TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4206 - ریا اور شہرت کا بیان - Zuhd - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 6 in this chapter
ریا اور شہرت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ وَأَبُو كُرَيْبٍ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ،‏‏‏‏ عَنْمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى،‏‏‏‏ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعِ اللَّهُ بِهِ،‏‏‏‏ وَمَنْ يُرَاءِ يُرَاءِ اللَّهُ بِهِ .
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Prophet (ﷺ) said: “Whoever wants to be heard of, Allah will make him heard of, and whoever wants to be seen, Allah will show him (i.e., make known to the people his true motives and intentions).”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں میں شہرت و ناموری کے لیے کوئی نیک کام کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو ذلیل و رسوا کرے گا، اور جس نے ریاکاری کی تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کر دکھائے گا ۔
4206
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 5, Book 37, Hadith 4206 Arabic reference : Book 37, Hadith 4346
(سند میں عطیہ العوفی اور محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف ہیں، لیکن بعد کی حدیث جندب سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
Conclusion
تخریج
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۲۴۱، ومصباح الزجاجة:۱۵۰۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۰)

Related Chapters

77
1
Chapter: What Has Been Related About Showing Off And The Desire To Be Heard Of
باب: ریا و نمود اور شہرت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
بَاب الرِّيَاء والسمعة
ریا و شہرت کا بیان
Mishkat
3
(36) CHAPTER. Showing Off.
ریا اور شہرت طلبی کی مذمت میں
Sahih Bukhari
4
Chapter: What Has Been Related About: The Jimar Are Stoned With Pebbles Similar To Al-Khadhf
باب: جمرات کی رمی کے لیے کنکریاں ایسی ہوں کہ انگوٹھے اور شہادت والی انگلی سے پکڑ کر پھینکی جا سکیں
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About One Who Fights For Show And For Worldly Matters
باب: ریا و نمود اور دنیا طلبی کے لیے جہاد کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Learning Syrian
باب: سریانی زبان سیکھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
باب: سورۃ الذاریات میں «إني أنا الرزاق ذو القوة المتين» پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
باب: سورۃ الذاریات سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
9
بَاب رمي الْجمار
کنکریاں مارنے کا بیان
Mishkat
10
بَابٌ خُطْبَةُ يَوْمِ النَّحْرِ
قربانی کے دن خطبہ دینے ، ایام تشریق میں کنکریاں مارنے اور وداع کا بیان
Mishkat
11
جمرۂ عقبہ کی رمی سے یوم النحرکے آخر تک کے مناسک سے متعلقہ ابواب رمی جمار کی مشروعیت کا سبب اور ان کا حکم اورکنکریوں کی تعداد اور ان کے حجم کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ کنکریاں کہاں سے اٹھائی جائیں
Musnad Ahmad
12
منیٰ کی راتیں منیٰ میں بسر کرنے، ان دنوں میں جمروں کی رمی کرنے اور کچھ دوسرے امور کا بیان یوم النحر یعنی دس ذوالحجہ کے بعد والے دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور اس کے آداب کا بیان
Musnad Ahmad
13
ہدی کے معیّن جانور کو تبدیل نہ کرنا، اگر وہ نہ پایا جائے، جبکہ وہ اونٹ ہو تو اس کے متبادل سات بکریاں ہوں گی
Musnad Ahmad
14
اس چیز کا بیان کہ امام لشکر کے سپہ سالاروں سے مشورہ کرے، ان کی خیرخواہی کرے، ان کے ساتھ نرمی برتے اور ان سے ان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد لے
Musnad Ahmad
15
گھریا زمین کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرنے والے کا بیان
Musnad Ahmad
16
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
Musnad Ahmad
17
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
Musnad Ahmad
18
خوبصورت لباس کی رخصت، لیکن اس سلسلے میں تواضع کے مستحب ہونے اور شہرت اور اسبال کی کراہت کے ابواب خوبصورت لباس اور اس میںتواضع کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
19
لباس کے معاملے میں شہرت اور کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کی ممانعت اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
20
حفظ کر لینے کے بعد مکمل قرآن مجید کو یا بعض حصے کو بھلانے والے، یا اپنی قراء ت کی وجہ سے ریاکاری کرنے والا، یا اس کے ذریعے کھانے والا، یا اس پر عمل نہ کرنے والے کے لیے سخت وعید کا بیان
Musnad Ahmad
21
سورۂ ذاریات کی قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
22
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
Musnad Ahmad
23
عشاریات اور اس سے بھی زائد امور کا بیان
Musnad Ahmad
24
ریاکاری سے ترہیب کا بیان،یہی شرک ِ خفی ہے، ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں
Musnad Ahmad
25
سمندروں اور دریاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
26
یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
Musnad Ahmad
27
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
Musnad Ahmad
28
دریائے فرات کا سونے کے ایک پہاڑ سے سر کنے اور اس پر لوگوں کے لڑنے کا بیان
Musnad Ahmad
29
(16) CHAPTER. What has been said about the journey of Prophet Musa (Moses) علیہ السلام (when he went) in the sea to meet Al-Khidr.
