TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2511 - جس شخص کو دفینہ (رکاز) مل جائے اس کے حکم کا بیان - The chapters on lost property - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 3 in this chapter
جس شخص کو دفینہ (رکاز) مل جائے اس کے حکم کا بیان
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاق الْحَضْرَمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُلَيْم بْنُ حَيَّانَ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ أَبِييُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ اشْتَرَى عَقَارًا، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدَ فِيهَا جَرَّةً مِنْ ذَهَبٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الْأَرْضَ وَلَمْ أَشْتَرِ مِنْكَ الذَّهَبَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الرَّجُلُ:‏‏‏‏ إِنَّمَا بِعْتُكَ الْأَرْضَ بِمَا فِيهَا فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَكُمَا وَلَدٌ فَقَالَ أَحَدُهُمَا:‏‏‏‏ لِي غُلَامٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ الْآخَرُ:‏‏‏‏ لِي جَارِيَةٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَنْكِحَا الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ وَلْيُنْفِقَا عَلَى أَنْفُسِهِمَا مِنْهُ وَلْيَتَصَدَّقَا .
Sulaiman bin Hayyan said: “I heard my father narrate from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said: 'Among those who came before you there was a man who bought some property and found therein a jar of gold. He said: “I bought land from you, but I did not buy the gold from you.” The man said: “Rather I sold you the land with whatever is in it.” They referred their case to (a third) man who said: “Do you have children?” One of them said: “I have a boy.” The other said: “I have a girl.” He said: “Marry the boy to the girl, and let them spend on themselves from it and give in charity.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص نے ایک زمین خریدی، اس میں اسے سونے کا ایک مٹکا ملا، خریدار بائع ( بیچنے والے ) سے کہنے لگا: میں نے تو تم سے زمین خریدی ہے سونا نہیں خریدا، اور بائع کہہ رہا تھا: میں نے زمین اور جو کچھ اس میں ہے سب تمہارے ہاتھ بیچا ہے، الغرض دونوں ایک شخص کے پاس معاملہ لے گئے، اس نے پوچھا: تم دونوں کا کوئی بچہ ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: ہاں میرے پاس ایک لڑکا ہے اور دوسرے نے کہا: میرے پاس ایک لڑکی ہے، تو اس شخص نے کہا: تم دونوں اس لڑکے کی شادی اس لڑکی سے کر دو، اور چاہیئے کہ اس سونے کو وہی دونوں اپنے اوپر خرچ کریں، اور اس میں سے صدقہ بھی دیں۔
2511
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 3, Book 18, Hadith 2511 Arabic reference : Book 18, Hadith 2607
Conclusion
تخریج
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۲۹۶)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأنبیاء ۵۴ (۳۴۷۲)، صحیح مسلم/الأقضیة ۱۱ (۱۷۲۱)، مسند احمد (۲/۳۱۶)

Related Chapters

1,099
1
(183) CHAPTER. (It is permissible for) somebody to take over the leadership of the army during a battle with being appointed when there is danger from the enemy.
جو شخص میدان جنگ میں جبکہ دشمن کا خوف ہو امام کے کسی نئے حکم کے بغیر امیر لشکر بن جائے
Sahih Bukhari
2
(34) CHAPTER. Whoever ordered somebody other than the ruler to carry out the legal punishment in the absence of the ruler.
جو شخص حاکم اسلام کے پاس نہ ہو ( کہیں اور ہو ) لیکن اس کو حد لگانے کے لیے حکم دیا جائے
Sahih Bukhari
3
CHAPTER: Regarding Whoever Died And Some Fast Was Still Due Upon Him.
