TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان - والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان - نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 19 · 26 Hadith
۔ (۸۹۸۹)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ اَحَبَّ اَنْ یُمَدَّ لَہُ فِیْ عُمْرِہِ، وَاَنْ یُزَادَ لَہُ فِیْ رِزْقِہِ، فَلْیَبَرَّ وَالِدَیْہِ، وَلْیَصِلْ رَحِمَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۳۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمییہ پسند کرتا ہے کہ اس کی عمر بڑھا دی جائے اور اس کے رزق میں اضافہ کر دیا جائے تو وہ اپنے والدین سے نیکی کرے اور صلہ رحمی کرے۔
Takhreej
(۸۹۸۹) تخریج:حدیث صحیح (انظر: ۱۳۴۰۱)
Explanation
فوائد:… عمر بڑھنے سے مراد برکت ہے، مزید دیکھیں حدیث نمبر (۹۰۴۹)
8989
Sahih
۔ (۸۹۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لا یَجْزِیْ وَلَدٌ وَالِدَہُ، اِلَّا اَنْ یَجِدَہُ مَمْلُوْکًا، فَیَشْتَرِیَہُ فَیُعْتِقَہُ۔)) (مسند احمد: ۷۵۶۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ اپنے باپ یا ماں کو بدلہ نہیں دے سکتا، الا یہ کہ وہ اس کو غلام پائے اور اسے خرید کر آزاد کر دے۔
Takhreej
(۸۹۹۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۱۰(انظر: ۷۵۷۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کی فقہ یہ ہے کہ اس اعتبار سے غلام بھی میت کی طرح ہوتا ہے کہ اس کو تصرف کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا، اس لیے اس کی آزادی اس کی زندگی کی طرح ہے، پس جس آدمی نے اپنے باپ کو آزاد کیا، تو گویا اس نے اپنے باپ کو زندہ کر دیا، جیسے اس کا باپ اس کی زندگی کا سبب بنا تھا، گویا اس نے باپ کے احسان کا جواب دے دیا۔
8990
Sahih
۔ (۸۹۹۱)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَوْصَاہُ بِعَشْرِ کَلِمَاتٍ (مِنْھَا) ((وَلا تَعُقَّنَّ وَالِدَیْکَ وَاِنْ اَمَرَاکَ اَنْ تَخْرُجَ مِنْ اَھْلِکَ وَمَالِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۲۵)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دس کلمات کی وصیت کی، ان میں سے ایک وصیتیہ تھی: اور تو نے ہر گزاپنے والدین کی نافرمانی نہیں کرنی، اگرچہ وہ تجھے حکم دیں کہ تو اپنے اہل اور مال سے دور ہو جائے۔
Takhreej
(۸۹۹۱) تخریج:اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، عبد الرحمن بن جبیر بن نفیر لم یدرک معاذا، أخرجہ بنحوہ ابن ماجہ: ۳۳۷۱، ۴۰۳۴(انظر: ۲۲۰۷۵)
8991
Zaeef
۔ (۸۹۹۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: جِئْتُ لِاُبَایِعُکَ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ اُخْرٰی عَلَی الْھِجْرَۃِ) وَتَرَکْتُ اَبَوَیَّیَبْکِیَانِ، قَالَ: ((فَارْجِعْ اِلَیْھِمَا، فَاَضْحِکْہُمَا کَمَا اَبْکَیْتَھُمَا۔)) وَاَبٰی اَنْ یُبَایِعَہُ۔ (مسند احمد: ۶۸۳۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں ہجرت پر آپ کی بیعت کرنے کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں، لیکن میں نے اپنے والدین کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ وہ رو رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو ان کی طرف لوٹ جا اور جیسے تو نے ان کو رلایا ہے، اسی طرح ان کو ہنسا۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کی بیعت لینے سے انکار کر دیا۔
Takhreej
(۸۹۹۱) تخریج:اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، عبد الرحمن بن جبیر بن نفیر لم یدرک معاذا، أخرجہ بنحوہ ابن ماجہ: ۳۳۷۱، ۴۰۳۴(انظر: ۲۲۰۷۵)
8992
Sahih
