TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حج کا احرام فسخ کر کے اس کو عمرہ میں تبدیل کرنے کا بیان - حج کا احرام فسخ کر کے اس کو عمرہ میں تبدیل کرنے کا بیان - Chapters on hajj rituals - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Chapter 41 of Chapters on hajj rituals in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 41 of 108 · 4 Hadith
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَا نَخْلِطُهُ بِعُمْرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدِمْنَا مَكَّةَ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَسَعَيْنَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ‏‏‏‏‏‏أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ نَحِلَّ إِلَى النِّسَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَا مَا بَيْنَنَا:‏‏‏‏ لَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ فَنَخْرُجُ إِلَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَبَرُّكُمْ وَأَصْدَقُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْلَا الْهَدْيُ، ‏‏‏‏‏‏لَأَحْلَلْتُ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ:‏‏‏‏ أَمُتْعَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا، ‏‏‏‏‏‏أَمْ لِأَبَدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا بَلْ لِأَبَدِ، ‏‏‏‏‏‏الْأَبَدِ .
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said: “We began our Talbiyah for Hajj only with Allah’s Messenger (ﷺ), and we did not mix it with ‘Umrah. We arrived in Makkah when four nights of Dhul-Hijjah had passed, and when we had performed Tawaf around the Ka’bah and Sa’y between Safa and Marwah, the Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to make it ‘Umrah, and to come out of Ihram and have relations with our wives. We said: ‘There are only five (days) until ‘Arafah. Will we g out to it with our male organs dripping with semen?’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘I am the most righteous and truthful among you, and were it not for the sacrificial animal, I would have exited Ihram.’ Suraqah bin Malik said: ‘Is this Tamattu’ for this year only or forever?’ He said: ‘No, it is forever and ever.’”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا تلبیہ کہا ( یعنی احرام باندھا ) ، اس میں عمرہ کو شریک نہیں کیا ۱؎، پھر ہم مکہ پہنچے تو ذی الحجہ کی چار راتیں گزر چکی تھیں، جب ہم نے خانہ کعبہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ ہم اسے عمرہ میں تبدیل کر دیں، اور اپنی بیویوں کے لیے حلال ہو جائیں، ہم نے عرض کیا: اب عرفہ میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں، اور کیا ہم عرفات کو اس حال میں نکلیں کہ شرمگاہوں سے منی ٹپک رہی ہو؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں سب سے زیادہ نیک اور سچا ہوں ۲؎، اگر میرے ساتھ ہدی ( قربانی کا جانور ) نہ ہوتا تو میں بھی ( عمرہ کر کے ) حلال ہو جاتا ( یعنی احرام کھول ڈالتا اور حج کو عمرہ میں تبدیل کر دیتا ) ۔ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے اس وقت عرض کیا: حج میں یہ تمتع ہمارے لیے صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیش کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ہمیشہ ہمیش کے لیے ہے ۳؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/المناسک ۲۳ (۱۷۸۷)،(تحفة الأشراف:۲۴۲۶)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ۱۷ (۱۲۱۶)، سنن النسائی/الحج ۷۷ (۲۸۰۷)
Explanation
یعنی حج افراد کا احرام باندھا۔ ۲؎: یعنی جو کہہ رہا ہوں کسی پس و پیش کے بغیر انجام دو، میری کوئی بات تقویٰ و پرہیز گاری کے منافی نہیں ہو سکتی۔ ۳؎: ہر ایک شخص کے لیے قیامت تک تمتع کرنا جائز ہے، اس حدیث کے ظاہر سے یہ معلوم ہوا کہ اگر کوئی احرام باندھے لیکن ہدی کا جانور ساتھ نہ ہو تو وہ مکہ میں جا کر حج کی نیت فسخ کر سکتا ہے، اور عمرہ کر کے احرام کھول سکتا ہے، پھر یوم الترویہ یعنی ذی الحجہ کی ۸ تاریخ کو حج کے لئے نیا احرام باندھے، اور اس تاریخ (آٹھ) تک سب کام کر سکتا ہے جو احرام کی حالت میں جائز نہ تھے، امام ابن القیم اعلام الموقعین میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کو فسخ کر کے عمرہ بنا دینے کا فتوی ٰ دیا، پھر فتویٰ دیا کہ یہ امر مستحب ہے ضرور اس کام کو کرنا چاہئے، اور یہ حکم کسی دوسرے حکم سے منسوخ نہیں ہوا، اور دین اللہ تعالیٰ کا ہے، بلکہ ہم کہتے ہیں کہ حج کو فسخ کر ڈالنا اور عمرہ کر دینا اگر کوئی ان احادیث کی روسے واجب کہے تو اس کا قول قوی ہو گا، بہ نسبت اس شخص کے قول کے جو اس سے منع کرتا ہے ... الی آخرہ۔
2980
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِذَا قَدِمْنَا وَدَنَوْنَا، ‏‏‏‏‏‏أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَحِلَّ، ‏‏‏‏‏‏فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ، ‏‏‏‏‏‏دُخِلَ عَلَيْنَا بِلَحْمِ بَقَرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ .
