TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3398 - نبیذ بنانے اور پینے کا بیان - Chapters on drinks - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 3 in this chapter
نبیذ بنانے اور پینے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ،‏‏‏‏ حَدَّثَتْنَا بُنَانَةُ بِنْتُ يَزِيدَ الْعَبْشَمِيَّةُ،‏‏‏‏ عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ،‏‏‏‏ فَنَأْخُذُ قَبْضَةً مِنْ تَمْرٍ أَوْ قَبْضَةً مِنْ زَبِيبٍ فَنَطْرَحُهَا فِيهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ نَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ،‏‏‏‏ فَنَنْبِذُهُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عَشِيَّةً،‏‏‏‏ وَنَنْبِذُهُ عَشِيَّةً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً ،‏‏‏‏ وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ:‏‏‏‏ نَهَارًا فَيَشْرَبُهُ لَيْلًا،‏‏‏‏ أَوْ لَيْلًا فَيَشْرَبُهُ نَهَارًا.
It was narrated that ‘Aishah said: “We used to make Nabidh for the Messenger of Allah (ﷺ) in a water skin. We would take a handful of dates or a handful of raisins, and put them in it, then pour water over it. We would make that in the morning and he would rink it in the evening, or we would make it in the evening and he would drink it in the morning.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشک میں نبیذ تیار کرتے اس کے لیے ہم ایک مٹھی کھجور یا ایک مٹھی انگور لے لیتے، پھر اسے مشک میں ڈال دیتے، اس کے بعد اس میں پانی ڈال دیتے، اگر ہم اسے صبح میں بھگوتے تو آپ اسے شام میں پیتے، اور اگر ہم شام میں بھگوتے تو آپ اسے صبح میں پیتے۔ ابومعاویہ اپنی روایت میں یوں کہتے ہیں: دن میں بھگوتے تو رات میں پیتے اور رات میں بھگوتے تو دن میں پیتے ۔
3398
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 4, Book 30, Hadith 3398 Arabic reference : Book 30, Hadith 3524
(سند میں نبانة بنت یزید غیر معروف ہیں، لیکن یہ حدیث ابن عباس کی حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے)
Conclusion
تخریج
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۷۸۲۴)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة ۹ (۲۰۰۵)، سنن ابی داود/الأشربة ۱۰ (۳۷۱۱)، سنن الترمذی/الأشربة ۷ (۱۸۷۱)، مسند احمد (۶/۴۶،۱۲۴)

Related Chapters

191
1
Chapter: What Has Been Related About It Is Disliked To Prepare Nabidh In Ad-Dubba', An-Naqir, And An-Hantam
باب: تونبی، مٹکا (سبز رنگ کے برتن) اور لکڑی کے برتن میں نبیذ بنانے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related Permitting That Nabidh Be Prepared Ibn Containers
باب: مذکورہ بالا برتنوں میں نبیذ بنانے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Preparing Nabidh In A Water Skin
باب: مشک میں نبیذ بنانے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About Mixing Unripe Dates And Dates
باب: گدر (ادھ پکی) کھجور اور خشک کھجور ملا کر نبیذ بنانے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
مشکیزے کی نبیذ اور اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اس کو اچھا سمجھنے کا بیان
Musnad Ahmad
6
ان برتنوں کابیان، جن میں نبیذ بنانے سے منع کیا گیا، لیکن پھر ان کی حرمت منسوخ ہو گئی
Musnad Ahmad
7
سابق احادیث میں جن برتنوں میں نبیذ بنانے کو حرام قرار دیا گیا ان کے اس حکم کے منسوخ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
8
Chapter: The prohibition of making Nabidh in Al-Muzaffat, Ad-Dubba' (Gourds), Al-Hantam and An-Naqir; This has been abrogated and now it is permitted, so long as it does not become intoxicating
روغن زفت ملے ہوئے اور کدو سے بنےہوئے،مٹی کے سبز اور کھوکھلی لکڑی کے بنے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے کی ممانعت(کی گئی تھی)،آج یہ حلال ہے بشرط یہ کہ وہ نشہ آور نہ ہوجائے
Sahih Muslim
9
CHAPTER: Mixing two items.
