TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4148 - آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معیشت (گزر بسر) کا بیان - Zuhd - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 7 in this chapter
آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معیشت (گزر بسر) کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ،‏‏‏‏ عَنْأَبِي عُبَيْدَةَ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا أَصْبَحَ فِي آلِ مُحَمَّدٍ إِلَّا مُدٌّ مِنْ طَعَامٍ،‏‏‏‏ أَوْ:‏‏‏‏ مَا أَصْبَحَ فِي آلِ مُحَمَّدٍ مُدٌّ مِنْ طَعَامٍ .
It was narrated from Abu ‘Ubaidah that ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The family of Muhammad has only a Mudd of food,’ or ‘The family of Muhammad does not have even a Mud of food.’”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آل محمد کے پاس کبھی ایک مد غلہ سے زیادہ نہیں رہا، یا آل محمد کے پاس کبھی ایک مد غلہ نہیں رہا ۔
4148
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 5, Book 37, Hadith 4148 Arabic reference : Book 37, Hadith 4287
(سند میں انقطاع ہے، ابو عبیدہ نے اپنے والد عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا نہیں ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی:۲۴۰۴)
Conclusion
تخریج
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۴۴۵، ومصباح الزجاجة:۱۴۷۲)

Related Chapters

2,155
1
محمد نام رکھنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نام اور کنیت کو جمع کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
2
سورۂ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم {فَہَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ}کی تفسیر
Musnad Ahmad
3
محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کی عمروں کا بیان
Musnad Ahmad
4
غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
Musnad Ahmad
5
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
Musnad Ahmad
6
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کرام کے مکہ مکرمہ میں داخلہ اور حصولِ فتح نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل مکہ کے ساتھ رحمت وشفقت اور عفوودرگزر کا بیان
Musnad Ahmad
7
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل بیت کی معیشت کا بیان اس موضوع سے متعلقہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
8
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ آپ کی بعض ازواج کا حیلہ کرنے کا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کی ایذائوں کو برداشت کرنے، ان سے درگزر کرنے اور گھر کے اندر انکساری کا رویہ اختیار کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
9
فصل ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے
Musnad Ahmad
10
(2) CHAPTER. Invocation of the Prophet : O Allah! Send (drought-famine) years on them (pagans of Makkah) like the (drought-famine) years of (Prophet) Yusuf (Joseph).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریش کے کافروں پر بددعا کرناکہ الٰہی ان کے سال ایسے کر دے جیسے یوسف علیہ السلام کے سال ( قحط ) کے گزرے ہیں
Sahih Bukhari
11
(15) CHAPTER. The going of the Prophet (for Hajj) via Ash-Shajara way.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شجرہ پر سے گزر کرجانا
Sahih Bukhari
12
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Accept the good (deeds) of the good-doers amongst them, and excuse the wrong-doers amongst them.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ” انصار کے نیک لوگوں کی نیکیوں کو قبول کرو اور ان کے غلط کاروں سے درگزر کرو “
Sahih Bukhari
13
(81) CHAPTER. The dismounting of the Prophet at (the place called) Al-Hijr.
حجر بستی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گزرنا
Sahih Bukhari
14
(54) CHAPTER. The Statement of the Prophet : “None should have the same engraving made on his ring as the engraving on my ring.”
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ کوئی شخص اپنی انگوٹھی پرلفظ ” محمد رسول اللہ “ کا نقش نہ کھدوائے
Sahih Bukhari
15
(3) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Be in this world as if you were a stranger.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرو جیسے تم مسافر ہو یا عارضی طور پر کسی راستہ پر چلنے والے ہو
Sahih Bukhari
16
(17) CHAPTER. How the Prophet and his Companions used to live, and how they gave up their interest in the world.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے گزران کا بیان اور دنیا سے کنارہ کشی کا بیان
Sahih Bukhari
17
اس بات کی دلیل کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے رب ، اسلام کے دین اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کے رسول ہونے پر راضی ہوا وہ مومن ہے ، چاہے کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہو
Sahih Muslim
18
Chapter: Obligation of believing that the message of our Prophet Muhammad (saws) is for all people, and the abrogation of all other religions
اس بات پر ایمان واجب ہے کہ ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ تمام انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور آپ کی شریعت کے ذریعے سے باقی سب شریعتیں منسوخ کر دی گئیں
Sahih Muslim
19
Chapter: The descent of 'Eisa bin Mariam to judge according to the Shari'ah of our Prophet Muhammad (saws); And how Allah has honored this Ummah; And clarifying the evidence that this religion will not be abrogated; and that a group from it will continue to adhere to the truth and prevail until the day of resurrection
حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا ہمارے نبی محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی شریعت کے مطابق حاکم بن کر نازل ہونا‘
Sahih Muslim
20
Chapter: The Prophet (SAW) Wore A Ring Of Silver On Which Was Inscribed The Words Muhammad Rasul Allah (Muhammad the Messenger of Allah), And The Caliphs Wore It After He Died
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاندی کی انگوٹھی پہنا کرتے تھے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نقش تھا ،آپ کے بعد وہ انگوٹھی آپ کے خلفاء نے پہنی
Sahih Muslim
21
آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بچھونے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
22
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی معیشت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
23
(16)Chapter: What Has Been Related That When The Prophet Wanted To Relieve Himself, He Would Go Far Away
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قضائے حاجت کے لیے دور تشریف لے جانے کا بیان​
Jam e Tirmazi
24
(37)Chapter: [What Has Been Related] About The Wudu Of he Prophet: How Was It Performed?
