TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب: تلوار کے بجائے کسی اور چیز سے قصاص لینے کا بیان۔ - باب: تلوار کے بجائے کسی اور چیز سے قصاص لینے کا بیان۔ - The book of oaths (qasamah), retaliation and blood money - Sunnan Nisai with Urdu and English Translation

Chapter 23 of The book of oaths (qasamah), retaliation and blood money in Sunnan Nisai. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 23 of 45 · 2 Hadith
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدٌ،‏‏‏‏ عَنْ شُعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ:‏‏‏‏ أَنَّ يَهُودِيًّا رَأَى عَلَى جَارِيَةٍ أَوْضَاحًا،‏‏‏‏ فَقَتَلَهَا بِحَجَرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَقَتَلَكِ فُلَانٌ ؟ ،‏‏‏‏ فَأَشَارَ شُعْبَةُ بِرَأْسِهِ يَحْكِيهَا:‏‏‏‏ أَنْ لَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَقَتَلَكِ فُلَانٌ ؟ ،‏‏‏‏ فَأَشَارَ شُعْبَةُ بِرَأْسِهِ يَحْكِيهَا:‏‏‏‏ أَنْ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَقْتَلَكِ فُلَانٌ ؟ ،‏‏‏‏ فَأَشَارَ شُعْبَةُ بِرَأْسِهِ يَحْكِيهَا:‏‏‏‏ أَنْ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَتَلَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ.
It was narrated from Anas, that: a Jew saw some jewelry on a girl, so he killed her with a rock. She was brought to the Prophet as she was breathing her last, and he said: Did so and so kill you? - Shu'bah (one of the narrators) gestured with his head, to show that she had gestured no. - He said: Did so and so kill you? - Shu'bah (one of the narrators) gestured with his head to show that she had gestured no. - He said: Did so and so kill you? - Shu'bah (one of the narrators) gestured with his head to show that she had gestured yes. - So the Messenger of Allah called for him, and killed him with two rocks.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کو زیور پہنے دیکھا تو اسے پتھر سے مار ڈالا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائی گئی، اس میں کچھ جان باقی تھی، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟“ ( شعبہ نے اپنے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ) اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟“ ( شعبہ نے اپنے سر سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ) اس نے کہا: نہیں، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں فلاں نے قتل کیا ہے؟“ ( پھر شعبہ نے سر کے اشارے سے کہا کہ ) اس نے کہا: ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور دو پتھروں کے درمیان کچل کر اسے مار ڈالا ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الطلاق ۲۴ (۵۲۹۵ تعلیقًا)، الدیات ۴ (۶۸۷۷)، ۵ (۶۸۷۹)، صحیح مسلم/الحدود ۳ (۱۶۷۲)، سنن ابی داود/الدیات ۱۰ (۴۵۲۹)، سنن ابن ماجہ/الدیات ۲۴ (۲۶۶۶)، (تحفة الأشراف: ۱۶۳۱)، مسند احمد (۳/۱۷۱، ۲۰۳)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی سے تلوار کی بجائے پتھروں سے اس کا سر کچل کر قصاص لیا، اس سے ثابت ہوا کہ قصاص صرف تلوار ہی سے ضروری نہیں ہے (جیسا کہ حنفیہ کا قول ہے) بلکہ یہ تو ارشاد ربانی کے مطابق ہے «وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به» (سورة النحل : 126) «فاعتدوا عليه بمثل ما اعتدى عليكم» (سورة البقرة : 194) حنفیہ حدیث «لا قود إلا بالسیف» یعنی : ” قصاص صرف تلوار ہی سے ہے “ سے استدلال کرتے ہیں، حالانکہ یہ حدیث ہر طریقے سے ضعیف ہے، بلکہ بقول امام ابوحاتم ”منکر“ ہے (کذا فی نیل الا ٔوطار والإرواء رقم ۲۲۲۹)۔
4783
Sahih
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَيْسٍ:‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً إِلَى قَوْمٍ مِنْ خَثْعَمَ فَاسْتَعْصَمُوا بِالسُّجُودِ،‏‏‏‏ فَقُتِلُوا، ‏‏‏‏‏‏فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ الْعَقْلِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْ كُلِّ مُسْلِمٍ مَعَ مُشْرِكٍ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَلَا لَا تَرَاءَى نَارَاهُمَا .