۔ (۸۹۹۳)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَحْتَ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِذْ اَقْبَلَ رَجُلٌ مِّنْ ھٰذَا الشِّعْبِ، فَسَلَّمَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ: یَارَسُولَ اللّٰہِ! اِنِّیْ قَدْ اَرَدْتُّ الْجِھَادَ مَعَکَ اَبْتَغِیْ بِذٰلِکَ وَجْہَ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالدَّارَ الْآخِرَۃَ، قَالَ: ((ھَلْ مِنْ اَبْوَیْکَ اَحَدٌ حَيٌّ ؟)) قَالَ: نَعَمْ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کِلَاھُمَا، قَالَ: ((فَارْجِعْ اِبْرَرْ اَبَوَیْکَ۔)) قَالَ: فَوَلّٰی رَاجِعًا مِّنْ حَیْثُ جَائَ۔ (مسند احمد: ۶۵۲۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس درخت کے نیچے دیکھا، اچانک ایک آدمی اس گھاٹی سے آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام کہا اور کہا: میں آپ کے ساتھ مل کر جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، میرا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور آخرت کے گھر کو حاصل کرنا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تیرے والدین میں کوئی ایک زندہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! دونوں زندہ ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو لوٹ جا اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی کر۔ پس وہ جہاں سے آیا تھا، اُدھر ہی لوٹ گیا۔
Takhreej
(۸۹۹۳) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۵۴۹ (انظر: ۶۵۲۵)
Explanation
فوائد:… جہاد اہم فریضۂ اسلام اور بڑا مشکل عمل ہے، لیکن جہاد کی رغبت رکھنے والے کو چاہیے کہ وہ پہلے امیر کو اپنے گھر والوں کی صورتحال سے آگاہ کرے۔
8993
Sahih
۔ (۸۹۹۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَریْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَجُلاً جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسْتَأْذِنُہُ فِی الْجِھَادِ؟ فَقَالَ: ((أَحَیٌّ وَالِدَاکَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَفِیْھِمَا فَجَاھِدْ۔)) (مسند احمد: ۶۵۴۴)
۔ (دوسری سند) ایک آدمی جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر ان کی خدمت کر کے جہاد کر۔
Takhreej
(۸۹۹۴) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… اس حدیث کو بعض اہل علم نے صحیح اور بعض نے حسن کہا ہے۔ لیکن اس کی سند میں ابن لہیعۃ راوی ضعیف ہے اور دراج، ابو الہیثم سے بیان کرتا ہے اور یہ سند بھی اہل علم کے ہاں ضعیف ہوتی ہے۔ ہاں بعض میں ابن لہیعہ نہیں ہے۔ بہرحال اگر یہ روایت صحیحیا حسن ہے تو مذکورہ وجہ ضعف کا انجبار ہونا چاہیے ورنہ اسے صحیحیا حسن کہنا ٹھیک نہیں۔(عبداللہ رفیق)
8994
Sahih
۔ (۸۹۹۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: ھَاجَرَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْیَمَنِ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَجَرْتَ الشِّرْکَ، وَلٰکِنَّہُ الْجِھَادُ، ھَلْ بِالْیَمَنِ اَبَوَاکَ ؟۔)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((اَذِنَا لَکَ؟۔)) قَالَ: لا، فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ارْجِعْ اِلٰی اَبَوَیْکَ فَاسْتَاْذِنْھُمَا فَاِنْ فَعَلا وَ اِلَّا فَبَرَّھُمَا۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۴۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے یمن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف ہجرت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے شرک کو تو چھوڑ دیا ہے، لیکن ابھی تک جہاد باقی ہے، اچھا یہ بتاؤ کہ کیایمن میں تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انھوں نے تجھے اجازت دی ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اپنے والدین کی طرف لوٹ جا اور ان سے اجازت طلب کر، اگر وہ اجازت دے دیں تو ٹھیک، وگرنہ ان کے ساتھ ہی نیکی کرتے رہنا۔
Takhreej
(۸۹۹۵) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابوداود: ۲۵۳۰ (انظر: ۱۱۷۲۱)
8995
Sahih
