TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بچھونے کا بیان - آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بچھونے کا بیان - Zuhd - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Chapter 11 of Zuhd in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 39 · 4 Hadith
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ،‏‏‏‏ وَأَبُو خَالِدٍ،‏‏‏‏ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ عَائِشَةَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ ضِجَاعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدَمًا حَشْوُهُ لِيفٌ .
It was narrated that ‘Aishah said: “The bed of the Messenger of Allah (ﷺ) was made of leather, stuffed with fibers of date-palm trees.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچھونا چمڑے کا تھا، اور اس کے اندر کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔
Takhreej
«حدیث أبي خالد أخرجہ: سنن ابی داود/اللباس ۴۵ (۴۱۴۶)،(تحفة الأشراف:۱۶۹۵۱)، وحدیث عبد اللہ بن نمیر أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس ۱۷ (۲۰۸۲)،(تحفة الأشراف:۱۶۹۸۴)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق ۱۶ (۶۴۵۶)، سنن الترمذی/اللباس ۲۷ (۱۷۶۱)، صفة القیامة ۳۲ (۲۴۶۹)، مسند احمد (۶/۴۸،۵۶،۷۳،۱۰۸،۲۰۷)
4151
Sahih
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَتَى عَلِيًّا،‏‏‏‏ وَفَاطِمَةَ وَهُمَا فِي خَمِيلٍ لَهُمَا،‏‏‏‏ وَالْخَمِيلُ:‏‏‏‏ الْقَطِيفَةُ الْبَيْضَاءُ مِنَ الصُّوفِ،‏‏‏‏ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَهَّزَهُمَا بِهَا،‏‏‏‏ وَوِسَادَةٍ مَحْشُوَّةٍ إِذْخِرًا وَقِرْبَةٍ .
It was narrated from ‘Ata’ bin Sa’ib from his father, from ‘Ali that the Messenger of Allah (ﷺ) came to ‘Ali and Fatimah, when they were covered with a Khamil belonging to them. And a Khamil is a white velvet made of wool. The Messenger of Allah (ﷺ) had given this to them as a wedding gift, along with a pillow stuffed with Idhkhir* and a water skin.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی اور فاطمہ ( رضی اللہ عنہما ) کے پاس آئے، وہ دونوں اپنی «خمیل» ( سفید اونی چادر کو کہتے ہیں ) اوڑھے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہعلیہ وسلم نے ان دونوں کو یہ چادر تھی، اذخر کی گھاس بھرا ایک تکیہ اور پانی رکھنے کی ایک مشک شادی کے وقت دی تھی۔
Takhreej
«سنن النسائی/النکاح ۸۱ (۳۳۸۶)،(تحفة الأشراف:۱۰۱۰۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۸۴،۹۳،۱۰۸)
4152
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ أَبُو زُمَيْلٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِيعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ فَجَلَسْتُ،‏‏‏‏ فَإِذَا عَلَيْهِ إِزَارٌ وَلَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ،‏‏‏‏ وَإِذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبهِ،‏‏‏‏ وَإِذَا أَنَا بِقَبْضَةٍ مِنْ شَعِيرٍ نَحْوِ الصَّاعِ،‏‏‏‏ وَقَرَظٍ فِي نَاحِيَةٍ فِي الْغُرْفَةِ،‏‏‏‏ وَإِذَا إِهَابٌ مُعَلَّقٌ فَابْتَدَرَتْ عَيْنَايَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَمَالِي لَا أَبْكِي وَهَذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِكَ،‏‏‏‏ وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ لَا أَرَى فِيهَا إِلَّا مَا أَرَى،‏‏‏‏ وَذَلِكَ كِسْرَى وَقَيْصَرُ فِي الثِّمَارِ وَالْأَنْهَارِ،‏‏‏‏ وَأَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَصَفْوَتُهُ وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ،‏‏‏‏ أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَنَا الْآخِرَةُ وَلَهُمُ الدُّنْيَا؟ ،‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ بَلَى.
‘Umar bin Khattab said: “I entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) when he was (sitting) on a reed mat. I sat down and (saw that) he was wearing a waist wrap, and there was no other barrier between him and the mat but his waist wrap, and the reed mat had made marks on his side. And I saw a handful of barley, nearly a Sa’, and some acacia leaves, in a corner of the room, and a skin hanging up. My eyes flowed with tears, and he said: ‘Why are you weeping, O son of Khattab?’ I said: ‘O Prophet of Allah, why should I not weep? This mat has made marks on your side, and this is all you have accumulated, I cannot see anything other than what I see (here), while Chosroes and Caesar live among fruits and rivers. You are the Prophet of Allah and His Chosen One, and this is what you have accumulated.’ He said: ‘O son of Khattab, does it not please you (to know) that (these things) are for us in the Hereafter and for them in this world?’ He said: ‘Yes.’”
