TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2909 - معذور شخص کی طرف سے حج بدل کرنے کا بیان - Chapters on hajj rituals - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 4 in this chapter
معذور شخص کی طرف سے حج بدل کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَخِيهِ الْفَضْلِ أَنَّهُ كَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ النَّحْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ، ‏‏‏‏‏‏أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَرْكَبَ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكِ دَيْنٌ قَضَيْتِهِ .
It was narrated from Ibn ‘Abbas that his brother Fadl was riding behind the Messenger of Allah (ﷺ) in the morning of sacrifice (i.e., the 10th of Dhul-Hijjah), when a woman from Khath’am came and said: “O Messenger of Allah, the command of Allah has come for His slaves to perform Hajj, but my father is an old man and cannot ride. May I perform Hajj on his behalf?” He said: “Yes, because if your father owed a debt you would pay it off.”
عبداللہ بن عباس اپنے بھائی فضل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ وہ یوم النحر کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کے بندوں پر عائد کیے ہوئے فریضہ حج نے میرے والد کو بڑھاپے میں پایا ہے، وہ سوار ہونے کی بھی سکت نہیں رکھتے، کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اس لیے کہ اگر تمہارے باپ پر کوئی قرض ہوتا تو تم اسے چکاتیں نا ؟ ۱؎۔
2909
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 4, Book 25, Hadith 2909 Arabic reference : Book 25, Hadith 3021
Conclusion
تخریج
«صحیح البخاری/جزاء الصید ۲۳ (۱۸۵۳)، صحیح مسلم/الحج ۷۱ (۱۳۳۵)، سنن الترمذی/الحج ۸۵ (۹۲۸)، سنن النسائی/آداب القضاة ۹ (۵۳۹۱)،(تحفة الأشراف:۱۱۰۴۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۱۲،۳۱۳،۳۵۹)، سنن الدارمی/المناسک ۲۳ (۱۸۷۵)
Explanation
شرح و تفصیل
جب والد نے قرض کی ادائیگی کے لیے مال نہ چھوڑا ہو، تو باپ کا قرض ادا کرنا بیٹے پر لازم نہیں ہے، لیکن اکثر نیک اور صالح اولاد اپنی کمائی سے ماں باپ کا قرض ادا کر دیتے ہیں، ایسا ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے بھی پوچھا کہ تم اپنے والد کا قرض ادا کرتی یا نہیں؟ جب اس نے کہا کہ میں ادا کرتی تو آپ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج بھی اس کی طرف سے ادا کر دو، وہ اللہ کا قرض ہے ۔

Related Chapters

882
1
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays Facing A Direction Other Than The Qiblah When It Is Cloudy
باب: جو شخص بدلی میں غیر قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ لے اس کا کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
2
جو قصداً اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے اور جو شخص اپنی ہی اولاد سے انکار کرے اس کی سزا کا بیان
Musnad Ahmad
3
(102) CHAPTER. A man facing a man while offering Salat (prayer).
نماز پڑھتے وقت ایک نمازی کا دوسرے شخص کی طرف رخ کرنا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
4
(58) CHAPTER. If a man stood on the left side of the Imam and the Imam drew him to his right side, then the Salat of none of them would be invalid.
اگر کوئی شخص امام کے بائیں طرف کھڑا ہو اور امام اسے پھر دائیں طرف کر لے تو دونوں میں سے کسی کی بھی نماز فاسد نہیں ہوگی
Sahih Bukhari
5
(77) CHAPTER. If a person stands by the left side of the Imam, and the Imam draws him to the right from behind, his Salat (prayer) is correct.
اگر کوئی شخص امام کے بائیں طرف کھڑا ہو اور امام اپنے پیچھے سے اسے دائیں طرف کر دے تو نماز ہو جائے گی
Sahih Bukhari
6
(137) CHAPTER. Keeping the House (Kabah) on the left on doing Ramy of the Jamrat-ul-Aqaba.
اس شخص کے متعلق جس نے جمرہ عقبہ کی رمی کی تو بیت اللہ کو اپنی بائیں طرف کیا
Sahih Bukhari
7
(22) CHAPTER. To perform Hajj on behalf of a dead person and to fulfil his vows. A man can perform Hajj on behalf of a woman.
