TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3466 - طب نہ جانتے ہوئے علاج معالجہ کرنے والے کا بیان - Chapters on medicine - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
طب نہ جانتے ہوئے علاج معالجہ کرنے والے کا بیان
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ،‏‏‏‏ وَرَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ جَدِّهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ تَطَبَّبَ،‏‏‏‏ وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْهُ طِبٌّ قَبْلَ ذَلِكَ،‏‏‏‏ فَهُوَ ضَامِنٌ .
It was narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, that his grandfather said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever gives medical treatment, with no prior knowledge of medicine, is responsible (for any harm done).
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص علاج کرنے لگے حالانکہ اس سے پہلے اس کے طبیب ہونے کا کسی کو علم نہیں تھا، تو وہ ضامن ( ذمہ دار ) ہو گا ۱؎۔
3466
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 4, Book 31, Hadith 3466 Arabic reference : Book 31, Hadith 3595
(سند میں ابن جریج مدلس راوی ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے)
Conclusion
تخریج
«سنن ابی داود/الدیات ۲۵ (۴۵۸۶)، سنن النسائی/القسامة ۳۴ (۴۸۳۴)،(تحفة الأشراف:۸۷۴۶)

Related Chapters

190
1
(47)Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Use The Leftover Water Of A Woman
باب: عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
(48)Chapter: [What has Been Related] About Permitting That
باب: عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کے جائز ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
(51)Chapter: [What Has Been Related About] It Is Disliked Urinate In Stagnant Water
باب: ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Gather The Hair During Salat
باب: جوڑا باندھے ہوئے نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: (What Has Been Related About The Atonement)
باب: میت کے چھوڑے ہوئے روزے کے کفارہ کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About: A Woman Should Not Be Married Along With Her Paternal Aunt Nor Her Maternal Aunt
باب: پھوپھی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بھتیجی سے نکاح کرنے اور خالہ کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بھانجی سے نکاح کرنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Selling A Necklace Containing Gold And Jewels
باب: سونے اور جواہرات جڑے ہوئے ہار خریدنے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About Selling Al-Muhaffalat (Animals That Have Not Been Milked)
باب: تھن میں دودھ روکے ہوئے جانور کی بیع کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About: Whoever Is Killed Over His Wealth, Then He Is A Martyr
باب: اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جانے والا آدمی شہید ہے
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About Slaughtering With Al-Marwah (Granite)
باب: پتھر سے ذبح کئے ہوئے جانور کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About The Fallen Morsel
باب: گرے ہوئے لقمہ کا بیان
Jam e Tirmazi
12
باب: علاج کرنے کی ترغیب کا بیان
Jam e Tirmazi
13
باب: علاج میں اونٹ کا پیشاب پینے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
باب: بدن داغ کر علاج کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
باب: مہندی سے علاج کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
16
باب: جھاڑ پھونک اور دوا سے علاج کا بیان
Jam e Tirmazi
17
باب: بخار کے علاج سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
18
باب: ذات الجنب (نمونیہ) کے علاج کا بیان
Jam e Tirmazi
19
باب: شہد سے علاج کا بیان
Jam e Tirmazi
20
