۔ (۹۱۱۶)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنَّہُ، عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ فِیْ تَوَادِّھِمْ وَتَعَاطُفِھِمْ وَتَرَاحُمِھِمْ، مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَکٰی مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعٰی سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّہَرِ وَالْحُمّٰی۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۷۰)
۔ سیدنانعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے محبت کرنے، باہم ہمدردی کرنے اور ایک دوسرے پر رحم کرنے میں مومنوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے کہ جب اس کا ایک عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے باقی سارا جسم بیداری اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۹۱۱۶) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۵۸۶(انظر: ۱۸۳۸۰)
Explanation
فوائد:… ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی تکلیف کا ایسا احساس ہونا چاہیے، جیسے تکلیف میں مبتلا اپنے عضو میں ہوتا ہے۔ اگر پاؤں میں درد ہو تو جسم کا باقی حصہ اس تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے ساری رات بیدار رہتا ہے، لیکن اگر کوئی مسلمان کسی تکلیف میں مبتلا ہو تو دوسرے مسلمانوں کو ٹس سے مس نہ ہو، یہ قطعی طور پر اہل اسلام کا رویہ نہیں ہے، جبکہ عصر حاضر میں لاپرواہی اور لا ابالی پن کا ایسا غلبہ ہے کہ مسلمان مفاد پرست ہو کر رہ گیا ہے، اسلام کا دعوی تو ہے، لیکن روحِ اسلام اور تقاضۂ اسلام سے محرومی ہے۔
9116
Sahih