۔ (۸۹۹۶)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ جَاھِمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَدْتُّ الْغَزْوَ وَجِئْتُکَ اَسْتَشِیْرُکَ ؟ فَقَالَ: ((ھَلْ لَکَ مِنْ اُمٍّ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: ((الْزَمْھَا فَاِنَّ الْجَنَّۃَعِنْدَ رِجْلِھَا۔)) ثُمَّ الثَّانِیَۃَ، ثُمَّ الثَّالِثَۃَ فِیْ مَقَاعِدَ شَتّٰی کَمِثْلِ ھٰذَا الْقُوْلِ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۲۳)
۔ سیدنا معاویہ بن جاہمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے ساتھ جہاد کرنا چاہتا ہوں اور اب آپ کے ساتھ مشورہ کرنے کے لیے آیا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تیری ماں زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اسی کے ساتھ رہ، کیونکہ جنت اس کے پاؤںکے پاس ہے۔ پھر راوی نے دوسری اور تیسری دفعہ مختلف مجلسوں میں یہ حدیث اسی طرح ہی بیان کی۔
Takhreej
(۸۹۹۶) تخریج:اسنادہ حسن، أخرجہ النسائی: ۶/ ۱۱، وابن ماجہ: ۲۷۸۱(انظر: ۱۵۵۳۸)
Explanation
فوائد:… اپنی ماں کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور ان کی خدمت کرنے میں اس کے پاؤں کے نیچے روندی جانے والی مٹی بن جا، یعنی ماں کی جائز خواہش کو دوسری مخلوقات کی خواہشات سے مقدم سمجھ کر پہلے اس کو پورا کیا جائے۔
8996
Sahih
۔ (۸۹۹۷)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَیُّ الْعَمَلِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ ؟ قَالَ: ((اَلصَّـلَاۃُ عَلٰی وَقْتِھَا۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ اَیٌّ؟ قَالَ: ((ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ۔)) قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ اَیٌّ ؟ قَالَ: ((ثُمَّ الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) قَالَ: فَحَدَّثَنِیْ بِھِنِّ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُّہُ لَزَادَنِیْ۔ (مسند احمد: ۳۸۹۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ امور بیان کیے اور اگر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زیادہ کا مطالبہ کرتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی مجھے زیادہ بتلانا تھا۔
Takhreej
(۸۹۹۷) تخریج:أخرجہ البخاری: ۵۲۷، ۵۹۷۰، ومسلم: ۸۵ (انظر: ۳۸۹۰)
8997
Sahih
۔ (۸۹۹۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((رَغِمَ اَنْفُ رَغِمَ اَنْفُ رَغِمَ اَنْفُ رَجُلٍ اَدْرَکَ وَالِدَیْہِ اَحَدَھُمَا اَوْ کِلاھُمَا عِنْدَہُ الْکِبْرُ لَمْ یُدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ، (وَفِیْ لَفْظٍ) فَلَمْ یُدْخِلَاہُ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۵۳۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس آدمی کا ناک خاک آلود ہو جائے، ناک خاک آلود ہو جائے، اس کا ناک خاک آلود ہو جائے جس نے اپنے ماں باپ دونوں یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت پایا، لیکن انھوں نے اس کو جنت میں داخل نہ کیا۔
Takhreej
(۸۹۹۷) تخریج:أخرجہ البخاری: ۵۲۷، ۵۹۷۰، ومسلم: ۸۵ (انظر: ۳۸۹۰)
Explanation
فوائد:… یہ بڑی محرومی ہے کہ آدمی اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہو سکے۔
8998
Sahih
۔ (۸۹۹۹)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ اَدْرَکَ وَالِدَیْہِ اَوْ اَحَدَھُمَا، ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ مِنْ َبعْدِ ذٰلِکَ فاَبْعَدَہُ اللّٰہُ وَاَسْحَقَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۳۶)
۔ سیدناابی بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے والدین دونوں یا کسی ایک کو پایا، لیکن پھر بھی جہنم میں داخل ہو گیا، اللہ تعالیٰ اس کو دور کر دے اور ہلاک کر دے۔
Takhreej
(۸۹۹۹) تخریج:اسنادہ صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۱۳۲۱، والطبرانی فی الکبیر : ۵۴۴(انظر: ۱۹۰۲۷)
8999
Sahih