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے، میں آ کر بیٹھ گیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ ایک تہہ بند پہنے ہوئے ہیں، اس کے علاوہ کوئی چیز آپ کے جسم پر نہیں ہے، چٹائی سے آپ کے پہلو پر نشان پڑ گئے تھے، اور میں نے دیکھا کہ ایک صاع کے بقدر تھوڑا سا جو تھا، کمرہ کے ایک کونے میں ببول کے پتے تھے، اور ایک مشک لٹک رہی تھی، میری آنکھیں بھر آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن خطاب: تم کیوں رو رہے ہو؟ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں کیوں نہ روؤں، اس چٹائی سے آپ کے پہلو پر نشان پڑ گئے ہیں، یہ آپ کا اثاثہ ( پونجی ) ہے جس میں بس یہ یہ چیزیں نظر آ رہی ہیں، اور وہ قیصر و کسریٰ پھلوں اور نہروں میں آرام سے رہ رہے ہیں، آپ تو اللہ تعالیٰ کے نبی اور اس کے برگزیدہ ہیں، اور یہ آپ کی سارا اثاثہ ( پونجی ) ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ ہمارے لیے یہ سب کچھ آخرت میں ہو، اور ان کے لیے دنیا میں ؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۰۵۰۰)
Explanation
راضی ہوں، یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ کو تسلی اور تشفی ہو گئی۔
4153
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ،‏‏‏‏ عَنْ مُجَالِدٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَامِرٍ،‏‏‏‏ عَنْ الْحَارِثِ،‏‏‏‏ عَنْ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أُهْدِيَتِ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ،‏‏‏‏ فَمَا كَانَ فِرَاشُنَا،‏‏‏‏ لَيْلَةَ أُهْدِيَتْ،‏‏‏‏ إِلَّا مَسْكَ كَبْشٍ .
It was narrated that ‘Ali said: “The daughter of the Messenger of Allah (ﷺ) was permitted to me as a bride, and our bed on the night when she was presented to me, was no more than the hide of a ram.”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ( فاطمہ ) میرے پاس رخصت کی گئیں تو رخصتی کی رات ہمارا بستر صرف بھیڑ کی ایک کھال تھی۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۰۰۳۷، ومصباح الزجاجة:۱۴۷۵)
4154
Zaeef

Chapters

39
01
دنیا سے بے رغبتی کا بیان
5 Hadith
02
دنیا کے غم و فکر کا بیان
3 Hadith
03
دنیا کی مثال
7 Hadith
04
جس کی لوگ پرواہ نہ کریں اس کا بیان
5 Hadith
05
فقراء کی فضیلت
2 Hadith
06
فقراء کا مقام و مرتبہ
3 Hadith
07
فقیروں کے ساتھ بیٹھنے کی فضیلت
4 Hadith
08
مالداروں کا بیان
8 Hadith
09
قناعت کا بیان
7 Hadith
10
آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معیشت (گزر بسر) کا بیان
7 Hadith
11
آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بچھونے کا بیان
4 Hadith
12
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی معیشت کا بیان
5 Hadith
13
گھر بنانے اور اجاڑنے کا بیان
4 Hadith
14
توکل اور یقین کا بیان
5 Hadith
15
حکمت و دانائی کا بیان
4 Hadith
16
تکبر اور گھمنڈ سے بے زاری اور تواضع کا بیان
7 Hadith
17
شرم و حیاء کا بیان
6 Hadith
18
حلم اور بردباری کا بیان
4 Hadith
19
غمگین ہونے اور رونے کا بیان
8 Hadith
20
عمل قبول نہ ہونے کا ڈر رکھنے کا بیان
4 Hadith
21
ریا اور شہرت کا بیان
6 Hadith
22
حسد کا بیان
3 Hadith
23
بغاوت و سرکشی کا بیان
4 Hadith
24
ورع اور تقویٰ و پرہیزگاری کا بیان۔
6 Hadith
25
لوگوں کی عمدہ تعریف و توصیف کا بیان
6 Hadith
26
نیت کا بیان
4 Hadith
27
انسان کی آرزو اور عمر کا بیان
6 Hadith
28
نیک کام کو ہمیشہ کرنے کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
29
گناہوں کو یاد کرنے کا بیان
5 Hadith
30
توبہ کا بیان
11 Hadith
31
موت کی یاد اور اس کی تیاری کا بیان
8 Hadith
32
قبر اور مردے کے گل سڑ جانے کا بیان
7 Hadith
33
حشر کا بیان
9 Hadith
34
امت محمدیہ کی صفات
11 Hadith
35
روز قیامت اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید
8 Hadith
36
حوض کوثر کا بیان
6 Hadith
37
شفاعت کا بیان
11 Hadith
38
جہنم کے احوال و صفات کا بیان
10 Hadith
39
جنت کے احوال و صفات کا بیان
14 Hadith
No chapter matched that.