It was narrated that ‘Aishah said: “We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) when there were five nights left of Dhul-Qa’dah, intending only to perform Hajj. When we came close, the Messenger of Allah (ﷺ) ordered that whoever did not have a sacrificial animal, then he should exit the Ihram. So all the people exited Ihram, except those who had the sacrificial animal. When the Day of Sacrifice i.e., the 10th of Dhul-Hijjah) came, some beef was brought to us, and it was said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) has offered a sacrifice on behalf of his wives.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم مکہ پہنچے یا اس سے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جن لوگوں کے پاس ہدی ( قربانی ) کا جانور نہیں تھا احرام کھول دینے کا حکم دیا، تو سارے لوگوں نے احرام کھول دیا، سوائے ان لوگوں کے جن کے پاس ہدی ( قربانی ) کے جانور تھے، پھر جب نحر کا دن ( ذی الحجہ کا دسواں دن ) ہوا تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، لوگوں نے کہا: یہ گائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے ذبح کی ہے۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الحج ۳۴ (۱۵۶۱)،۱۱۵ (۱۷۰۹)،۱۲۴ (۱۷۲۰)، الجہاد ۱۰۵ (۲۹۵۲)، صحیح مسلم/الحج ۱۷ (۱۲۱۱)، سنن النسائی/الحج ۱۶ (۲۶۵۱)،۷۷ (۲۸۰۵،۲۸۰۶)،(تحفة الأشراف:۱۷۹۳۳)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج ۲۳ (۱۷۸۱)، موطا امام مالک/الحج ۵۸ (۱۷۹)، مسند احمد (۶/۱۲۲،۲۶۶،۲۷۳)
2981
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فَأَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اجْعَلُوا حِجَّتَكُمْ عُمْرَةً ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّاسُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ أَحْرَمْنَا بِالْحَجِّ، ‏‏‏‏‏‏فَكَيْفَ نَجْعَلُهَا عُمْرَةً؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ انْظُرُوا مَا آمُرُكُمْ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَافْعَلُوا ، ‏‏‏‏‏‏فَرَدُّوا عَلَيْهِ الْقَوْلَ، ‏‏‏‏‏‏فَغَضِبَ فَانْطَلَقَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ غَضْبَانَ، ‏‏‏‏‏‏فَرَأَتِ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ مَنْ أَغْضَبَكَ، ‏‏‏‏‏‏أَغْضَبَهُ اللَّهُ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَا لِي لَا أَغْضَبُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا آمُرُ أَمْرًا فَلَا أُتْبَعُ .
It was narrated that Bara’ bin ‘Azib said: “The Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions came out to us and we entered Ihram for Hajj. When we came to Makkah, he said: ‘Make your Hajj (to) ‘Umrah.’ The people said: ‘O Messenger of Allah, we have entered Ihram for Hajj, how can we make it ‘Umrah?’ He said: ‘Look at what I command you to do, and do it.’ They repeated their question and he got angry and went away. Then he entered upon ‘Aishah angry and she saw anger in his face, and said: ‘Who has made you angry? May Allah vex him!’ He said: ‘Why should I not get angry, when I give a command and it is not obeyed?’”
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نکلے، ہم نے حج کا احرام باندھا، جب ہم مکہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے حج کو عمرہ کر دو ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے حج کا احرام باندھا ہے ہم اس کو عمرہ کیسے کر لیں؟ آپ صلیاللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو جس کا میں تم کو حکم دیتا ہوں اس پر عمل کرو ، لوگوں نے پھر وہی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو کر چل دئیے اور غصہ کی ہی حالت میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، انہوں نے آپ کے چہرے پر غصہ کے آثار دیکھے تو بولیں: کس نے آپ کو ناراض کیا ہے؟ اللہ اسے ناراض کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کیوں کر غصہ نہ کروں جب کہ میں ایک کام کا حکم دیتا ہوں اور میری بات نہیں مانی جاتی ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۹۰۷، ومصباح الزجاجة:۱۰۴۶)، وقد أخرجہ:(۴/۲۸۶)
Explanation
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو سن کر اس پر عمل کرنے میں صرف اس خیال سے دیر کرے کہ یہ حدیث اس کے ملک کے رسم و رواج کے خلاف ہے، یا اس کے ملک یا قوم کے یا مذہب کے عالموں اور درویشوں یا اگلے بزرگوں نے اس پرعمل نہیں کیا، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ دلاتا اور آپ کو ناراض کرتا ہے، اور جو اللہ تعالی کے رسول کو غصہ دلائے اور اس کو ناراض کرے اس کا ٹھکانا کہیں نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: مومن کا کام یہ ہے کہ اس کو سنتے ہی جان و دل سے قبول کرے، اور فوراً اس پر عمل کرے ، اگر چہ تمام جہاں کے مولوی، ملا، درویش، پیر، مرشد، عالم اور مجتہد اس کے خلاف ہوں، اور یہ بھی ضروری ہے کہ اس پر عمل کرنے میں دل نہایت خوش اور ہشاش بشاش ہو اور ذرا بھی کدورت اورتنگی نہ ہو بلکہ اپنے کو بڑا خوش قسمت سمجھے کہ اس کو حدیث رسول پر عمل کرنے کی توفیق ہوئی۔ اگر ایسا نہ کرے یعنی عمل ہی نہ کرے یا عمل تو کرے مگر ذرا لیت ولعل یا اداسی کے ساتھ اس خیال سے کہ درویش اور مولوی اس کے خلاف ہیں، آخر ان لوگوں کا بھی کچھ درجہ اور مقام ہے، اور کچھ سمجھ کر ہی ان لوگوں نے حدیث کے خلاف کیا ہو گا؟ تو جان لینا چاہئے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ناراض ہیں، اور ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ناراض ہو گئے اور بالفرض سارے زمانے کے مولوی یا درویش ہم سے خوش بھی ہوئے تو ہم ان کی خوشی کو کیا کریں گے، وہ خوش ہوں یا ناخوش ہوں ہمارے آقا، ہمارے مولیٰ ہمارے رسول ہم سے خوش رہیں تو ہمارا بیڑا پار ہے، یااللہ مرتے ہی ہمیں ہمارے رسول اور آل و اصحاب رسول سے ملا دے، ہم دنیا میں بھی ان ہی کے پیرو تھے، عالم برزخ اور آخرت میں بھی ان ہی کی جوتیوں کے پاس رہنا چاہتے ہیں، نہ دنیا میں ہم کو کسی سے مطلب تھا، نہ عقبیٰ (آخرت) میں ہمیں کسی اور کا ساتھ چاہئے۔ اگرجنت میں جانے کا ارادہ ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا پٹہ گردن میں پہن لو۔ مسلک سنت پہ سالک تو چلا چل بے ڈھرک جنت الفردوس کو سیدھی گئی ہے یہ سڑک۔
2982
Zaeef
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّهِصَفِيَّةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ فَأَحْلَلْتُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْيٌ فَلَمْ يَحِلَّ، ‏‏‏‏‏‏فَلَبِسْتُ ثِيَابِي، ‏‏‏‏‏‏وَجِئْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قُومِي عَنِّي، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ.
It was narrated that Asma’ bint Abi Bakr said: “We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) in Ihram. The Prophet (ﷺ) said: ‘Whoever has a sacrificial animal with him, let him remain in Ihram. Whoever does not have a sacrificial animal with him, let him exit Ihram.’ She said: ‘I did not have a sacrificial animal with me, so I exited Ihram, but Zubair had a sacrificial animal with him, so he did not exit Ihram. So I put on my regular clothes and came to Zubair, and he said: ‘Go away from me.’ I said: ‘Are you afraid I am going to jump on you?!’”