۔ (۹۰۰۰)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ الْکِنْدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُوْصِیْکُمْ بِاُمَّھَاتِکُمْ، اِنَّ اللّٰہَ یُوْصِیْکُمْ بِآبائِکُمْ، اِنَّ اللّٰہَ یُوْصِیْکُمْ بِالْاَقْرَبِ فَالْاَقْرَبِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۱۹)
۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے بارے میں وصیت کرتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے باپوں کے بارے میں نصیحت کرتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے بعد دیگر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے بارے میں وصیت کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۰۰۰) تخریج:اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۶۶۱ (انظر: ۱۷۱۸۷)
9000
Sahih
۔ (۹۰۰۱)۔ عَنْ خِدَاشِ بْنِ سَلَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اُوْصِیْ اِمْرَئً بِاُمِّہِ، اُوْصِیْ اِمْرَئً بِاُمِّہِ، اُوْصِیْ اِمْرَئً بِاُمِّہِ، اُوْصِیْ اِمْرَئً بِاَبِیْہِ، اُوْصِیْ اِمْرَئً بِاَبِیْہِ، اُوْصِیْ اِمْرَئً بِمَوْلاہُ الَّذِیْ یَلِیْہِ، وَاِنْ کَانَتْ عَلَیْہِ فِیْہِ اَذَاۃٌ تُؤْذِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۹۹۷)
۔ سیدنا خداش بن سلامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے باپ کے بارے میں نصیحت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے باپ کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اس کے غلام کے بارے میں وصیت کرتا ہوں، جو اس کی خدمت کر رہا ہے، اگرچہ اس کی وجہ سے اس پر کوئی ایسی تکلیف آ پڑے، جو واقعی اسے تکلیف دے۔
Takhreej
(۹۰۰۱) تخریج:اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال عبید بن علی، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۶۵۷(انظر: ۱۸۷۹۰)
9001
Zaeef
۔ (۹۰۰۲)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ حِیْدَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ اَبَرُّ ؟ قَالَ: ((اُمَّکَ۔))، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ قَالَ: ((ثُمَّ اُمَّکَ۔))، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ: ((اُمَّکَ۔))، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ((ثُّمَّ اَبَاکَ، ثُمَّ الْاَقْرَبَ فَالْاَقْرَبَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۸۱)
۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس سے نیکی کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: اس کے بعد کس سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر کس سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنیماں سے۔ میں نے کہا: پھر کس سے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر اپنے باپ سے اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں سے۔
Takhreej
(۹۰۰۲) تخریج:صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۵۱۳۹، والترمذی: ۱۸۹۷(انظر: ۲۰۰۲۸)
Explanation
فوائد:… اگرچہ باپ پورے کنبے کا کفیل ہوتا ہے، محنت مزدوری کر کے اپنے بیوی بچوں کی ہر ضرورت پوری کرتا ہے، لیکن بچے کے سلسلے میں جو شفقت بھری خدمات ماں کو سر انجام دینا پڑتی ہیں، وہ کسی کی نگاہ سے اوجھل نہیں ہیں۔ نوماہ تک حمل کی صعوبتیں،ولادت کے کٹھن مراحل، بچے کو اپنی چھاتی سے خوراک مہیا کرنا، دن رات اس نگہداشت اور صفائی ستھرائی کے حقوق ادا کرنا ، اس کی تکلیف پر بے چین ہو جانا اور بچے کی ہر قسم کی تکلیف کو رفع کرنے میں اپنا سکون سمجھنا، جبکہ ہر مرحلے میں ماں شفقت کرتی ہے، بوجھ نہیں سمجھتی، اللہ اکبر۔ اگر رات کی گہری نیند والی گھڑیوں میں بچہ کسی چیز کا مطالبہ کر دے تو جو ہستی بچے کے مطالبے کو پورا کرنے میں اپنا سکون سمجھے گی، اسی کو ماں کہتے ہیں۔ اس لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ماں کے حقوق کو مقدم رکھا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ باپ کی خدمت کا لحاظ نہ رکھا جائے۔