باب: کشمش اور کھجور کو یا کچی اور پکی کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے کی ممانعت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
10
دو چیز کو ملا کر نبیذ بنانے کی ممانعت
Sunnan Ibn e Maja
11
شراب کے برتنوں میں نبیذ بنانے کی ممانعت
Sunnan Ibn e Maja
12
مذکورہ بالا برتنوں میں نبیذ بنانے کی اجازت
Sunnan Ibn e Maja
13
باب: دو چیزوں ادھ کچی اور سوکھی کھجور سے بنی نبیذ پینے سے ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
14
باب: صرف ادھ کچی کھجور کو بھگونے اور جب تک اس میں تبدیلی نہ ہو اس کی نبیذ پینے کی اجازت کا بیان۔
Sunnan Nisai
15
باب: دھاگے سے منہ بند مشکوں میں نبیذ بنانے کی اجازت کا بیان۔
Sunnan Nisai
16
باب: صرف سوکھی کھجور کی نبیذ بنانے کی اجازت کا بیان۔
Sunnan Nisai
17
باب: صرف کشمش (خشک انگور) کی نبیذ بنانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
18
باب: صرف ادھ کچی کھجور کی نبیذ بنانے کی اجازت کا بیان۔
Sunnan Nisai
19
باب: مٹی کے برتن میں نبیذ بنانے سے ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
باب: مشکوں میں نبیذ بنانے کی اجازت کا بیان۔
Sunnan Nisai
21
باب: نبیذ بنانے والے کے ہاتھ انگور بیچنے کی کراہت کا بیان۔
Sunnan Nisai
22
(65)Chapter: [What Has Been Related About] Wudu' With Nabidh
باب: نبیذ سے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
(66)Chapter: [About] Rinsing Out The Mouth After Drinking Milk
باب: دودھ پینے پر کر کلی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Building A Masjid
باب: مسجد بنانے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: Undesirability Of Taking The Grave As A Masjid
باب: قبروں پر مسجد بنانے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What has been related about: Suckling does not make a prohibition except during infancy less than two years
باب: رضاعت کی حرمت دو سال سے کم کی عمر ہی میں دودھ پینے سے ثابت ہو گی
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What has been related about: The woman with three divorces gets no housing nor maintenance (from the husband)
باب: تین طلاق پائی عورت کو نہ رہنے کے لیے گھر ملے گا اور نہ کھانے پینے کا خرچہ
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About: Whoever Drinks Wine Then Lash Him, And Whoever Does It A Fourth Time, Then Kill Him
باب: شرابی کو کوڑے لگانے اور چوتھی بار شراب پینے پر اسے قتل کر دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Eating And Drinking With The Left Hand
باب: بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Drinking Camel Urine
باب: اونٹ کا پیشاب پینے کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Nabidh Prepared In Earthenware Containers
باب: مٹکے کی نبیذ کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Drink From Gold And Silver Vessels
باب: سونے اور چاندی کے برتن میں پینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Drinking While Standing
باب: کھڑے ہو کر پینے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The Permission For Drinking While Standing
باب: کھڑے ہو کر پینے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About Drinking With Two Breaths
باب: دو سانس میں پینے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Blow Into The Drink
باب: پینے کی چیز میں پھونکنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related Permitting That
باب: مشکیزے سے منہ لگا کر پینے کی رخصت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
باب: ارشاد نبوی ہے: مریض کو کھانے پینے پر مجبور نہ کرو
Jam e Tirmazi
39
باب: علاج میں اونٹ کا پیشاب پینے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What has been Related About whoever claims His Wala' to be For Other Than His Mawali, Or Claims Someone Else Other Than His Father
باب: آزاد کرنے والے کے علاوہ دوسرے کو مالک بنانے اور دوسرے کے باپ کی طرف نسبت کرنے والے کا بیان​
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What has been Related About Taking A Sword Of Wood(During Fitnah)
باب: فتنے کے زمانہ میں لکڑی کی تلوار بنانے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked to Eat Much
باب: زیادہ کھانے پینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
بَاب النقيع والأنبذة
نقیع اور نبیذ کا بیان
Mishkat
44
پانی نہ ہونے کی صورت میں نبیذ سے طہارت حاصل کرنے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
45
زمین میں بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجداور مساجد بنانے کی فضیلت
Musnad Ahmad
46
تبرک و تعظیم کے لیے انبیاء وصالحین کی قبروں کو مساجد بنانے کی ممانعت
Musnad Ahmad
47
کفار کی قبریں اکھاڑ کر ان کی جگہ مساجد بنانے کا جواز
Musnad Ahmad
48
غیر مسلموں کے عبادت خانوں کو مساجد بنانے کا جواز
Musnad Ahmad
49
گھروں میں مساجد بنانے کا بیان
Musnad Ahmad
50
سفر میںساتھی بنانے اور اس کے سبب کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

52
Sunnan Ibn e Maja
924
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا مِقْدَارَ مَا يَقُولُ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْكَ السَّلَامُ، ‏‏‏‏‏‏تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ .
It was narrated that ‘Aishah said: “When the Messenger of Allah (ﷺ) said the Salam, he would sit only for as long as it took to say: ‘Allahumma Antas-Salam wa minkas-salam. Tabarakta ya Dhal-jalali wal- ikram. (O Allah, You are As-Salam, From You is all peace, blessed are You O Possessor of majesty and honour).’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو ( اپنے مصلے پر قبلہ رو ) اس قدر بیٹھتے جتنے میں یہ دعا پڑھتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» اے اللہ! تو ہی سلام ہے اور تیری جانب سے سلامتی ہے، اے بزرگی و برتری والے! تو بابرکت ہے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
1123
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ وَهُوَ الطَّوِيلُ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَ الْحَسَنُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي رَيْحَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُعَاوِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ.
Imran bin Husain narrated that : The Prophet said: There is no Jalab, no Janab, and no Shighar in Islam. And whoever takes some property by force, then he is not from us.
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں نہ «جلب» ہے، نہ «جنب» ۱؎ اور نہ ہی «شغار»،‏‏‏‏ اور جو کسی کی کوئی چیز اچک لے، وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس، ابوریحانہ، ابن عمر، جابر، معاویہ، ابوہریرہ، اور وائل بن حجر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Sunnan Ibn e Maja
587
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ .
It was narrated that Abu Sa'eed said: The Messenger of Allah said: 'If anyone of you has intercourse with his wife, then he wants to do it again, let him perform ablution.'
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیوی سے جماع کرے پھر دوبارہ ہمبستری کرنا چاہے، تو وضو کر لے ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
1075
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَنَحْنُ إِذَا أَقَمْنَا تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا .
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah (ﷺ) stayed for nineteen days in which he shortened his prayer to two Rak’ah. So, whenever we stayed for nineteen days we would shorten our prayer to two Rak’ah, but if we stayed more than that we would pray four Rak’ah.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں انیس ( ۱۹ ) دن رہے، اور دو دو رکعت پڑھتے رہے، لہٰذا ہم بھی جب انیس ( ۱۹ ) دن قیام کرتے ہیں تو دو دو رکعت پڑھتے ہیں، اور جب اس سے زیادہ قیام کرتے ہیں تو چار رکعت پڑھتے ہیں ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
1588
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ ابْنٌ لِبَعْضِ بَنَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى، ‏‏‏‏‏‏وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، ‏‏‏‏‏‏فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَأَقْسَمَتْ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْتُ مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا دَخَلْنَا نَاوَلُوا الصَّبِيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُوحُهُ تَقَلْقَلُ فِي صَدْرِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَسِبْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَأَنَّهَا شَنَّةٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ:‏‏‏‏ مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الرَّحْمَةُ الَّتِي جَعَلَهَا اللَّهُ فِي بَنِي آدَمَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ .
Usamah bin Zaid said: “The son of one of the daughters of the Messenger of Allah (ﷺ) was dying. She sent for him, asking him to come to her, and he sent word to her, saying: ‘To Allah belongs what He has taken and to Him belongs what He has given. Everything has an appointed time with Him, so be patient and seek reward.’ But she sent for him again, adjuring him to come. So the Messenger of Allah (ﷺ) got up, and I got up with him, as did Mu’adh bin Jabal, Ubayy bin Ka’b and ‘Ubadah bin Samit. When we entered they handed the child to the Messenger of Allah (ﷺ), and his soul was rattling in his chest.” I think he was that it was like a water skin. “The Messenger of Allah (ﷺ) wept, and ‘Ubadah bin Samit said to him: ‘What is this, O Messenger of Allah?’ He said: ‘It is compassion which Allah has created in the son of Adam. Allah only shows mercy to those of His slaves who are compassionate.’”
