TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ریا اور شہرت کا بیان - ریا اور شہرت کا بیان - Zuhd - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Chapter 21 of Zuhd in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 21 of 39 · 6 Hadith
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ،‏‏‏‏ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ،‏‏‏‏ فَمَنْ عَمِلَ لِي عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ،‏‏‏‏ غَيْرِي فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ وَهُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah says: ‘I am the Most Self-Sufficient and I have no need for an associate. Thus he who does an action for someone else’s sake as well as Mine will have that action renounced by Me to him whom he associated with Me.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں تمام شرکاء کے شرک سے مستغنی اور بے نیاز ہوں، جس نے کوئی عمل کیا، اور اس میں میرے علاوہ کسی اور کو شریک کیا، تو میں اس سے بری ہوں، اور وہ اسی کے لیے ہے جس کو اس نے شریک کیا ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۴۰۴۷، ومصباح الزجاجة:۱۴۹۷)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزھد ۵ (۲۹۸۵)
4202
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ،‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبِي،‏‏‏‏ عَنْ زِيَادِ بْنِ مِينَاءَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَعْدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَ مِنَ الصَّحَابَةِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ ليَوْمَ الْقِيَامَةِ،‏‏‏‏ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ،‏‏‏‏ نَادَى مُنَادٍ:‏‏‏‏ مَنْ كَانَ أَشْرَكَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ،‏‏‏‏ فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ تَعَالَى،‏‏‏‏ فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ .
It was narrated from Abu Sa’d bin Abu Fadalah Al-Ansari, who was one of the Companions, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When Allah assembles the first and the last on the Day of Resurrection, a day concerning which there is no doubt, a caller will cry out: ‘Whoever used to associate anyone else in an action that he did for Allah, let him seek his reward from someone other than Allah, for Allah is so self-sufficient that He has no need of any associate.’”
سعد بن ابی فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ (صحابی تھے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرے گا، اس دن جس میں کوئی شک نہیں ہے، تو ایک پکارنے والا پکارے گا کہ جس نے کوئی کام اللہ تعالیٰ کے لیے کیا، اور اس میں کسی کو شریک کیا، تو وہ اپنا بدلہ شرکاء سے طلب کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام شریکوں کی شرکت سے بے نیاز ہے ۔
Takhreej
«سنن الترمذی/تفسیر القرآن ۱۹ (۳۱۵۴)،(تحفة الأشراف:۱۲۰۴۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۲۱۵،۳/۴۶۶)
4203
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ،‏‏‏‏ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ،‏‏‏‏ عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنْ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْنَا:‏‏‏‏ بَلَى،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ الشِّرْكُ الْخَفِيُّ،‏‏‏‏ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ يُصَلِّي فَيُزَيِّنُ صَلَاتَهُ لِمَا يَرَى مِنْ نَظَرِ رَجُلٍ .
It was narrated that Abu Sa’eed said: “The Messenger of Allah (ﷺ) came out to us when we were discussing Dajjal (False Christ) and said: ‘Shall I not tell you of that which I fear more for you than Dajjal?’ We said: ‘Yes.’ He said: ‘Hidden polytheism, when a man stands to pray and makes it look good because he sees a man looking at him.’”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس نکل کر آئے، ہم مسیح دجال کا تذکرہ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسی چیز کے بارے میں نہ بتا دوں جو میرے نزدیک مسیح دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے ؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پوشیدہ شرک ہے جو یہ ہے کہ آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے، تو اپنی نماز کو صرف اس وجہ سے خوبصورتی سے ادا کرتا ہے کہ کوئی آدمی اسے دیکھ رہا ہے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۱۲۹، ومصباح الزجاجة:۱۴۹۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۳۰)
Explanation
یعنی آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور جب کوئی شخص نہ ہو تو جلدی جلدی پڑھ لے، معاذ اللہ، ریا کتنی بری بلا ہے اس کو شرک فرمایا جسے بخشا نہ جائے گا، ایسے ہی ریا کا عمل کبھی قبول نہ ہو گا: «فمن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا ولا يشرك بعبادة ربه أحدا» (سورة الكهف: 110) اس آیت میں شرک سے ریا ہی مراد ہے اور عمل صالح وہی ہے جو خالص اللہ کی رضامندی کے لئے ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی اللہ کی رضا حاصل کrنے کے لیے ہر طرح کے اعمال شرک سے بچتے ہوئے سنت صحیحہ کے مطابق زندگی گزارے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو قبول فرمائے۔
4204
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلَانِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ،‏‏‏‏ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ،‏‏‏‏ عَنْعُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ،‏‏‏‏ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أُمَّتِي الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ،‏‏‏‏ أَمَا إِنِّي لَسْتُ أَقُولُ يَعْبُدُونَ شَمْسًا وَلَا قَمَرًا وَلَا وَثَنًا،‏‏‏‏ وَلَكِنْ أَعْمَالًا لِغَيْرِ اللَّهِ وَشَهْوَةً خَفِيَّةً .
It was narrated from Shaddad bin Aws that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The thing that I fear most for my nation is associating others with Allah. I do not say that they will worship the sun or the moon or idols, but deeds done for the sake of anyone other than Allah, and hidden desires.”