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حضرت خضر علیہ السلام کے پاس دریا میں جانے کے ذکر میں
Sahih Bukhari
30
(36) CHAPTER. Whoever heard something (but did not understand it) and then asked again till he understood it completely.
اس بارے میں کہ ایک شخص کوئی بات سنے اور نہ سمجھے تو دوبارہ دریافت کر لے تاکہ وہ اسے ( اچھی طرح ) سمجھ لے ، یہ جائز ہے
Sahih Bukhari
31
(61) CHAPTER. Al-Hadath (Passing wind) in the mosque.
مسجد میں ریاح ( ہوا ) خارج کرنا
Sahih Bukhari
32
(55) CHAPTER. Ushr is to be imposed on the yield of the land which is either irrigated by rain or the running water channel.
اس زمین کی پیداوار سے دسواں حصہ لینا ہو گا جس کی سیرابی بارش یا جاری ( نہر ‘ دریا وغیرہ ) پانی سے ہوئی ہو اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے شہد میں زکوٰۃ کو ضروری نہیں جانا
Sahih Bukhari
33
(134) CHAPTER. To do the Ramy of the Jimar.
کنکریاں مارنے کا بیان
Sahih Bukhari
34
(4) CHAPTER. Ar-Raiyan (one of the gates of Paradise) is for people observing Saum (fast) people.
روزہ داروں کے لیے ریان ( نامی ایک دروازہ جنت میں بنایا گیا ہے اس کی تفصیل کا بیان )
Sahih Bukhari
35
(2) CHAPTER. To shepherd sheep for Qirat.
چند قیراط کی مزدوری پر بکریاں چرانا
Sahih Bukhari
36
(63) CHAPTER. The participation of a woman in a sea battle.
دریا میں سوار ہو کر عورت کا جہاد کرنا
Sahih Bukhari
37
(163) CHAPTER. The treatment of a wound with the ashes of a mat (made of date-palm leaves), and the washing of blood bay a lady off her father's face, and conveying water in a shield (for this purpose).
بوریا جلا کر زخم کی دوا کرنا اور عورت کا اپنے باپ کے چہرے سے خون دھونا اور ڈھال میں پانی بھربھر کر لانا
Sahih Bukhari
38
(15) CHAPTER. The best property of a Muslim will be sheep he takes to pasture on the tops of mountains.
مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہیں جن کو چرانے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھرتا رہے ۔
Sahih Bukhari
39
(43) CHAPTER. The Statement of Allah: “(This is) a mention of the mercy of your Lord to His slave Zakariya (Zachariah)... (up to) We have given that name to none before (him)”. (V.19:2-7)
حضرت زکریا علیہ السلام کا بیان ۔
Sahih Bukhari
40
(12) CHAPTER. The Statement of Allah: “Lawful to you is (the pursuit of) water-game and its use for food... for the benefit of yourselves. … (V.5:96)
سورۃ المائدہ کی اس آیت کی تفسیر کہ ” حلال کیا گیا ہے تمہارے لیے دریا کا شکار کھانا “
Sahih Bukhari
41
(6) CHAPTER. The superiority of a person who is suffering from epilepsy.
