر: ۱۹۰۱۴)
Explanation
فوائد:… بندے کو ہر حالت میں شریعت کے تقاضے پورے کرنے چاہیے۔ اگر مال دار، کھاتا پیتا ہے تو اللہ کی نعمتیں استعمال کرکے شکر ادا کرے اور اس کی فرمانبرداری میں لگا رہے اور اگر تنگی ترشی ہے تو اللہ کے لیے صبر کرے، اس کی تقسیم پر راضی رہے، اس طرح دونوں حالتوں میں آدمی اجر وثواب کا حقدار ٹھہرے گا۔
9089
Sahih

Chapters

19
01
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
4 Hadith
02
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
26 Hadith
03
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
10 Hadith
04
اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
05
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
06
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
07
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
7 Hadith
08
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
09
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
6 Hadith
10
مہمان کے لیے تکلف نہ کرنے کا بیان
2 Hadith
11
ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
9 Hadith
12
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
2 Hadith
13
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
8 Hadith
14
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
6 Hadith
16
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
17
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
18
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
9 Hadith
19
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
No chapter matched that.