باب: جو شخص مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
4
جو شخص بھول سے دو رکعت پڑھ کر کھڑا ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
5
جو شخص مر جائے اور اس کے ذمہ نذر ہو تو اس کے حکم کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
6
باب: اس شخص کی سزا جسے گناہ کے کام کا حکم دیا جائے اور وہ اسے بجا لائے۔
Sunnan Nisai
7
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays Facing A Direction Other Than The Qiblah When It Is Cloudy
باب: جو شخص بدلی میں غیر قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ لے اس کا کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About The Imam Getting Up Forgetfully After Two Rak'ah
باب: امام دو رکعت کے بعد بیٹھنے کے بجائے بھول کر کھڑا ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About When A Boy Is Ordered To Perform Salat
باب: بچے کو نماز کا حکم کب دیا جائے گا؟
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The Fasting Person Who Is Overcome By Vomiting
باب: روزہ دار کو (خودبخود) قے آ جائے اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About a Man Who Died Before Stipulating The Dowry For Her
باب: آدمی شادی کرے اور مہر مقرر کرنے سے پہلے مر جائے تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About When A Man In Debt Becomes Bankrupt And One's Goods Are Found With Him
باب: قرض دار مفلس ہو جائے اور آدمی اس کے پاس اپنا سامان پائے تو اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Shoots Some Game Then He Loses Sight Of It
باب: آدمی شکار کو تیر مارے اور شکار غائب ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Whoever Takes An Oath And Then Sees That Something Else Is Better Than It
باب: کسی کام پر قسم کھانے کے بعد اس سے بہتر کام جان جائے تو اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
15
بَاب مَالا يدعى على الْمَحْدُود
جس شخص پر حد قائم کی جائے اس پر بددعا کرنے کی ممانعت کا بیان
Mishkat
16
اس پانی کے حکم کا بیان، جس کے ساتھ نجاست مل جائے اور بئرِ بضاعہ کی تفصیل
Musnad Ahmad
17
غسل خانے سے باہر آ کر پاؤں کو دھونے، تولیہ وغیرہ سے پانی خشک کرنے کے حکم اور نماز کا ارادہ رکھنے والے کا وضو کی بجائے غسل پر اکتفا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
18
اس شخص کے حکم کا بیان جو قراء ت کا فریضہ اچھی طرح ادا نہیں کر سکتا
Musnad Ahmad
19
جو شخص پہلے تشہد کے لیے بیٹھنا بھول جائے اور سیدھا کھڑا ہوجائے تو بیٹھنے کے لیے واپس نہ لوٹے
Musnad Ahmad
20
اس امام کے حکم کا بیان، جس کو (دورانِ نماز) یہ یاد آجائے کہ وہ بے وضو ہے
Musnad Ahmad
21
اس شخص کا بیان جو صف کے بغیر رکوع کرے پھر چل کر صف میں مل جائے
Musnad Ahmad
22
دو رکعت نماز جمعہ ہونے کا بیان، اس آدمی کا حکم جس سے ایک رکعت رہ جائے یا ہجوم کر دیا جائے اور جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مسجد کی شرط لگانے والے کا بیان
Musnad Ahmad
23
نمازِ خوف کی مشروعیت کا سبب، اس کا حکم اور یہ کب ادا کی جائے گی نماز خوف کی اقسام میں سے پہلی قسم کا بیان
Musnad Ahmad
24
جو شخص کسی شرعی حد میں قتل کیا جائے، امام اس کی نماز جنازہ پڑھے یا نہ پڑھے، اس کا بیان
Musnad Ahmad
25
مصیبت زدہ کی تعزیت کرنا، صبر کرنے کا ثواب، صبر کرنے کا حکم اور ایسی صورتوں میں کیا کہا جائے، ان سب امور کا بیان
Musnad Ahmad
26
رات کو روزے کی نیت کر لینے کے وجوب اور اور اس شخص کے حکم کا بیان کہ جس پر رمضان کے مہینےیا اس کے کسی دن کے دوران روزے فرض ہو جاتے ہیں
Musnad Ahmad
27
جائے اعتکاف میں داخل ہونے کے وقت کا بیان، نیز جو شخص اس کا عادی ہو اور اس سے بوجہ عذر رہ جائے تو اس کی قضائی کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
28
ایسے شخص کا بیان، جو اللہ کی راہ میں شہید ہو جائے اور اس پر قرضہ بھی ہو
Musnad Ahmad
29
حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
30
حکمران تک پہنچانے سے پہلے حد کو ثابت کرنے والے گناہ کا ارتکاب کرنے والے شخص پر پردہ ڈالنے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
31
اس چیز کا بیان کہ اس شخص کو حد نہیں لگائی جائے گی، جو کسی حد کا اقرار تو کرے اور اس کا نام نہ لے
Musnad Ahmad
32
اس چیز کے سنت ہونے کا بیان کہ گواہ خود سنگسار کرنے کی ابتداء کرے اور زانی کے اقرار کرنے کی صورت میں حکمران ابتداء کرے، نیز اس چیز کا بیان کہ شادی شدہ زانی کو کوڑے لگا کر رجم کیا جائے
Musnad Ahmad
33
جب غلام، آقا کی چوری کرے تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، نیز بھاگے ہوئے غلام کا حکم کیا ہے، جب وہ چوری کرے
Musnad Ahmad
34
جس آدمی سے شراب کا نشہ یا اس کی بو محسوس کی جا رہی ہو، کیا اس پر حکم ثابت ہو جائے گی، اگرچہ وہ اعتراف نہ کرے؟
Musnad Ahmad
35
شریعت میں کہانت کے حکم اور اس کے مصدر کا بیان، نیز بعض امور میں کاہن کی کیسے تصدیق کی جائے گی؟
Musnad Ahmad
36
کیا دودھ پلانے والی خاتون کے خاوند اور اس کے رشتہ داروں کے لیے بھی رضاعت کا حکم ثابت ہو جائے گا یا نہیں
Musnad Ahmad
37
اس امر کا بیان کہ جس شخص کو دعوت دی جائے، اگر وہ برائی دیکھے تو اس کو روکے، وگرنہ لوٹ جائے
Musnad Ahmad
38
اس چیز کا بیان کہ تمام اشیاء کا اصل حکم اباحت کا ہے، جب تک منع نہ کر دیا جائے یا فرض نہ قرار دیا جائے
Musnad Ahmad
39
(2) CHAPTER. Whoever is asked about knowledge while he is busy in some conversation, so he finished his talk, and then answered the questioner.
