حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ وأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“One fifth is due on buried treasure.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رکاز» میں پانچواں حصہ ( بیت المال کا ) ہے ۱؎۔
Takhreej
«صحیح مسلم/الحدود ۱۱ (۱۷۱۰)، سنن ابی داود/الخراج ۴۰ (۳۰۸۵)، سنن الترمذی/الأحکام ۳۷ (۱۳۷۷)، سنن النسائی/الزکاة ۲۸ (۲۴۹۷)،(تحفة الأشراف:۱۳۱۲۸،۱۵۱۴۷)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة ۶۶ (۱۴۹۹)، المساقاة ۳ (۲۳۵۵)، الدیات ۲۸ (۶۹۱۲)،۲۹ (۶۹۱۳)، موطا امام مالک/ العقول ۱۸ (۱۲)، مسند احمد (۲/۲۲۸،۲۲۹،۲۵۴،۲۷۴،۲۸۵،۳۱۹،۳۸۲،۳۸۶،۴۰۶،۴۱۱،۴۱۴،۴۵۴،۴۵۶،۴۶۷،۴۷۵،۴۸۲،۴۸۲،۴۹۵،۴۹۹،۵۰۱،۵۰۷)، سنن الدارمی/الزکاة ۳۰ (۱۷۱۰)، الدیات ۹ (۲۴۲۲)
Explanation
«رکاز» کان کو کہتے ہیں، اور کچھ علماء کہتے ہیں کہ کافروں کے دفینہ یعنی خزانہ کو «رکاز» کہا جاتا ہے۔
2509
Sahih