It was narrated from Anas that: the Messenger of Allah sent a detachment jof troops to some people of Khath'am, who sought to protect themselves by prostrating (to demonstrate that they were Muslims), but they were killed. The Messenger of Allah ruled that half the Diyah should be paid, and said: I am innocent of any Muslim who (lives with) a Mushrik.' Then the Messenger of Allah said: Their fires should not be visible to one another. '
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ خثعم کے کچھ لوگوں کی طرف ( فوج کی ) ایک ٹکڑی بھیجی، تو انہوں نے سجدہ کر کے اپنے کو بچانا چاہا، پھر بھی وہ سب قتل کر دئیے گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آدھی دیت ادا کی ۱؎ اور فرمایا: ”میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرک کے ساتھ رہے“ ۲؎، پھر آپ نے فرمایا: سنو! ( مسلمان اور کافر اس حد تک دور رہیں کہ ) ان دونوں کو ایک دوسرے کی آگ نظر نہ آئے ۳؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الجہاد ۱۰۵ (۲۶۴۵)، سنن الترمذی/السیر ۴۳ (۱۶۰۴، ۱۶۰۵)، (تحفة الأشراف: ۳۲۲۷، ۱۹۲۳۳)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : آدھی دیت کا حکم دیا اور باقی آدھی کفار کے ساتھ رہنے سے ساقط ہو گئی کیونکہ کافروں کے ساتھ رہ کر اپنی ذات کو انہوں نے جو فائدہ پہنچایا درحقیقت یہ ایک جرم تھا اور اسی جرم کی پاداش میں آدھی دیت ساقط ہو گئی۔ ۲؎ : اس جملہ کی توجیہ میں تین اقوال وارد ہیں۔ ایک مفہوم یہ ہے کہ دونوں کا حکم یکساں نہیں ہو سکتا، دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دارالاسلام کو دارالکفر سے علاحدہ کر دیا ہے لہٰذا مسلمان کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ وہ کافروں کے ملک میں ان کے ساتھ رہے، تیسرا یہ کہ مسلمان مشرک کی خصوصیات اور علامتوں کو نہ اپنائے اور نہ ہی چال ڈھال اور شکل و صورت میں ان کے ساتھ تشبہ اختیار کرے۔ ۳؎ : اس حدیث کا اس باب سے کوئی تعلق نہیں، ممکن ہے اس سے پہلے والے باب کی حدیث ہو اور نساخ کے تصرف سے اس باب کے تحت آ گئی ہو، اور اس حدیث کا مصداق ساری دنیا کے مسلمان نہیں ہیں کہ وہ ہر ملک میں کافروں سے الگ سکونت اختیار کریں، اس زمانہ میں تو یہ ممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے، اس کا مصداق ایسے علاقے ہیں جہاں اسلامی حکومت ہو، اور سارے حالات و اختیارات مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوں، جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفاء راشدین وغیرہ کے عہدوں میں تھا، اور آج سعودیہ اور دیگر مسلم ممالک میں ہے، بعض مسلم ممالک کے اندر بھی موجودہ حالات میں الگ تھلگ رہائش مشکل ہے، «لايكلف الله نفسا إلا وسعها» (سورة البقرة : ۲۸۶)۔
4784
Sahih

Chapters

45
01
باب: زمانہ جاہلیت میں رائج قسامہ کا بیان۔
1 Hadith
02
باب: قسامہ کا بیان۔
3 Hadith
03
باب: قسامہ میں قسم کی ابتداء مقتول کے ورثاء کی طرف سے ہونے کا بیان۔
2 Hadith
04
باب: اس سلسلے میں سہل کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
9 Hadith
05
باب: قصاص کا بیان۔
3 Hadith
06
باب: اس سلسلہ میں علقمہ بن وائل کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
8 Hadith
07
باب: اور (اس حدیث کے راوی) عکرمہ کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
