It was narrated from Abu Hurairah that :
the Messenger of Allah (saas) said to a man: What do you say during your prayer? He said: I recite the Tashah-hud then I ask for Allah for Paradise and see refuge with Him from Hell, but by Allah I do not understand your whispering or the whispering of Mu'adh. He said: It is concerning them (Paradise and Hell) that we are whispering.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا: تم نماز میں کیا کہتے ہو ؟ اس نے کہا: میں تشہد ( التحیات ) پڑھتا ہوں، پھر اللہ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے اس کی پناہ مانگتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم میں آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ اچھی طرح سمجھ نہیں پاتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی تقریباً ویسے ہی گنگناتے ہیں ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۳۶۳، ومصباح الزجاجة:۱۳۴۷)
Explanation
یعنی آپ ﷺ کی اور معاذ رضی اللہ عنہ کی گنگناہٹ میں نہیں سمجھتا آواز تو سنتا ہوں لیکن معلوم نہیں ہوتا کہ آپ اور معاذ رضی اللہ عنہ کیا دعا مانگتے ہیں۔ ۲؎: یعنی مقصود ہماری دعاؤں کا بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ جنت نصیب کرے اور جہنم سے بچائے۔ آمین۔
It was narrated that Anas bin Malik said:
A man come to the Prophet (saas) and said: 'O Messenger of Allah, what supplication is best?' He said: 'Ask your Lord for forgiveness and to be kept safe and sound in this world and in the Hereafter.' Then (the man) came the next day and said: 'O Messenger of Allah, what supplication is best?' He said: 'Ask your Lord for forgiveness and to be kept safe and sound in this world and in the Hereafter.' Then (the man) came the third day and said: 'O Prophet of Allah, what supplication is best?' He said: 'Ask your Lord for forgiveness and to be kept safe and sound in this world and in the Hereafter, for if you are forgiven and kept safe and sound in this world and the Hereafter, you will have succeeded.'
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ سے دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو ، پھر وہ شخص دوسرے دن حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو ، پھر وہ تیسرے دن بھی حاضر خدمت ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے نبی! کون سی دعا سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو و عافیت کا سوال کیا کرو، کیونکہ جب تمہیں دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت عطا ہو گئی تو تم کامیاب ہو گئے ۱؎۔
Takhreej
«سنن الترمذی/الدعوات ۸۵ (۳۵۱۲)،(تحفة الأشراف:۸۶۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۲۷)
Explanation
بیشک عافیت میں عام بلاؤں، بیماریوں اور تکالیف سے حفاظت ہو گی، اور معافی میں گناہوں کی بخشش، اب اور کیا چاہتے ہو، یہ دو لفظ ہزاروں لفظوں کو شامل ہیں۔
It was narrated from Awsat (bin Isma'il) Al-Bajali that :
he heard Abu Bakr, when the Prophet (saas) had passed away, saying: The Messenger of Allah (saas) stood in this place where I am standing, last year. Then Abu Bakr wept, then he said: You must adhere to the truth, for with it comes righteousness and they both lead to Paradise. And you must beware of lying for with it comes immorality, and they both lead to Hell. Ask Allah for Al-Mu'afah, for no one is given anything after certainty that is better than Mu'afah. Do not envy one another, do not hate one another, do not sever ties with one another, do not turn your backs on one another and be, O slaves of Allah, brothers.