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کیسا تھا؟​
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Mentioned About Praising Allah And Sending Salat Upon The Prophet Before Supplicating
باب: دعا سے پہلے اللہ کی تعریف کرنے اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Prophet While Performed Tawaf Mudtabi'an
باب: احرام کی چادر کو داہنی بغل کے نیچے کر کے دونوں کناروں کو بائیں کندھے پر ڈال کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طواف کرنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related From The Messenger of Allah About The Judge
باب: قاضی اور قضاء کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related From The Messenger Of Allah (saws) About Reconciliation
باب: لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About What The Messenger Of Allah (saws) Left Behind
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ترکہ کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Description Of The Sword Of The Messenger Of Allah (saws)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی تلوار کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Garment The Messenger Of Allah (saws) Like Most To Wear
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پسندیدہ کپڑوں کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About What The Prophet (saws) Ate Upon
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کس چیز پر کھاتے تھے؟
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About Which Meat The Messenger Of Allah (saws) Used To Like Most
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا گوشت زیادہ پسند تھا
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Which Drink Was The Most Beloved To The Messenger Of Allah (saws)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو کون سا مشروب زیادہ پسند تھا
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About The Prophet's(s.a.w) Saying: The Hour And I Have Been Dispatched Like These Two Meaning The Index And Middle Fingers
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: میری بعثت اور قیامت کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی دوری شہادت اور بیچ والی انگلی کے درمیان ہے
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The Prophet (s.a.w) Saying: If You Knew What I Know Then You Would Laugh Little
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ جو مجھے معلوم ہے وہ اگر تمہیں معلوم ہو جائے تو بہت کم ہنسو گے اور بہت زیادہ روؤ گے​
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Subsistence of the Prophet (s.a.w) And His Family
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی معاشی زندگی کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About The State of The Prophet (SAW): I Have Been Ordered To FIght The People Until They Say La Ilaha Illallah And Establish The Salah
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ: لا الہ الا اللہ کہیں، اور نماز قائم کریں“۔
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Gravity Of Lying Against The Messenger Of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کرنا گناہ عظیم ہے
Jam e Tirmazi
40
Chapter: Regarding Refraining From What Was Prohibited By The Messenger of Allah (SAW)
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جس چیز سے روک دیں اس سے رک جاؤ
Jam e Tirmazi
41
Chapter: “Humiliated is a Man Before Whom I am Mentioned...”
باب: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا فرمان: ”اس شخص کی ناک خاک آلود ہو …“
Jam e Tirmazi
42
Chapter: About The Supplication Of The Prophet, And His Seeking Refuge At The End Of Every Salat
باب: نماز کے اخیر میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی دعاؤں اور معوذات کا بیان
Jam e Tirmazi
43
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
Jam e Tirmazi
44
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌پر ایمان لانے اور آپ کو دیکھے بغیر آپ پر ایمان لانے والے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
45
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے فرمان اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔ کا بیان
Musnad Ahmad
46
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کی تبلیغ اور اس کو جیسے سنا، ایسے ہی نقل کر دینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
47
روایت ِ حدیث میں محتاط رہنے اور الفاظ کو اسی طرح عمدگی کے ساتھ ادا کرنے کا بیان، جیسے وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے صادر ہوئے
Musnad Ahmad
48
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی حدیث کو لکھنے سے منع کرنے اور اس کی رخصت دینے کا بیان
Musnad Ahmad
49
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ بولنے کے معاملے میں سختی کا بیان
Musnad Ahmad
50
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت کو تھامنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سیرت سے رہنمائی طلب کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

194
Sunnan Ibn e Maja
245
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَ ذَلِكَ فِي نَفْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَجَلَسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ .
It was narrated that Abu Umamah said: The Prophet walked on a very hot day towards Baqi' Al-Gharqad (graveyard of Al-Madinah), and the people were walking behind him. When he heard the sound of their shoes, it affected his soul so he sat down until he made them go ahead of him, lest that make him feel too proud.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سخت گرمی کے دن میں بقیع غرقد نامی مقبرہ سے گزرے، لوگ آپ کے پیچھے چل رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتوں کی چاپ سنی تو آپ کے دل میں خیال آیا، آپ بیٹھ گئے، یہاں تک کہ ان کو اپنے سے آگے کر لیا کہ کہیں آپ کے دل میں کچھ تکبر نہ آ جائے۔
Sunnan Ibn e Maja
626
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ:‏‏‏‏ اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَبْعَ سِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تُصَلِّي، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ تَقْعُدُ فِي مِرْكَنٍ لِأُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ
It was narrated from 'Urwah bin Zubair and 'Amrah bint 'Abdur-Rahman that : 'Aishah the wife of the Prophet said: Umm Habibah Jahsh experienced prolonged non-menstrual bleeding for seven years when she was married to 'Abdur-Rahman bin 'Awf. She complained about that to the Prophet and the Prophet said: 'That is not menstruation, rather it is a vein, so when the time of your period comes, leave the prayer, and when it is over, take a bath and perform prayer.' 'Aishah said: She used to bathe for every prayer and then perform the prayer. She used to sit in a washtub belonging to her sister Zainab bint Jahsh and the blood would turn the water red.
عروہ بن زبیر اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا تھی، جو سات برس تک استحاضہ میں مبتلا رہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، بلکہ ایک رگ کا خون ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہو جائے تو غسل کرو، اور نماز پڑھو ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتیں پھر نماز پڑھتی تھیں، اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ایک ٹب میں بیٹھا کرتی تھیں یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی کے اوپر آ جاتی ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
2113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ الرَّجُلُ يَقُوتُ أَهْلَهُ قُوتًا فِيهِ سَعَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ الرَّجُلُ يَقُوتُ أَهْلَهُ قُوتًا فِيهِ شِدَّةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَتْ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ سورة المائدة آية 89 .
It was narrated that Ibn 'Abbas said: A man would give his family food that was abundant and another would give his family food that was barely sufficient, then the following was revealed: 'With the Awsat of that with which you feed your families...’”(2)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بعض آدمی اپنے گھر والوں کو ایسا کھانا دیتے ہیں جس میں فراخی ہوتی ہے، اور بعض آدمی تنگی کے ساتھ دیتے ہیں تب یہ آیت اتری: «من أوسط ما تطعمون أهليكم» مسکینوں کو وہ کھانا دو جو درمیانی قسم کا اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو ۔
Jam e Tirmazi
98
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ عَلَى ظَاهِرِهِمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُغِيرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا يَذْكُرُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُغِيرَةِ عَلَى ظَاهِرِهِمَا غَيْرَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَكَانَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُشِيرُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ.
AI-Mughirah bin Shu'bah narrated: I saw the Prophet wiping over the Khuff: on the tops of them.
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو موزوں کے اوپری حصے پر مسح کرتے دیکھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مغیرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- عبدالرحمٰن بن ابی الزناد کے علاوہ میں کسی اور کو نہیں جانتا جس نے بسند «عروہ عن مغیرہ» دونوں موزوں کے ”اوپری حصہ“ پر مسح کا ذکر کرتا ہو ۲؎ اور یہی کئی اہل علم کا قول ہے اور یہی سفیان ثوری اور احمد بھی کہتے ہیں۔
Jam e Tirmazi
701
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَأَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
Abu Hurairah narrated: (A Hadith similar to no. 700 with a different chain).
اس سند سے بھی اوزاعی سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Jam e Tirmazi
901
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا أَتَى عَبْدُ اللَّهِ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَعَلَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ هَاهُنَا رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ . حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وجابر. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَخْتَارُونَ أَنْ يَرْمِيَ الرَّجُلُ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِنْ لَمْ يُمْكِنْهُ أَنْ يَرْمِيَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي رَمَى مِنْ حَيْثُ قَدَرَ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي بَطْنِ الْوَادِي.
Abdur-Rahman bin Yazid narrated: When Abdullah went to stone Jamrat Al-Aqabah, he went to the middle of the valley, faced the Ka'bah, and proceeded to stone the Jamrah at its southern wall. Then he stoned with seven pebbles, saying: Allahu Akbar with each pebble. Then he said: 'By Allah except Whom none is worthy of worship. This is where the one stoned to whom Surat Al-Baqarah was revealed.'
