حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ حَارِثٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَابْنِ عُمَرَ، وابن عباس أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَطُفْ هُوَ وَأَصْحَابُهُ لِعُمْرَتِهِمْ وَحَجَّتِهِمْ حِينَ قَدِمُوا، إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا .
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah, Ibn ‘Umar and Ibn ‘Abbas that when the Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions came (to Makkah) to perform their Hajj and ‘Umrah, they only performed Tawaf once.
جابر بن عبداللہ، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ جب مکہ آئے تو انہوں نے حج اور عمرہ دونوں کے لیے ایک ہی طواف کیا ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۲۴۷۹، ومصباح الزجاجة:۱۰۴۳)
Explanation
یہاں طواف سے مراد سعی ہے، متمتع پر صفا و مروہ کی دو سعی واجب ہیں جب کہ قارن کے لیے صرف ایک سعی کافی ہے خواہ طواف قدوم (زیارت) کے بعد کرے یہی مسئلہ مفرد حاجی کے لیے بھی ہے، واضح رہے کہ بعض حدیثوں میں سعی کے لیے بھی طواف کا لفظ وارد ہوا ہے۔
2972
Sahih