2 Hadith
08
باب: آزاد اور غلام کے درمیان قصاص کا بیان۔
2 Hadith
09
باب: غلام کو قتل کر دینے والے مالک سے قصاص لینے کا بیان۔
3 Hadith
10
باب: عورت کو عورت کے بدلے قتل کرنے کا بیان۔
4 Hadith
11
باب: کافر کے بدلے مسلمان کے قتل نہ کیے جانے کا بیان۔
4 Hadith
12
باب: ذمی (معاہد) کو قتل کرنے کی شناعت و وعید کا بیان۔
4 Hadith
13
باب: قتل سے کم جرم میں غلاموں سے قصاص نہ لینے کا بیان۔
1 Hadith
14
باب: دانت کے قصاص کا بیان۔
7 Hadith
15
باب: دانت کاٹ لینے کا قصاص اور اس بابت عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث میں راویوں کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
4 Hadith
16
باب: اپنا دفاع کرنے میں دوسرے کے نقصان ہو جانے کا بیان۔
2 Hadith
17
باب: اس حدیث میں عطاء بن ابی رباح کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
8 Hadith
18
باب: نیزے کی ضرب کے قصاص کا بیان۔
2 Hadith
19
باب: طمانچے اور تھپڑ کے قصاص کا بیان۔
1 Hadith
20
باب: پکڑ کر کھینچنے کے قصاص کا بیان۔
1 Hadith
21
باب: بادشاہوں اور حکمرانوں سے قصاص لینے کا بیان۔
1 Hadith
22
باب: سلطان (حکمراں) کے (عامل کے) ذریعہ کسی کو زخم آ جائے۔
1 Hadith
23
باب: تلوار کے بجائے کسی اور چیز سے قصاص لینے کا بیان۔
2 Hadith
24
باب: آیت کریمہ: ”جس کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کر دیا جائے تو معاف کرنے والا دستور کی پیروی کرے اور جس کو معاف کیا گیا وہ اچھی طرح دیت ادا کرے“ (البقرہ: ۱۷۸) کی تفسیر۔
2 Hadith
25
باب: قصاص معاف کر دینے کے حکم کا بیان۔
2 Hadith
26
باب: جب مقتول کا وارث قصاص معاف کر دے تو کیا قاتل عمد سے دیت لی جائے گی؟
3 Hadith
27
باب: عورتوں کا خون معاف کرنے کا بیان۔
1 Hadith
28
باب: پتھر یا کوڑے سے قتل کئے جانے والے کا بیان۔
2 Hadith
29
باب: شبہ عمد کی دیت کتنی ہے؟ اور قاسم بن ربیعہ کی اس حدیث میں ایوب کے تلامذہ کے اختلاف کا ذکر۔
2 Hadith
30
باب: تلامذہ خالدالحذاء کے اختلاف کا ذکر۔
9 Hadith
31
باب: قتل خطا میں دیت کے اونٹوں کی عمر کا بیان۔
1 Hadith
32
باب: چاندی سے دیت کی ادائیگی کا بیان۔
2 Hadith
33
باب: عورت کی دیت کا بیان۔
1 Hadith
34
باب: کافر کی دیت کا بیان۔
2 Hadith
35
باب: مکاتب غلام کی دیت کا بیان۔
5 Hadith
36
باب: عورت کے پیٹ کے بچے کی دیت کا بیان۔
9 Hadith
37
باب: قتل شبہ عمد کی تشریح اور اس بات کا بیان کہ بچے کی اور شبہ عمد کی دیت کس پر ہو گی اور اس بابت مغیرہ رضی الله عنہ کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
10 Hadith
38
باب: کیا کسی کو دوسرے کے جرم میں گرفتار کیا جا سکتا ہے؟
8 Hadith
39
باب: بے نور آنکھ جو اپنی جگہ پر ہو، اگر اسے کوئی پھوڑ دے تو اس کے حکم کا بیان۔
1 Hadith
40
باب: دانتوں کی دیت کا بیان۔
2 Hadith
41
باب: انگلیوں کی دیت کا بیان۔
9 Hadith
42
باب: ہڈی تک پہنچنے والے زخم کی دیت کا بیان۔
1 Hadith
43
باب: دیت کے سلسلے میں عمرو بن حزم کی حدیث کا ذکر اور اس کے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
7 Hadith
44
باب: سلطان (حکمراں) کو بتائے بغیر جو شخص اپنا بدلہ خود لے لے؟
3 Hadith
45
باب: قصاص سے متعلق مجتبیٰ (سنن صغریٰ) کی بعض وہ احادیث جو ”سنن کبریٰ“ میں نہیں ہیں آیت کریمہ: ”جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے“ (النساء: ۹۳) کی تفسیر۔
7 Hadith
No chapter matched that.