TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا - اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا - نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 19 · 10 Hadith
۔ (۹۰۱۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کَانَ اَحَدُکُمْ فَقِیْرًا فَلْیَبْدَاْ بِنَفْسِہِ، وَاِنْ کَانَ فَضْلاً فَعَلٰی عَیَالِہِ، وَاِنْ کَانَ فَضْلاً فَعَلٰی ذَوِیْ قَرَابَتِہِ اَوْ قَالَ: عَلٰی ذَوِیْ رَحِمِہِ، وَاِنْ کَانَ فَضْلًا فَھَاھُنٰا وَھَاھُنَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۲۴)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی فقیر ہو تو وہ اپنے آپ سے ابتداء کرے، اگر مال بچ جائے تو اپنے بچوں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی مال زائد ہو تو اپنے دوسرے رشتہ داروں پر صرف کرے اور اگر پھر بھی مال بچ جائے تو اِدھر اُدھر یعنی دوسرے لوگوں پر خرچ کرے۔
Takhreej
(۹۰۱۵) تخریج:أخرجہ مسلم: ۹۹۷ (انظر: ۱۴۲۷۳)
Explanation
فوائد:… صدقہ و خیرات باعث ِ اجرو ثواب عمل ہے، لیکن عام صدقہ سے پہلے اعتدال اور میانہ روی کے ساتھ والدین، اولاد، بیوی اور دوسرے قرابتداروں کی ضروریات کو مقدم کرنا چاہیے، آج کل لوگ بیوی بچوں پر تو تکلف کی حد تک خرچ کرتے ہیں، لیکن دوسرے رشتہ داروں سے مکمل بے رخی اختیار کرتے ہیں اور ان کا نظریہیہ ہوتا ہے کہ اگر ایک بار کسی کو دے دیں تو وہ دوبارہ جان نہیں چھوڑتا۔ ایسے لوگوں کا یہ نظریہ غلط ہے، اگر کوئی رشتہ دار دوبارہ آ جائے اور گنجائش ہو تو بار بار اس کے آنے کو محسوس نہیں کرنا چاہیے اور اگر گنجائش نہ ہو تو اچھے طریقے سے معذرت کر لینی چاہیے۔ بہرحال عام خیراتی اداروں اور ہسپتالوں میں صدقہ دینے سے پہلے غریب رشتہ داروں کو ترجیح دی جائے، ان کی ضرورت پوری کرنے کے بعد مزید صدقہ و خیرات کرنا چاہیے۔
9015
Sahih
۔ (۹۰۱۶)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اَطْعَمْتَ نَفْسَکَ فَھُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَمَا اَطْعَمْتَ وَلَدَکَ فَہُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ، وَمَا اَطْعَمْتَ زَوْجَکَ فَھُوَلَکَ صَدَقَۃٌ، وَمَا اَطْعَمْتَ خَادِمَکَ فَھُوَ لَکَ صَدَقَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۱۱)
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تو اپنے آپ کو کھلائے گا، وہ تیرے لیے صدقہ ہو گا، جو تو اپنی اولاد کو کھلائے گا، وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہو گا، جو تو اپنی بیوی کو کھلائے گا، وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہو گا اور جو تو اپنے خادم کو کھلائے گا، وہ بھی تیرے لیے صدقہ ہو گا۔
Takhreej
(۹۰۱۶) تخریج:حدیث حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۱۳۸ (انظر: ۱۷۱۷۹)
9016
Sahih
۔ (۹۰۱۷)۔ عَنْ ثَوْبَانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَفْضَلُ دِیْنَارٍ دِیْنَارٌیُّنْفِقُہُ الرَّجُلُ عَلٰی عَیَالِہِ، وَدِیْنَارٌیُّنْفِقُہُ عَلٰی دَابَّتِہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ اَبُوْ قِلَابَۃَ مِنْ قِبَلِہِ بِرًّا بِالْعَیَالِ، قَالَ: وَاَیُّ رَجُلٍ اَعْظَمُ اَجْرًا مِنْ رَجُلٍ یُّنْفِقُ عَلٰی عَیَالِہِ صِغَارًا یُعِفِّھُمُ اللّٰہُ بِہٖ۔ (مسنداحمد: ۲۲۸۲۰)
۔ سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ فضیلت والا دینار وہ ہے، جو بندہ اپنے بچوں پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جو آدمی اللہ کے راستے میں اپنے چوپائے پر خرچ کرے۔ پھر ابو قلابہ نے اپنی طرف سے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا: اور کون سا آدمی اجر و ثواب میں اس شخص سے بڑا ہو سکتا ہے، جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ ان کو اس کے ذریعے پاکدامن بنائے رکھتا ہے۔
Takhreej
(۹۰۱۷) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۲۲۴۵۳)
Explanation
فوائد:… جو آدمی کمانے کے قابل نہ ہو، اس کا سہارا بننا بڑی نیکی ہے، بالخصوص اگر وہ فرد چھوٹی عمر میں ہو اور وہ بھی اولاد ہو تو اس کی ضروریات پوری کرنا والدین کی سعادت ہوگی، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اجر و ثواب کی نیت سے اپنے بچوں کی ضروریات پوری کیا کریں، لیکن تکلف سے بچیں اور دوسرے غریب بچوں کابھی خیال رکھیں۔
9017
Sahih