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھ کر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے ساتھ ہدی ( قربانی کا جانور ) ہو، وہ اپنے احرام پر قائم رہے، اور جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ احرام کھول کر حلال ہو جائے اور میرے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا چنانچہ میں نے احرام کھول دیا، اور زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہدی کا جانور تھا تو انہوں نے احرام نہیں کھولا، میں نے اپنا کپڑا پہن لیا، اور زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی تو انہوں نے کہا: میرے پاس سے چلی جاؤ، میں نے کہا: کیا آپ ڈرتے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی؟۔
Takhreej
«صحیح مسلم/الحج ۲۹ (۱۲۳۶)، سنن النسائی/الحج ۱۸۶ (۲۹۹۵)،(تحفة الأشراف:۱۵۷۳۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۳۵۱)
2983
Sahih

Chapters

108
01
حج کے لیے نکلنے کا بیان
2 Hadith
02
حج کی فرضیت کا بیان
3 Hadith
03
حج اور عمرہ کی فضیلت
3 Hadith
04
سواری پر حج کرنے کا بیان
2 Hadith
05
حاجی کی دعا کی فضیلت
4 Hadith
06
حج کو کون سی چیز واجب کر دیتی ہے؟۔
2 Hadith
07
عورت محرم اور ولی کے بغیر حج نہ کرے
3 Hadith
08
حج عورتوں کا جہاد ہے۔
2 Hadith
09
میت کی طرف سے حج کرنے کا بیان
3 Hadith
10
معذور شخص کی طرف سے حج بدل کرنے کا بیان
4 Hadith
11
بچے کا حج
1 Hadith
12
نفاس اور حیض والی عورتیں حج کا تلبیہ پکار سکتی ہیں
3 Hadith
13
مکہ سے باہر رہنے والوں کی میقات کا بیان
2 Hadith
14
احرام باندھنے اور (تلبیہ پکارنے) کا بیان۔
2 Hadith
15
لبیک پکارنا
4 Hadith
16
بلند آواز سے لبیک کہنے کا بیان
3 Hadith
17
محرم کے لیے سایہ کرنے کا بیان
1 Hadith
18
احرام کے وقت خوشبو لگانے کا بیان
3 Hadith
19
محرم کے لباس کا بیان
2 Hadith
20
تہ بند اور جوتا نہ ہو تو محرم پاجامہ اور موزے پہن لے
2 Hadith
21
احرام کی حالت میں کن باتوں سے بچنا چاہئے؟۔
1 Hadith
22
محرم اپنا سر دھو سکتا ہے۔
1 Hadith
23
(ضرورت پڑنے پر) محرم عورت چہرے پر کپڑا لٹکا سکتی ہے
1 Hadith
24
حج میں شرط لگانا جائز ہے
3 Hadith
25
حرم میں داخل ہونے کا بیان
1 Hadith
26
مکہ میں داخل ہونے کا بیان
3 Hadith
27
حجر اسود کے استلام (چومنے یا چھونے) کا بیان
4 Hadith
28
چھڑی سے حجر اسود کے استلام (چھونے) کا بیان۔
3 Hadith
29
بیت اللہ کے طواف میں رمل کرنے کا بیان
4 Hadith
30
طواف کے دوران اضطباع کا بیان
1 Hadith
31
طواف کعبہ حطیم سمیت کرنے کا بیان
1 Hadith
32
طواف کعبہ کی فضیلت کا بیان۔
2 Hadith
33
طواف کے بعد کی دو رکعت کا بیان
3 Hadith
34
بیمار کے سواری پر طواف کرنے کا بیان
1 Hadith
35
ملتزم کا بیان
1 Hadith
36
حائضہ سوائے طواف کے حج کے سارے مناسک ادا کرے
1 Hadith
37
حج افراد کا بیان
4 Hadith
38
حج قِران کا بیان
4 Hadith
39
قارن کے طواف کا بیان
4 Hadith
40
حج تمتع کا بیان
4 Hadith
41
حج کا احرام فسخ کر کے اس کو عمرہ میں تبدیل کرنے کا بیان
4 Hadith
42
جو لوگ کہتے ہیں کہ حج کا فسخ یعنی اس کو عمرہ میں تبدیل کر دینے کا حکم صحابہ کے لیے خاص تھا ان کی دلیل
2 Hadith
43
صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا بیان
3 Hadith
44
عمرہ کا بیان
2 Hadith
45
ماہ رمضان میں عمرہ کرنے کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
46
ماہ ذی قعدہ میں عمرہ کا بیان
2 Hadith
47
ماہ رجب میں عمرہ کرنے کا بیان
1 Hadith
48
تنعیم سے عمرہ کا بیان
2 Hadith
49
جس نے بیت المقدس سے عمرے کا تلبیہ پکارا اس کی دلیل کا بیان