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیٹی کا ایک لڑکا مرنے کے قریب تھا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب میں کہلا بھیجا: جو لے لیا وہ اللہ ہی کا ہے، اور جو دے دیا وہ بھی اللہ ہی کا ہے، اور اس کے پاس ہر چیز کا ایک مقرر وقت ہے، انہیں چاہیئے کہ صبر کریں اور ثواب کی امید رکھیں لڑکی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ بلا بھیجا، اور قسم دلائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور تشریف لائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، آپ کے ساتھ میں بھی اٹھا، آپ کے ساتھ معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم بھی تھے، جب ہم گھر میں داخل ہوئے تو لوگ بچے کو لے آئے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا، بچے کی جان اس کے سینے میں اتھل پتھل ہو رہی تھی، ( راوی نے کہا کہ میں گمان کرتا ہوں یہ بھی کہا: ) گویا وہ پرانی مشک ہے ( اور اس میں پانی ہل رہا ہے ) : یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان میں رکھی ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے رحم دل بندوں ہی پر رحم کرتا ہے ۱؎ ۔
Jam e Tirmazi
165
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ .
An-Nu'man bin Bashir said: I am the most knowledgeable among the people about the prescribed time of this prayer: Allah's Messenger would pray it when the moon set on the third (of the month).
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اس نماز عشاء کے وقت کو لوگوں میں سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اسے تیسری تاریخ کا چاند ڈوبنے کے وقت پڑھتے تھے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
327
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ وَلَكِنْ ائْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا . وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي قَتَادَةَ،‏‏‏‏ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمَشْيِ إِلَى الْمَسْجِدِ، ‏‏‏‏‏‏فَمِنْهُمْ مَنْ رَأَى الْإِسْرَاعَ إِذَا خَافَ فَوْتَ التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى ذُكِرَ عَنْ بَعْضِهِمْ أَنَّهُ كَانَ يُهَرْوِلُ إِلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْهُمْ مَنْ كَرِهَ الْإِسْرَاعَ وَاخْتَارَ أَنْ يَمْشِيَ عَلَى تُؤَدَةٍ وَوَقَارٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَا:‏‏‏‏ الْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ إِنْ خَافَ فَوْتَ التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى فَلَا بَأْسَ أَنْ يُسْرِعَ فِي الْمَشْيِ.
Abu Hurairah narrated that : Allah's Messenger said: When the Iqamah is called for Salat do not come to it rushing, rather come to it walking, and while you have tranquility. What you catch of it then pray it, and what you missed of it, then complete it.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کی تکبیر ( اقامت ) کہہ دی جائے تو ( نماز میں سے ) اس کی طرف دوڑ کر مت آؤ، بلکہ چلتے ہوئے اس حال میں آؤ کہ تم پر سکینت طاری ہو، تو جو پاؤ اسے پڑھو اور جو چھوٹ جائے، اسے پوری کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوقتادہ، ابی بن کعب، ابوسعید، زید بن ثابت، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- اہل علم کا مسجد کی طرف چل کر جانے میں اختلاف ہے: ان میں سے بعض کی رائے ہے کہ جب تکبیر تحریمہ کے فوت ہونے کا ڈر ہو، وہ دوڑے یہاں تک کہ بعض لوگوں کے بارے میں مذکور ہے کہ وہ نماز کے لیے قدرے دوڑ کر جاتے تھے اور بعض لوگوں نے دوڑ کر جانے کو مکروہ قرار دیا ہے اور آہستگی و وقار سے جانے کو پسند کیا ہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، ان دونوں کا کہنا ہے کہ عمل ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث پر ہے۔ اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اگر تکبیر تحریمہ کے چھوٹ جانے کا ڈر ہو تو دوڑ کر جانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
Jam e Tirmazi
337
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ رَدِيفَ الْفَضْلِ عَلَى أَتَانٍ، ‏‏‏‏‏‏فَجِئْنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ بِمِنًى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَنَزَلْنَا عَنْهَا فَوَصَلْنَا الصَّفَّ فَمَرَّتْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ فَلَمْ تَقْطَعْ صَلَاتَهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ سفيان الثوري،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيُّ.