باب: راکھ سے علاج کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Give The Salam To The One Who Is Urinating
باب: پیشاب کرتے ہوئے شخص کو سلام کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
باب: (مردوں کے لیے) ریشم اور ریشم سے بنے ہوئے کپڑے مردوں کے پہنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
مشرکوں کو قبولیت ِ اسلام کی رغبت دلانا اور ان پر رحم کرتے ہوئے ان کی تالیف قلبی کرنا
Musnad Ahmad
24
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
Musnad Ahmad
25
ایک طہارت سے بچے ہوئے پانی سے مزید طہارت کرنے کی نہی کا بیان
Musnad Ahmad
26
چہرے کو دھونے، داڑھی کا خلال کرنے اور ناک سے ملے ہوئے گوشۂ چشم کا خیال رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
27
کھڑے ہونے پر قدرت رکھنے والے کا بیٹھے ہوئے امام کی اورکسی عذر کی وجہ سے بیٹھنے والے کا کھڑے ہونے والے امام کی اقتدا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
28
زکوۃ وصول کرتے ہوئے لوگوں کے قیمتی مال سے اجتناب کرنے، بکریوں میں سے کس قسم کی بکری کا کفایت کرنے اور زکوۃ کی واجب مقدار سے افضل یا زائد دینے کا بیان
Musnad Ahmad
29
بھیک مانگنے پر اکتفا کرتے ہوئے کمائی کو ترک کر دینے اور ایسا کرنے والے کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
30
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
Musnad Ahmad
31
عرفہ کی طرف جاتے ہوئے تلبیہ اور تکبیر کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
32
اچھے انداز میں قرض کی ادائیگی اور اس کا مطالبہ کرنے، قرض دار کی قرض خواہ کے لیے دعا کرنے اور لیے ہوئے قرض سے زیادہ مقدار دے دینے کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
33
رسول اللہ a کے کیے ہوئے چند متفرق فیصلہ جات
Musnad Ahmad
34
جب غلام، آقا کی چوری کرے تو کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، نیز بھاگے ہوئے غلام کا حکم کیا ہے، جب وہ چوری کرے
Musnad Ahmad
35
حد لگائے ہوئے زانی کا نکاح نہ کیا جائے
Musnad Ahmad
36
سوئے ہوئے، نابالغ بچے اور پاگل اور ذہنی خیالات کی طلاق واقع نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
37
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
38
سدھائے ہوئے شکاری کتے اور باز وغیرہ کے شکار کابیان
Musnad Ahmad
39
زندہ جانور سے علیحدہ کئے ہوئے حصے کے مردار ہو نے اور ان ذبیحوں کا بیان، جن کو کھانا جائز نہیں ہے
Musnad Ahmad
40
علاج کرنے پر آمادہ کرنے اور اس چیز کا بیان کہ ہر بیماری کی دوا ہے
Musnad Ahmad
41
حرام دوا سے علاج کروانے کے متعلق نہی کا بیان
Musnad Ahmad
42
بخار اور اس کے علاج کا بیان
Musnad Ahmad
43
پیٹ کی بیماریوں، اندرونی ورم اور بچوں کی حلق کی تکلیف کا عودِ ہندی کے ساتھ علاج کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
44
زخموں اور جسم پر نکل آنے والے دانوں کے علاج کا بیان
Musnad Ahmad
45
سنابوٹی اور گائے کے دودھ سے علاج کا بیان
Musnad Ahmad
46
اگر کوئی چیز پسند آ جائے تو کیا کہنا چاہیے، نیز نظر زدہ آدمی کا علاج کیسے کیا جائے
Musnad Ahmad
47
طاعون زدہ زمین میں داخل ہونے کی اور وہاں موجود لوگوں کا فرار ہوتے ہوئے وہاں سے نکل جانے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
48
مرد کو عصفر بوٹی سے رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے ممانعت اور سرخ رنگ کے استعمال کا بیان
Musnad Ahmad
49
نسب پر بھروسہ کرتے ہوئے عمل چھوڑ دینے سے ترہیب کا بیان
Musnad Ahmad
50
فوائد:… ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

506
Sunnan Ibn e Maja
3463
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ،‏‏‏‏ وَرَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَاأَنَسُ بْنُ سِيرِينَ،‏‏‏‏ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ شِفَاءُ عِرْقِ النَّسَا،‏‏‏‏ أَلْيَةُ شَاةٍ أَعْرَابِيَّةٍ تُذَابُ،‏‏‏‏ ثُمَّ تُجَزَّأُ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ،‏‏‏‏ ثُمَّ يُشْرَبُ عَلَى الرِّيقِ فِي كُلِّ يَوْمٍ جُزْءٌ .
