TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قسامہ کا بیان - قسامہ کا بیان - The chapters on blood money - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Chapter 28 of The chapters on blood money in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 28 of 36 · 2 Hadith
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي أَبُو لَيْلَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رِجَالٍ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَأُلْقِيَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ بِخَيْبَرَ فَأَتَى يَهُودَ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُمْ ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ يَتَكَلَّمُ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ:‏‏‏‏ كَبِّرْ، ‏‏‏‏‏‏كَبِّرْ يُرِيدُ السِّنَّ، ‏‏‏‏‏‏فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِمَّا أَنْ يُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فِي ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَكَتَبُوا:‏‏‏‏ إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ:‏‏‏‏ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ:‏‏‏‏ تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ. فَقَالَ سَهْلٌ:‏‏‏‏ فَلَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ
It was narrated from Sahl bin Abu Hathmah from the elders of his people that : 'Abdullah bin Sahl and Muhayyishah set out for Khaibar because of some problem that had arisen. Someone came to Muhayyishah, and he told him that Abdullah bin Sahl had been killed and thrown into a pit or well in Khaibar. He came to the Jews and said: “By Allah, you killed him.” They said: “By Allah, we did not kill him.” Then he went back to his people and told them about that. Then he and his brother Huwayyisah, who was older than him, and 'Abdur-Rahman bin Sahl, came (to the Prophet (ﷺ)). Muhayyisah, who was the one who had been at Khaibar, went and he began to speak, but the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Let the elder speak first.” So Huwayyisah spoke, then Muhayyisah spoke. The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Either (the Jews) will pay the blood money for your companion, or war will be declared on them.” The Messenger of Allah (ﷺ) sent a letter to that effect (to the Jews) and they wrote back saying: “By Allah, we did not kill him.” The Messenger of Allah (ﷺ) said to Huwayyisah, Muhayyisah and Abdur-Rahman: “Will you swear an oath establishing your claim to the blood money of your companion?” They said: “No” He said: “Should the Jews swear an oath for you?” They said: “They are not Muslims.” So the Messenger of Allah (ﷺ) paid the blood money himself, and he sent one hundred she-camels to them and some of them entered the house. Sahl said: “A red she-camels from among them kicked me.”
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے بزرگوں سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما دونوں محتاجی کی وجہ سے جو ان کو لاحق تھی ( روزگار کی تلاش میں ) اس یہودی بستی خیبر کی طرف نکلے، محیصہ رضی اللہ عنہ کو خبر ملی کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے ہیں، اور انہیں خیبر کے ایک گڑھے یا چشمے میں ڈال دیا گیا ہے، وہ یہودیوں کے پاس گئے، اور کہا: اللہ کی قسم، تم لوگوں نے ہی ان ( عبداللہ بن سہل ) کو قتل کیا ہے، وہ قسم کھا کر کہنے لگے کہ ہم نے ان کا قتل نہیں کیا ہے، اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ خیبر سے واپس اپنی قوم کے پاس پہنچے، اور