میت کی طرف سے حج اور نذر ادا کرنا اور مرد کسی عورت کے بدلہ میں حج کر سکتا ہے
Sahih Bukhari
8
(23) CHAPTER. Performing Hajj for a person who cannot sit firmaly on the mount.
اس کی طرف سے حج بدل جس میں سواری پر بیٹھے رہنے کی طاقت نہ ہو
Sahih Bukhari
9
(89) CHAPTER. If one wishes to buy (a better quality of) dates for (a low quality of) dates [that is a kind of Riba (usury) and is called Riba-Al-Fadl].
اگر کوئی شخص خراب کھجور کے بدلہ میں اچھی کھجور لینا چاہے
Sahih Bukhari
10
(6) CHAPTER. What is said regarding the one who regards an alcoholic drink lawful to drink, and calls it by another name.
اس شخص کی برائی کے بیان میں جو شراب کا نام بدل کر اسے حلال کرے
Sahih Bukhari
11
ایمان جس کے ذریعے سے آدمی جنت میں داخل ہوتا ہے او رجس شخص نے ( نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی طرف سے ) دیے گئے حکم کو مضبوطی سے تھام لیا ، وہ جنت میں داخل ہو گا
Sahih Muslim
12
Chapter: Hajj on behalf of one who is incapable of doing it because of chronic illness, old age and the like, or on behalf of one who has died
دائمی معذور اور بوڑھے وغیرہ کی طرف سے اور میت کی طرف سے حج کرنا
Sahih Muslim
13
Chapter: The prohibition of a rich man delaying repayment. The validity of Hawalah (Transferal of Debts) and it is recommended to accept transferal of a debt if it is transferred to a rich man
مالدار کا ٹال مٹول کرنا حرام ہے ‘ِحوالہ (مقروض کی طرف سے اپنے ذمے قرض کو دوسرے کے ذمے )کرنا درست ہے جب (قرض )کسی (مالدار شخص )کے حوالے کیا جائے تو اسے قبول کرنا مستحب ہے
Sahih Muslim
14
Chapter: Telling The One Who Carries A Weapon In The Masjid, Marketplace Or Other Place Where People Gather, To Hold It By Its Point
جو شخص مسجد یا بازار میں اور لوگوں کے جمع ہونے کی جگہ پر ہتھیار لے کر چلے تو وہ انہیں ان کی نوکوں اور انیوں (کی طرف) سے پکڑے
Sahih Muslim
15
Chapter: The One Who Starts Something Good Or Something Bad; The One Who Calls Others To Guidance Or Misguidance
وہ شخص جس نے کوئی اچھا یا برا طریقہ شروع کیا اور جس نے ہدایت کی طرف یا برائی کی طرف بلایا
Sahih Muslim
16
CHAPTER: Guarding the honor of one’s brother.
باب: جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کی طرف سے غیبت کا جواب دیا اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
17
کوئی شخص وصیت کیے بغیر مر جائے تو کیا اس کی طرف سے صدقہ دیا جائے؟
Sunnan Ibn e Maja
18
باب: حج کی نذر ماننے والے کی طرف سے حج بدل کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
19
باب: حج نہ کرنے والے میت کی طرف سے حج بدل کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
باب: زندہ شخص جو سواری پر ٹھہر نہیں سکتا اس کی طرف سے حج کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
21
باب: طاقت نہ رکھنے والے شخص کی طرف سے عمرہ کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
22
باب: ایک شخص ایک مدت تک کے لیے ادھار اناج (غلہ) خرید لے اور بیچنے والا قیمت کے بدلے کوئی چیز گروی رکھ لے۔
Sunnan Nisai
23
باب: سلطان (حکمراں) کو بتائے بغیر جو شخص اپنا بدلہ خود لے لے؟
Sunnan Nisai
24
6)Chapter: Regarding The Prohibition Of Facing The Qiblah When Defecating And Urinating.