9002
Sahih
۔ (۹۰۰۳)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہُ اِلَّا قَوْلَہ: ((ثُمَّ الْاَقْرَبَ فَالْاَقْربَ۔)) (مسند احمد: ۸۳۲۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، البتہ اس میں درج ذیل الفاظ نہیں ہیں: پھر زیادہ قریبی رشتہ دار اور ان کے بعد مزید قریبی۔
Takhreej
(۹۰۰۳) تخریج:أخرجہ البخاری: ۵۹۷۱، ومسلم: ۲۵۴۸(انظر: ۸۳۴۴)
9003
Sahih
۔ (۹۰۰۴)۔ عَنْ اَبِیْ اُسَیْدٍ السَّاعَدِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ بَدْرِیًا وَکَانَ مَوْلَاھُمْ، قَالَ اَبُوْ اُسَیْدٍ: بَیْنَمَا اَنَا جَالِسٌ عَنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ جَائَ رَجُلٌ مِّنَ الْاَنْصَارِ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللہ! ھَلْ بَقِیَ عَلَیَّ مِنْ بِرِّ اَبَوَیَّ شَیْئٌ بَعْدَ مَوْتِھِمَا اَبَرُّھُمَا بِہٖ؟قَالَ: ((نَعَمْخِصَالٌاَرْبَعَۃٌ، اَلصَّلاۃُ عَلَیْھُمَا وَالْاِسْتِغْفَارُ لَھُمَا، وَاِنْفَاذُ عَھْدِھِمَا، وَاِکْرَامُ صَدِیْقِھِمَا، وَصِلَۃُ الرَّحِمِ الَّتِیْ لا رَحِمَ لَکَ اِلاَّ مِنْ قِبَلِھِمَا، فَھُوَ الَّذِیْ بَقِیَ عَلَیْکَ مِنْ بِرِّھِمَا بَعْدَ مَوْتِھِمَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۵۶)
۔ صحابی ٔ رسول سیدنا ابو اسید ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ بدری تھے اور ان کے مولی تھے، سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک انصاری آدمی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے والدین کی وفات کے بعد کوئی ایسی چیز بچی ہے کہ اس کے ذریعے میں ان کے ساتھ نیکی کر سکوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، چار چیزیں ہیں، ان کے لیے دعائے رحمت کرنا، ان کے لیے بخشش طلب کرنا، ان کے وعدوں کو نبھانا ، ان کے دوستوں کی عزت کرنا اور ان لوگوں سے صلہ رحمی کرنا، جو صرف اُن کی طرف سے رشتہ دار بنتے ہوں، یہ امور ہیں کہ جو ان کی وفات کے بھی تجھ پر باقی ہیں۔
Takhreej
(۹۰۰۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ حال علی بن عبید، أخرجہ ابوداود: ۵۱۴۲، وابن ماجہ: ۳۶۶۴ (انظر: ۱۶۰۵۹)
Explanation
فوائد:… وعدوں کو نبھانے سے مراد یہ ہے کہ اگر والدین نے کسی سے مدد کرنے یا کوئی اور نیکی کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے تو اس کونبھانا چاہیے۔
9004
Zaeef
۔ (۹۰۰۵)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السُّلَمِیَّیُحَدِّثُ اَنَّ رَجُلاً اَمَرَتْہُ اُمُّہُ، اَوْ اَبُوْہُ، اَوْ کِلاھُمَا، قَالَ: شُعَبَۃُ،یَقُوْلُ: ذٰلِکَ اَنْیُّطَلِّقَ اِمْرَاَتَہُ، فَجَعَلَ عَلَیْہِ مِائْۃَ مُحَرَّرٍ، فَاَتٰی اَبَا الدَّرْدَائِ، فَاِذَا ھُوَ یُصَلِّی الضُّحّٰییُطِیْلُھَا، فَصَلّٰی مَابَیْنَ الظَّہْرِ وَالْعَصْرِ، فَسَاَلَہُ، فَقَالَ لَہُ اَبُوْ الدَّرْدَائِ: اَوْفِ بِنَذْرِکَ، وَبَرَّ وَالِدَیْکَ، اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((الْوَالِدُ اَوْسَطُ بَابِ الْجَنَّۃِ، فَحَافِظْ علَی الْوَالِدِ، اَوِ اتْرُکْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۶۰)
۔ ابو عبد الرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کو اس کی ماں نے یا باپ نے یا دونوں نے یہ حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے، لیکن اس نے طلاق دینے پر سو غلاموں کو آزاد کرنے کی نذر مان لی، پھر وہ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ طوالت کے ساتھ نماز چاشت ادا رہے تھے، انھوں نے ظہر اور عصر کے درمیان بھی نماز پڑھی، اس آدمی نے ان سے سوال کیا، سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جواباً کہا: اپنی نذر پوری کر اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ والد جنت کا درمیانہ دروازہ ہے، اب تیری مرضی ہے کہ تو اپنے والد کی حفاظت کر یا ضائع کر دے۔
Takhreej