ریاح رک جانے سے جسے مرگی کا عارضہ ہو اس کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
42
(27) CHAPTER. To burn a mat made of palm-tree leaves (and put its ashes into a wound) to stop bleeding.
زخموں کا خون روکنے کے لیے بو ریا جلا کر زخم پر لگانا
Sahih Bukhari
43
(34) CHAPTER. The conditions required for doing a Ruqya with Surat Al-Fatiha.
سورۃ الفاتحہ سے دم جھاڑ کرنے میں ( بکریاں لینے کی ) شرط لگانا
Sahih Bukhari
44
(68) CHAPTER. The curly hair.
گھونگھریالے بالوں کا بیان
Sahih Bukhari
45
(33) CHAPTER. Can the land, sheep, farms and one‘s belongings be included in one's vows and oaths?
کیا قسموں اور نذروں میں زین ، بکریاں ، کھیتی اور سامان بھی آتے ہیں ؟
Sahih Bukhari
46
(38) CHAPTER. If someone accuses his wife or another person's wife of committing illegal sexual intercourse in the presence of the ruler and the people,should the ruler send for the lady and ask her about what she has been accused of?
اگر حاکم کے سامنے کوئی شخص اپنی عورت کو یا کسی دوسرے کی عورت کو زنا کی تہمت لگائے تو کیا حاکم کو یہ لازم ہے کہ کسی شخص کو عورت کے پاس بھیج کر اس تہمت کا حال دریافت کرائے
Sahih Bukhari
47
(3) CHAPTER. The Statement of Allah: “Verily Allah is the All-Provider, Owner of Power, the Most Strong.” (V.51:58)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ والذاریات میں ” میں بہت روزی دینے والا ‘ زوردار مضبوط ہوں ۔ “
Sahih Bukhari
48
Chapter: It is disliked to smooth the pebbles or make the dirt level during salat
نماز میں (ایک سے زیادہ بار )کنکریاں صاف کرنا اور مٹی کو برابر کرنا مکروہ ہے
Sahih Muslim
49
Chapter: It is recommended for the pilgrim to continue reciting the Talbiyah until he starts stoning Jamrat Al-'Aqabah on the day of sacrifice
قربانی کے دن جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے (کے وقت )تک حاجی کے لیے مسلسل تلبیہ پکارنا مستحب ہے
Sahih Muslim
50
Chapter: Stoning Jamrat Al-'Aqabah from the bottom of the valley; Makkah should be on to one's left and one should say Takbir with each throw
جمرہ عقبہ کو وادی کے اندر سے (اس طرح )کنکریاں مارنا کہ مکہ اس کے بائیں طرف ہو اور وہ ہر کنکری (مارنے )کے ساتھ تکبیر کہے
Sahih Muslim
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,229
Sunnan Ibn e Maja
4129
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ وَأَبُو كُرَيْبٍ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ،‏‏‏‏ عَنْمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى،‏‏‏‏ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ وَيْلٌ لِلْمُكْثِرِينَ،‏‏‏‏ إِلَّا مَنْ قَالَ:‏‏‏‏ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا،‏‏‏‏ وَهَكَذَا وَهَكَذَا أَرْبَعٌ عَنْ يَمِينِهِ،‏‏‏‏ وَعَنْ شِمَالِهِ،‏‏‏‏ وَمِنْ قُدَّامِهِ،‏‏‏‏ وَمِنْ وَرَائِهِ.
