حج کے لیے نکلنے کا بیان
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَأَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ، فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ سَفَرِهِ فَلْيُعَجِّلِ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِهِ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Traveling is a kind of torment, it keeps anyone of you from his sleep, food and drink. When anyone of you has fulfilled the purpose for which he travled, let him hasten to return to his family.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، وہ تمہارے سونے، اور کھانے پینے ( کی سہولتوں ) میں رکاوٹ بنتا ہے، لہٰذا تم میں سے کوئی جب اپنے سفر کی ضرورت پوری کر لے، تو جلد سے جلد اپنے گھر لوٹ آئے ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/العمرة ۱۹ (۱۸۰۴)، الجہاد ۱۳۶ (۳۰۰۱)، الأطعمة ۳۰ (۵۴۲۹)، صحیح مسلم/الإمارة ۵۵ (۱۹۲۷)،(تحفة الأشراف:۱۲۵۷۲)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان ۱۵ (۳۹)، مسند احمد (۲/۲۳۶،۴۴۵)، سنن الدارمی/الاستئذان ۴۰ (۲۷۱۲)
Explanation
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بلا ضرورت سفر میں رہنا اور تکلیفیں اٹھانا صحیح نہیں ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ سفر گرچہ حج یا جہاد کے لیے ہو تب بھی کام پورا ہونے کے بعد جلدی گھر لوٹنا بہتر ہے، اس میں خود اس شخص کو بھی آرام ہے اور اس کے گھر والوں کو بھی جو جدائی سے پریشان رہتے ہیں، اور مدت دراز تک شوہر کا اپنی بیوی سے علاحدہ رہنا بھی مناسب نہیں ہے، حاجت بشری اور خواہش انسانی ساتھ لگی ہوئی ہے مبادا گناہ میں گرفتاری ہو، اللہ بچائے۔
2882
Sahih