TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قرآن مجید کی دیکھ بھال کرنے اور اس کو یاد رکھنے کا بیان اور اس سے ممانعت کہ بندہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں - قرآن مجید کی دیکھ بھال کرنے اور اس کو یاد رکھنے کا بیان اور اس سے ممانعت کہ بندہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں - قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 9 of قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 10 · 5 Hadith
۔ (۸۳۸۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بِئْسَمَا لِأَ حَدِکُمْ أَ وْ بِئْسَمَا لِأَ حَدِہِمْ أَ نْ یَقُولَ: نَسِیتُ آیَۃَ کَیْتَ وَکَیْتَ بَلْ ہُوَ نُسِّیَ، اسْتَذْکِرُوا الْقُرْآنَ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! لَہُوَ أَ شَدُّ تَفَصِّیًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنْ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِہَا)) (مسند احمد: ۳۹۶۰)
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بری بات ہے کہ آدمییہ کہے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ مجھے بھلا دی گئی ہے۔ قرآن کو یاد رکھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ قرآن رسی سے نکل کر بھاگنے والی اونٹنی کی بہ نسبت لوگوں کے سینوں سے جلدی نکل جانے والا ہے۔
Takhreej
(۸۳۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۳۲، ومسلم: ۷۹۰ (انظر: ۳۹۶۰)
8389
Sahih
۔ (۸۳۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہ۔ (مسند احمد: ۱۹۷۷۵)
۔ (دوسری سند)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کی نگہداشت رکھو، یہ قرآن رسی سے نکل کر بھاگنے والی اونٹنی کی بہ نسبت لوگوں کے سینوں سے جلدی نکل جانے والا ہے۔ نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھییہ نہ کہا کرے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ یہ کہا کرے کہ اس کو بھلا دیا گیا ہے۔
Takhreej
(۸۳۹۰) تخریج: ۔ أخرجہ البخاری: ۵۰۳۳، ومسلم: ۷۹۱ (انظر: ۱۹۵۴۶)
Explanation
فوائد:… میںفلاں آیت بھول گیا۔ اپنی طرف نسیان کی نسبت کرنے سے ممانعت اس لیے ہے کہ انسان ان لوگوں کے زمرے میں شامل نہ ہو جائے، جن کی اللہ تعالی نے اس طرح مذمت کی ہے: {کَذَالِکَ اَتَتْکَ آیٰتُنَا فَنَسِیْتَھَا وَکَذَالِکَ الْیَوْمَ تُنْسٰی۔} … جس طرح (دنیا میں) تیرے پاس ہمارے آیتیں آئیں، لیکن تو نے ان کو بھلا دیا، اسی طرح آج (قیامت کے دن) تجھے بھی بھلا دیا جائے گا۔ چنانچہ ایسی بات کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے، ویسے بھییہ بات انسان کی سستی اور غفلت پر دلالت کرتی ہے۔ قرآن مجید کو بھول جانا، یہ دراصل بندے کا فعل نہیں ہوتا، بلکہ اللہ تعالی کا فعل ہوتا ہے اور وہ اس طرح کہ جب بندہ قرآن مجید کو دوہرانے سے غفلت برتتا ہے تو اللہ تعالی اس کی سزا کے طور پر اس کو قرآن مجید بھلا دیتا ہے۔
8390
Sahih
۔ (۸۳۹۱)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہٗقَالَ: ((مَثَلُصَاحِبِالْقُرْآنِمَثَلُصَاحِبِالْاِبِلِالْمُعَقَّلَۃِ، اِنْ عَقَلَہَا صَاحِبُہَا حَبَسَہَا، وَاِنْ اَطْلَقَہَا ذَھَبَتْ)) (مسند احمد: ۴۶۶۵)
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۸۳۹۱) تخریج: أخرجہ البخاری:۵۰۳۱، ومسلم: ۷۸۹ (انظر: ۴۶۶۵)
8391
Sahih