۔ (۹۰۱۸)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُوْصِیْکُمْ بِالْاَقْرَبِ فاَلْاَقْرَبِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۱۶)
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تم کو زیادہ قریبی رشتہ داروں کے بارے میں وصیت کی ہے اور پھر ان سے جو ان کے بعد ہوں۔
Takhreej
(۹۰۱۷) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط مسلم (انظر: ۲۲۴۵۳)
9018
Sahih
۔ (۹۰۱۹)۔ عَنِْ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ رَجُلٌ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَذْنَبْتُ ذَنْبًا کَبِیْرًا، فَھْلْ لِیْ تَوْبَۃٌ ؟ فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَکَ وَالِدَانِ ؟)) قَالَ: لا، قَالَ: ((فَلَکَ خَالَۃٌ ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَبَرَّھَا اِذًا۔)) (مسند احمد: ۴۶۲۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے بہت بڑا گناہ کیا ہے، کیا میرے لیے توبہ کا امکان ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیری کوئی خالہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اسی سے نیکی کر۔
Takhreej
(۹۰۱۹) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ الترمذی: ۱۹۰۴(انظر: ۴۶۲۴)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّئَاتِ} … بیشک نیکیاںبرائیوں کو ختم کر دیتی ہیں (سورۂ ہود: ۱۱۴) اس حدیث ِ مبارکہ میں بھییہی قانون بیان کیا گیا ہے۔
9019
Sahih
۔ (۱۹۲۰)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: اَعْتَقْتُ جَارِیَۃً لِیْ، فَدَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخْبَرْتُہُ بِعِتْقِھَا، فَقَالَ: ((آجَرَکِ اللّٰہُ، اَمَا اِنَّکِ لَوْ کُنْتِ اَعْطَیْتِھَا اَخْوَالَکِ کَانَ اَعْظَمَ لِاَجْرِکِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۳۵۴)
۔ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے اپنی ایک لونڈی کو آزاد کیا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں آپ کو اس کی آزادی کی بارے میں بتلایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھے اجر عطا کرے، لیکن اگر تو اپنے ماموؤں کو دے دیتی تو اس میں تیرے لیے زیادہ اجر ہوتا۔
Takhreej
(۱۹۲۰) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۱۶۹۰(انظر: ۲۶۸۱۷)
Explanation
فوائد:… محتاج رشتہ دار پر خرچ کرنا، غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ باعث ِ ثواب ہے۔
9020
Sahih
۔ (۱۹۲۱)۔ عَنْ شُعْبَۃَ، قَالَ: قُلْتُ لِمُعَاوِیَۃَ بْنِ قُرَّۃَ: اَسَمِعْتَ اَنَسًا، یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلنُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ، ((اِبْنُ اُخْتِ الْقَوْمِ مِنْھُمْ۔))؟ قال: نعم (مسند احمد: ۱۲۲۱۱)
۔ امام شعبہ کہتے ہیں: میں نے معاویہ بن قرہ سے کہا: کیا تم نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا کہ انھوں نے یہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا نعمان بن مقرن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو فرمایا: لوگوں کا بھانجا ان میں سے ہی ہے۔ انھوں نے کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۱۹۲۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۵۲۸، ۶۷۶۱(انظر: ۱۲۱۸۷)
Explanation
فوائد:… صلہ رحمی اور معاونت کا سلسلہ دوسرے رشتہ داروں کی طرح بھانجے کو بھی حاصل ہے
9021
Sahih
۔ (۱۹۲۲)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ لَیْلٰی، قَالَ سَمِعْتُ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، یَقُوْلُ: اِجْتَمَعْتُ اَنَا وَفَاطِمَۃُ، وَالْعَبَّاسُ، وَزَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ، عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَبِرَ سِنِّیْ، وَ رَقَّ عَظْمِیْ، وَکثُرَتْ مُؤْنَتِیْ، فَاِنْ رَاَیْتَیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنْ تَاْمُرَ لِیْ بِکَذَا وَکَذَا وَسْقًا مِنْ طَعَامٍ فَافْعَلْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَفْعَلُ ذٰلِکَ۔)) ثُمَّ قَالَ زَیْدُ بْنُ حَارِثَۃَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنْتَ اَعْطَیْتَنِیْ اَرْضًا کَانَتْ مَعِیْشَتِیْ مِنْھَا، ثُمَّ قَبَضْتَھَا، فَاِنْ رَاَیْتَ اَنْ تَرُدَّھَا عَلَیَّ فَافْعَلْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَفْعَلُ ذٰلِکَ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ اَنَا:یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنْ رَاَیْتَاَنْ تُوَلِّیَنِیْ ھٰذَا الْحَقَّ الَّذِیْ جَعَلَہُ اللّٰہُ لَنَا فِیْ کِتَابِہٖمِنْھٰذَاالْخُمُسِ،فَاَقْسِمُہُفِیْ حَیَاتِکَ، کَیْ لا یُنَازِعَنِیْہِ اَحَدٌ بَعْدَکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَفْعَلُ ذَاکَ۔)) فَوَلَّانِیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَسَمْتُہُ فِیْ حَیَاتِہِ، ثُمَّ وَلَّانِیْہِ اَبُوْ بَکْرٍ، فَقَسَمْتُہُ فِیْ حَیَاتِہِ، ثُمَّ وَلَّانِیْہِ عُمَرُ، فَقَسَمْتُہُ فِیْ حَیَاتِہِ، حَتّٰی کَانَتْ آخِرُ سَنَۃٍ مِنْ سِنِیْ عُمَرَ فَاِنَّہُ اَتَاہُ مَالٌ کَثِیْرٌ۔ (مسند احمد: ۶۴۶)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، سیدہ فاطمہ، سیدنا عباس اور سیدنا زید بن حارثہ ، رسول اللہ کے پاس جمع ہوئے، سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب میری عمر بڑی ہو چکی ہے، میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور مشقت بھی کافی کر لی ہے، اس لیے اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے لیے اتنے وسق اناج کا حکم دے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم اس طرح کر دیں گے۔ پھر سیدنا زید بن حارثہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے ایک زمین دی تھی، وہ میری گزران کا ذریعہ تھی، لیکن پھر آپ نے واپس لے لی ہے، اگر آپ مناسبت سمجھتے ہیں تو دوبارہ مجھے دے دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم اس طرح کریں گے۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ مناسب سمجھیں کہ آپ مجھے اس حق کا والی بنا دیں، جس کا اللہ تعالیٰ نے خُمُس کی صورت میں اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے، میں اس کو آپ کی زندگی میں تقسیم کروں گا، تاکہ آپ کے بعد کوئی آدمی مجھ سے جھگڑا نہ کرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم ایسے ہی کریں گے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اس کا والی بنا دیا، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں اس کوتقسیم کیا، پھر سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے اس کا والی بنایا، میں نے ان کی زندگی میں بھی اس کو تقسیم کیا، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے اس کا والی بنایا اور میں نے ان کی زندگی میں اس کو تقسیم کیا،یہاں تک کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا آخری سال تھا اور ان کے پاس بہت زیادہ مال آیا تھا۔
Takhreej
(۱۹۲۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۵۲۸، ۶۷۶۱(انظر: ۱۲۱۸۷)
Explanation
فوائد:… یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے قرابتداروں کا خیال رکھا تھا۔
9022
Zaeef
۔ (۱۹۲۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَدِمَتْ عِیْرٌ الْمَدِیْنَۃَ، فَاشْتَرَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَبِحَ اَوَاقِیَ، فَقَسَمَھَا فِیْ اَرَامِلِ بَنِیْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَقَالَ: ((لا اَشْتَرِیْ شَیْئًا لَیْسَ عِنْدِیْ ثَمَنُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک قافلہ مدینہ منورہ میں آیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے کوئی چیز خریدی اور اس پر کچھ اوقیے نفع کمایا اور پھر ان کو بنو عبد المطلب کی بیواؤں میں تقسیم کر دیا اور فرمایا: آئندہ میں ایسی چیز نہیں خریدوں گا، جس کی میرے پاس قیمت نہیں ہو گی۔
Takhreej
(۱۹۲۳) تخریج:اسنادہ ضعیف، شریک بن عبد اللہ القاضی سییء الحفظ، وسماک فی روایتہ عن عکرمۃ اضطراب، أخرجہ ابوداود: ۳۳۴۴(انظر: ۲۰۹۳)
Explanation
فوائد:… ایسی چیز خریدنے سے اجتناب کا درس دیا جا رہا ہے، جس کی بندے کے پاس قیمت نہ ہو، کیونکہ ممکن ہے کہ آدمی مقروض ہی فوت ہو جائے اور اس کی طرف سے ادائیگی بھی نہ کی جائے۔
9023
Zaeef