Ibn Abbas narrated: I was a companion rider on a female donkey with Al-Fadl. We came while the Prophet and his Companions were performing Salat at Mina. He said: We dismounted from it and joined the row. The donkey then passed in front of them, and this did not invalidate their Salat.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک گدھی پر ( اپنے بھائی ) فضل رضی الله عنہ کے پیچھے سوار تھا، ہم آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں صحابہ کو نماز پڑھا رہے تھے، ہم گدھی سے اترے اور صف میں مل گئے۔ اور وہ ( گدھی ) ان لوگوں کے سامنے پھرنے لگی، تو اس نے ان کی نماز باطل نہیں کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، فضل بن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ اور ان کے بعد تابعین میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ نماز کو کوئی چیز باطل نہیں کرتی، سفیان ثوری اور شافعی بھی یہی کہتے ہیں ۱؎۔
Jam e Tirmazi
561
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:‏‏‏‏ خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ ثُمَّ رَكَعَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ هِيَ دُونَ الْأُولَى، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الْأَوَّلِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَسَجَدَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق:‏‏‏‏ يَرَوْنَ صَلَاةَ الْكُسُوفِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِأُمِّ الْقُرْآنِ، ‏‏‏‏‏‏وَنَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ سِرًّا إِنْ كَانَ بِالنَّهَارِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ قِرَاءَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ بِتَكْبِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَثَبَتَ قَائِمًا كَمَا هُوَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَرَأَ أَيْضًا بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَنَحْوًا مِنْ آلِ عِمْرَانَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ قِرَاءَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ تَامَّتَيْنِ وَيُقِيمُ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ نَحْوًا مِمَّا أَقَامَ فِي رُكُوعِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَنَحْوًا مِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ قِرَاءَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ بِتَكْبِيرٍ وَثَبَتَ قَائِمًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْمَائِدَةِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ قِرَاءَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَشَهَّدَ وَسَلَّمَ.
Aishah narrated: The sun was eclipsed during the time of the Messenger of Allah, so the Messenger of Allah led the people in prayer. He recited a lengthy recitation, then he bowed a lengthy bowing, then he raised his head and recited a lengthy recitation that was less than the first. Then he bowed a lengthy bowing that was less than the first. Then he raised his head and prostrated. Then he did (similar to) that in the second Rak'ah.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، اور لمبی قرأت فرمائی، پھر آپ نے رکوع کیا تو رکوع بھی لمبا کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور لمبی قرأت فرمائی، یہ پہلی قرأت سے کم تھی، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا اور یہ پہلے رکوع سے ہلکا تھا، پھر اپنا سر اٹھایا اور سجدہ کیا پھر اسی طرح دوسری رکعت میں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی حدیث کی بناء پر کہتے ہیں کہ گرہن کی نماز میں چار سجدوں میں چار رکوع ہے۔ شافعی کہتے ہیں: پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھے اور سورۃ البقرہ کے بقدر، اگر دن ہو تو سری قرأت کرے، پھر قرأت کے برابر لمبا رکوع کرے۔ پھر اللہ اکبر کہہ کر سر اٹھائے۔ اور کھڑا رہے جیسے پہلے کھڑا تھا اور سورۃ فاتحہ پڑھے اور آل عمران کے بقدر قرأت کرے پھر اپنی قرأت کے برابر لمبا رکوع کرے، پھر سر اٹھائے۔ پھر «سمع الله لمن حمده‏» کہے۔ پھر اچھی طرح دو سجدے کرے۔ اور ہر سجدے میں اسی قدر ٹھہرے جتنا رکوع میں ٹھہرا تھا۔ پھر کھڑا ہو اور سورۃ فاتحہ پڑھے اور سورۃ نساء کے بقدر قرأت کرے پھر اپنی قرأت کے برابر لمبا رکوع کرے پھر اللہ اکبر کہہ کر اپنا سر اٹھائے اور سیدھا کھڑا ہو، پھر سورۃ المائدہ کے برابر قرأت کرے۔ پھر اپنی قرأت کے برابر لمبا رکوع کرے، پھر سر اٹھائے اور «سمع الله لمن حمده‏» کہے، پھر دو سجدے کرے پھر تشہد پڑھے اور سلام پھیر دے۔