۔ (۸۳۹۱م)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْقُرْآنِ اِذَا عَاھَدَ عَلَیْہِ صَاحِبُہُ فَقَرَأَہٗبِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ کَمَثَلِ رَجُلٍ لَہٗاِبِلٌ،فَاِنْعَقَلَہَاحَفِظَہَاوَاِنْاَطَلَقَعُقُلَہَاذَھَبَتْ،وَکَذٰلِکَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ۔)) (مسند احمد: ۴۹۲۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: صاحب ِ قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی سی ہے، اگر اس کا مالک اس کو باندھے رکھے تو اس کو روکے رکھے گا اور اگر وہ اس کو کھول دے تو وہ بھاگ جائے گا۔
Takhreej
(۸۳۹۲) تخریج: صحیح لغیرہ دون قولہ: وما من احد تعلم القرآن… وھذا اسناد ضعیف لابھام الراوی عن سعد بن عبادۃ، ولجھالۃ عیسی بن فائد ۔ أخرجہ مختصرا ابوداود: ۱۴۷۴ (انظر: ۲۲۴۵۶)
8392
Sahih
۔ (۸۳۹۲)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ اَمِیْرِ عَشَرَۃٍ اِلَّا یُوْتٰی بِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَغْلُوْلًا، لَا یَفُکُّہُ مِنْ ذٰلِکَ الْغُلِّ إِلَّا الْعَدْلُ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَنَسِیَہُ إِلَّا لَقِیَ اللّٰہَ یَوْمَیَلْقَاہُ وَہُوَ أَجْذَمُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۸۲۳)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قرآن کی مثال یہ ہے کہ جب اس کا قاری اس کا خیال رکھے اور دن رات اس کی تلاوت کرتا رہے تو یہ اس کو یاد رہے گا، یہ مثال اس آدمی کی سی ہے، جس کے اونٹ ہوں، اگر وہ ان کو باندھے رکھے تو وہ ان کو روکے رکھے گا اور اگر وہ ان کو چھوڑ دے تو وہ چلے جائیں گے، یہی مثال صاحب ِ قرآن کی ہے۔
Takhreej
(۸۳۹۳) تخریج: (۸۳۹۴) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۷۱ (انظر: ۲۳۱۲)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ صا حب ِ قرآن کو چاہیے کہ وہ اپنی منزل کا خیال رکھے اور باقاعدگی سے تلاوت کرتا رہے، تاکہ نسیان سے محفوظ رہے، جو کہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت کی ناقدری ہے۔
8393
Sahih

Chapters

10
01
(قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت)
11 Hadith
02
قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب
8 Hadith
03
قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے
7 Hadith
04
بوریت کے ڈر سے قراء ت ِ قرآن میںمیانہ روی اختیار کرنے کا، نیز اس چیز کا بیان کہ کتنے دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کی جائے
4 Hadith
05
قرآن مجید کی تلاوت پر سکینت اور فرشتوں کے نزول کا بیان
2 Hadith
06
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کی فضیلت کا بیان مکمل قرآن مجید حفظ کر لینے والے صحابۂ کرام کا بیان
6 Hadith
07
عذاب والی آیتیا رحمت والی آیت اور بعض سورتوں کی تکمیل کے وقت قاری کے لیے مستحب ذکر کا بیان
2 Hadith
08
قرآن مجید سننے کی فضیلت اور اس وقت رونے کا بیان
3 Hadith
09
قرآن مجید کی دیکھ بھال کرنے اور اس کو یاد رکھنے کا بیان اور اس سے ممانعت کہ بندہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں
5 Hadith
10
حفظ کر لینے کے بعد مکمل قرآن مجید کو یا بعض حصے کو بھلانے والے، یا اپنی قراء ت کی وجہ سے ریاکاری کرنے والا، یا اس کے ذریعے کھانے والا، یا اس پر عمل نہ کرنے والے کے لیے سخت وعید کا بیان
7 Hadith
No chapter matched that.