1 اوسط بن اسماعیل بجلی سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، تو انہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ پچھلے سال میری اس جگہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے لیے سچائی کو لازم کر لو کیونکہ سچائی نیکی کی ساتھی ہے، اور یہ دونوں جنت میں ہوں گی، اور تم جھوٹ سے پرہیز کرو کیونکہ جھوٹ برائی کا ساتھی ہے، اور یہ دونوں جہنم میں ہوں گی، اور تم اللہ تعالیٰ سے تندرستی اور عافیت طلب کرو کیونکہ ایمان و یقین کے بعد صحت و تندرستی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے، تم آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض نہ کرو، قطع رحمی اور ترک تعلقات سے بچو، اور ایک دوسرے سے منہ موڑ کر پیٹھ نہ پھیرو بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۶۵۸۶، ومصباح الزجاجة:۱۳۴۸)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات ۱۰۶ (۳۵۵۸)، مسند احمد (۱/۳،۵،۷،۸)
Explanation
یعنی تمام مسلمانوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آؤ، اور کسی مسلمان کو مت ستاؤ
It was narrated from 'Aishah that she said:
O Messenger of Allah, what do you think I should say in my supplication, if I come upon Laylatul-Qadr? He said: Say: 'Allahumma innaka 'afuwwun tuhibbul-'afwa, fa'fu 'anni (O Allah, You are Forgiving and love forgiveness, so forgive me).'
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر مجھے شب قدر مل جائے تو کیا دعا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دعا کرو «اللهم إنك عفو تحب العفو فاعف عني» اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے اور معافی و درگزر کو پسند کرتا ہے تو تو مجھ کو معاف فرما دے ۔
Takhreej
سنن الترمذی/الدعوات ۸۵ (۳۵۱۳)،(تحفة الأشراف:۱۶۱۸۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۱۷۱،۱۸۲،۱۸۳،۲۰۸)
It was narrated that Abu Hurairah said:
The Messenger of Allah (saas) said: 'There is no supplication that a person can say that is better than: Allahumma inni as'aluka al-mu'afah fid-dunya wal-akhirah (O Allah, I ask You for Al-Mu'afah in this world and in the Hereafter).'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ جو بھی دعا مانگتا ہے وہ اس دعا سے زیادہ بہتر نہیں ہو سکتی: ( وہ دعا یہ ہے ) «اللهم إني أسألك المعافاة في الدنيا والآخرة» اے اللہ میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت چاہتا ہوں ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۴۲۸۲، ومصباح الزجاجة:۱۳۴۹)
It was narrated from Ibn 'Abbas that :
the Messenger of Allah (saas) said: May Allah have mercy on us and on our brother of 'Ad. (i.e., Prophet Hud alay-salaam).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ہم پر اور عاد کے بھائی ( ہود علیہ السلام ) پر رحم فرمائے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۵۵۹۲، ومصباح الزجاجة:۱۳۵۰)
Explanation
ہود علیہ السلام قوم عاد کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے تھے۔
It was narrated from Abu Hurairah that :
the Messenger of Allah (saas) said: It is necessary that you do not become hasty. It was said: What does being hasty mean, O Messenger of Allah? He said: When one says: 'I supplicated to Allah but Allah did not answer me.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ جلدی نہ کرے ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! جلدی کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ یوں کہتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی لیکن اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول نہ کی ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الدعوات ۲۲ (۶۳۴۰)، صحیح مسلم/الذکروالدعاء ۲۵ (۲۷۳۵)، سنن ابی داود/الصلاة ۳۵۸ (۱۴۸۴)، سنن الترمذی/الدعوات ۱۲ (۳۳۸۷)،(تحفة الأشراف:۲۹۲۹)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ۸ (۲۹)، مسند احمد (۲/۳۹۶،۴۸۷)
Explanation
