TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حفظ کر لینے کے بعد مکمل قرآن مجید کو یا بعض حصے کو بھلانے والے، یا اپنی قراء ت کی وجہ سے ریاکاری کرنے والا، یا اس کے ذریعے کھانے والا، یا اس پر عمل نہ کرنے والے کے لیے سخت وعید کا بیان - حفظ کر لینے کے بعد مکمل قرآن مجید کو یا بعض حصے کو بھلانے والے، یا اپنی قراء ت کی وجہ سے ریاکاری کرنے والا، یا اس کے ذریعے کھانے والا، یا اس پر عمل نہ کرنے والے کے لیے سخت وعید کا بیان - قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 10 of قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 10 of 10 · 7 Hadith
۔ (۸۳۹۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیَقْرَأَ نَّ الْقُرْآنَ أَ قْوَامٌ مِنْ أُمَّتِی،یَمْرُقُونَ مِنْ الْإِسْلَامِ، کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنْ الرَّمِیَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۲)
۔ سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دس افراد کا امیر اور مسئول قیامت کے دن اس حال میں آئے گاکہ لوہے (کی زنجیر) سے جکڑا ہوا ہو گا، اس قید سے آزاد کرانے والی چیز اس کا عدل و انصاف ہو گا، اور جو آدمی قرآن مجید پڑھنے کے بعد بھلا دیتا ہے، وہ اللہ تعالی کو اس حال میں ملے گا کہ اس کا ہاتھ کٹا ہوا (یا کوڑھ زدہ) ہو گا۔
8394
Sahih
۔ (۸۳۹۵)۔ عَنْ بَشِیْرِ بْنِ اَبِیْ عَمْرٍو الْخَوْلَانِیِّ اَنَّ الْوَلِیْدَ بْنَ قَیْسٍ حَدَّثَہُ اَنَّہُ سَمِعَ اَبَا سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یَکُوْنُ خَلْفٌ مِنْ بَعْدِ سِتِّیْنَ سَنَۃً {اَضَاعُوا الصَّلَاۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوَاتِ فسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا} [مریم: ۵۹] ثُمَّ خَلَفٌ یَقْرَؤُنَ الْقُرْآنَ لَا یَعْدُوْا تَرَاقِیَہِمْ، وَیَقْرَاُ الْقُرْآنَ ثَلَاثَۃٌ، مُؤْمِنٌ وَمُنَافِقٌ وَ فَاجِرٌ۔))، قَالَ بَشِیْرُ: فَقُلْتُ لِلْوَلِیْدِ: مَا ھٰؤُلَائِ الثَّلَاثَۃُ؟ فَقَالَ: الْمُنَافِقُ کَافِرٌ بِہٖ،وَالْفَاجِرُیَتَاَکَّلُ بِہِ، وَالْمُؤْمِنُ یُؤْمِنُ بِہٖ۔ (مسنداحمد: ۱۱۳۶۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے کچھ لوگ قرآن مجید ضرور پڑھیں گے، لیکن اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔
Takhreej
(۸۳۹۵) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابن حبان: ۷۵۵، والحاکم: ۲/ ۳۷۴ (انظر: ۱۱۳۴۰)
Explanation
فوائد:… تیر اتنی تیزی سے شکار کو زخمی کر کے نکل جاتا ہے کہ اس پر خون کے اثرات بھی نظر نہیں آتے، حالانکہ وہ اپنا کام کر چکا ہوتا ہے، اسی طرح قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے بعض لوگ دعوی تو اسلام کا کریں گے، لیکن وہ ایسے فتنوںمیںمبتلا ہو جائیں گے کہ جن کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہو گا، اکثر محدثین اور شارحین کے نزدیک ایسے لوگوں سے مراد خوارج ہیں، جن کا ذکر اگلے ابواب میں آئے گا۔ لیکن اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں، جو تلاوت ِ قرآن مجید میں بڑا شہرہ رکھتے ہیں، لیکن عملی طور پر اسلام کے تقاضوںسے کوسوں دور ہوتے ہیں اور اکثر میں واضح طور پر ریاکاری کا بھی اندازہ ہو رہا ہوتا ہے۔
8395
Sahih
۔ (۸۳۹۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ اَنَّہٗقَالَ: اِنَّرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَامَ تَبُوْکَ خَطَبَ النَّاسَ، وَھُوَ مُسْنِدٌ ظَہْرَہُ اِلَی نَخْلَۃٍ فَقَالَ: ((وَاِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلًا فَاجِرًا جَرِیْئًایَقْرَاُ کِتَابَ اللّٰہِ وَلَا یَدْعُو اِلٰی شَیْئٍ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۵۷۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ساٹھ سال بعد ایسے نااہل لوگ پیدا ہوں گے جو نمازوں کو ضائع کر دیں گے اور شہوات کی اتباع کریں گے، ارشادِ باری تعالی ہے: {اَضَاعُوا الصَّلَاۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوَاتِ فسَوْفَ یُلْقَوْنَ غَیًّا} … پھر ان کے بعد ایسے نالائق جانشین ان کی جگہ آئے جنھوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے تو وہ عنقریب گمراہی کو ملیں گے۔ پھر ان کے بعد نااہل ہوں گے، جو قرآن مجید تو پڑھیں گے، لیکن وہ ان کی ہنسلی کی ہڈی سے نیچے نہیں اترے گا، قرآن مجیدکی تلاوت تین قسم کے لوگ کرتے ہیں: مومن، منافق اور فاجر۔ بشیر راوی نے کہا: میں نے ولید سے پوچھا: یہ تین آدمی کون ہیں؟ انھوں نے کہا: منافق بھی دراصل قرآن مجید کا منکر ہوتا ہے،فاجر اس کے ذریعے کھاتا ہے اور مومن اس پر ایمان لاتاہے۔
