حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ .
It was narrated that Ibn ‘Umar said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade selling the right of inheritance or giving it away.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق ولاء ( میراث ) کو بیچنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/العتق ۱۰ (۲۵۳۵)، الفرائض ۲۱ (۶۷۵۶)، صحیح مسلم/العتق ۳ (۱۵۰۶)، سنن ابی داود/الفرائض ۱۴ (۲۹۱۹)، سنن الترمذی/البیوع ۲۰،(۱۲۳۶)، سنن النسائی/البیوع ۸۵ (۴۶۶۳)،(تحفة الأشراف:۷۱۵،۷۱۸۹)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العتق والولاء ۱۰ (۲۰)، مسند احمد (۳/۹،۷۹،۱۰۷)، سنن الدارمی/البیوع ۳۶ (۲۶۱۴)
Explanation
کیونکہ ولاء (میراث) ایک طرح کی رشتہ داری ہے اس کا بیچنا اور ہبہ کرنا کیونکر جائز ہو گا، جمہور علماء اور اہل حدیث کا یہی مذہب ہے۔
2747
Sahih