حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَخَ رَأْسَ امْرَأَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقَتَلَهَا، فَرَضَخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ .
It was narrated from Anas bin Malik that :
a Jew crushed the head of a woman between two rocks and killed her, so the Messenger of Allah (ﷺ) crushed his head between two rocks.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک عورت کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل ڈالا، تو رسول اللہ صلیاللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے ساتھ وہی سلوک کیا ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الوصایا ۵ (۲۷۴۶)، الطلاق ۲۴ (تعلیقاً)، الدیات ۴ (۶۸۷۶)،۵ (۶۸۷۷)،۱۲ (۶۸۸۴)، صحیح مسلم/الحدود ۳ (۱۶۷۲)، سنن ابی داود/الدیات ۱۰ (۴۵۲۷ مختصراً)، سنن الترمذی/الدیات ۶ (۱۳۹۴)، سنن النسائی/المحاربة ۷ (۴۰۴۹)،(تحفة الأشرا ف:۱۳۹۱)، القسامة ۸ (۴۷۴۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۶۳،۱۸۳،۲۰۳،۲۶۷)، سنن الدارمی/الدیات ۴ (۲۴۰۰)
Explanation
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ بڑے پتھر سے اگر کوئی مارے جس سے آدمی مر جاتا ہے تو اس میں قصاص واجب ہوتا ہے اس لیے کہ وہ قتل عمد ہے، اس میں قصاص واجب ہو گا۔
2665
Sahih