اس بیان میں کہ جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے
Sahih Bukhari
40
(8) CHAPTER. Whoever sat at the farther end of a gathering. And whoever found a place amongst a gathering and took his seat there.
وہ شخص جو مجلس کے آخر میں بیٹھ جائے اور وہ شخص جو درمیان میں جہاں جگہ دیکھے بیٹھ جائے ( بشرطیکہ دوسروں کو تکلیف نہ ہو )
Sahih Bukhari
41
(9) CHAPTER. The Statement of the Prophet : It is probable that a person who receives a piece of information indirectly may comprehend it better than he who has heard it directly from its source.”
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل میں کہ بسا اوقات وہ شخص جسے ( حدیث ) پہنچائی جائے سننے والے سے زیادہ ( حدیث کو ) یاد رکھ لیتا ہے ۔
Sahih Bukhari
42
(12) CHAPTER. Defecating while sitting over two bricks.
اس بارے میں کہ کوئی شخص دو اینٹوں پر بیٹھ کر قضاء حاجت کرے ( تو کیا حکم ہے ؟ )
Sahih Bukhari
43
(65) CHAPTER. If the (traces of) Janaba (semen) or other spots are not removed completely on washing.
اگر منی یا کوئی اور نجاست ( مثلاً حیض کا خون ) دھوئے اور ( پھر ) اس کا اثر نہ جائے ( تو کیا حکم ہے ؟ )
Sahih Bukhari
44
(17) CHAPTER. If someone while in the mosque remembers that he is Junub , he should leave (the mosque to take a bath) and should not perform Tayammum.
جب کوئی شخص مسجد میں ہو اور اسے یاد آئے کہ مجھ کو نہانے کی حاجت ہے تو اسی طرح نکل جائے اور تیمم کرے
Sahih Bukhari
45
CHAPTER. If the clothes of a praying person in prostration touched his wife [would that make his Salat (prayer) invalid]?
جب سجدے میں آدمی کا کپڑا اس کی عورت سے لگ جائے تو کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
46
(37) CHAPTER. One who forgets a Salat (prayer) should offer it when he remembers it, and should not repeat anything except that particular prayer.
جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب یاد آئے اس وقت پڑھ لے اور فقط وہی نماز پڑھے
Sahih Bukhari
47
(77) CHAPTER. If a person stands by the left side of the Imam, and the Imam draws him to the right from behind, his Salat (prayer) is correct.
اگر کوئی شخص امام کے بائیں طرف کھڑا ہو اور امام اپنے پیچھے سے اسے دائیں طرف کر دے تو نماز ہو جائے گی
Sahih Bukhari
48
(122) CHAPTER. The order of the Prophet to a person who did not perform his bowing perfectly that he should repeat his Salat (prayer).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کو نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم دینا جس نے رکوع پوری طرح نہیں کیا تھا
Sahih Bukhari
49
(136) CHAPTER. To tie the clothes and wrap them properly [in Salat (prayer)]; and whoever gathered his clothes for fear that his private parts may become exposed.
( نماز میں ) کپڑوں میں گرہ لگانا اور باندھنا کیسا ہے اور جو شخص شرمگاہ کے کھل جانے کے خوف سے کپڑے کو جسم سے لپیٹ لے تو کیا حکم ہے ؟
Sahih Bukhari
50
(142) CHAPTER. Sitting straight in a Witr prayer (i .e., an odd Raka) and then getting up.