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ جب عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) جمرہ عقبہ کے پاس آئے تو وادی کے بیچ میں کھڑے ہوئے اور قبلہ رخ ہو کر اپنے داہنے ابرو کے مقابل رمی شروع کی۔ پھر سات کنکریوں سے رمی کی۔ ہر کنکری پر وہ ”اللہ اکبر“ کہتے تھے، پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اس ذات نے بھی یہیں سے رمی کی جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں فضل بن عباس، ابن عباس، ابن عمر اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان کے نزدیک پسندیدہ یہی ہے کہ آدمی بطن وادی میں کھڑے ہو کر سات کنکریوں سے رمی کرے اور ہر کنکری پر ”اللہ اکبر“ کہے، ۴- اور بعض اہل علم نے اجازت دی ہے کہ اگر بطن وادی سے رمی کرنا ممکن نہ ہو تو ایسی جگہ سے کرے جہاں سے وہ اس پر قادر ہو گو وہ بطن وادی میں نہ ہو۔
Jam e Tirmazi
946
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلْيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ:‏‏‏‏ خَرَرْتَ مِنْ يَدَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تُخْبِرْنَا بِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أرْطَاةَ مِثْلَ هَذَا وَقَدْ خُولِفَ الْحَجَّاجُ فِي بَعْضِ هَذَا الْإِسْنَادِ.
Al-Harith bin Abdullah bin Aws said: I heard the Prophet saying: 'Whoever performs Hajj to this House, or Umrah, then let the last of his acts be at the House' So Umar said: May your hand be humiliated! You heard this from the Messenger of Allah but did not inform us of it?
حارث بن عبداللہ بن اوس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے اس گھر ( بیت اللہ ) کا حج یا عمرہ کیا تو چاہیئے کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ہو۔ تو ان سے عمر رضی الله عنہ نے کہا: تم اپنے ہاتھوں کے بل زمین پر گرو یعنی ہلاک ہو، تم نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی اور ہمیں نہیں بتائی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حارث بن عبداللہ بن اوس رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، اسی طرح دوسرے اور لوگوں نے بھی حجاج بن ارطاۃ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ اور اس سند کے بعض حصہ کے سلسلہ میں حجاج سے اختلاف کیا گیا ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
Jam e Tirmazi
1408
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،‏‏‏‏ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ،‏‏‏‏ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ،‏‏‏‏ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ،‏‏‏‏ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ،‏‏‏‏ قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ،‏‏‏‏ اغْزُوا وَلَا تَغُلُّوا،‏‏‏‏ وَلَا تَغْدِرُوا،‏‏‏‏ وَلَا تُمَثِّلُوا،‏‏‏‏ وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا ،‏‏‏‏ وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَشَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ،‏‏‏‏ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَسَمُرَةَ،‏‏‏‏ وَالْمُغِيرَةِ،‏‏‏‏ وَيَعْلَى بْنِ مُرَّةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي أَيُّوبَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَكَرِهَ أَهْلُ الْعِلْمِ الْمُثْلَةَ.
Narrated Buraidah: from his father who said: Whenever the Messenger of Allah (ﷺ) dispatched a commander of an army he would exhort him personally; that he should have Taqwa of Allah, and regarding those of the Muslims who are with him; that he should be good to them. He would say: 'Fight in the Name of Allah and in Allah's curse. Fight those who disbelieve in Allah and fight, do not be treacherous, nor mutilate, nor kill a child.
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی لشکر پر امیر مقرر کر کے بھیجتے تو خاص طور سے اسے اپنے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی وصیت فرماتے، اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے انہیں بھلائی کی وصیت کرتے، چنانچہ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے نام سے اس کے راستے میں جہاد کرو، جو کفر کرے اس سے لڑو، جہاد کرو، مگر مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، بدعہدی نہ کرو، مثلہ ۱؎ نہ کرو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو“، حدیث میں کچھ تفصیل ہے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، شداد بن اوس، عمران بن حصین، انس، سمرہ، مغیرہ، یعلیٰ بن مرہ اور ابوایوب سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم نے مثلہ کو حرام کہا ہے۔
Jam e Tirmazi
1545
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ حَلَفَ مِنْكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ فِي حَلِفِهِ:‏‏‏‏ وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَقُلْ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ قَالَ:‏‏‏‏ تَعَالَ أُقَامِرْكَ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيَتَصَدَّقْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو الْمُغِيرَةِ هُوَ الْخَوْلَانِيُّ الْحِمْصِيُّ وَاسْمُهُ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ.
Narrated Abu Hurairah: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever among you swears, saying in his oath: 'By Al-Lat! By Al-'Uzza!' Then let him say 'La ilaha illa Allah' And whoever says: 'Come let me gamble with you!' Then let him give in charity.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس نے قسم کھائی اور اپنی قسم میں کہا: لات اور عزیٰ کی قسم ہے! وہ «لا إله إلا الله» کہے“ اور جس شخص نے کہا: ”آؤ جوا کھیلیں وہ صدقہ کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