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Woe to the most wealthy except those who do such and such with the money, and such and such” – four things, (pointing) to his right, to his left, in front of him and behind him
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تباہی ہے زیادہ مال والوں کے لیے سوائے اس کے جو مال اپنے اس طرف، اس طرف، اس طرف اور اس طرف خرچ کرے، دائیں، بائیں، اور اپنے آگے اور پیچھے چاروں طرف خرچ کرے ۔
Sunnan Ibn e Maja
3799
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ،‏‏‏‏ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى،‏‏‏‏ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ قَالَ فِي دُبُرِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ،‏‏‏‏ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ،‏‏‏‏ لَهُ الْمُلْكُ،‏‏‏‏ وَلَهُ الْحَمْدُ،‏‏‏‏ بِيَدِهِ الْخَيْرُ،‏‏‏‏ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ،‏‏‏‏ كَانَ كَعَتَاقِ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل .
It was narrated from Abu Saeed that : the Prophet(ﷺ) said: Whoever says, following the morning prayer: La ilaha illallahu wahdahu la sahrikalau, lahul mulku wa lahul hamdu, bi yadihil khair, wa huwa ala kulli shay'in qadir (None has the right to be worshipped but Allah alone, with no partner or associate. His is the dominion, all praise is to Him, in His Hand is all goodness, and He is Able to do all things), it will be as if he freed slave from among the sons of Isma'il.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز صبح ( فجر ) کے بعد «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد بيده الخير وهو على كل شيء قدير» کہے تو اسے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے ۔
Sunnan Ibn e Maja
4123
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ،‏‏‏‏ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى،‏‏‏‏ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ،‏‏‏‏ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ،‏‏‏‏ بِمِقْدَارِ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ .
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “The poor Muhajirun will enter Paradise before the rich, the equivalent of five hundred years.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فقیر مہاجرین، مالدار مہاجرین سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ۔
Sunnan Ibn e Maja
4322
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ،‏‏‏‏ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى،‏‏‏‏ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْكَافِرَ لَيَعْظُمُ حَتَّى إِنَّ ضِرْسَهُ لَأَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ،‏‏‏‏ فَضِيلَةُ جَسَدِهِ عَلَى ضِرْسِهِ،‏‏‏‏ كَفَضِيلَةِ جَسَدِ أَحَدِكُمْ عَلَى ضِرْسِهِ .
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Prophet (ﷺ) said: “The disbeliever will be made huge so much so that his molar will be bigger than (Mount) Uhud, and the size of his body in relation to his molar will be like the size of the body of anyone of you in relation to his molar.”
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کافر جہنم میں اتنا بھاری بھر کم ہو گا کہ اس کا دانت احد پہاڑ سے بڑا ہو جائے گا، اور اس کا باقی بدن دانت سے اتنا ہی بڑا ہو گا جتنا تمہارا بدن دانت سے بڑا ہوتا ہے ۔
Sahih Muslim
3290
وَحَدَّثَنَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ سُهَيْلٍ، ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ ح، وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira (Allah be pleased with him) through another chain of transmitters.
سفیان بن عینیہ ، سہیل ، عبیداللہ ، وکیع اورسفیان ( ثوری ) سب نے سمی سے ، انھوں نے ابوصالح سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اورانھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک بن انس کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
Sahih Muslim
3340
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، وَابْنِ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «إِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ»، قَالَ: ثُمَّ كَانَ أَبُو سَعِيدٍ يَأْخُذُ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَجِدُ أَحَدَنَا فِي يَدِهِ الطَّيْرُ، فَيَفُكُّهُ مِنْ يَدِهِ، ثُمَّ يُرْسِلُهُ
Abd al-Rahman reported on the authority of his father Abu Sa'id (Allah be pleased with him) that he heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: I have declared sacred what is between the two lava grounds of Medina just as Ibrahim (peace be upon him) declared Mecca as sacred. He (the narrator) then said: Abu Sa'id caught hold of (Abu Bakr, another narrator, used the word found ) a bird in his hand and then released it from his hand and set it free.