اس شخص کے بارے میں جو شخص نماز کی طاق رکعت ( پہلی اور تیسری ) میں تھوڑی دیر بیٹھے اور پھر اٹھ جائے
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

87
Jam e Tirmazi
497
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُ أَصْحَابِ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ. وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ قَتَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ. وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏اخْتَارُوا الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَأَوْا أَنْ يُجْزِئَ الْوُضُوءُ مِنَ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ أَمْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَنَّهُ عَلَى الِاخْتِيَارِ لَا عَلَى الْوُجُوبِ:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُمَرَ حَيْثُ قَالَ لِعُثْمَانَ:‏‏‏‏ وَالْوُضُوءُ أَيْضًا. وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلَوْ عَلِمَا أَنَّ أَمْرَهُ عَلَى الْوُجُوبِ لَا عَلَى الِاخْتِيَارِ لَمْ يَتْرُكْ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏عُثْمَانَ حَتَّى يَرُدَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولَ لَهُ:‏‏‏‏ ارْجِعْ فَاغْتَسِلْ. وَلَمَا خَفِيَ عَلَى عُثْمَانَ ذَلِكَ مَعَ عِلْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ دَلَّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ الْغُسْلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ فَضْلٌ مِنْ غَيْرِ وُجُوبٍ يَجِبُ عَلَى الْمَرْءِ فِي ذَلِكَ.
Samurah bin Jundah narrated that : Allah's Messenger said: Whoever performs Wudu on Friday, then he will receive the blessing, and whoever performs Ghusl then Ghusl is more virtuous.
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن وضو کیا تو اس نے رخصت کو اختیار کیا اور خوب ہے یہ رخصت، اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- قتادہ کے بعض تلامذہ نے تو یہ حدیث قتادہ سے اور قتادہ نے حسن بصری سے اور حسن بصری نے سمرہ بن جندب سے ( مرفوعاً ) روایت کی ہے۔ اور بعض نے قتادہ سے اور قتادہ نے حسن سے اور حسن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے اہل علم کا عمل اسی پر ہے، انہوں نے جمعہ کے دن کے غسل کو پسند کیا ہے، ان کا خیال ہے کہ غسل کے بدلے وضو بھی کافی ہو جائے گا، ۵- شافعی کہتے ہیں: جمعہ کے روز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے حکم کے وجوبی ہونے کے بجائے اختیاری ہونے پر جو چیزیں دلالت کرتی ہیں ان میں سے عمر رضی الله عنہ کی حدیث بھی ہے جس میں انہوں نے عثمان رضی الله عنہ سے کہا ہے کہ تم نے صرف وضو پر اکتفا کیا ہے حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن غسل کا حکم دیا ہے، اگر انہیں یہ معلوم ہوتا کہ یہ حکم واجبی ہے، اختیاری نہیں تو عمر رضی الله عنہ عثمان رضی الله عنہ کو لوٹائے بغیر نہ چھوڑتے اور ان سے کہتے: جاؤ غسل کرو، اور نہ ہی عثمان رضی الله عنہ سے اس بات کے جاننے کے باوجود کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کو غسل کرنے کا حکم دیا ہے اس کے وجوب کی حقیقت مخفی رہتی، بلکہ اس حدیث میں صاف دلالت ہے کہ جمعہ کے دن غسل افضل ہے نہ کہ واجب۔
Jam e Tirmazi
548
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ. قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأَنَسٍ:‏‏‏‏ كَمْ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ عَشْرًا. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَقَامَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ تِسْعَ عَشْرَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ فَنَحْنُ إِذَا أَقَمْنَا مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ تِسْعَ عَشْرَةَ صَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ زِدْنَا عَلَى ذَلِكَ أَتْمَمْنَا الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِي عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَقَامَ عَشْرَةَ أَيَّامٍ أَتَمَّ الصَّلَاةَ. وَرُوِي عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَقَامَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا أَتَمَّ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِي عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا أَقَامَ أَرْبَعًا صَلَّى أَرْبَعًا، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عَنْهُ ذَلِكَ قَتَادَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عَنْهُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ خِلَافَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ بَعْدُ فِي ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَهْلُ الْكُوفَةِ فَذَهَبُوا إِلَى تَوْقِيتِ خَمْسَ عَشْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ إِذَا أَجْمَعَ عَلَى إِقَامَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ. وقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ:‏‏‏‏ إِذَا أَجْمَعَ عَلَى إِقَامَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ:‏‏‏‏ إِذَا أَجْمَعَ عَلَى إِقَامَةِ أَرْبَعَةٍ أَتَمَّ الصَّلَاةَ. وَأَمَّا إِسْحَاق فَرَأَى أَقْوَى الْمَذَاهِبِ فِيهِ حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لِأَنَّهُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَأَوَّلَهُ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَجْمَعَ عَلَى إِقَامَةِ تِسْعَ عَشْرَةَ أَتَمَّ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّ الْمُسَافِرَ يَقْصُرُ مَا لَمْ يُجْمِعْ إِقَامَةً وَإِنْ أَتَى عَلَيْهِ سِنُونَ.