ایسا کہنا مالک کی جناب میں بے ادبی ہے، اور مالک کا اختیار ہے جب وہ مناسب سمجھتا ہے اس وقت دعا قبول کرتا ہے، کبھی جلدی، کبھی دیر میں اور کبھی دنیا میں قبول نہیں کرتا، جب بندے کا فائدہ دعا قبول نہ ہونے میں ہوتا ہے تو آخرت کے لئے اس دعا کو اٹھا رکھتا ہے، غرض مالک کی حکمتیں اور اس کے بھید زیادہ وہی جانتا ہے، اور کسی حال میں بندے کو اپنے مالک سے مایوس نہ ہونا چاہئے، کیونکہ سوا اس کے در کے اور کونسا در ہے؟ اور وہ اپنے بندوں پر ماں باپ سے زیادہ رحیم وکریم ہے، پس بہتر یہی ہے کہ بندہ سب کام اللہ کی رضا پر چھوڑ دے اور ظاہر میں شرعی احکام کے مطابق دعا کرتا رہے، لیکن اگر دعا قبول نہ ہو تو بھی دل خوش رہے، اور یہ سمجھے کہ اس میں ضرور کوئی حکمت ہو گی، اور ہمارا کچھ فائدہ ہو گا۔
It was narrated from Abu Hurairah that the :
Messenger of Allah (saas) said: No one among you should say: O Allah, forgive me if You will.' Let him be definite in his asking, and no one can compel Allah.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے یقینی طور پر سوال کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی زور زبردستی کرنے والا نہیں ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۳۸۷۲)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التوحید ۳۱ (۷۴۷۷)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ۳ (۲۶۷۹)، سنن ابی داود/الصلاة ۳۵۸ (۱۴۸۳)، سنن الترمذی/الدعوات ۷۸ (۳۴۹۷)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ۸ (۲۸)، مسند احمد (۲/۲۴۳،۴۵۷،۴۸۶)
It was narrated from Asma' bint Yazid that :
the Messenger of Allah (saas) said: The Greatest Name of Allah is in these two Verses: And your Ilah (God) is One Ilah (God - Allah), La Ilaha Illa Huwa (none has the right to be worshipped but He), the Most Gracious, the Most Merciful.' And at the beginning of Surah Al 'Imran.
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دو آیات میں ہے «وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ بہت رحم کرنے والا اور بڑا مہربان ہے ( سورۃ البقرہ: ۱۶۳ ) اور سورۃ آل عمران کے شروع میں: «الم الله لا إله إلا هو الحي القيوم» «الم»، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو حی و قیوم ( زندہ اور سب کا نگہبان ) ہے ۔ ( سورۃ آل عمران: ۱-۲ ) ۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الصلاة ۳۵۸ (۱۴۹۶)، سنن الترمذی/الدعوات ۶۵ (۳۴۷۸)،(تحفة الأشراف:۱۵۷۶۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۴۶۱)، سنن الدارمی/فضائل القرآن ۱۴ (۳۴۳۲)
It was narrated that Al-Qasim said:
The Greatest Name of Allah, if He is called by which He will respond, is in three Surah: Al-Baqarah, Al 'Imran and Ta-Ha. (Hasan)Another chain for something similar from Al-Qasim, from Abu Umamah, from the Prophet (saas).
قاسم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم جس کے ذریعہ اگر دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے تین سورتوں میں ہے: سورۃ البقرہ، سورۃ آل عمران اور سورۃ طہٰ ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۹۲۱، ومصباح الزجاجة:۱۳۵۱)
Explanation
سورۃ بقرہ اور سورۃ آل عمران میں بھی یہی ہے: «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» (سورة آل عمران: 2) اور سورۃ طہ میں ہے: «الله لا إله إلا هو له الأسماء الحسنى» (سورة طہ: 8) بعضوں نے کہا: «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» یہی اسم اعظم ہے، بعضوں نے کہا صرف«الحي القيوم» ہے۔
It was narrated from 'Abdullah bin Buraidah that his father said:
The Prophet (saas) heard a man say: 'Allahumma! Inni as'aluka bi-annaka Antallahul-Ahadus-Samad, alladhi lam yalid wa lam yuwlud, wa lam yakun lahu kufuwan ahad (O Allah! I ask You by virtue of Your being Allah, the One, the Self-Sufficient Master, Who begets not nor was begotten, and there is none co-equal or comparable to Him).' The Messenger of Allah (saas) said: 'He has asked Allah by His Greatest Name, which if He is asked thereby He gives, and if He is called upon thereby He answers.'