Anas bin Malik said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: ‘The cure for sciatica is the fat from the tail of a Bedouin sheep (or wild sheep), which should be melted and divided into three parts, one part to be taken each day on an empty stomach.’”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: «عرق النسا» ۱؎ کا علاج یہ ہے کہ جنگلی بکری کی ( چربی ) کی چکتی لی جائے اور اسے پگھلایا جائے، پھر اس کے تین حصے کئے جائیں، اور ہر حصے کو روزانہ نہار منہ پیا جائے ۔
Jam e Tirmazi
388
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ:‏‏‏‏ وحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ رَجَاءٌ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ، قَالَ:‏‏‏‏ لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ وَيُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَسَكَتَ عَنِّي مَلِيًّا ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً
Ma'dan bin Talhah Al Yamari said: I met Thawban the freed slave of Allah's Messenger (S) and said to him, 'Guide me to a deed by which Allah benefit me, and for which Allah will admit me into Paradise.' He was silent for quite a while, then he turned to me and said: 'Perform prostrations, for I heard Allah's Messenger (S) saying: 'No worshipper performs a prostration to Allah except that by it, Allah will raise him a level, and erase a sin from him for it.'
معدان بن طلحہ یعمری کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی الله عنہ سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع پہنچائے اور مجھے جنت میں داخل کرے، تو وہ کافی دیر تک خاموش رہے پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے کہا کہ تم کثرت سے سجدے کیا کرو ۱؎ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو بھی بندہ اللہ کے واسطے کوئی سجدہ کرے گا اللہ اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کر دے گا اور اس کا ایک گناہ مٹا دے گا“۔
Jam e Tirmazi
1051
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَأَبُو عَمَّارٍ، قَالَا:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، عن أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا الصَّحِيحُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَحَدِيثُ ابْنِ الْمُبَارَكِ خَطَأٌ، ‏‏‏‏‏‏أَخْطَأَ فِيهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ، ‏‏‏‏‏‏وَزَادَ فِيهِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا هُوَ بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَاثِلَةَ، ‏‏‏‏‏‏هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَيْسَ فِيهِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، ‏‏‏‏‏‏وَبُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ سَمِعَ مِنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ.
(Another chain) from Abu Marthad Al-Ghanawi : from the Prophet, similar (to no. 1050), but it does not contain From Abu Idris and this is what is correct.
اس طریق سے بھی ابومرشد غنوی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔ البتہ اس سند میں ابوادریس کا واسطہ نہیں ہے اور یہی صحیح ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ابن مبارک کی روایت غلط ہے، اس میں ابن مبارک سے غلطی ہوئی ہے انہوں نے اس میں ابوادریس خولانی کا واسطہ بڑھا دیا ہے، صحیح یہ ہے کہ بسر بن عبداللہ نے بغیر واسطے کے براہ راست واثلہ سے روایت کی ہے، اسی طرح کئی اور لوگوں نے عبدالرحمٰن بن یزید بن جابر سے روایت کی ہے اور اس میں ابوادریس کے واسطے کا ذکر نہیں ہے۔ اور بسر بن عبداللہ نے واثلہ بن اسقع سے سنا ہے۔
Jam e Tirmazi
1660
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ رَجُلٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ مُؤْمِنٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ يَتَّقِي رَبَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Abu Sa’id Al Khudri : that the Messenger of Allah (ﷺ) was asked: Which of the people are most virtuous? He said: A man who take part in Jihad in Allah's cause. They said: Then whom? He said: Then a believer who stays in one of the mountains path out of Taqwa for his Lord, leaving the people secure from his evil. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Sahih.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون آدمی افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ شخص جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے“، صحابہ نے پوچھا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: ”پھر وہ مومن جو کسی گھاٹی میں اکیلا ہو اور اپنے رب سے ڈرے اور لوگوں کو اپنے شر سے بچائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3570