Yahya bin Abi Ishaq Al-Hadrami narrated : that Anas bin Malik said: We went with the Messenger of Allah from Al-Madinah to Makkah, and he prayed two Rak'ah. He said: I said to Anas: 'How long did Messenger of Allah stay in Makkah?' He said: 'Ten (days).'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے۔ آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، یحییٰ بن ابی اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی الله عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں کتنے دن رہے، انہوں نے کہا دس دن ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور ابن عباس رضی الله عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ اپنے سفر میں انیس دن ٹھہرے اور دو رکعتیں ادا کرتے رہے۔ ابن عباس کہتے ہیں، چنانچہ جب ہم انیس دن یا اس سے کم ٹھہرتے تو دو رکعتیں پڑھتے۔ اور اگر اس سے زیادہ ٹھہرتے تو پوری پڑھتے، ۴- علی رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: جو دس دن ٹھہرے وہ پوری نماز پڑھے، ۵- ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: جو پندرہ دن قیام کرے وہ پوری نماز پڑھے۔ اور ان سے بارہ دن کا قول بھی مروی ہے، ۶- سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: جب چار دن قیام کرے تو چار رکعت پڑھے۔ ان سے اسے قتادہ اور عطا خراسانی نے روایت کیا ہے، اور داود بن ابی ہند نے ان سے اس کے خلاف روایت کیا ہے، ۷- اس کے بعد اس مسئلہ میں اہل علم میں اختلاف ہو گیا۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ پندرہ دن کی تحدید کی طرف گئے اور ان لوگوں نے کہا کہ جب وہ پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کر لے تو پوری نماز پڑھے، ۸- اوزاعی کہتے ہیں: جب وہ بارہ دن ٹھہرنے کی نیت کرے تو نماز پوری پڑھے، ۹- مالک بن انس، شافعی، اور احمد کہتے ہیں: جب چار دن ٹھہرنے کی نیت کرے تو نماز پوری پڑھے، ۱۰- اور اسحاق بن راہویہ کی رائے ہے کہ سب سے قوی مذہب ابن عباس کی حدیث ہے، اس لیے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، پھر یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ اس پر عمل پیرا رہے جب وہ انیس دن ٹھہرتے تو نماز پوری پڑھتے۔ پھر اہل علم کا اجماع اس بات پر ہو گیا کہ مسافر جب تک قیام کی نیت نہ کرے وہ قصر کرتا رہے، اگرچہ اس پر کئی سال گزر جائیں ۲؎۔
Jam e Tirmazi
2062
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاق الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ حَيَّةَ بْنِ حَابِسٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى شَيْبَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَيَّةَ بْنِ حَابِسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ‏‏‏‏‏‏لَا يَذْكُرَانِ فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
Ibn 'Abbas narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) said: If there was anything that could overcome the Decree then the (evil) eye would overcome it, and when you are requested to wash (due to it) then wash.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت ( پہل ) کر سکتی تو اس پر نظر بد ضرور سبقت ( پہل ) کرتی، اور جب لوگ تم سے غسل کرائیں تو تم غسل کر لو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- حیہ بن حابس کی روایت ( جو اوپر مذکور ہے ) غریب ہے، ۳- شیبان نے اسے «عن يحيى بن أبي كثير عن حية بن حابس عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے جب کہ علی بن مبارک اور حرب بن شداد نے اس سند میں ابوہریرہ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ۴- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے۔
Jam e Tirmazi
2389
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ .
An-Nawas bin Sama'an narrated that a man came asking the Messenger of Allah (s.a.w) about righteousness and sin. So the Prophet (s.a.w) said: Righteouness is good behaviour, and sin is what fluctuates in your chest, and you would hate that the people discovered it about you.