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا: «اللهم إني أسألك بأنك أنت الله الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تو ہی اکیلا اللہ ہے، بے نیاز ہے، جس نے نہ جنا اور نہ وہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے جس کے ذریعہ اگر سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے، اور دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے ۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الصلاة ۳۵۸ (۱۴۹۳،۱۴۹۴)، سنن الترمذی/الدعوات ۶۴ (۳۴۷۵)،(تحفة الأشراف:۱۹۹۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (0.635۵/۳۴۹،۳۵۰،۳۶۰)
It was narrated that Anas bin Malik said:
The Prophet (saas) heard a man say: 'Allahumma! Inni as'aluka bi-anna lakal-hamd. La ilaha illa Anta, wahdaka la sharika laka. Al-Mannan. Badi'us-samawati wal-ard. Dhul-jalali wal-ikram (O Allah! I ask You by virtue of the fact that all praise is due to You; none has the right to be worshiped but You alone, and You have no partner or associate, the Bestower, the Originator of the heavens and the earth, the Possessor of majesty and honor.' He (saas) said: 'He has asked Allah by His Greatest Name which, if He is asked thereby He gives and if He is called upon thereby He answers.'
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ دعا کرتے سنا، «اللهم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك المنان بديع السموات والأرض ذو الجلال والإكرام» اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ تیرے ہی لیے حمد ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، تو بہت احسان کرنے والا ہے، آسمانوں اور زمین کو بغیر مثال کے پیدا کرنے والا ہے، جلال اور عظمت والا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ سوال کیا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ سوال کیا جائے تو وہ عطا کرتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ دعا مانگی جائے تو وہ قبول کرتا ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۲۳۸، ومصباح الزجاجة:۱۳۵۳)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوت ۱۱۰ (۳۵۴۴)، سنن ابی داود/الصلاة ۳۵۸ (۱۴۹۵)، سنن النسائی/السہو ۵۸ (۱۳۰۱)، مسند احمد (۳/۱۲۰،۱۵۸،۲۴۵)
It was narrated that 'Aishah said:
I heard the Messenger of Allah (saas) say: 'Allahumma! Inni asa'luka bismikat-tahirit-tayyibil-mubarak al-ahabbi ilaika, alladhi idha du'ita bihi ajabta, wa idha su'ilta bihi a'taita, wa idhasturhimta bihi rahimta, wa idhastufrijta bihi farrajta (O Allah! I ask You by Your pure, good and blessed Name which is most beloved by You, which if You are called thereby You answer, and if You as asked thereby You give, if You are asked for mercy thereby You bestow mercy, and if You are asked for relief (from distress) thereby You grant relief.' She said: He said one day: 'O 'Aishah, do you know that Allah has told me the Name which, if He is called thereby, He responds?' I said: 'O Messenger of Allah, may my father and mother be ransomed for you! Teach it to me.' He said: 'You should not learn it, O 'Aishah.' So I moved aside and sat for a while, then I got up and kissed his head, then I said: 'O Messenger of Allah, teach it to me.' He said: 'You should not learn it, O 'Aishah, and I should not teach it to you, for you should not ask for any worldly things thereby.' She said: So I got up and performed ablution, then I prayed two Rak'ah, then I said: 'O Allah, I call upon Allah, and I call upon You, Ar-Rahman (the Most Gracious), and I call upon You, Al-Barr Ar-Rahim (The Most Kind, the Most Merciful), and I call upon You by all Your beautiful Names, those that I know and those that I do not know, (asking) that You forgive me and have mercy on me.' The Messenger of Allah (saas) smiled, then he said: 'It is among the names by which you called upon (Allah).'