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَعِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي تَفَلَّتَ هَذَا الْقُرْآنُ مِنْ صَدْرِي فَمَا أَجِدُنِي أَقْدِرُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا أَبَا الْحَسَنِ أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهِنَّ وَيَنْفَعُ بِهِنَّ مَنْ عَلَّمْتَهُ وَيُثَبِّتُ مَا تَعَلَّمْتَ فِي صَدْرِكَ ؟ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَعَلِّمْنِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَقُومَ فِي ثُلُثِ اللَّيْلِ الْآخِرِ،‏‏‏‏ فَإِنَّهَا سَاعَةٌ مَشْهُودَةٌ وَالدُّعَاءُ فِيهَا مُسْتَجَابٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ أَخِي يَعْقُوبُ لِبَنِيهِ:‏‏‏‏ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي يَقُولُ:‏‏‏‏ حَتَّى تَأْتِيَ لَيْلَةُ الْجُمْعَةِ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ،‏‏‏‏ فَقُمْ فِي وَسَطِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ،‏‏‏‏ فَقُمْ فِي أَوَّلِهَا فَصَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏تَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،‏‏‏‏ وَسُورَةِ يس، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،‏‏‏‏ وحم الدُّخَانِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،‏‏‏‏ وَ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الرَّكْعَةِ الرَّابِعَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ،‏‏‏‏ وَ تَبَارَكَ الْمُفَصَّلَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ التَّشَهُّدِ،‏‏‏‏ فَاحْمَدِ اللَّهَ،‏‏‏‏ وَأَحْسِنِ الثَّنَاءَ عَلَى اللَّهِ،‏‏‏‏ وَصَلِّ عَلَيَّ،‏‏‏‏ وَأَحْسِنْ،‏‏‏‏ وَعَلَى سَائِرِ النَّبِيِّينَ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتَغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِينَ،‏‏‏‏ وَالْمُؤْمِنَاتِ،‏‏‏‏ وَلِإِخْوَانِكَ الَّذِينَ سَبَقُوكَ بِالْإِيمَانِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قُلْ فِي آخِرِ ذَلِكَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي بِتَرْكِ الْمَعَاصِي أَبَدًا مَا أَبْقَيْتَنِي، ‏‏‏‏‏‏وَارْحَمْنِي أَنْ أَتَكَلَّفَ مَا لَا يَعْنِينِي، ‏‏‏‏‏‏وَارْزُقْنِي حُسْنَ النَّظَرِ فِيمَا يُرْضِيكَ عَنِّي، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ وَالْعِزَّةِ الَّتِي لَا تُرَامُ، ‏‏‏‏‏‏أَسْأَلُكَ يَا أَللَّهُ يَا رَحْمَنُ بِجَلَالِكَ،‏‏‏‏ وَنُورِ وَجْهِكَ أَنْ تُلْزِمَ قَلْبِي حِفْظَ كِتَابِكَ كَمَا عَلَّمْتَنِي، ‏‏‏‏‏‏وَارْزُقْنِي أَنْ أَتْلُوَهُ عَلَى النَّحْوِ الَّذِي يُرْضِيكَ عَنِّيَ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ بَدِيعَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ وَالْعِزَّةِ الَّتِي لَا تُرَامُ، ‏‏‏‏‏‏أَسْأَلُكَ يَا أَللَّهُ يَا رَحْمَنُ بِجَلَالِكَ وَنُورِ وَجْهِكَ أَنْ تُنَوِّرَ بِكِتَابِكَ بَصَرِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ تُطْلِقَ بِهِ لِسَانِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ تُفَرِّجَ بِهِ عَنْ قَلْبِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ تَشْرَحَ بِهِ صَدْرِي، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ تَغْسِلَ بِهِ بَدَنِي، ‏‏‏‏‏‏لَأنَّهُ لَا يُعِينُنِي عَلَى الْحَقِّ غَيْرُكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُؤْتِيهِ إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ، ‏‏‏‏‏‏يَا أَبَا الْحَسَنِ تَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ خَمْسَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ سَبْعَ تُجَابُ بِإِذْنِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ مَا أَخْطَأَ مُؤْمِنًا قَطُّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ فَوَاللَّهِ مَا لَبِثَ عَلِيٌّ إِلَّا خَمْسًا أَوْ سَبْعًا حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِثْلِ ذَلِكَ الْمَجْلِسِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ فِيمَا خَلَا لَا آخُذُ إِلَّا أَرْبَعَ آيَاتٍ أَوْ نَحْوَهُنَّ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا قَرَأْتُهُنَّ عَلَى نَفْسِي تَفَلَّتْنَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا أَتَعَلَّمُ الْيَوْمَ أَرْبَعِينَ آيَةً أَوْ نَحْوَهَا وَإِذَا قَرَأْتُهَا عَلَى نَفْسِي فَكَأَنَّمَا كِتَابُ اللَّهِ بَيْنَ عَيْنَيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَقَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ الْحَدِيثَ فَإِذَا رَدَّدْتُهُ تَفَلَّتَ وَأَنَا الْيَوْمَ أَسْمَعُ الْأَحَادِيثَ فَإِذَا تَحَدَّثْتُ بِهَا لَمْ أَخْرِمْ مِنْهَا حَرْفًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:‏‏‏‏ مُؤْمِنٌ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ يَا أَبَا الْحَسَنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ.