نواس بن سمعان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور بدی کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹک پیدا کرے اور لوگوں کا مطلع ہونا تم اس پر ناگوار گزرے“ ۱؎۔
Jam e Tirmazi
3235
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ أَبُو هَانِئٍ الْيَشْكُرِيُّ، حَدَّثَنَا جَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامِ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَايِشٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ احْتُبِسَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى كِدْنَا نَتَرَاءَى عَيْنَ الشَّمْسِ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ سَرِيعًا فَثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا سَلَّمَ دَعَا بِصَوْتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَنَا:‏‏‏‏ عَلَى مَصَافِّكُمْ كَمَا أَنْتُمْ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْفَتَلَ إِلَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أَمَا إِنِّي سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِي عَنْكُمُ الْغَدَاةَ أَنِّي قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ مَا قُدِّرَ لِي، ‏‏‏‏‏‏فَنَعَسْتُ فِي صَلَاتِي حَتّى اسْتَثْقَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا مُحَمَّدُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ لَبَّيْكَ رَبِّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ لَا أَدْرِي ، ‏‏‏‏‏‏قَالَهَا ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا مُحَمَّدُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ لَبَّيْكَ رَبِّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ فِي الْكَفَّارَاتِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا هُنَّ ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ مَشْيُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكْرُوهَاتِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فِيمَ ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ إِطْعَامُ الطَّعَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَلِينُ الْكَلَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَلْ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، ‏‏‏‏‏‏وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، ‏‏‏‏‏‏وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ، ‏‏‏‏‏‏أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، ‏‏‏‏‏‏وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، ‏‏‏‏‏‏وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُ إِلَى حُبِّكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَعَلَّمُوهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ اللَّجْلَاجِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَائِشٍ الْحَضْرَمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا ذَكَرَ الْوَلِيدُ فِي حَدِيثِهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَايِشٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ هَذَا الْحَدِيثَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَائِشٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Narrated Mu'adh bin Jabal [may Allah be pleased with him]: One morning, the Messenger of Allah (ﷺ) was prevented from coming to us for Salat As-Subh, until we were just about to look for the eye of the sun (meaning sunrise). Then he came out quickly, had the Salat prepared for. The Messenger of Allah (ﷺ) performed the Salat, and he performed his Salat in a relatively quick manner. When he said the Salam, he called aloud with his voice saying to us: 'Stay in your rows as you are.' Then he turned coming near to us, then he said: 'I am going to narrate to you what kept me from you this morning: I got up during the night, I performed Wudu and prayed as much as I was able to, and I dozed off during my Salat, and fell deep asleep. Then I saw my Lord, Blessed and Most High, in the best of appearances. He said: 'O Muhammad!' I said: 'My Lord here I am my Lord!' He said: 'What is it that the most exalted group busy themselves with?' I said: 'I do not know Lord.' And He said it three times. He said: So I saw Him place His Palm between my shoulders, and I sensed the coolness of His Fingertips between my breast. Then everything was disclosed for me, and I became aware. So He said: 'O Muhammad!' I said: 'Here I am my Lord!' He said: 'What is it that the most exalted group busy themselves with?' I said: 'In the acts that atone.' He said: 'And what are they?' I said: 'The footsteps to the congregation, the gatherings in the Masajid after the Salat, Isbagh Al-Wudu during difficulties.' He said: 'Then what else?' I said: 'Feeding others, being lenient in speech, and Salat during the night while the people are sleeping.' He said: 'Ask.' I said: 'O Allah! I ask of you the doing of the good deeds, avoiding the evil deeds, loving the poor, and that You forgive me, and have mercy upon me. And when You have willed Fitnah in the people, then take me without the Fitnah. And I ask You for Your love, the love of whomever You love, and the of the deeds that bring one nearer to Your love.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed it is true, so study it and learn it.