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے: «اللهم إني أسألك باسمك الطاهر الطيب المبارك الأحب إليك الذي إذا دعيت به أجبت وإذا سئلت به أعطيت وإذا استرحمت به رحمت وإذا استفرجت به فرجت» اے اللہ! میں تجھ سے تیرے اس پاکیزہ، مبارک اچھے نام کے واسطہ سے دعا کرتا ہوں جو تجھے زیادہ پسند ہے کہ جب اس کے ذریعہ تجھ سے دعا کی جاتی ہے، تو تو قبول فرماتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ تجھ سے سوال کیا جاتا ہے تو تو عطا کرتا ہے، اور جب اس کے ذریعہ تجھ سے رحم طلب کی جائے تو تو رحم فرماتا ہے، اور جب مصیبت کو دور کرنے کی دعا کی جاتی ہے تو مصیبت اور تنگی کو دور کرتا ہے ، اور ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! کیا تم جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا وہ نام بتایا ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی جائے تو وہ اسے قبول کرے گا ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بھی وہ نام بتا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! یہ تمہارے لیے مناسب نہیں ، میں یہ سن کر علیحدہ ہو گئی اور کچھ دیر خاموش بیٹھی رہی، پھر میں نے اٹھ کر آپ کے سر مبارک کو چوما، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! تمہارے لیے مناسب نہیں کہ میں تمہیں بتاؤں، اور تمہارے لیے اس اسم اعظم کے واسطہ سے دنیا کی کوئی چیز طلب کرنی مناسب نہیں، یہ سن کر میں اٹھی، وضو کیا، پھر میں نے دو رکعت نماز پڑھی، اس کے بعد میں نے یہ دعا مانگی: «اللهم إني أدعوك الله وأدعوك الرحمن وأدعوك البر الرحيم وأدعوك بأسمائك الحسنى كلها ما علمت منها وما لم أعلم أن تغفر لي وترحمني» اے اللہ! میں تجھ اللہ سے دعا کرتی ہوں، میں تجھ رحمن سے دعا کرتی ہوں، اور میں تجھ محسن و مہربان سے دعا کرتی ہوں اور میں تجھ سے تیرے تمام اسماء حسنیٰ سے دعا کرتی ہوں، جو مجھے معلوم ہوں یا نہ معلوم ہوں، یہ کہ تو مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما ، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور فرمایا: اسم اعظم انہی اسماء میں ہے جس کے ذریعہ تم نے دعا مانگی ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۶۲۷۲، ومصباح الزجاجة:۱۳۵۴)
It was narrated from Abu Hurairah that :
the Messenger of Allah (saas) said: Allah has ninety-nine Names, one hundred less one. Whoever counts them will enter Paradise.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں ایک کم سو، جو انہیں یاد ( حفظ ) کرے ۱؎ تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۵۰۶۷)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشروط ۱۸ (۲۷۳۶)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ۲ (۲۶۷۷)، سنن الترمذی/الدعوات ۸۳ (۳۵۰۶)، مسند احمد (۲/۴۵۸،۴۹۹،۵۰۳)
Explanation
یعنی ان ناموں کی پوری پوری معرفت حاصل ہو، اور ان میں پائے جانے والے معانی و مفاہیم کے جو تقاضے ہیں ان کے مطابق زندگی گزارے، تو ان شاء اللہ وہ جنت کا مستحق ہو گا۔
It was narrated from Abu Hurairah that :
the Messenger of Allah (saas) said: Allah has ninety-nine names, one hundred less one, for He is One and loves the odd (numbered). Whoever learns them will enter Paradise. They are: Allah, Al-Wahid (the One), As-Samad (the Self-Sufficient Master who all creatures need, He neither eats nor drinks), Al-Awwal (the First), Al-Akhir (the Last), Az-Zahir (the Most High), Al-Batin (the Most Near), Al-Khaliq (the Creator), Al-Bari (the Inventor of all things), Al-Musawwir (the Bestower of forms), Al-Malik (the King), Al-Haqq (the Truth), As-Salam (the One free from