۔ (۸۳۴۵)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((لَا حَسَدَ اِلَّا فِی اِثْنَتَیْنِ، رَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ الْقُرْآنَ فَہُوَ یَقُوْمُ بِہٖآنَائَاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ، وَرَجُلٌ آتَاہُ اللّٰہُ مَالًا فَہُوَ یُنْفِقُہُ فِی الْحَقِّ آنَائَ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ)) (مسند احمد: ۴۹۲۴)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا درست ہے، ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالی نے قرآن دیا ہو اور وہ رات اور دن کی گھڑیوں میں اس پر عمل کرتا ہو اور دوسرا وہ آدمی جس کو اللہ تعالی مال عطا کرے اور وہ دن رات اس کو حق میں خرچ کرتا ہو۔
Takhreej
(۸۳۴۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۵۲۹، ومسلم: ۸۱۵(انظر: ۴۹۲۴)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں حسد سے مراد رشک ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ دوسرے شخص پر نظر آنے والی نعمت کے بارے میں یہ خواہش کرنا کہ وہ اس کو بھی دی جائے لیکن بیچ میں یہ خواہش نہ ہو کہ یہ نعمت اس شخص سے زائل ہو جائے۔
8345
Sahih