TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

گھوڑوںکی نسل کو زیادہ کرنے اور اس کی فضیلت کا اورگھوڑوں کو خصی کرنے کی ممانعت اور گدھوں سے گھوڑیوں کی جفتی کروانے کی کراہت کا بیان - گھوڑوںکی نسل کو زیادہ کرنے اور اس کی فضیلت کا اورگھوڑوں کو خصی کرنے کی ممانعت اور گدھوں سے گھوڑیوں کی جفتی کروانے کی کراہت کا بیان - گھوڑوں کی صفات، جہاد کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت اور ان کی مستحب اور مکروہ صورتوں کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of گھوڑوں کی صفات، جہاد کے لیے ان کو پالنے کی فضیلت اور ان کی مستحب اور مکروہ صورتوں کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 7 · 5 Hadith
۔ (۵۱۹۲)۔ عَنْ أَبِی عَامِرٍ الْہَوْزَنِیِّ، عَنْ أَبِی کَبْشَۃَ الْأَنْمَارِیِّ، أَنَّہُ أَتَاہُ فَقَالَ: أَطْرِقْنِی مِنْ فَرَسِکَ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ أَطْرَقَ فَعَقَّتْ لَہُ الْفَرَسُ کَانَ لَہُ کَأَجْرِ سَبْعِینَ فَرَسًا حُمِلَ عَلَیْہِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ)) (مسند أحمد: ۱۸۱۹۵)
۔ ابو عامر ہوزنی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابو کبشہ انماری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس آئے اور کہا: مجھے جفتی کے لیے اپنا گھوڑا دو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے جفتی کے لیے کسی کو گھوڑا دیا اور اس کے نتیجے میں گھوڑا پیدا ہوا تو اس کے لیے ایسے ستر گھوڑوں کا ثواب ہو گا، جو اللہ کے راستے میں سواری کے لیے دیئے جائیں۔
Takhreej
(۵۱۹۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۲/ ۸۵۳(انظر: ۱۸۰۳۲)
5192
Sahih
۔ (۵۱۹۳)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ أُہْدِیَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَغْلٌ أَوْ بَغْلَۃٌ، فَقُلْتُ: مَا ہٰذَا؟ قَالَ: بَغْلٌ أَوْ بَغْلَۃٌ؟ قُلْتُ: وَمِنْ أَیِّ شَیْئٍ ہُوَ؟ قَالَ: یُحْمَل الْحِمَارُ عَلَی الْفَرَسِ فَیَخْرُجُ بَیْنَہُمَا ہٰذَا، قُلْتُ: أَفَلَا نَحْمِلُ فُلَانًا عَلٰی فُلَانَۃَ؟ قَالَ: ((لَا إِنَّمَا یَفْعَلُ ذٰلِکَ الَّذِینَ لَا یَعْلَمُونَََََ۔)) (مسند أحمد: ۷۶۶)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خچر کا نر یا مادہ بطور تحفہ دیا گیا، میں نے کہا: یہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ خچر نسل کا نر یا مادہ ہے۔ میں نے کہا: یہ کیسے پیدا ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب گدھے سے گھوڑی کی جفتی کرائی جاتی ہے تو ان سے یہ پیدا ہوتا ہے، میں نے کہا: تو پھر کیا ہم فلاں گدھے سے فلاں گھوڑی کی جفتی نہ کروائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، صرف وہ لوگ ایسا کام کرتے ہیں، جو علم نہیں رکھتے۔
Takhreej
(۵۱۹۳) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۲۵۶۵، والنسائی: ۶/ ۲۲۴(انظر: ۷۶۶)
Explanation
فوائد:… یعنی جن کو یہ علم نہیں ہوتا ہے کہ حکمت و دانائی کے مطابق زیادہ بہتر اور زیادہ مناسب چیز کون سی ہے، گھوڑا بہرحال خچر سے اعلی جانور ہے، اس کے ذریعے جہاد کیا جاتا ہے، غنیمتیں حاصل ہوتی ہیں اور یہ حلال جانور ہے، جب ان میں سے کوئی صفت بھی خچر میں نہیں پائی جاتی، نیز اگر خچر پیدا کرنے کی عام اجازت دے دی جائے تو گھوڑوں کی قلت ہو جائے گی۔
5193
Sahih
۔ (۵۱۹۴)۔ عَنْ دَحِیَّۃَ الْکَلْبِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلَا اَحْمِلُ لَکَ حِمَارًا عَلٰی فَرَسٍ فَیُنْتِجَ لَکَ بَغْلًا فَتَرْکَبُھَا؟ قَالَ: ((اِنَّمَا یَفْعَلُ ذٰلِکَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۰۰۰)
۔ سیدنا دحیہ کلبی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے گدھے سے گھوڑی کی جفتی نہ کرواؤں، تاکہ خچر پیدا ہو اور آپ اس پر سواری کریں؟ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ لوگ یہ کام کرتے ہیں، جو علم نہیں رکھتے۔
Takhreej
(۵۱۹۴) صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۲/ ۵۴۱، والطبرانی فی الاوسط : ۴۹۹۳ (انظر: ۱۸۷۹۳)
5194
Sahih
۔ (۵۱۹۵)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: نَھَانَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ نُنْزِیَ حِمَارًا عَلٰی فَرَسٍ۔ (مسند أحمد: ۷۳۸)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ ہم گھوڑی کی جفتی گدھے سے کروائیں۔
Takhreej
(۵۱۹۵) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۷۳۸)
Explanation
فوائد:… گھوڑی اور گدھے کے ملاپ سے خچر پیدا ہوتا ہے، ان احادیث میں اس ملاپ کو ناپسند کیا گیا ہے، حالانکہ قرآن مجید میں گھوڑے اور گدھے کے ساتھ خچر کا ذکر بھی بطورِ احسان کیا گیا ہے، جس سے خچر کے وجود اور اس کے بطور نسل باقی رہنے کا جواز معلوم ہوتا ہے، اس لیے علماء نے ان احادیث میں ممانعت یا ناپسندیدگی کے حکم کو تنزیہی قرار دیا ہے، یا اسے اس صورت پر محمول قرار دیاجائے گا، جب اس کی وجہ سے گھوڑوں کی نسل اور اس کی افزائش متأثر ہو، کیونکہ گھوڑا خچر سے زیادہ مفید اور ضروری ہے، اس کی نسل میں کمی نہیں آنی چاہیے۔
5195
Sahih
۔ (۵۱۹۶)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ اِخْصَائِ الْخَیْلِ وَالْبَھَائِمِ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: فِیْھَا نِمَائُ الْخَلْقِ۔ (مسند أحمد: ۴۷۶۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گھوڑوں اور دوسرے چوپائیوں کو خصی کرنے سے منع فرمایا ہے، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: خصی نہ کرنے سے نسل بڑھتی ہے۔
Takhreej
(۵۱۹۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن نافع (انظر: ۴۷۶۹)
Explanation
فوائد:… اگر جانوروں کو ان کی فطرت پر باقی رکھا جائے اور ان کو خصی نہ کیا جائے تو اس سے ان کی نسل بھی بڑھتی ہے اور جفتی کے لیے دینے کا اجر و ثواب بھی ملتاہے۔
5196
Zaeef