all defects), Al-Mu'min (the Giver of security), Al-Muhaymin (the Watcher over His creatures), Al-'Aziz (the All-Mighty), Al-Jabbar (the Compeller), Al-Mutakabbir (the Supreme), Ar-Rahman (the Most Gracious), Ar-Rahim (the Most Merciful), Al-Latif (the Most Subtle and Courteous), Al-Khabir (the Aware), As-Sami' (the Hearing), Al-Basir (the Seeing), Al-'Alim (the All-Knowing), Al-'Azim (the Most Great), Al-Barr (the Source of goodness), Al-Muta'al (the Most Exalted), Al-Jalil (the Sublime One), Al-Jamil (the Beautiful), Al-Hayy (the Ever-Living), Al-Qayyum (the One Who sustains and protects all that exists), Al-Qadir (the Able), Al-Qahir (the Irrestible), Al-'Ali (the Exalted), Al-Hakim (the Most Wise), Al-Qarib (the Ever-Near), Al-Mujib (the Responsive), Al-Ghani (the Self-Sufficient), Al-Wahhab (the Bestower), Al-Wadud (the Loving), Ash-Shakur (the Appreciative), Al-Majid (the Most Gentle), Al-Wajid (the Patron), Al-Wali (the Governor), Al-Rashid (the Guide), Al-'Afuw (the Pardoner), Al-Ghafur (the Forgiver), Al-Halim (the Forbearing One), Al-Karim (the Most Generous), At-Tawwab (the Acceptor of Repentance), Ar-Rabb (the Lord and Cherisher), Al-Majid (the Most Glorious), Al-Wali (the Helper), Ash-Shahid (the Witness), Al-Mubin (the Manifest), Al-Burhan (the Proof), Ar-Ra'uf (the Compassionate), Ar-Rahim (the Most Merciful), Al-Mubdi' (the Originator), Al-Mu'id (the Restorer), Al-Ba'ith (the Resurrector), Al-Warith (the Supreme Inheritor), Al-Qawi (the All-Strong), Ash-Shadid (the Severe), Ad-Darr (the One Who harms), An-Nafi' (the One Who benefits), Al-Baqi' (the Everlasting), Al-Waqi (the Protector), Al-Khafid (the Humble), Ar-Rafi' (the Exalter), Al-Qabid (the Retainer), Al-Basit (the Expander), Al-Mu'izz (the Honorer), Al-Mudhill (the Humiliator), Al-Muqsit (the Equitable), Ar-Razzaq (the Providor), Dhul-Quwwah (the Powerful), Al-Matin (the Most Strong), Al-Qa'im (the Firm), Ad-Da'im (the Eternal), Al-Hafiz (the Guardian), Al-Wakil (the Trustee), Al-Fatir (the Originator of creation), As-Sami' (the Hearer), Al-Mu'ti (the Giver), Al-Muhyi (the Giver of life), Al-Mumit (the Giver of death), Al-Mani' (the Withholder), Al-Jami' (the Gatherer), Al-Hadi (the Guide), Al-Kafi (the Sufficient), Al-Abad (the Eternal), Al-'Alim (the Knower), As-Sadiq (the Truthful), An-Nur (the Light), Al-Munir (the Giver of light), At-Tamm (the Perfect), Al-Qadim (the Earlier), Al-Witr (the One), Al-Ahad (the Lone), As-Samad [(the Self-sufficient Master, Who all creatures need, (He neither eats no drinks)]. He begets not, nor was He begotten. And there is none co-equal or comparable unto him. (One of the narrators) Zuhair said: We heard from more than one of the scholars that the first of these (names) should begin after saying: La ilaha illallahu wahdahu la sharika lahu, lahul-mulku wa lahul-hamdu, bi yadihil-khair wa Huwa 'ala kulli shay-in Qadir, la ilaha illallahu lahul-asma'ul-husna [None has the right to be worshipped but Allah, with no partner or associate. His is the dominion and all praise is His. In His Hand is (all) goodness, and He is Able to do all things, none has the right to be worshipped but Allah, and His are the (Most) Beautiful Names].