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھانے سے روکے رکھا، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ کو دیکھ لیں، پھر آپ تیزی سے ( حجرہ سے ) باہر تشریف لائے، لوگوں کو نماز کھڑی کرنے کے لیے بلایا، آپ نے نماز پڑھائی، اور نماز مختصر کی، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آواز دے کر لوگوں کو ( اپنے قریب ) بلایا، فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ، پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا: ”میں آپ حضرات کو بتاؤں گا کہ فجر میں بروقت مجھے تم لوگوں کے پاس مسجد میں پہنچنے سے کس چیز نے روک لیا، میں رات میں اٹھا، وضو کیا، ( تہجد کی ) نماز پڑھی جتنی بھی میرے نام لکھی گئی تھی، پھر میں نماز میں اونگھنے لگا یہاں تک کہ مجھے گہری نیند آ گئی، اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے بزرگ و برتر رب کے ساتھ ہوں وہ بہتر صورت و شکل میں ہے، اس نے کہا: اے محمد! میں نے کہا: میرے رب! میں حاضر ہوں، اس نے کہا: «ملا ٔ الأعلى» ( فرشتوں کی اونچے مرتبے والی جماعت ) کس بات پر جھگڑ رہی ہے؟ میں نے عرض کیا: رب کریم میں نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ نے یہ بات تین بار پوچھی، آپ نے فرمایا: میں نے اللہ ذوالجلال کو دیکھا کہ اس نے اپنا ہاتھ میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کی انگلیوں کی ٹھنڈک اپنے سینے کے اندر محسوس کی، ہر چیز میرے سامنے روشن ہو کر آ گئی، اور میں جان گیا ( اور پہچان گیا ) پھر اللہ عزوجل نے فرمایا: اے محمد! میں نے کہا: رب! میں حاضر ہوں، اس نے کہا: «ملا ٔ الأعلى» کے فرشتے کس بات پر جھگڑ رہے ہیں؟ میں نے کہا: «کفارات» کے بارے میں، اس نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ میں نے کہا: نماز باجماعت کے لیے پیروں سے چل کر جانا، نماز کے بعد مسجد میں بیٹھ کر ( دوسری نماز کے انتظار میں ) رہنا، ناگواری کے وقت بھی مکمل وضو کرنا، اس نے پوچھا: پھر کس چیز کے بارے میں ( بحث کر رہے ہیں ) ؟ میں نے کہا: ( محتاجوں اور ضرورت مندوں کو ) کھانا کھلانے کے بارے میں، نرم بات چیت میں، جب لوگ سو رہے ہوں اس وقت اٹھ کر نماز پڑھنے کے بارے میں، رب کریم نے فرمایا: مانگو ( اور مانگتے وقت کہو ) کہو: «اللهم إني أسألك فعل الخيرات وترك المنكرات وحب المساكين وأن تغفر لي وترحمني وإذا أردت فتنة قوم فتوفني غير مفتون أسألك حبك وحب من يحبك وحب عمل يقرب إلى حبك» ”اے اللہ! میں تجھ سے بھلے کاموں کے کرنے اور منکرات ( ناپسندیدہ کاموں ) سے بچنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور مساکین سے محبت کرنا چاہتا ہوں، اور چاہتا ہوں کہ مجھے معاف کر دے اور مجھ پر رحم فرما، اور جب تو کسی قوم کو آزمائش میں ڈالنا چاہے، تو مجھے تو فتنہ میں ڈالنے سے پہلے موت دیدے، میں تجھ سے اور اس شخص سے جو تجھ سے محبت کرتا ہو، محبت کرنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے ایسے کام کرنے کی توفیق چاہتا ہوں جو کام تیری محبت کے حصول کا سبب بنے“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حق ہے، اسے پڑھو یاد کرو اور دوسروں کو پڑھاؤ سکھاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ بھی کہا کہ یہ حدیث ولید بن مسلم کی اس حدیث سے زیادہ صحیح ہے جسے وہ عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا خالد بن لجلاج نے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا عبدالرحمٰن بن عائش حضرمی نے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آگے یہی حدیث بیان کی، اور یہ غیر محفوظ ہے، ولید نے اسی طرح اپنی حدیث میں جسے انہوں نے عبدالرحمٰن بن عائش سے روایت کیا ہے ذکر کیا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جبکہ بشر بن بکر نے، روایت کیا عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے، یہ حدیث اسی سند کے ساتھ، انہوں نے روایت کیا، عبدالرحمٰن بن عائش سے اور عبدالرحمٰن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( بلفظ «عن» اور یہ زیادہ صحیح ہے، کیونکہ عبدالرحمٰن بن عائش نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا ہے۔
Jam e Tirmazi
3587
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْدَانَ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي وَقَدْ وَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، ‏‏‏‏‏‏وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ وَبَسَطَ السَّبَّابَةَ وَهُوَ يَقُولُ:‏‏‏‏ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.
`Asim bin Kulaib Al-Jarmi narrated from his father, from his grandfather, who said: “I entered upon the Prophet (ﷺ) while he was praying and he had placed his left hand on his left thigh, and he had placed his right hand on his right thigh, and clasped his fingers, and extended his index finger, and he was saying: ‘O changer of the hearts, make my heart firm upon Your religion (Yā muqallibal-qulūbi thabbit qalbī `alā dīnik).’”