۔ (۱۹۲۴)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ اَبُوْطَلْحَۃَ اَکْثَرَ اَنْصَارِیِّ بِالْمَدِیْنَۃِ مَالًا، وَکَانَ اَحَبَّ اَمْوَالِہِ اِلَیْہِ بَیرُحَائُ، وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَۃَ الْمَسْجِدِ، فَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْخُلُھَا وَیَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِیْھَا طَیِّبٍ، قَالَ اَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} قَالَ اَبُوْطَلْحَۃَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ: {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} وَاِنَّ اَحَبَّ اَمْوَالِیْ اِلَیَّ بَیْرُحَائُ وَاِنَّھَا صَدَقَۃٌ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اَرْجُوْ بِرَّھَا وذُخْرَھَا عِنْدَاللّٰہِ، فَضَعْھَا یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! حَیْثُ اَرَاکَ اللّٰہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَخٍ ذٰلِکَ مَالٌ رَابِحٌ، ذٰلِکَ مَالٌ رَابِحٌ۔ وَقَدْ سَمِعْتُ، وَاَنَا اَرٰی اَنْ تَجْعَلَھَا فِی الْاَقْرَبِیْنَ۔)) فَقَالَ اَبُوْطَلْحَۃَ: اَفْعَلُ یَارَسُوْلُ اللّٰہِ! قَالَ: فَقَسَمَھَا اَبُوْطَلْحَۃَ فِیْ اَقَارِبِہٖوَبَنِیْ عَمِّہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۶۵)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مدینہ منورہ کے انصاریوں میں سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب سے زیادہ مالدار تھے اور ان کا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء باغ تھا، یہ مسجد کے سامنے تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں داخل ہوتے اور اس کا میٹھا پانی پیتے تھے، جب یہ آیت نازل ہوئی: {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} … تم جب تک پسندیدہ چیزیں خرچ نہیں کرو گے، اس وقت تک نیکی تک نہیں پہنچو گے۔ تو سیدنا ابو طلحہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ {لَنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} اور میرا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء ہے، لہٰذا میں اس کو اللہ تعالیٰ کے لیے صدقہ کرتا ہوں اور اس کے ہاں اس کی نیکی اور ذخیرہ ہونے کی امید کرتا ہوں، اے اللہ کے رسول! جیسے اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے، اس کے مطابق اس کو تقسیم کر دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واہ واہ! یہ تو نفع بخش مال ہے، یہ تو نفع بخش مال ہے، تحقیق میں نے تیری بات سن لی ہے، میرا خیال ہے کہ تو اس کو اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دے۔ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اسی طرح ہی کروں گا، پھر انھوں نے وہ مال اپنے رشتے داروں اور چچا زادوں میں تقسیم کر دیا۔
Takhreej
(۱۹۲۳) تخریج:اسنادہ ضعیف، شریک بن عبد اللہ القاضی سییء الحفظ، وسماک فی روایتہ عن عکرمۃ اضطراب، أخرجہ ابوداود: ۳۳۴۴(انظر: ۲۰۹۳)
Explanation
فوائد:… اولاد، والدین اور بیوی کا تو آدمی پر حق ہے، سب سے پہلے ان کو ہی ترجیح دینی چاہیے، ان کی ضروریات کے بعد دوسرے رشتہ داروں کا خیال رکھنا چاہیے، لیکن اس قانون کا مطلب موجودہ زمانے کا پرتکلف نظام نہیں ہے، جائز اخراجات ہیں۔
9024
Sahih

Chapters

19
01
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
4 Hadith
02
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
26 Hadith
03
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
10 Hadith
04
اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
05
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
06
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
07
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
7 Hadith
08
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
09
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
6 Hadith
10
مہمان کے لیے تکلف نہ کرنے کا بیان
2 Hadith
11
ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
9 Hadith
12
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
2 Hadith
13
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
8 Hadith
14
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
6 Hadith
16
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
17
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
18
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
9 Hadith
19
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
No chapter matched that.