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ایک کم سو، چونکہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اس لیے طاق کو پسند کرتا ہے جو انہیں یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا، اور وہ ننانوے نام یہ ہیں: «الله» اسم ذات سب ناموں سے اشرف اور اعلیٰ ، «الواحد» اکیلا، ایکتا ، «الصمد» بے نیاز ، «الأول» پہلا ، «الآخر» پچھلا ، «الظاهر» ظاہر ، «الباطن» باطن ، «الخالق» پیدا کرنے والا ، «البارئ» بنانے والا ، «المصور» صورت بنانے والا ، «الملك» بادشاہ ، «الحق» سچا ، «السلام» سلامتی دینے والا ، «المؤمن» یقین والا ، «المهيمن» نگہبان ، «العزيز» غالب ، «الجبار» تسلط والا ، «المتكبر» بڑائی والا ، «الرحمن» بہت رحم کرنے والا ،«الرحيم» مہربان ، «اللطيف» بندوں پر شفقت کرنے والا ، «الخبير» خبر رکھنے والا ، «السميع» سننے والا ، «البصير» دیکھنے والا ،«العليم» جاننے والا ، «العظيم» بزرگی والا ، «البار» بھلائی والا ، «المتعال» برتر ، «الجليل» بزرگ ، «الجميل» خوبصورت ،«الحي» زندہ ، «القيوم» قائم رہنے اور قائم رکھنے والا ، «القادر» قدرت والا ، «القاهر» قہر والا ، «العلي» اونچا ، «الحكيم» حکمت والا ، «القريب» نزدیک ، «المجيب» قبول کرنے والا ، «الغني» تونگر بے نیاز ، «الوهاب» بہت دینے والا ، «الودود» بہت چاہنے والا ، «الشكور» قدر کرنے والا ، «الماجد» بزرگی والا ، «الواجد» پانے والا ، «الوالي» مالک مختار، حکومت کرنے والا ، «الراشد» خیر والا ، «العفو» بہت معاف کرنے والا ، «الغفور» بہت بخشنے والا ، «الحليم» بردبار ، «الكريم» کرم والا ، «التواب» توبہ قبول کرنے والا ، «الرب» پالنے والا ، «المجيد» بزرگی والا ، «الولي» مددگار و محافظ ، «الشهيد» نگراں، حاضر ، «المبين» ظاہر کرنے والا ،«البرهان» دلیل ، «الرءوف» شفقت والا ، «الرحيم» مہربان ، «المبدئ» پہلے پہل پیدا کرنے والا ، «المعيد» دوبارہ پیدا کرنے والا ،«الباعث» زندہ کر کے اٹھانے والا ، «الوارث» وارث ، «القوي» ( قوی ) زور آور ، «الشديد» سخت ، «الضار» نقصان پہنچانے والا ،«النافع» نفع دینے والا ، «الباقي» قائم ، «الواقي» بچانے والا ، «الخافض» پست کرنے والا ، «الرافع» اونچا کرنے والا ، «القابض» روکنے والا ، «الباسط» چھوڑ دینے والا، پھیلانے والا ، «المعز» عزت دینے والا ، «المذل» ذلت دینے والا ، «المقسط» منصف ،«الرزاق» روزی دینے والا ، «ذو القوة» طاقت والا ، «المتين» مضبوط ، «القائم» ہمیشہ رہنے والا ، «الدائم» ہمیشگی والا ، «الحافظ» بچانے والا ، «الوكيل» کارساز ، «الفاطر» پیدا کرنے والا ، «السامع» سننے والا ، «المعطي» دینے والا ، «المحيي» زندہ کرنے والا ، «المميت» مارنے والا ، «المانع» روکنے والا ، «الجامع» جمع کرنے والا ، «الهادي» ( رہبری ہادی ) راہ بنانے والا ، «الكافي» کفایت کرنے والا ، «الأبد» ہمیشہ برقرار ، «العالم» ( عالم ) جاننے والا ، «الصادق» سچا ، «النور» روشن، ظاہر ، «المنير» روشن کرنے والا ،«التام» مکمل ، «القديم» ہمیشہ رہنے والا ، «الوتر» طاق ، «الأحد» اکیلا ، «الصمد» بے نیاز ، «الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» جس نے نہ جنا ہے نہ وہ جنا گیا ہے، اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے ۔ زہیر کہتے ہیں: ہمیں بہت سے اہل علم سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ ان ناموں کی ابتداء اس قول سے کی جاتی ہے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد بيده الخير وهو على كل شيء قدير لا إله إلا الله له الأسماء الحسنى» اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے ہر طرح کی تعریف ہے، اسی کے ہاتھ میں خیر ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت والا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں اسی کے لیے اچھے نام ہیں ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۳۹۷۰، ومصباح الزجاجة:۱۳۵۵)
It was narrated that Abu Hurairah that :
the Messenger of Allah (saas) said: There are three supplications that will undoubtedly be answered: the supplication of one who has been wronged; the supplication of the traveler; and the supplication of a father for his child.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین دعائیں ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، والد ( اور والدہ ) کی دعا اپنی اولاد کے حق میں ۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الصلاة ۳۶۴ (۱۵۳۶)، سنن الترمذی/البروالصلة ۷ (۱۹۰۵)،(تحفة الأشراف:۱۴۸۷۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۲۵۸،۳۴۸،۴۷۸،۵۱۷،۵۲۳)
It was narrated that Umm Haim bint Wadda' Al-Khuza'iyyah said:
I heard the Messenger of Allah (saas) say: 'The supplication of a father reaches the Veil (i.e. the place of repentance).'
