حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُتَمِيمًا الدَّارِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ، قَالَ: هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ .
It was narrated that ‘Abdullah bin Mawhab said:
“I heard Tamim Ad- Dari say: ‘I said: O Messenger of Allah, what is the Sunnah concerning a man from among the People of the Book who becomes a Muslim at the hands of another man?’ He said: ‘He is the closest of all people to him in life and in death.’”
عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ میں نے تمیم داری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اہل کتاب کا کوئی آدمی اگر کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے تو اس میں شرعی حکم کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندگی اور موت دونوں حالتوں میں وہ اس کا زیادہ قریبی ہے ۱؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الفرائض ۱۳ (۲۹۱۸)، سنن الترمذی/الفرائض۲۰ (۲۱۱۲)،(تحفة الأشراف:۲۰۵۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۰۴،۱۰۳)، سنن الدارمی/الفرائض ۳۴ (۳۰۷۶)
Explanation
ظاہر حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر نو مسلم کا کوئی وارث نہ تو اس کی میراث کا حق دار وہ شخص ہے جس نے اس کو مسلمان کیا۔
2752
Sahih