`Ikrimah, the freed slave of Ibn `Abbas, narrated that: Ibn `Abbas said: “We were with the Messenger of Allah (ﷺ) when `Ali bin Abi Talib came to him, and he said: ‘May my father and mother be ransomed for you! This Qur’an has suddenly left my heart, and I do not find myself capable of it.’ So the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: ‘O Abul-Hasan! Should I not teach you words that Allah shall benefit you with, and benefit whomever you teach, and they will make whatever you have learned in your chest firm?’ He said: ‘Of course, O Messenger of Allah (ﷺ), so teach me.’ He (ﷺ) said: ‘When it is the night of (before) Friday, then if you are able to stand in the last third of the night, then verily it is a witnessed hour, and supplication is answered in it. And my brother Ya`qub (as) did say to his sons: I shall seek forgiveness for you from my Lord. He said: “Until the night of Friday comes.” So if you are not able, then stand in the middle of it, and if you are not able then stand in the first of it. And pray four Rak`ah. Recite Fatihatul-Kitab (the Opening of the Book) and Surat Ya-Sin in the first Rak`ah, and Fatihatul-Kitab and Ha-Mim Ad-Dukhan in the second Rak`ah, and Fatihatul-Kitab and Alif Lam Mim Tanzil As-Sajdah in the third Rak`ah, and Fatihatul-Kitab and Tabarak Al-Mufassal in the fourth Rak`ah. So when you have finished with the Tasha-hud, then praise Allah and mention Allah’s greatness in an excellent manner, and send Salat upon me - and be excellent in it - and upon the rest of the Prophets. And seek forgiveness for the believing men and the believing women, and for your brothers who have preceded you in faith. Then say in the end of that: “O Allah, have mercy on me by abandonment of sins forever, so long as You keep me remaining. And have mercy on me from taking upon myself what does not concern me, and provide me good sight for what will make You pleased with me. O Allah, Originator of the heavens and the earth, Possessor of glory, and generosity, and honor that is not exceeded. I ask you, O Allah, O Rahman, by Your glory and the light of Your Face, to make my heart constant in remembering Your Book as You taught me, and grant me that I recite it in the manner that will make You pleased with me. O Allah, Originator of the heavens and the earth, Possessor of glory, and generosity, and honor that is not exceeded. I ask you, O Allah, O Rahman, by Your glory and the light of Your Face, to enlighten my sight with Your Book, and make my tongue free with it, and to relieve my heart with it, and to expand my chest with it, and to wash my body with it. For indeed, none aids me upon the truth other than You, and none gives it except You, and there is no might or power except by Allah, the High, the Magnificent. (Allāhummarḥamnī bitarkil-ma`āṣī abadan mā abqaitanī, warḥamnī an atakallafa mā lā ya`nīnī, warzuqnī ḥusnan-naẓari fī mā yurḍīka `annī. Allāhumma badī`as-samāwāti wal-arḍi dhal-jalāli wal-ikrāmi wal-`izzatil-latī lā turāmu, as’aluka yā Allāhu yā Raḥmānu bi-jalālika wa nūri wajhika, an tulzima qalbī ḥifẓa kitābika kamā `allamtanī, warzuqnī an atluwahū `alan-naḥwil-ladhī yurḍīka `annī. Allāhumma badī`as-samāwāti wal