ان سے اس کا ذکر کیا، پھر وہ، ان کے بڑے بھائی حویصہ، اور عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور محیصہ رضی اللہ عنہ جو کہ خیبر میں تھے بات کرنے بڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محیصہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بڑے کا لحاظ کرو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عمر میں بڑے سے تھی چنانچہ حویصہ رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی، اور اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ نے، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا: یا تو یہود تمہارے آدمی کی دیت ادا کریں ورنہ اس کو اعلان جنگ سمجھیں اور یہود کو یہ بات لکھ کر بھیج دی، انہوں نے بھی جواب لکھ بھیجا کہ اللہ کی قسم، ہم نے ان کو قتل نہیں کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہم سے کہا: تم قسم کھا کر اپنے ساتھی کی دیت کے مستحق ہو سکتے ہو ، انہوں نے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہود قسم کھا کر بری ہو جائیں گے وہ کہنے لگے: وہ تو مسلمان نہیں ہیں، ( کیا ان کی قسم کا اعتبار کیا جائے گا ) آخر کار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کی دیت ادا کی، اور ان کے لیے سو اونٹنیاں بھیجیں جنہیں ان کے گھر میں داخل کر دیا گیا۔ سہل رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک لال اونٹنی نے مجھے لات ماری۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الصلح ۷ (۲۷۰۲)، الجزیة ۱۲ (۳۱۷۳)، الأدب ۸۹ (۶۱۴۳)، الدیات ۲۲ (۶۸۹۸)، الأحکام ۳۸ (۷۱۹۲)، صحیح مسلم/القسامة ۱ (۱۶۶۹)، سنن ابی داود/الدیات ۸ (۴۵۲۰)،۹ (۴۵۲۳)، سنن الترمذی/الدیات ۲۳ (۱۴۴۲)، سنن النسائی/القسامة ۳ (۴۷۱۴)،(تحفة الأ شراف:۴۶۴۴)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القسامة ۱ (۱)، مسند احمد (۴/۲،۳)، سنن الدارمی/الدیات ۲ (۲۳۹۸)
Explanation
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب قاتل کا پتہ نہ لگے تو مقتول کی دیت بیت المال سے دی جائے گی، اور مسلم نے ایک صحابی سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے قسامت کی دیت کو باقی رکھا اسی طریقہ پر جیسے جاہلیت کے زمانہ میں رائج تھی، اور جاہلیت میں یہی طریقہ تھا کہ مقتول کے اولیاء مدعی علیہم میں سے لوگوں کو چنتے، پھر ان کو اختیار دیتے، چاہیں وہ قسم کھا لیں چاہیں دیت ادا کریں، جیسے اس قسامت میں ہوا جو بنی ہاشم میں ہوئی، علماء نے قسامت کی کیفیت میں اختلاف کیا ہے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ جب قاتل ایک معین جماعت میں سے ہو تو اس میں سے مقتول کا ولی قاتل کی جماعت سے لوگوں کو چن کر پچاس قسمیں کھلوائے، اگر وہ حلف اٹھا لیں تو بری ہوں گئے ورنہ ان کو دیت دینی ہوگی۔ (ملاحظہ ہو: الروضۃ الندیہ ۳/۳۸۸)۔
2677
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَجَّاجٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ حُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ ابْنَيْ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدَ اللَّهِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ ابْنَيْ سَهْلٍ خَرَجُوا يَمْتَارُونَ بِخَيْبَرَ فَعُدِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقُتِلَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ تُقْسِمُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ؟ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏كَيْفَ نُقْسِمُ وَلَمْ نَشْهَدْ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا تَقْتُلَنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ .
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that : Huwayyisah and Muhayyisah , the sons of Mas'ud, and 'Abdullah and 'Abdur-Rahman the sons of Sahl, went out to search for food in Khaibar. 'Abdullah was attacked and killed, and mention of that was made to the Messenger of Allah (ﷺ). He said: “Will you swear an oath and establish your right to blood money?” They said: “O Messenger of Allah (ﷺ), how can we swear an oath when we did not witness anything?” He said: “Do you want the Jews to swear that they are innocent?” They said: “O Messenger of Allah (ﷺ), then they will kill us too.” So the Messenger of Allah (ﷺ) paid the blood money himself.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ و محیصہ رضی اللہ عنہما اور سہل کے دونوں بیٹے عبداللہ و عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما خیبر کی جانب تلاش رزق میں نکلے، عبداللہ پر ظلم ہوا، اور انہیں قتل کر دیا گیا، اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم کھاؤ اور ( دیت کے ) مستحق ہو جاؤ وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! جب ہم وہاں حاضر ہی نہیں تھے تو قسم کیوں کر کھائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہود ( قسم کھا کر ) تم سے بری ہو جائیں گے وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! تب تو وہ ہمیں مار ہی ڈالیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأ شراف:۸۶۷۸، ومصباح الزجاجة:۹۴۹)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/القسامة ۲ (۴۷۱۸)
2678
Sahih

Chapters

36
01
مسلمان کو ناحق قتل کرنے پر وارد وعید کا بیان
6 Hadith
02
کیا مومن کے قاتل کی توبہ قبول ہے؟۔
2 Hadith
03
مقتول کے ورثاء کو تین باتوں میں سے کسی ایک بات کا اختیار ہے
2 Hadith
04
قتل عمد میں مقتول کے ورثاء دیت پر راضی ہو جائیں تو اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
05
قتل عمد کے مشابہ یعنی غلطی سے قتل میں دیت سخت ہے
3 Hadith
06
قتل خطا کی دیت
3 Hadith
07
دیت عاقلہ (قاتل اور اس کے خاندان والوں) پر ہے ورنہ بیت المال سے دی جائے گی
2 Hadith
08
قصاص یا دیت لینے میں جو مقتول کے ورثاء کے آڑے آئے اس کے گناہ کا بیان
1 Hadith
09
جن چیزوں میں قصاص نہیں بلکہ دیت ہے ان کا بیان
2 Hadith
10
زخمی کرنے والا بدلے میں فدیہ دے تو اس کے حکم کا بیان
1 Hadith
11
«جنین» (پیٹ کے بچے) کی دیت کا بیان
3 Hadith
12
دیت کی میراث کا بیان
2 Hadith
13
کافر کی دیت کا بیان
1 Hadith
14
قاتل مقتول کی وراثت کا حقدار نہ ہو گا
2 Hadith
15
عورت کی دیت اس کے عصبہ (باپ کے رشتہ داروں) پر ہے اور اس کی میراث اس کی اولاد کو ملے گی
2 Hadith
16
دانت میں قصاص کا بیان
1 Hadith
17
دانتوں کی دیت کا بیان
2 Hadith
18
انگلیوں کی دیت کا بیان
3 Hadith
19
ہڈی ظاہر کر دینے والے زخم کی دیت کا بیان
1 Hadith
20
ایک آدمی نے دوسرے کے ہاتھ میں دانت کاٹا، اس کے ہاتھ کھینچنے پر کاٹنے والے کے آگے کے دو دانت گر گئے تو اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
21
کافر کے بدلے مسلمان قتل نہ کیا جائے گا
3 Hadith
22
باپ کو اپنی اولاد کے بدلے قتل نہ کرنے کا بیان
2 Hadith
23
کیا آزاد کو غلام کے بدلے قتل کیا جائے گا؟
2 Hadith
24
قاتل سے قصاص اسی طرح لیا جائے گا جس طرح اس نے قتل کیا ہے
2 Hadith
25
صرف تلوار سے قصاص لینے کا بیان
2 Hadith
26
دوسرے کے جرم اور گناہ میں کسی اور کے نہ پکڑا جائے گا۔
4 Hadith
27
جن چیزوں میں نہ دیت ہے نہ قصاص ان کا بیان
4 Hadith
28
قسامہ کا بیان
2 Hadith
29
جس شخص نے اپنے غلام کا مثلہ کیا (یعنی اس کا کوئی عضو کاٹ دیا) تو وہ آزاد ہو جائے گا
2 Hadith
30
قاتلوں میں اہل ایمان کے سب سے بہتر ہونے کا بیان
2 Hadith
31
مسلمانوں کے خون برابر ہیں
3 Hadith
32
ذمی کافر کو قتل کرنے والے کے گناہ کا بیان
2 Hadith
33
کسی کو امان دینے کے بعد قتل کرنا کیسا ہے؟۔
2 Hadith
34
قاتل کو معاف کر دینے کا بیان
2 Hadith
35
قصاص معاف کر دینے کا بیان
2 Hadith
36
حاملہ عورت پر قصاص واجب ہو تو اس کا قصاص کب ہو گا؟۔
1 Hadith
No chapter matched that.