عاصم بن کلیب بن شہاب کے دادا شہاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ نماز پڑھا رہے تھے، آپ نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا تھا، اور اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھا، انگلیاں بند کی تھیں ( یعنی مٹھی باندھ رکھی تھی ) اور «سبابہ» ( شہادت کی انگلی ) کھول رکھی تھی اور آپ یہ دعا کر رہے تھے: «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ”اے دلوں کے پھیرنے والے میرا دل اپنے دین پر جما دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
Sahih Muslim
51
دَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ: كُنَّا نَأْتِي أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيَّ وَنَحْنُ غِلْمَةٌ أَيْفَاعٌ، فَكَانَ يَقُولُ لَنَا: «لَا تُجَالِسُوا الْقُصَّاصَ غَيْرَ أَبِي الْأَحْوَصِ، وَإِيَّاكُمْ وَشَقِيقًا»، قَالَ: «وَكَانَ شَقِيقٌ هَذَا يَرَى رَأْيَ الْخَوَارِجِ، وَلَيْسَ بِأَبِي وَائِلٍ»
Abū Kāmil al-Jahdarī narrated to us, Hammād- and he is Ibn Zayd- narrated to us, he said Āsim [bin Bahdalah] narrated to us, he said: ‘We would catch up with Abū Abd ar-Rahman as-Sulamī and at the time we were young men, so he would say to us: ‘Do not sit with story-tellers other than Abūl-Ahwas and beware of Shaqīq [Abū Abd ar-Rahīm]’. [Muslim] said: ‘This Shaqīq held the view of the Khawārij and is not Abū Wā’il [Shaqīq bin Salamah, the righteous Tabi’ī]’.
ہمیں عاصم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم بالکل نو عمر لڑکے تھے جو ابو عبد الرحمن سلمی کے پاس حاضر ہوتے تھے ، وہ ہم سے کہا کرتے تھے : ابو احوص کے سوا دوسرے قصہ گوؤں ( واعظوں ) کی مجالس میں مت بیٹھو اور شقیق سے بچ کر رہو ۔ شقیق خوارج کا نقطہ نظر رکھتا تھا ، یہ ابو وائل نہیں ( بلکہ شقیق ضبی ہے ۔ )
Sahih Muslim
94
) حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ: لَمَّا تَكَلَّمَ مَعْبَدٌ بِمَا تَكَلَّمَ بِهِ فِي شَأْنِ الْقَدَرِ أَنْكَرْنَا ذَلِكَ، قَالَ: فَحَجَجْتُ أَنَا وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ حَجَّةً، وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ كَهْمَسٍ وَإِسْنَادِهِ، وَفِيهِ بَعْضُ زِيَادَةٍ وَنُقْصَانُ أَحْرُفٍ.
It is narrated on the authority of Yahya b. Ya'mur that when Ma'bad discussed the problem pertaining to Divine Decree, we refuted that. He (the narrator) said: I and Humaid b. Abdur-Rahman Himyari argued. And they carried on the conversation about the purport of the hadith related by Kahmas and its chain of transmission too, and there is some variation of words.
کہمس کے بجائے مطر وراق نےعبد اللہ بن بریدہ سے ، انہوں نے یحیی بن یعمر سے نقل کیا کہ جب معبد ( جہنی ) نے تقدیر کے بارے میں وہ ( سب ) کہا جو کہا ، تو ہم نے اسے سخت ناپسند کیا ( یحییٰ نے کہا ) میں اور حمید بن عبد الرحمٰن حمیری نے حج کیا .... اس کے بعد انہوں نے کہمس کے واسطے سے بیان کردہ حدیث کے مطابق حدیث بیان کی ، البتہ الفاظ میں کچھ کمی بیشی ہے
Sahih Muslim
351
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ أُمَّتَكَ لَا يَزَالُونَ يَقُولُونَ: مَا كَذَا؟ مَا كَذَا؟ حَتَّى يَقُولُوا: هَذَا اللهُ خَلَقَ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللهَ
Anas b. Malik transmitted it from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that the Great and Glorious Allah said: Verily your people would constantly question about this and that till they would say: Well, it is Allah Who created the creation, but who created Allah?
محمد بن فضیل نے مختار بن فلفل سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، انہوں نے رسو ل اللہ ﷺ سے روایت کی ، آپ نے کہا : ’’ اللہ عز وجل نے فرمایا : ’’ آپ کی امت کے لوگ کہتے رہیں گے : یہ کیسے ہے ؟ وہ کیسے ہے؟ یہاں تک کہ کہیں گے : یہ اللہ ہے ، اس نے مخلوق کو پیدا کیا ، پھر اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟ ‘ ‘