arḍi dhal-jalāli wal-ikrāmi wal `izzati-llatī lā turāmu, as’aluka yā Allāhu, yā Raḥmānu bi-jalālika wa nūri wajhika, an tunawwira bi-kitābika baṣarī, wa an tuṭliqa bihī lisānī, wa an tufarrija bihī `an qalbī, wa an tashraḥa bihī ṣadrī, wa an taghsila bihī badanī, fa innahu lā yu`īnunī `alal-ḥaqqi ghairuka wa lā yu’tīhi illā anta wa lā ḥawla wa lā quwwata illā billāhil-`Aliyyil-`Aẓīm).” O Abul-Hasan! So do this three Fridays, or five, or seven, you will be answered - by the will of Allah - by the One Who sent me with the Truth, it has not failed a believer once.’” `Abdullah bin `Abbas said: “So, by Allah, `Ali did not wait but five or seven until [`Ali] came to the Messenger of Allah (ﷺ) in a gathering similar to that and said: ‘O Messenger of Allah (ﷺ), indeed I was [a man] in the time that passed, who used to not take except four Ayat or about that much, so when I would recite them to myself they would suddenly depart from me, and today I learn forty Ayat or about that much, and when I recite them to myself, then it is as if the Book of Allah is before my eyes. I used to hear a Hadith and when I would repeat it, it would suddenly depart from me, and today I hear Ahadith, and when I report them, I do not err in a single letter.’ So the Messenger of Allah (ﷺ) said at that point: ‘A believer, by the Lord of the Ka`bah, O Abul-Hasan.’”
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اسی دوران علی رضی الله عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آ کر عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ قرآن تو میرے سینے سے نکلتا جا رہا ہے، میں اسے محفوظ نہیں رکھ پا رہا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوالحسن! کیا میں تمہیں ایسے کلمے نہ سکھا دوں کہ جن کے ذریعہ اللہ تمہیں بھی فائدہ دے اور انہیں بھی فائدہ پہنچے جنہیں تم یہ کلمے سکھاؤ؟ اور جو تم سیکھو وہ تمہارے سینے میں محفوظ رہے“، انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں ضرور سکھائیے، آپ نے فرمایا: ”جب جمعہ کی رات ہو اور رات کے آخری تہائی حصے میں تم کھڑے ہو سکتے ہو تو اٹھ کر اس وقت عبادت کرو کیونکہ رات کے تیسرے پہر کا وقت ایسا وقت ہوتا ہے جس میں فرشتے بھی موجود ہوتے ہیں، اور دعا اس وقت مقبول ہوتی ہے، میرے بھائی یعقوب علیہ السلام نے بھی اپنے بیٹوں سے کہا تھا: «سوف أستغفر لكم ربي» یعنی میں تمہارے لیے اپنے رب سے مغفرت طلب کروں گا، آنے والی جمعہ کی رات میں، اگر نہ اٹھ سکو تو درمیان پہر میں اٹھ جاؤ، اور اگر درمیانی حصے ( پہر ) میں نہ اٹھ سکو تو پہلے پہر ہی میں اٹھ جاؤ اور چار رکعت نماز پڑھو، پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ اور سورۃ یٰسین پڑھو، دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ اور حم دخان اور تیسری رکعت میں سورۃ فاتحہ اور الم تنزیل السجدہ اور چوتھی رکعت میں سورۃ فاتحہ اور تبارک ( مفصل ) پڑھو، پھر جب تشہد سے فارغ ہو جاؤ تو اللہ کی حمد بیان کرو اور اچھے ڈھنگ سے اللہ کی ثناء بیان کرو، اور مجھ پر صلاۃ ( درود ) بھیجو، اور اچھے ڈھنگ سے بھیجو اور سارے نبیوں صلاۃ پر ( درود ) بھیجو اور مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کے لیے مغفرت طلب کرو، اور ان مومن بھائیوں کے لیے بھی مغفرت کی دعا کرو، جو تم سے پہلے اس دنیا سے جا چکے ہیں، پھر یہ سب کر چکنے کے بعد یہ دعا پڑھو: «اللهم ارحمني بترك المعاصي أبدا ما أبقيتني وارحمني أن أتكلف ما لا يعنيني وارزقني حسن النظر فيما يرضيك عني اللهم بديع السموات والأرض ذا الجلال