قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے - قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے - قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 3 of قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے سامنے ایسے لوگوں کا ذکر کیا گیا، جو ایک رات میں ایک دو دو بار قرآن مجید پڑھ لیتے ہیں، سیدہ نے ان کے بارے میں کہا: ان کا پڑھنا بھی نہ پڑھنے کی طرح ہے، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساری رات قیام کرتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورۂ بقرہ، سورۂ آل عمران اور سورۂ نساء پڑھتے تھے اور جب خوف والی آیت کی تلاوت کرتے تواللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور پناہ طلب کرتے اور اگر خوشخبری والی آیت کے پاس سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور اس کے سامنے عاجزانہ درخواست کرتے۔
فوائد:… یہ وہ لوگ تھے جو زبان سے تو قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے، لیکن ان کے دلوں نے نہ اس کتاب کو سمجھا اور نہ اس سے متأثر ہوئے۔قرآن مجید کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیے؟ ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۳۷۳م)
۔ ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی بیوی سے سوال کیا گیا، میرا خیال تو یہی ہے کہ وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا تھا، انہوں نے کہا: تم اُس اندازِ تلاوت کی طاقت نہیں رکھتے، پھر انھوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ}۔
فوائد:… یہ حدیث مختلف طرق سے روایت کی گئی ہے، دو سندیں اور ان کے متون درج ذیل ہیں غور فرمائیں: ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں: قَالَ نَافِعٌ: أُرَاھَا حَفْصَۃَ أَنَّہَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَائَ ۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَتْ: إِنَّکُمْ لاَتَسْتَطِیْعُوْنَہَا، قَالَ: فَقِیْلَ لَھَا: أَ خْبِرِیْنَا بِہَا، قَالَ: فَقَرَأَ تْ قِرَائَ ۃً تَرَسَّلَتْ فِیْہَا، قَالَ أَ بُوْعَامِرٍ: قَالَ نَافِعٌ: فَحَکٰی لَنَا اِبْنُ أَ بِی مُلَیْکَۃَ {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} ثُمَّ قَطَعَ، {اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ}، ثُمَّ قَطَعَ، {مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن}۔ ایک زوجۂ رسول، غالبا وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں، بیان کرتی ہیں کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: تم تو اس کی استطاعت ہی نہیں رکھتے۔ کسی نے ان سے کہا: آپ ہمیں بتلا تو دیں۔ جوابا ً انہوں نے قراء ت کی اور اس میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھا۔ابن ابی ملیکہ نے اس کو یوں بیان کیا: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} پڑھا، پھر ٹھہر گئے، پھر {اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} پڑھا اور اس پر وقف کیا، پھر {مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن} پڑھا۔ ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر آیت پر ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے تھے: {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن}۔ (مسند احمد: ۲۶۵۸۳، ابوداود: ۴۰۰۱، ترمذی: ۲۹۲۷)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کے دوران ہر آیت پر وقف بھی کیا جائے اور ٹھہراؤ کا بھی خیال رکھا جائے۔ وائے مصیبت! اکثر مسلمان تلاوت ِ قرآن کے سلسلے میں مقدار کی طرف توجہ کرتے ہیں، معیار کو نہیں دیکھتے، بالخصوص تراویح اور رمضان میں۔ ان کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پاروں کی تلاوت کرکے جلدی جلدی قرآن مجید ختم کیا جائے۔ ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ سب سے پہلے اپنے عمل میں معیار کے مطابق حسن پیدا کریں، ترتیل کے ساتھ تلاوت کریں اور ہر ایک آیت پر وقف کریں، اگر زیادہ مقدار چاہتے ہیں تو زیادہ وقت دیں۔
۔ امام قتادہ رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کیسی تھی؟ انھوں نے کہا: آپ کھینچ کھینچ کر اور لمبا کر کے قراء ت کرتے تھے۔
Takhreej
(۸۳۶۷) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۲۶۴۵۱)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالی ہے: {وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلًا} (سورۂ مزمل: ۴) … قرآن مجید کو صاف صاف اور عمدہ طریقہ پر پڑھا کرو۔
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے سال اپنے سفر میں سورۂ فتح کی تلاوت کی، اور ایک روایت میں ہے: سورۂ فتح اس وقت نازل ہوئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سواری پر اس کی تلاوت کی اور بلند آواز میں تلاوت کرتے ہوئے آواز کو گلے میں گھمایا، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر لوگوں کے مجھ پر جمع ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت نقل کرتا۔
Takhreej
(۸۳۶۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۴۵ (انظر: ۱۲۱۹۸)
Explanation
فوائد:… فَرَجَّعَ : بلند آواز میں تلاوت کرتے ہوئے آواز کو گلے میں گھمانا، اس سے ایک خاص قسم کا حسن اور نغمہ پیدا ہوتا ہے۔
۔ سیدنا معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیںیہ اوپر والی حدیث کی مانند ہی بیان کرتے ہیں ابن جابان نے کہا آء آء یعنی الف کو کھینچ کر پڑھتے تھے۔
فوائد:… آہ آہ کے الفاظ صحیح بخاری میںیوں ہیں: آء آء آئ۔یہ اتار چڑھاؤ کے ساتھ آواز کو گلے میں گھمانے کا انداز ہے، تجوید کا ماہر آدمی عملی طور پر آپ کو بتا سکتا ہے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مکہ والے دن قراء ت کرتے ہوئے سنا، اگر مجھ پر لوگوں کا ہجوم ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کی نقل اتارتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ فتح پڑھی تھی۔معاویہ بن قرہ نے کہا: اگر مجھ پر لوگوں کے جمع ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کی بتلائی ہوئی سورت کی نقل اتارتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیسے تلاوت کی تھی، غندر راوی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز کو گھما کر پڑھا تھا۔
فوائد:… مذکورہ آیتیہ تھی: {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَ نْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ} … اگر تو ان کو عذاب دے تو بیشک وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو بیشک تو ہی غالب حکمت والا ہے۔ [المائدۃ: ۱۱۸]آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پورے قیام میں یہی آیت پڑھتے رہے، اس آیت میں اللہ تعالی کے سامنے عجیب انداز میں عاجزی کا اظہار کیا گیا ہے۔