(۹۰۰۵) تخریج:اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۰۸۹ (انظر: ۲۱۷۱۷)
Explanation
فوائد:… سوغلاموں کی آزادی کی نذر ماننے سے اس کا مقصود والدین کو ڈرانا تھا تاکہ وہ طلاق کا حکم دینے سے باز آ جائیں، لیکن معاملہ اس کے الٹ ثابت ہوا۔
9005
Sahih
۔ (۹۰۰۶)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ اَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ، اَیْضًا قَالَ: اَتٰی رَجُلٌ اَبَاالدَّرْدَائٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: اِنَّ امْرَاَتِیْ بِنْتُ عَمِّیْ وَاَنَا اُحِبُّھَا، وَاِنَّ وَالِدَتِیْ تَاْمُرُنِیْ اَنْ اُطَلِّقَھَا، فَقَالَ: لا آمُرُکَ اَنْ تُطَلِّقَھَا وَلا آمُرُکَ اَنْ تَعْصِیَ وَالِدَتَکَ، وَلٰکِنْ اُحَدِّثُکَ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الْوَالِدۃَ اَوْسَطُ اَبْوَابِ الْجَنَّۃٍ فَاْنْ شِئْتَ فَاَمْسِکْ وَاِنْ شِئْتَ فَدَعْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۶۹)
۔ (دوسری سند)ابو عبد الرحمن سلمی کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: میری بیوی میری چچازاد ہے اور میں اس سے محبت بھی کرتا ہوں، لیکن میری والدہ مجھے یہ حکم دیتی ہے کہ میں اس کو طلاق دے دو، انھوں نے کہا: نہ میں تجھے یہ حکم دیتا ہوں کہ تو اس کو طلاق دے دے اور نہ یہ کہتا ہوں کہ تو اپنے والدین کی نافرمانی کر، البتہ میں تجھے وہ حدیث بیان کر دیتا ہوں، جو میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک والدہ جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے، پس تو اس دروازے کو روک لے اور اگر چاہتا ہے تو چھوڑ دے۔
Takhreej
(۹۰۰۶) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الأول
9006
Sahih
۔ (۹۰۰۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: کَانَ فِیْنَا رَجُلٌ لَمْ تَزَلْ بِہٖاُمُّہُاَنْیَتَزَوَّجَ حَتّٰی تَزَوَّجَ، ثُمَّ اَمَرَتْہُ اَنْ یُّفَارِقَھَا فَرَحَلَ اِلٰی اَبِی الدَّرْدَائِ بِالشَّامِ فَقَالَ: اِنَّ اُمِّیْ لَمْ تَزَلْ بِیْ حَتّٰی تَزَوَّجَتُ ثُمَّ اَمَرَتْنِیْ اَنْ اُفَارِقَ، قَالَ: مَا اَنَا بِالَّذِیْ آمُرُکَ اَنْ تُفَارِقَ وَمَا اَنَا بِالَّذِیْ آمُرُکَ اَنْ تُمْسِکَ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْوَالِدُ اَوْسَطُ اَبْوَابَ الْجَنَّۃِ فَاَضِعْ ذٰلِکَ الْبَابَ اَوِ احْفَظْ۔)) قَالَ: فَرَجَعَ وَقَدْ فَارَقَھَا۔ (مسند احمد: ۲۸۰۶۱)
۔ (تیسری سند)وہ کہتے ہیں: ہم میں ایک آدمی تھا، اس کی ماں اس بات پر اصرار کرتی رہی کہ وہ شادی کرے، بالآخر اس نے شادی کر لی، پھر اسی ماں نے اس کو یہ حکم دینا شروع کر دیا کہ وہ اس کو طلاق دے دے، وہ آدمی شام میں سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پہنچا اور کہا: پہلے میری ماں میری شادی کرانے پر مصر رہی،یہاں تک کہ میں نے شادی کر لی، لیکن اب وہ مجھے یہ حکم دیتی ہے کہ میں اس کو طلاق دے دوں۔ انھوں نے کہا: میں نہ تو تجھے طلاق دینے کا حکم دوں گا اور نہ یہ حکم دوں گا کہ اس کو روکے رکھے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: والد جنت کا درمیانی دروازہ ہے، پس تو اس دروازے کو ضائع کر دے یا اس کی حفاظت کیے رکھ۔ یہ حدیث سن کر وہ لوٹا اور اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔
Takhreej
(۹۰۰۷) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الأول
9007
Sahih