والإكرام والعزة التي لا ترام أسألك يا ألله يا رحمن بجلالك ونور وجهك أن تلزم قلبي حفظ كتابك كما علمتني وارزقني أن أتلوه على النحو الذي يرضيك عني اللهم بديع السموات والأرض ذا الجلال والإكرام والعزة التي لا ترام أسألك يا ألله يا رحمن بجلالك ونور وجهك أن تنور بكتابك بصري وأن تطلق به لساني وأن تفرج به عن قلبي وأن تشرح به صدري وأن تغسل به بدني فإنه لا يعينني على الحق غيرك ولا يؤتيه إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» ”اے اللہ! مجھ پر رحم فرما اس طرح کہ جب تک تو مجھے زندہ رکھ میں ہمیشہ گناہ چھوڑے رکھوں، اے اللہ! تو مجھ پر رحم فرما اس طرح کہ میں لا یعنی چیزوں میں نہ پڑوں، جو چیزیں تیری رضا و خوشنودی کی ہیں انہیں پہچاننے کے لیے مجھے حسن نظر ( اچھی نظر ) دے، اے اللہ! آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے، ذوالجلال ( رعب و داب والے ) اکرام ( عزت و بزرگی والے ) ایسی عزت و مرتبت والے کہ جس عزت کو حاصل کرنے و پانے کا کوئی قصد و ارادہ ہی نہ کر سکے، اے اللہ! اے بڑی رحمت والے میں تیرے جلال اور تیرے تابناک و منور چہرے کے وسیلہ سے تجھ سے مانگتا ہوں کہ تو میرے دل کو اپنی کتاب ( قرآن پاک ) کے حفظ کے ساتھ جوڑ دے، جیسے تو نے مجھے قرآن سکھایا ہے ویسے ہی میں اسے یاد و محفوظ رکھ سکوں، اور تو مجھے اس بات کی توفیق دے کہ میں اس کتاب کو اسی طریقے اور اسی ڈھنگ سے پڑھوں جو تجھے مجھ سے راضی و خوش کر دے، اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ( جاہ ) و جلال اور بزرگی والے اور ایسی عزت والے جس عزت کا کوئی ارادہ ( تمنا اور خواہش ) ہی نہ کر سکے، اے اللہ! اے رحمن تیرے جلال اور تیرے چہرے کے نور کے وسیلہ سے تجھ سے مانگتا ہوں کہ تو اپنی کتاب کے ذریعہ میری نگاہ کو منور کر دے ( مجھے کتاب الٰہی کی معرفت حاصل ہو جائے، اور میری زبان بھی اسی کے مطابق چلے، اور اسی کے ذریعہ میرے دل کا غم دور کر دے، اور اس کے ذریعہ میرا سینہ کھول دے ( میں ہر اچھی و بھلی بات کو سمجھنے لگوں ) اور اس کے ذریعہ میرے بدن کو دھو دے ( میں پاک و صاف رہنے لگوں ) کیونکہ میرے حق پر چلنے کے لیے تیرے سوا کوئی اور میری مدد نہیں کر سکتا، اور نہ ہی کوئی تیرے سوا مجھے حق دے سکتا ہے اور اللہ جو برتر اور عظیم ہے اس کے سوا برائیوں سے پلٹنے اور نیکیوں کو انجام دینے کی توفیق کسی اور سے نہیں مل سکتی“۔ اے ابوالحسن! ایسا ہی کرو، تین جمعہ، پانچ جمعہ یا سات جمعہ تک، اللہ کے حکم سے دعا قبول کر لی جائے گی، اور قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے، اس کو پڑھ کر کوئی مومن کبھی محروم نہ رہے گا، عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: قسم اللہ کی! علی رضی الله عنہ پانچ یا سات جمعہ ٹھہرے ہوں گے کہ وہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ایسی ہی مجلس میں حاضر ہوئے اور آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس سے پہلے چار آیتیں یا ان جیسی دو ایک آیتیں کم و بیش یاد کر پاتا تھا، اور جب انہیں دل میں آپ ہی آپ دہراتا تھا تو وہ بھول جاتی تھیں، اور اب یہ حال ہے کہ میں چالیس آیتیں سیکھتا ہوں یا چالیس سے دو چار کم و بیش، پھر جب میں انہیں اپنے آپ دہراتا ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے تو ان کتاب اللہ میری آنکھوں کے سامنے کھلی ہوئی رکھی ہے ( اور میں روانی سے پڑھتا چلا جاتا ہوں ) اور ایسے ہی میں اس سے پہلے حدیث سنا کرتا تھا، پھر جب میں اسے دہراتا تو وہ دماغ سے نکل جاتی تھی، لیکن آج میرا حال یہ ہے کہ میں حدیثیں سنتا ہوں پھر جب میں انہیں بیان کرتا ہوں تو ان میں سے ایک حرف بھی کم نہیں کرتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر ارشاد فرمایا: ”قسم ہے رب کعبہ کی! اے ابوالحسن تم مومن ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ولید بن مسلم کی روایت سے جانتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