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک سب سے زیادہ خطرناک چیز جس کا مجھ کو اپنی امت کے بارے میں ڈر ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ وہ سورج، چاند یا بتوں کی پوجا کریں گے، بلکہ وہ غیر اللہ کے لیے عمل کریں گے، اور دوسری چیز مخفی شہوت ہے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۸۲۱، ومصباح الزجاجة:۱۴۹۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۲۳،۱۲۴)
Explanation
مخفی شہوت یہ ہے کہ آدمی ظاہر میں تو یہ کہے کہ اسے عورتوں کا بالکل خیال نہیں ہے، اور جب تنہائی میں عورت مل جائے تو اس سے حرام کا ارتکاب کرے، اور بعض نے کہا کہ شہوت خفیہ ہر اس گناہ کو شامل ہے جس کی دل میں آرزو ہو۔
4205
Zaeef
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ وَأَبُو كُرَيْبٍ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ،‏‏‏‏ عَنْمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى،‏‏‏‏ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعِ اللَّهُ بِهِ،‏‏‏‏ وَمَنْ يُرَاءِ يُرَاءِ اللَّهُ بِهِ .
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Prophet (ﷺ) said: “Whoever wants to be heard of, Allah will make him heard of, and whoever wants to be seen, Allah will show him (i.e., make known to the people his true motives and intentions).”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں میں شہرت و ناموری کے لیے کوئی نیک کام کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو ذلیل و رسوا کرے گا، اور جس نے ریاکاری کی تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کر دکھائے گا ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۲۴۱، ومصباح الزجاجة:۱۵۰۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۰)
4206
Sahih
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ،‏‏‏‏ عَنْ سُفْيَانَ،‏‏‏‏ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ،‏‏‏‏ عَنْ جُنْدَبٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ يُرَاءِ يُرَاءِ اللَّهُ بِهِ،‏‏‏‏ وَمَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعِ اللَّهُ بِهِ .
It was narrated from Jundab that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever wants to be heard of, Allah will make him heard of, and whoever wants to be seen, Allah will show him (i.e., expose his real motives).”
جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ریاکاری کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی ریاکاری لوگوں کے سامنے نمایاں اور ظاہر کرے گا، اور جو شہرت کے لیے کوئی عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو رسوا اور ذلیل کرے گا ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الرقاق ۳۴ (۶۴۹۹)، صحیح مسلم/الزھد ۵ (۲۹۸۷)،(تحفة الأشراف:۳۲۵۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۱۳)
4207
Sahih

Chapters

39
01
دنیا سے بے رغبتی کا بیان
5 Hadith
02
دنیا کے غم و فکر کا بیان
3 Hadith
03
دنیا کی مثال
7 Hadith
04
جس کی لوگ پرواہ نہ کریں اس کا بیان
5 Hadith
05
فقراء کی فضیلت
2 Hadith
06
فقراء کا مقام و مرتبہ
3 Hadith
07
فقیروں کے ساتھ بیٹھنے کی فضیلت
4 Hadith
08
مالداروں کا بیان
8 Hadith
09
قناعت کا بیان
7 Hadith
10
آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معیشت (گزر بسر) کا بیان
7 Hadith
11
آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بچھونے کا بیان
4 Hadith
12
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی معیشت کا بیان
5 Hadith
13
گھر بنانے اور اجاڑنے کا بیان
4 Hadith
14
توکل اور یقین کا بیان
5 Hadith
15
حکمت و دانائی کا بیان
4 Hadith
16
تکبر اور گھمنڈ سے بے زاری اور تواضع کا بیان
7 Hadith
17
شرم و حیاء کا بیان
6 Hadith
18
حلم اور بردباری کا بیان
4 Hadith
19
غمگین ہونے اور رونے کا بیان
8 Hadith
20
عمل قبول نہ ہونے کا ڈر رکھنے کا بیان
4 Hadith
21
ریا اور شہرت کا بیان
6 Hadith
22
حسد کا بیان
3 Hadith
23
بغاوت و سرکشی کا بیان
4 Hadith
24
ورع اور تقویٰ و پرہیزگاری کا بیان۔
6 Hadith
25
لوگوں کی عمدہ تعریف و توصیف کا بیان
6 Hadith
26
نیت کا بیان
4 Hadith
27
انسان کی آرزو اور عمر کا بیان
6 Hadith
28
نیک کام کو ہمیشہ کرنے کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
29
گناہوں کو یاد کرنے کا بیان
5 Hadith
30
توبہ کا بیان
11 Hadith
31
موت کی یاد اور اس کی تیاری کا بیان
8 Hadith
32
قبر اور مردے کے گل سڑ جانے کا بیان
7 Hadith
33
حشر کا بیان
9 Hadith
34
امت محمدیہ کی صفات
11 Hadith
35
روز قیامت اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید
8 Hadith
36
حوض کوثر کا بیان
6 Hadith
37
شفاعت کا بیان
11 Hadith
38
جہنم کے احوال و صفات کا بیان
10 Hadith
39
جنت کے احوال و صفات کا بیان
14 Hadith
No chapter matched that.