سعید بن عبدالرحمان بن ابی سعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ عبدالرحمان نے انھیں اپنےوالد ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : " میں مدینہ کی دوسیاہ پتھروں والی زمین کے درمیانی حصے کوحرم قرار دیتا ہوں ، جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کوحرم قرار دیا تھا ۔ " کہا : پھر ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہم میں سے کسی کو پکڑ لیتے ، اور ابو بکر نے کہا : ہم میں سے کسی کو دیکھتے کہ اس کے ہاتھ میں پرندہ ہے ۔ تو اسے اس کے ہاتھ سے چھڑاتے ، پھر اسے آزاد کردیتے ۔
Sunnan Ibn e Maja
3903
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ وَأَبُو كُرَيْبٍ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ،‏‏‏‏ عَنْابْنِ أَبِي لَيْلَى،‏‏‏‏ عَنْ عَطِيَّةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ،‏‏‏‏ فَقَدْ رَآنِي،‏‏‏‏ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي .
It was narrated from Abu Sa’eed that the Prophet (ﷺ) said: “Whoever sees me in a dream has (really) seen me, for Satan cannot imitate me.”
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا یقیناً اس نے مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت نہیں اپنا سکتا ۔
Jam e Tirmazi
1912
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَكُونُ لِأَحَدِكُمْ ثَلَاثُ بَنَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ فَيُحْسِنُ إِلَيْهِنَّ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ اسْمُهُ سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ هُوَ سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ وُهَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ زَادُوا فِي هَذَا الْإِسْنَادِ رَجُلًا.
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that : the Messenger of Allah said: There is no one who has three daughters, or three sisters, and he treats them well, except that he enters paradise.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے پاس تین لڑکیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو جنت میں ضرور داخل ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری کا نام سعد بن مالک بن سنان ہے، اور سعد بن ابی وقاص کا نام سعد بن مالک بن وہیب ہے، ۲- اس حدیث کی دوسری سند میں راویوں نے ( سعید بن عبدالرحمٰن اور ابوسعید کے درمیان ) ایک اور راوی ( ایوب بن بشیر ) کا اضافہ کیا ہے، ۳- اس باب میں عائشہ، عقبہ بن عامر، انس، جابر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
1999
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبٍ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ يَعْنِي مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ:‏‏‏‏ إِنَّهُ يُعْجِبُنِي أَنْ يَكُونَ ثَوْبِي حَسَنًا وَنَعْلِي حَسَنًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْجَمَالَ وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ بَطَرَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَفْسِيرِ هَذَا الْحَدِيثِ:‏‏‏‏ لَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِنَّمَا مَعْنَاهُ:‏‏‏‏ لَا يُخَلَّدُ فِي النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ وَقَدْ فَسَّرَ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ هَذِهِ الْآيَةَ رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ سورة آل عمران آية 192 فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ تُخَلِّدُ فِي النَّارِ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ.
Abdullah narrated: The Messenger of Allah said: 'Whoever has a speck of pride (arrogance) in his heart, shall not be admitted into Paradise. And whoever has a speck of faith in his heart, shall not be admitted in to the Fire.' He said: So a man said to him: 'I like for my clothes to be nice, and my sandals to be nice?' So he said: 'Indeed Allah loves beauty. But pride is refusing the truth and belittling the people.'
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں وہ شخص داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے برابر بھی تکبر ( گھمنڈ ) ہو، اور جہنم میں داخل نہیں ہو گا یعنی وہ شخص جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو“ ۱؎۔ ایک آدمی نے آپ سے عرض کیا: میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے کپڑے اور جوتے اچھے ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ جمال ( خوبصورتی ) کو پسند کرتا ہے، لیکن تکبر اس شخص کے اندر ہے جو حق کونہ مانے اور لوگوں کو حقیر اور کم تر سمجھے“۔ بعض اہل علم اس حدیث: «ولا يدخل النار يعني من كان في قلبه مثقال ذرة من إيمان» کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا وہ جہنم سے بالآخر ضرور نکلے گا“، کئی تابعین نے اس آیت «ربنا إنك من تدخل النار فقد أخزيته» ( سورۃ آل عمران: ۱۹۲ ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا ہے: اے میرے رب! تو نے جس کو جہنم میں ہمیشہ کے لیے ڈال دیا اس کو ذلیل و رسوا کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