باب: پیشاب یا پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی ممانعت​
Jam e Tirmazi
25
7)Chapter: What Has Been Related About The Permission for That
باب: قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب یا پاخانہ کرنے کی رخصت​
Jam e Tirmazi
26
(72)Chapter: [What Has Been Related] About Wiping Over he Khuff: The Top Of It And The Bottom Of It
باب: موزے کے اوپر اور نیچے دونوں طرف مسح کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About Walking To The Masjid
باب: مسجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About What Is Disliked To Face While Performing Salat, Or To Perform Salat In
باب: جن چیزوں کی طرف یا جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Salat On A Beast Whichever Direction It Is Facing
باب: سواری کے اوپر نماز پڑھنے کا بیان جس طرف بھی وہ متوجہ ہو جائے
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Salat Toward One's Mount
باب: سواری کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Direction The Imam Faces When Delivering The Khutbah
باب: خطبہ کے وقت امام کی طرف منہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About One Who Becomes Sleepy During The Friday Prayer, And That He Is To Change His Location
باب: جمعہ کے دن جو کوئی اونگھے وہ اپنی جگہ بدل دے
Jam e Tirmazi
33
Chapter: That Starting From The Right Is Recommended In Purification
باب: وضو داہنی طرف سے شروع کرنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About (Giving) Charity On Behalf Of The Dead
باب: میت کی طرف سے صدقہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About Fasting On Behalf Of The Dead
باب: میت کی طرف سے روزہ رکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The Prophet Entering Makkah From Its Higher Side, and Leaving From Its Lower Side
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے مکہ میں بلندی کی طرف
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Which Side Of The Head To Begin With For Shaving
باب: سر کے بال کس طرف سے منڈانا چاہئے؟
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About Hajj On Behalf Of The Elderly Man And The Dead
باب: زیادہ بوڑھے آدمی اور میت کی طرف سے حج کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Tread On Graves, Sit On Them, (And Pray Towards Them)
باب: قبروں پر چلنے، ان پر بیٹھنے اور ان کی طرف نماز پڑھنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About The Rewards For One Whose Child Died Before Him
باب: اس شخص کے ثواب کا بیان جس نے کوئی لڑکا ذخیرہ آخرت کے طور پر پہلے بھیج دیا ہو
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About: If You Are Pleased With Someone's Religion Then Marry Him
باب: قابل اطمینان دیندار کی طرف سے شادی کا پیغام آنے پر شادی کر دینے کا حکم
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Accepts Islam While He Is Married To Two Sisters
باب: جو شخص اسلام قبول کرے اور اس کی زوجیت میں دو بہنیں ہوں
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related (About A Man) Who Captures A Slave Woman That Has A Husband, Is It Lawful For Him To Have Relations With Her?
باب: اگر کوئی شخص جہاد میں کسی عورت کو قید کرے
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What has been related about a man's milk
باب: دودھ کی نسبت مرد کی طرف ہو گی
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What has been related about the man who thinks to himself about divorcing his wife
باب: جو شخص دل میں اپنی بیوی کی طلاق کا خیال لائے تو کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Preemption For The Absent
باب: غائب (جو شخص موجود نہ ہو) کے شفعہ کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About: The Muslim Is Not Killed For The Disbeliever
باب: مسلمان کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Killed His Slave
باب: اپنے غلام کو قتل کر دینے والے شخص کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About Slaughtering On Behalf Of The Deceased
باب: میت کی طرف سے قربانی کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Reported About: One Sheep Will Suffice For The People In The Household
باب: ایک بکری کی قربانی گھر کے سارے افراد کی طرف سے کافی ہے
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

324
Sunnan Ibn e Maja
498
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَضْمِضُوا مِنَ اللَّبَنِ فَإِنَّ لَهُ دَسَمًا .
It was narrated from Ibn 'Abbas that: The Prophet said: 'Rinse your mouths after drinking milk for there is some greasiness in it.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دودھ پی کر کلی کر لیا کرو کیونکہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے ۔
Sunnan Ibn e Maja
1358
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى الْفَجْرِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، ‏‏‏‏‏‏يُسَلِّمُ فِي كُلِّ اثْنَتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيَسْجُدُ فِيهِنَّ سَجْدَةً بِقَدْرِ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْأَذَانِ الْأَوَّلِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ‏‏‏‏‏‏قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ .
It was narrated that ‘Aishah said, and this is the Hadith of Abu Bakr. “During the period after he finished the ‘Isha’ prayer until the Fajr, the Prophet (ﷺ) used to pray eleven Rak’ah, saying the Salam after each two Rak’ah and praying Witr with one Rak’ah. He would prostrate for as long as it takes anyone of you to recite fifty Verses before he would raise his head. When the Mu’adh-dhin fell silent after the first Adhan for the Subh prayer, he would get up and pray two brief Rak’ah.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کے بعد سے فجر تک گیارہ رکعت پڑھتے تھے، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، اور ان رکعتوں میں سجدہ اتنا طویل کرتے کہ کوئی سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں پڑھ لے، اور جب مؤذن صبح کی پہلی اذان سے فارغ ہو جاتا تو آپ کھڑے ہوتے، اور دو ہلکی رکعتیں پڑھتے۔
Sunnan Abu Dawood
432
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ دُحَيْمٌ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي حَسَّانُ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الْيَمَنَ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَسَمِعْتُ تَكْبِيرَهُ مَعَ الْفَجْرِ رَجُلٌ أَجَشُّ الصَّوْتِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأُلْقِيَتْ عَلَيْهِ مَحَبَّتِي، ‏‏‏‏‏‏فَمَا فَارَقْتُهُ حَتَّى دَفَنْتُهُ بِالشَّامِ مَيِّتًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى أَفْقَهِ النَّاسِ بَعْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَلَزِمْتُهُ حَتَّى مَاتَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَيْفَ بِكُمْ إِذَا أَتَتْ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ مِيقَاتِهَا ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ صَلِّ الصَّلَاةَ لِمِيقَاتِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَاجْعَلْ صَلَاتَكَ مَعَهُمْ سُبْحَةً .
Narrated Abdullah ibn Masud: Amr ibn Maymun al-Awdi said: Muadh ibn Jabal, the Messenger of the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم came to us in Yemen, I heard his takbir (utterance of AllahuAkbar) in the dawn prayer. He was a man with loud voice. I began to love him. I did depart from him until I buried him dead in Syria (i. e. until his death). Then I searched for a person who had deep understanding in religion amongst the people after him. So I came to Ibn Masud and remained in his company until his death. He (Ibn Masud) said: The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said to me: How will you act when you are ruled by rulers who say prayer beyond its proper time? I said: What do you command me, Messenger of Allah, if I witness such a time? He replied: Offer the prayer at its proper time and also say your prayer along with them as a supererogatory prayer.
عمرو بن میمون اودی کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد بن کر ہمارے پاس یمن آئے، میں نے فجر میں ان کی تکبیر سنی، وہ ایک بھاری آواز والے آدمی تھے، مجھ کو ان سے محبت ہو گئی، میں نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا یہاں تک کہ میں نے ان کو شام میں دفن کیا، پھر میں نے غور کیا کہ ان کے بعد لوگوں میں سب سے بڑا فقیہ کون ہے؟ ( تو معلوم ہوا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں ) چنانچہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے ساتھ چمٹا رہا یہاں تک کہ وہ بھی انتقال فرما گئے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہارے اوپر ایسے حکمراں مسلط ہوں گے جو نماز کو وقت پر نہ پڑھیں گے؟ ، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! جب ایسا وقت مجھے پائے تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اول وقت میں پڑھ لیا کرنا اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لینا ۱؎ ۔
Sunnan Abu Dawood
1336
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏وَنَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا لَفْظُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ نَصْرٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَنْصَدِعَ الْفَجْرُ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُسَلِّمُ مِنْ كُلِّ ثِنْتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ وَيَمْكُثُ فِي سُجُودِهِ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ بِالْأُولَى مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ .
Narrated Aishah: Between the time when the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم finished the night prayer till the dawn broke, he used to pray eleven rak'ahs, uttering the salutation at the end of every two and observing the witr with a single one, and during that he would make a prostration about as long a one of you would take to recite fifty verses before raising his head. When the muadhdhin finished making the call for the dawn prayer, he stood up and prayed two short rak'ahs, then he lay down on his right side till the muadhdhin came to him
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فارغ ہو کر فجر کی پو پھوٹنے تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر کی پڑھتے، اپنے سجدوں میں اتنا ٹھہرتے کہ تم میں سے کوئی اتنی دیر میں سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤذن فجر کی پہلی اذان کہہ کر خاموش ہوتا تو آپ کھڑے ہوتے اور ہلکی سی دو رکعتیں پڑھتے، پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن ( بلانے کے لے ) آتا۔
Sunnan Abu Dawood
5060
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِيجُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ،‏‏‏‏عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ حِينَ يَسْتَيْقِظُ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ، ‏‏‏‏‏‏لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، ‏‏‏‏‏‏سُبْحَانَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَعَا:‏‏‏‏ رَبِّ اغْفِرْ لِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الْوَلِيدُ أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ دَعَا اسْتُجِيبَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى قُبِلَتْ صَلَاتُهُ .
Ubadah bin al-Samit reported the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying; If anyone is alarmed while asleep and he says when awakes: there is no god but Allah alone Who has no partner, to whom dominion belongs, to whom praise is due, and who has power over everything (omnipotent). Glory be to Allah, and praise be to Allah, and there is no god but Allah, and then he prays: O my Lord, forgive me. Abu Dawud said: Al-Walid’s version has; and he prays, his prayer will be answered. If he gets up, performs ablution, and prays, his prayer will be accepted.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نیند سے بیدار ہوا اور بیدار ہوتے ہی اس نے«لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» کہا پھر دعا کی «رب اغفر لي» کہ اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے ( ولید کی روایت میں ہے، اور دعا کی ) تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، اور اگر وہ اٹھا اور وضو کیا، پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی ۔
Sunnan Ibn e Maja
393
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏ وَأَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ:‏‏‏‏ أنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يُدْخِلْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يُفْرِغَ عَلَيْهَا مَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي فِيمَ بَاتَتْ يَدُهُ .
Sa'eed bin Musayyab and Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman narrated that : Abu Hurairah used to say: The Messenger of Allah said: 'When anyone of you wakes up from sleep, he should not put his hand into the vessel until he has poured water on it two or three times, for none of you knows where his hand spent the night,'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص رات کو سو کر بیدار ہو تو اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے، جب تک کہ دو یا تین مرتبہ اس پہ پانی نہ بہا لے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ رات میں اس کا ہاتھ کہاں کہاں رہا ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
414
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏وَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
It was narrated that Ibn 'Umar: Performed ablution washing each part three times, and he attributed that to the Prophet.
مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، اور اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
490
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَضَرْتُ عَشَاءَ الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ عَبْدِ الْمَلِكِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ قُمْتُ لِأَتَوَضَّأَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ:‏‏‏‏ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي أَنَّهُ شَهِدَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَكَلَ طَعَامًا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى أَبِي بِمِثْلِ ذَلِكَ.
Zuhri said: I had dinner with Walid or Abdul-Malik. When the time for prayer came, I got up to perform ablution. Ja'far bin 'Amr bin Umayyah said: 'I bear witness that my father bore witness, that the Messenger of Allah ate food that had been changed by fire, then he performed prayer, and he did not perform ablution.' (Sahih) And 'Ali bin 'Abdullah bin 'Abbas said: 'And I bear witness to similar from my father.'
زہری کہتے ہیں کہ میں ولید یا عبدالملک کے ساتھ شام کے کھانے پہ حاضر ہوا، جب نماز کا وقت ہوا تو میں وضو کے لیے اٹھا تو جعفر بن عمرو بن امیہ ۱؎ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میرے والد ( عمرو بن امیہ ضمری مدنی رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ پہ پکا ہوا کھانا کھایا، پھر نماز پڑھی، اور وضو نہیں کیا۔ علی بن عبداللہ بن عباس نے کہا کہ میں اپنے والد ( عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ) کے بارے میں بھی اسی طرح کی گواہی دیتا ہوں۔
Sunnan Ibn e Maja
608
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ، ‏‏‏‏‏‏ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَاالْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:‏‏‏‏ إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، ‏‏‏‏‏‏فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا .
It was narrated that 'Aishah the wife of the Prophet said: When the two circumcised parts meet, then bath is obligatory. The Messenger of Allah and I did that, and we bathed.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا، تو ہم نے غسل کیا۔