۔ (۹۰۰۸)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَتْ تَحْتِیْ اِمْرَاَۃٌ اُحِبُّھَا، وَکَانَ عُمَرُ یَکْرَھُہَا، فَاَمَرَنِیْ اَنْ اُطَلِّقَھَا، فَاَبَیْتُ، فَاَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ اِمْرَاۃً کَرِھْتُھَا لَہُ فَاَمَرْتُہُ اَنْ یُّطَلِّقَھَا فَاَبٰی فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا عَبْدَ اللّٰہِ! طَلِّقْ اِمْرَاَتَکَ۔)) فَطَلَّقَھَا۔ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ عَنْہُ اَیْضًا) فَقَالَ: ((اَطِعْ اَبَاکَ۔)) (مسند احمد: ۵۰۱۱)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری ایک بیوی تھی، میں اس کو پسند کرتا تھا، جبکہ میرے باپ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کو ناپسند کرتے تھے، اس لیے انھوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو طلاق دے دوں، لیکن میں نے ان کی بات نہ مانی، پس وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے بیٹے عبد اللہ کی ایک بیوی ہے، میں اس کو ناپسند کرتا ہوں، اس لیے میں نے اس کو یہ حکم دیا کہ وہ اس کو طلاق دے دے، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عبد اللہ! اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ پس انھوں نے اس کو طلاق دے دی، ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کی بات مان لے۔
Takhreej
(۹۰۰۸) تخریج:اسنادہ قوی، أخرجہ ابوداود: ۵۱۳۸، وابن ماجہ: ۲۰۸۸، والترمذی: ۱۱۸۹(انظر: ۵۰۱۱)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ والدین کی اطاعت، نفس کی خواہش پر مقدم ہے، جب ان کا حکم دین کے زیادہ موافق نظر آ رہا ہو، کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ناپسندی کی وجہ عورت کی قلت ِ دین ہو گی۔ اس حدیث میں والدین کی اطاعت کی ایک مثال بیان کی گئی ہے، امام مبارکپوری نے اس حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے لکھا: یہ واضح دلیل تقاضا کرتی ہے کہ جب باپ اپنے بیٹے کو طلاق دینے کا حکم دے تو وہ ان کے حکم پر اپنی بیوی کو طلاق دے دے، اگرچہ اس کو اپنی بیوی سے محبت ہو، کیونکہیہ محبت والدین کے حکم کے سامنے عذر نہیں بن سکتی، اس حدیث میںصرف باپ کا ذکر ہے، لیکن ماں کے حکم کی بھییہی حیثیت ہے، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری حدیث میں یہ وضاحت فرما دی ہے کہ بیٹے پر اس کے باپ کی بہ نسبت اس کی ماں کا حق زیادہ ہے۔(تحفۃ الاحوذی) ہاں اگر والدین کے حکم کی بنیاد دینی و اخلاقی بنیادوں پر نہ ہو تو ادب و احترام سے ان کو سمجھایا جائے تاکہ وہ بھی راضی ہو جائیں اور خواہ مخواہ عورت پر بھی ظلم نہ ہو، وگرنہ والدین کے حکم کو بیوی پر ترجیح دے کر اس کو رخصت کر دیا جائے۔ لیکن افسوس کہ آجکل لوگوں نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک یا بد سلوکی سے پیش آنے کے لیے اپنے بیوی بچوں اور دوستوں کو معیار قرار دیا ہے، اپنے بیوی کے ہر قسم کے ناز نخرے پورے کئے جاتے ہیں، لیکن والدین پر ہونے والے اخراجات کو بوجھ سمجھا جاتا ہے، اگرچہ ان کی مقدار بھی کم ہوتی ہے ۔
9008
Sahih

Chapters

19
01
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
4 Hadith
02
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
26 Hadith
03
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
10 Hadith
04
اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
05
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
06
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
07
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
7 Hadith
08
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
09
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
6 Hadith
10
مہمان کے لیے تکلف نہ کرنے کا بیان
2 Hadith
11
ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
9 Hadith
12
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
2 Hadith
13
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
8 Hadith
14
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
6 Hadith
16
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
17
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
18
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
9 Hadith
19
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
No chapter matched that.