2 Hadith
50
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے؟۔
1 Hadith
51
(آٹھویں ذی الحجہ کو) منیٰ جانے کا بیان
2 Hadith
52
منیٰ میں قیام کا بیان
2 Hadith
53
(نویں ذی الحجہ کی) صبح سویرے منیٰ سے عرفات جانے کا بیان
1 Hadith
54
عرفات میں کہاں اترے؟۔
1 Hadith
55
عرفات میں کہاں ٹھہرے؟۔
3 Hadith
56
عرفات میں دعا کا بیان
2 Hadith
57
مزدلفہ کی رات میں فجر سے پہلے عرفات آنے کا بیان
2 Hadith
58
عرفات سے لوٹنے کا بیان
2 Hadith
59
ضرورت پڑنے پر عرفات اور مزدلفہ کے درمیان اترنے کا بیان
1 Hadith
60
مزدلفہ میں مغرب اور عشاء جمع کر کے پڑھنے کا بیان۔
2 Hadith
61
مزدلفہ میں ٹھہرنے کا بیان
3 Hadith
62
جمرہ عقبہ کو کنکری مارنے کے لیے مزدلفہ سے منیٰ (وقت سے) پہلے آنے کا بیان
3 Hadith
63
رمی کی کنکریاں کتنی بڑی ہونی چاہئیں؟۔
2 Hadith
64
جمرہ عقبہ پر کہاں سے کنکریاں ماری جائیں؟۔
2 Hadith
65
جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد وہاں نہ رکنے کا بیان
2 Hadith
66
سوار ہو کر کنکریاں مارنے کا بیان۔
2 Hadith
67
عذر کی بناء پر کنکریاں مارنے میں دیر کرنے کا بیان
2 Hadith
68
بچوں کی طرف سے رمی کا بیان
1 Hadith
69
حاجی لبیک پکارنا کب بند کرے؟۔
2 Hadith
70
جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد آدمی کے لیے حلال ہو جانے والی چیزوں کا بیان
2 Hadith
71
حلق (سر منڈانے) کا بیان
3 Hadith
72
جس نے اپنے بالوں کو گوند وغیرہ سے جما لیا اس کے حکم کا بیان۔
2 Hadith
73
ذبح کرنے کا بیان
1 Hadith
74
مناسک حج کی تقدیم و تاخیر کا بیان
4 Hadith
75
ایام تشریق میں رمی جمار کا بیان
2 Hadith
76
یوم النحر کے خطبہ کا بیان
4 Hadith
77
طواف زیارت کا بیان
2 Hadith
78
زمزم کا پانی پینے کا بیان
2 Hadith
79
کعبہ کے اندر داخلے کا بیان
2 Hadith
80
منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کا بیان
2 Hadith
81
وادی محصب میں اترنے کا بیان
3 Hadith
82
طواف وداع کا بیان
2 Hadith
83
حائضہ طواف وداع سے پہلے جا سکتی ہے
2 Hadith
84
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا بیان
3 Hadith
85
معذور حاجی (جو مناسک حج ادا نہ کر سکے) کا بیان
2 Hadith
86
محصور کے فدیہ کا بیان۔
2 Hadith
87
محرم کا پچھنا لگوانا
2 Hadith
88
محرم کو کس قسم کا تیل استعمال کرنا جائز ہے؟۔
1 Hadith
89
محرم مر جائے تو کیا کیا جائے؟۔
1 Hadith
90
اگر محرم شکار کرے تو اس کے کفارہ کا بیان۔
2 Hadith
91
محرم کو کون سا جانور قتل کرنا جائز ہے؟۔
3 Hadith
92
محرم کو کون سا شکار منع ہے؟۔
2 Hadith
93
محرم کے لیے شکار نہ کیا گیا ہو تو اس کے کھانے کی رخصت
2 Hadith
94
ہدی کے اونٹوں کو قلادہ پہنانے کا بیان
2 Hadith
95
بکریوں کو قلادہ پہنانے کا بیان
1 Hadith
96
اونٹوں کے اشعار کا بیان
2 Hadith
97
ہدی کے اونٹوں پر جھول ڈالنے کا بیان
1 Hadith
98
ہدی میں نر اور مادہ دونوں کے جواز کا بیان
2 Hadith
99
ہدی کے جانوروں کو میقات کے پرے سے لے جانا
1 Hadith
100
ہدی کے اونٹوں کی سواری کا بیان
2 Hadith
101
ہدی کا جانور راستہ میں ہلاک ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان
2 Hadith
102
مکہ میں مکانات کا کرایہ لینے کا کیا حکم ہے؟۔
1 Hadith
103
مکہ کی فضیلت کا بیان
3 Hadith
104
مدینہ کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
105
کعبہ میں (مدفون) مال کا بیان
1 Hadith
106
مکہ میں صیام رمضان کے ثواب کا بیان
1 Hadith
107
بارش میں طواف کا بیان
1 Hadith
108
پیدل حج کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.