گم شدہ اونٹ، گائے اور بکری کے لقطہٰ کا بیان - گم شدہ اونٹ، گائے اور بکری کے لقطہٰ کا بیان - The chapters on lost property - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation
Chapter 1 of The chapters on lost property in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
It was narrated from Mutarrif bin 'Abdullah bin Shikhkhir that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The lost animal of the Muslim may lead to the burning flame of Hell.' ”
عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی گمشدہ چیز آگ کا شعلہ ہے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۵۳۵۱، ومصباح الزجاجة:۸۸۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۲۵)
Explanation
یعنی جو کوئی اس کی خبر نہ کرے بلکہ اسے ہضم کرنے کی نیت سے چھپا رکھے تو اس کے بدلے میں یہ جہنم کی آگ کا مستحق ہے۔
It was narrated that Mundhir bin Jarir said:
“I was with my father in Bawazij and the cows came back in the evening. He saw a cow did not recognize it. He said: 'What is this?' He said: 'A cow that joined the herd.' And he issued orders that it be driven away until it disappeared from view. Then he said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “No one gives refuge to a stray animal but one who is also astray.”
منذر بن جریر کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ بوازیج میں تھا کہ گایوں کا ریوڑ نکلا، تو آپ نے ان میں ایک اجنبی قسم کی گائے دیکھی تو پوچھا: یہ گائے کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: کسی اور کی گائے ہے، جو ہماری گایوں کے ساتھ آ گئی ہے، انہوں نے حکم دیا، اور وہ ہانک کر نکال دی گئی یہاں تک کہ وہ نظر سے اوجھل ہو گئی، پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: گمشدہ چیز کو وہی اپنے پاس رکھتا ہے جو گمراہ ہو ۱؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/اللقطة ۱ (۱۷۲۰)،(تحفة الأشراف:۳۲۳۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۶۰،۳۶۲)
It was narrated from Zaid bin Khalid that the Prophet (ﷺ) was asked about a lost camel. :
He turned red, and he said: “What does it have to do with you? It has its feet and its water supply, it can go and drink water and eat from the trees until its owner finds it.” And he was asked about lost sheep, and he said: “Take it, for it will be for you or for your brother or for the wolf.” And he was asked about lost property and he said: “Remember the features of its leather bag and strap, and announce it for one year, then if someone claims it, describing it to you with those features (give it to him), otherwise incorporate it into your own wealth.”
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ اونٹ کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ غضب ناک ہو گئے، اور غصے سے آپ کے رخسار مبارک سرخ ہو گئے اور فرمایا: تم کو اس سے کیا سروکار، اس کے ساتھ اس کا جوتا اور مشکیزہ ہے، وہ خود پانی پر جا سکتا ہے اور درخت سے کھا سکتا ہے، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لیتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گمشدہ بکری کے بارے پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے لو اس لیے کہ وہ یا تو تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیئے کی ۱؎ پھر آپ سے گری پڑی چیز کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان لو، اور ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو، ۲؎ اگر اس کی شناخت پہچان ہو جائے تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے اپنے مال میں شامل کر لو ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/اللقطة ۱ (۲۴۲۶)، صحیح مسلم/اللقطة ۱ (۱۷۲۲)، سنن ابی داود/اللقطة ۱ (۱۷۰۴،۱۷۰۵)، سنن الترمذی/الاحکام ۳۵ (۱۳۷۲)،(تحفة الأشراف:۳۷۶۳)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ۳۸ (۴۶،۴۷)، مسند احمد (۴/۱۱۵،۱۱۶،۱۱۷)
Explanation
اگر کوئی اس کی حفاظت نہ کرے گا تو وہ اسے کھا جائے گا۔ ۲؎: بازار یا مسجد یا جہاں لوگ جمع ہوتے ہوں، پکار کر کہے کہ مجھے ایک چیز ملی ہے، نشانی بتا کر جس کی ہو لے جائے، اگر اس کا مالک اس کی شناخت کر لے تو ٹھیک ہے، ورنہ اسے اپنے مال میں شامل کر لے۔