ام حکیم بنت وداع خزاعیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: والد ( اور والدہ ) کی دعا حجاب الٰہی ( مقام قبولیت ) تک پہنچتی ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۸۳۱۵، ومصباح الزجاجة:۱۳۵۶)
It was narrated from Abu Na'amah that :
'Abdullah bin Mughaffal heard his son say: O Allah, I ask You for the white palace on the right-hand side of Paradise, when I enter it. He said: O my son, ask Allah for Paradise and seek refuge with Him from Hell, for I heard the Messenger of Allah (saas) say: 'There will be people who will transgress in supplication.'
ابونعامہ (قیس بن عبایہ) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو یہ دعا مانگتے سنا: «اللهم إني أسألك القصر الأبيض عن يمين الجنة إذا دخلتها» اللہ! جب میں جنت میں جاؤں تو مجھے جنت کی دائیں جانب سفید محل عطا فرما ، تو انہوں نے کہا: میرے بیٹے! اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو اور جہنم سے پناہ مانگو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: عنقریب کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دعا میں حد سے آگے بڑھ جائیں گے ۱؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الطہارة ۴۵ (۹۶)،(تحفة الأشراف:۹۶۶۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۸۶،۱۸۷،۵/۵۵)
Explanation
اس حدیث سے کراہت نکلی ان پر تکلف اور مسجع اور مقفی دعاؤں کی جو متاخرین نے ایجاد کیں ہیں، اور جاہل ان کے الفاظ پر فریفتہ ہو جاتے ہیں، عمدہ دعائیں وہی ہیں جو رسول اکرم ﷺ سے ثابت ہیں، آپ مختصر اور جامع دعائیں پسند فرماتے تھے۔
It was narrated from Salman that the :
Prophet (saas) said: Your Lord is Kind and Most Generous, and is too kind to let His slave, if he raises his hands to Him, bring them back empty, or he said frustrated.
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا رب «حی» ( بڑا باحیاء، شرمیلا ) اور کریم ہے، اسے اس بات سے شرم آتی ہے کہ اس کا بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے تو وہ انہیں خالی یا نامراد لوٹا دے ۱؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الصلاة ۳۵۸ (۱۴۸۸)، سنن الترمذی/الدعوات ۱۰۵ (۳۵۵۶)،(تحفة الأشراف:۴۴۹۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۴۳۸)
Explanation
یعنی صالح مومن کی دعا خالی نہیں جاتی، یا تو دنیا ہی میں قبول کر لی جاتی ہے، یا پھر آخرت میں اسے اس کا بہتر بدلہ ملے گا۔
It was narrated from Ibn 'Abbas that :
the Messenger of Allah (saas) said: When you supplicate to Allah, supplicate with your palms uppermost, not with the backs of your hands uppermost, and when you finish, wipe your face with them.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو تو اپنے ہاتھ کی اندرونی ہتھیلیوں سے دعا کیا کرو، ان کی پشت اپنی طرف کر کے دعا نہ کرو، پھر جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے ہاتھ اپنے منہ پر پھیرو ۔