تنعیم سے عمرہ کا بیان - تنعیم سے عمرہ کا بیان - Chapters on hajj rituals - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation
Chapter 48 of Chapters on hajj rituals in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
‘Abdur-Rahman bin Abu Bakr narrated that the Prophet (ﷺ) told him to seat ‘Aishah behind him on his riding animal, and perform ‘Umrah with her from Tan’im.
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے ساتھ سوار کر کے لے جائیں، اور انہیں تنعیم سے عمرہ کرائیں۔
تنعیم: مسجد الحرام سے تین میل (۵ کلومیٹر) کے فاصلہ پر ایک مقام ہے، جہاں پر اس وقت مسجد عائشہ کے نام سے مسجد تعمیر ہے۔ ۲؎: محرم سے مراد شوہر ہے یا وہ شخص جس سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو مثلاً باپ دادا، نانا، بیٹا، بھائی چچا ماموں، بھتیجا، داماد وغیرہ یا رضاعت سے ثابت ہونے والے رشتہ دار، عمرے کا احرام حرم سے نکل کر باندھنا چاہئے، یہ مقام بہ نسبت اور مقاموں کے قریب ہے، اس لئے آپ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہیں سے عمرہ کرانے کا حکم دیا۔
It was narrated that ‘Aishah said:
“We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) on the Farewell Pilgrimage, close to the time of the crescent of Dhul-Hijjah. The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever among you wants to begin the Talbiyah for ‘Umrah, let him do so. If it were not for the fact that I have brought a sacrificial animal with me, I would have began the Talbiyah for ‘Umrah.’” She said: “Some of the people began the Talbiyah for ‘Umrah, and some began the Talbiyah for Hajj. I was one of those who began the Talbiyah for ‘Umrah.” She said: “We set out until we reached Makkah, then the Day of ‘Arafah came while I was in menses, but I did not exit Ihram for ‘Umrah I complained about that to the Prophet (ﷺ) and he said: ‘Leave your ‘Umrah, undo your hair and comb it, and begin the Talbiyah for Hajj.’” She said: “So I did that, then on the night of Hasbah (i.e., the twelfth night of Dhul-Hijjah), when Allah had enables us to complete our Hajj, he sent ‘Abdur-Rahman bin Abu Bakr with me. He seated me behind him and went out to Tan’im, then I began the Talbiyah for ‘Umrah and Allah enabled us to complete our Hajj and ‘Umrah, and there was no sacrificial animal, charity nor fasting.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( مدینہ سے ) اس حال میں نکلے کہ ہم ذی الحجہ کے چاند کا استقبال کرنے والے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو عمرہ کا تلبیہ پکارنا چاہے، پکارے، اور اگر میں ہدی نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا تلبیہ پکارتا ، تو لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، اور کچھ ایسے جنہوں نے حج کا، اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، ہم نکلے یہاں تک کہ مکہ آئے، اور اتفاق ایسا ہوا کہ عرفہ کا دن آ گیا، اور میں حیض سے تھی، عمرہ سے ابھی حلال نہیں ہوئی تھی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا عمرہ چھوڑ دو، اور اپنا سر کھول لو، اور بالوں میں کنگھا کر لو، اور نئے سرے سے حج کا تلبیہ پکارو ، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، پھر جب محصب کی رات ( بارہویں ذی الحجہ کی رات ) ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج پورا کرا دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بھیجا، وہ مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر بیٹھا کر تنعیم لے گئے، اور وہاں سے میں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا ( اور آ کر اس عمرے کے قضاء کی جو حیض کی وجہ سے چھوٹ گیا تھا ) اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے حج اور عمرہ دونوں کو پورا کرا دیا، ہم پر نہ «هدي» ( قربانی ) لازم ہوئی، نہ صدقہ دینا پڑا، اور نہ روزے رکھنے پڑے ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/العمرة ۵ (۱۷۸۳)، صحیح مسلم/الحج ۱۷ (۱۲۱۱)،(تحفة الأشراف:۱۷۰۴۸)
Explanation
کیونکہ «هدي» حج تمتع کرنے والے پر واجب ہوتی ہے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کا حج حج افراد تھا کیونکہ حیض آ جانے کی وجہ سے انہیں عمرہ چھوڑ دینا پڑا تھا۔