Takhreej
(۸۳۹۶) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرجہ النسائی: ۶/۱۱ (انظر: ۱۱۵۴۹)
Explanation
فوائد:… ایسے ہی ہوا، جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا،۶۰؁ھکےبعدشرّوفساداورقتلوغارتگری بڑھ گئی اور مسلمانوں میں اختلاف زیادہ ہو گیا۔ رجب ۶۰؁ھکےاوائلمیں سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وفات پائی، اسی دن یزید برسرِ اقتدار آ گیا تھا۔ قرآن مجید کے تعلیم و تعلّم سے متعلقہ افراد کو چاہیے کہ وہ بار بار اپنے عزائم کا جائزہ لیں۔
8396
Sahih
۔ (۸۳۹۷)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: مَرَّ بِرَجُلٍ وَھُوَ یَقْرَأُ عَلٰی قَوْمٍ فَلَمَّا فَرَغَ سَأَلَ، فَقَالَ: اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ قَرَاَ الْقُرْآنَ فَلْیَسْاَلِ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی بِہٖفَاِنَّہُسَیَجِیْئُ قَوْمٌ یَقْرَؤُنَ الْقُرْآنَ یَسْاَلُوْنَ النَّاسَ بِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۰۱۸۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تبوک والے سال لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک کھجور کے درخت کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں بدترین وہ آدمی ہے جو فاجر ہو اور جرات مند ہو، جو اللہ تعالیٰ کی کتاب کیتلاوت کرتا ہے، لیکن وہ اس کی کسی چیز کی طرف دعوت نہ دیتا ہو۔
Takhreej
(۸۳۹۷) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۹۱۷(انظر:۱۹۹۴۴)
Explanation
فوائد:… وَلَا یَدْعُوْ کی بجائے سنن نسائی اور مستدرک حاکم کی روایات کے الفاظ یہ ہیں: لَا یَرْعَوِیْ اور اس لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ وہ اس قرآن مجید کی روکی ہوئی چیز سے رکتا نہیں ہے۔ بعض لوگوں کو شرعی علوم کا مطالعہ کرنے کا بڑا شوق ہوتا ہے اور وہ اس شوق کو پورا کرنے کے لیے مختلف تفاسیر قرآن اور شروح احادیث کا مطالعہ بھی کرتے ہیں، لیکن ان میں عمل کی کوئی رغبت پیدا نہیں ہوتی، ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ قرآن و حدیث کا مطالعہ کرنے کا صرف یہ مقصد ہونا چاہیے کہ ان پر عمل کیا جائے۔ ان کی طرف لوگوں کو بلایا جائے تاکہ وہ بھی عمل کریں۔
8397
Sahih
۔ (۸۳۹۸)۔ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ ابْنِ شِبْلٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَؤُا الْقُرْآنَ، وَلَا تَاْکُلُوْا بِہٖ،وَلَاتَسْتَکْثِرُوْابِہٖ،وَلَاتَجُفُّوْا عَنْہٗ، وَلَا تَغْلُوْا فِیْہٖ)) (مسند احمد: ۱۵۶۲۰)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ لوگوں پر قرآن مجید پڑھ رہا تھا، جب وہ فارغ ہوا تو اس نے لوگوں سے سوال کیا، انھوں نے یہ صورتحال دیکھ کر کہا: اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، بیشک میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو قرآن مجید پڑھے، وہ اس کے ذریعے اللہ تعالی سے سوال کرے، پس عنقریب ایسے لوگ آئیں گے، جو قرآن مجید تو پڑھیں گے، لیکن لوگوں سے اس کے ذریعے سوال کریں گے۔
Takhreej
(۸۳۹۸) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۲۵۹۵، والبزار: ۲۳۲۰ (انظر: )
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے معنی و مفہوم کو سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۶۱۴۱)والا اور اس کی احادیث کی شرح۔
8398
Sahih
۔ (۸۳۹۹)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَکْثَرُ مُنَافِقِیْ اُمَّتِیْ قُرَّاؤُھَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۵۰۱)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن شبل انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید پڑھا کرو، نہ اس کو کھانے کا ذریعہ بناؤ، نہ اس کے ذریعے مالِ کثیر جمع کرو، نہ اس کے معاملے میں سنگدل ہو جاؤ اور نہ اس میں غلوّ اور تشدد کرو۔