3606
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى كِنَانَةَ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏وَاصْطَفَى قُرَيْشًا مِنْ كِنَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَاصْطَفَى هَاشِمًا مِنْ قُرَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
Narrated Wathilah bin Al-Asqa': that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed, Allah chose Kinanah from the children of Isma'il, and He chose Quraish from Kinanah, and He chose Hashim from Quraish, and He chose me from Banu Hashim.
واثلہ بن اسقع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے کنانہ کا انتخاب فرمایا اور کنانہ سے قریش کا اور قریش میں سے ہاشم کا اور بنی ہاشم میں سے میرا انتخاب فرمایا ”۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Sunnan Abu Dawood
1160
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ. ح حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ الْفَرَوِيِّينَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمَّاهُ الرَّبِيعُ فِي حَدِيثِهِ عِيسَى بْنَ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ أَبَا يَحْيَى عُبَيْدَ اللَّهِ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ أَصَابَهُمْ مَطَرٌ فِي يَوْمِ عِيدٍ فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِيدِ فِي الْمَسْجِدِ .
Narrated Abu Hurairah: The rain fell on the day of Eid (festival), so the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم led them (the people) in the Eid prayer in the mosque.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ( ایک بار ) عید کے دن بارش ہونے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عید کی نماز مسجد میں پڑھائی۔
Sunnan Abu Dawood
1518
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُصْعَبٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ، ‏‏‏‏‏‏جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، ‏‏‏‏‏‏وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ .
Narrated Abdullah ibn Abbas: The Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said: If anyone continually asks pardon, Allah will appoint for him a way out of every distress, and a relief from every anxiety, and will provide for him from where he did not reckon.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی استغفار کا التزام کر لے ۱؎ تو اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے اور ہر رنج سے نجات پانے کی راہ ہموار کر دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا ۔
Sunnan Ibn e Maja
221
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ الْخَيْرُ عَادَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّرُّ لَجَاجَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ .
It was narrated that Yunus bin Maisarah bin Halbas said: I heard Mu'awiyah bin Abu Sufyan narrating that the Messenger of Allah said: Goodness is a (natural) habit while evil is a stubbornness (constant prodding from Satan). When Allah wills good for a person, He causes him to understand the religion.'
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر ( بھلائی ) انسان کی فطری عادت ہے، اور شر ( برائی ) نفس کی خصومت ہے، اللہ تعالیٰ جس کی بھلائی چاہتا ہے اسے دین میں بصیرت و تفقہ عطاء کرتا ہے ۱؎۔