باب: سلطان (حکمراں) کو بتائے بغیر جو شخص اپنا بدلہ خود لے لے؟ - باب: سلطان (حکمراں) کو بتائے بغیر جو شخص اپنا بدلہ خود لے لے؟ - The book of oaths (qasamah), retaliation and blood money - Sunnan Nisai with Urdu and English Translation
Chapter 44 of The book of oaths (qasamah), retaliation and blood money in Sunnan Nisai. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said:
Whoever looks into a house without the permission of the occupants and they put out his eye, he has no right to blood money or retaliation.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں جھانکے، پھر وہ اس کی آنکھ پھوڑ دے، تو جھانکنے والا نہ دیت لے سکے گا نہ بدلہ“۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet said:
If a person were to look at you without permission and you were to throw a stone at him and put out his eye, there would be no blame on you.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی بلا اجازت تمہارے یہاں جھانکے پھر تم اسے پتھر پھینک کر مارو اور اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا“۔ اور ایک بار آپ نے فرمایا: ”کوئی گناہ نہیں ہو گا“۔
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri that:
he was praying and a son a Marwan wanted to pass in front of him. He tried to stop him but he did not go back, so he hit him. The boy went the boy went out crying and went to Marwan and told him (what had happened). Marwan said to Abu Sa'eed: Why did you hit your brother's son? He said: I did not hit him, rater I hit the Saitan. I heard the Messenger of Allah say: 'If one of you is praying and someone wants to pass in front of him, let him troy to stop him as much as he can, and if he persists then let him fight him, for he is a devil.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک مروان کا بیٹا ان کے آگے سے گزر رہا تھا، آپ نے اسے روکا، وہ نہیں لوٹا تو آپ نے اسے مارا، بچہ روتا ہوا نکلا اور مروان کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی، مروان نے ابو سعید خدری سے کہا: آپ نے اپنے بھتیجے کو کیوں مارا؟ انہوں نے کہا: میں نے اسے نہیں، بلکہ شیطان کو مارا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم میں سے جب کوئی نماز میں ہو اور کوئی انسان سامنے سے گزرنے کا ارادہ کرے تو اسے طاقت بھر روکے، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے، اس لیے کہ وہ شیطان ہے“۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ۴۱۸۳)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ۱۰۰ (۵۰۹)، وبدء الخلق ۱۱ (۳۲۷۴)، صحیح مسلم/الصلاة۴۸(۵۰۵)، سنن ابی داود/الصلاة۱۰۸(۷۰۰)، سنن ابن ماجہ/الإقامة۳۹(۹۵۴)، موطا امام مالک/السفر ۱۰ (۳۳)، مسند احمد (۳/۳۴)، ۴۳-۴۴، ۴۹، ۶۳