Takhreej
(۸۳۹۹) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۸۴۱ (انظر: ۱۷۳۶۷)
Explanation
فوائد:… غلوّ میں نہ پڑو: الفاظ اور معنی کے اعتبار سے اس سے تجاوز نہ کرو، یعنی نہ اس کی قراء ت میں زیادہ مشقت کرو اور نہ اس کی باطل تاویلیں کرو۔ سنگدل نہ ہو جاؤ: اس کی تلاوت سے دور نہ ہو جاؤ۔ ان دو جملوں کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن مجید کے حقوق کو سمجھو، اس کے معاملے میں افراط و تفریط سے بچو اور میانہ روی اختیار کرو۔
8399
Sahih
۔ (۸۴۰۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسنداحمد: ۶۶۳۳)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کے اکثر منافق قراء ہوں گے۔
Takhreej
(۸۴۰۰) تخریج: صحیح ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۳/ ۲۲۸ (انظر: ۶۶۳۳)
Explanation
فوائد:… ہم ذاتی مشاہدے کی بات کرنا چاہیں گے کہ زیادہ تر قاری حضرات مقاصد ِ قرآن، احکامِ قرآن اور روحِ قرآن سے غافل ہوتے ہیں، تشریحاتِ نبویہ اور اسلامی آداب سے محروم ہوتے ہیں، صرف اس بنا پر لمبے لمبے سانسوں اور خوش الحانی کی مشق کرتے ہیں کہ لوگ ان کی تلاوت سن کر بلّے بلّے اور عش عش کر اٹھیں۔ قارئین کرام! اگر آپ اتفاق نہ کریں تو ہمارا سوال یہ ہو گا کہ ایک قاری تلاوت کر رہا ہے، سات آٹھ آیات پر مشتمل سورت ایک سانس میں تلاوت کرنا چاہی، سانس لمبا کرنے کی وجہ سے چہرہ سرخ ہو چکا ہے، اپنے مقصودِتک پہنچنے کے لیے کبھی ٹانگ کو حرکت دیتا ہے، کبھی سر ہلاتا ہے، پیشانی کو ہاتھوں سے دبایا ہوا ہے، منہ کا عجیب ڈیزائن بن چکا ہے، آیات کے معانی سے بالکل غافل ہے، سامعین داد دینے کے لیے دونوں ہاتھ بلند کر چکے ہیں۔ کس نے یہ تکلف کرنے پر مجبور کیا؟ کیا محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اندازِ تلاوت کافی نہیں ہے؟ کئی قراء کرام سے واسطہ پڑا، شعبہ حفظ کے کامیاب استاد ہوتے ہیں، لیکن نمازوں تک سے غافل اور اخلاقی جرائم میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔ سچ فرمایا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہ اکثر قاریوں میں نفاق ہوتا ہے، بظاہر قرآن مجید کے ساتھ اپنے تعلق کا بڑا اظہار کرتے ہیں، لیکن حقیقت میںنزولِ قرآن کے مقصد سے غافل ہوتے ہیں۔ بہرحال نیک سیرت اور حسن کردار والے قاری حضرات موجود ہیں، اللہ تعالی ان کی تعداد میں اضافہ فرمائے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ علم، فقاہت فی الدین اور عمل پر توجہ دینی چاہیے۔ خطبا کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو علم و عمل اور اصلاح و تقوی کی بھی تعلیم دیں، جو شریعت کا اصل مقصود ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
8400
Sahih

Chapters

10
01
(قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت)
11 Hadith
02
قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب
8 Hadith
03
قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے
7 Hadith
04
بوریت کے ڈر سے قراء ت ِ قرآن میںمیانہ روی اختیار کرنے کا، نیز اس چیز کا بیان کہ کتنے دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کی جائے
4 Hadith
05
قرآن مجید کی تلاوت پر سکینت اور فرشتوں کے نزول کا بیان
2 Hadith
06
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کی فضیلت کا بیان مکمل قرآن مجید حفظ کر لینے والے صحابۂ کرام کا بیان
6 Hadith
07
عذاب والی آیتیا رحمت والی آیت اور بعض سورتوں کی تکمیل کے وقت قاری کے لیے مستحب ذکر کا بیان
2 Hadith
08
قرآن مجید سننے کی فضیلت اور اس وقت رونے کا بیان
3 Hadith
09
قرآن مجید کی دیکھ بھال کرنے اور اس کو یاد رکھنے کا بیان اور اس سے ممانعت کہ بندہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں
5 Hadith
10
حفظ کر لینے کے بعد مکمل قرآن مجید کو یا بعض حصے کو بھلانے والے، یا اپنی قراء ت کی وجہ سے ریاکاری کرنے والا، یا اس کے ذریعے کھانے والا، یا اس پر عمل نہ کرنے والے کے لیے سخت وعید کا بیان
7 Hadith
No chapter matched that.