سمندروں اور دریاؤں کا بیان - سمندروں اور دریاؤں کا بیان - کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Chapter 5 of کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار دریا جنت سے پھوٹتے ہیں: فرات، نیل، سیحان اور جیحان۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیحان، جیحان، فرات اور نیل ساری جنت کی نہروں میں سے ہیں۔
Takhreej
(۱۰۲۲۷) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: جس طرح انسان کی اصل جنت سے ہے، اسی طرح ممکن ہے کہ دریائے نیل اور دریائے فرات کی اصل جنت سے ہو، جیسا کہ ارشادِ نبوی ہے: ((فُجِّرَتْ اَرْبَعَۃُ اَنْھَارٍ مِنَ الْجَنَّۃِ: اَلْفَرَاتُ وَالنَّیْلُ، وَالسَّیْحَانُ وَجَیْحَانُ۔)) (مسند احمد) … چار نہریں جنت سے پھوٹتی ہیں: فرات، نیل، سیحان، جیحان۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ دریا معروف چشموں سے پھوٹ رہے ہیں۔اس تعارض کو یوں دور کیا جائے گا کہ حدیث کا تعلق غیبی امور سے ہے، جس پر ایمان لانااور اس کی اطلاع دینے والے کے سامنے سر تسلیمِ خم کرنا واجب ہے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَـلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰییُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا ۔} (سورۂ نسا: ۶۵) … سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں، ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں۔
۔ صباح بن اشرس سے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مد و جزر کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: ایک فرشتے کو سمندر کے درمیانے اور بڑے حصے پر مقرر کیا گیا ہے ، جب وہ اپنی ٹانگ اس میں رکھتا ہے تو پانی زیادہ ہو جاتا ہے اور جب وہ اس کو اٹھا لیتا ہے تو پانی کم ہو جاتا ہے۔
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر رات کو سمندر تین بار زمین پر جھانکتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے زمین والوں پر بہہ پڑنے کی اجازت طلب کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کو روک لیتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۲۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ الشیخ الذی روی عنہ العوام بن حوشب، وابو صالح مولی عمر مجھول ایضا(انظر: ۳۰۳)
Explanation
فوائد:… زمین پر (۸۰) فیصد پانی ہے اور (۲۰) فیصد خشکی، جب پانی بغاوت کر جائے تو انسان اس کے سامنے بالکل بے بس ہو جاتا ہے، سیلاب کے موقع پر مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، اب تو سونامی کا واقعہ بڑا مشہور ہو گیا ہے۔
۔ سیدنایعلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سمندر جہنم ہی ہے۔ لوگوں نے سیدنایعلی رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ظالموں کے لیے ہم نے وہ آگ تیار کر رکھی ہے، جس کی قناتیں انہیں گھیر لیں گی۔ (سورۂ کہف: ۲۹) انھوں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میںیعلی کی جان ہے! میں اس میں کبھی بھی داخل نہیں ہوں گا، یہاں تک کہ مجھے اللہ تعالیٰ پر پیش کیا جائے اور اس کا ایک قطرہ مجھ تک نہیں پہنچ سکتا، یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ سے جا ملوں۔
Takhreej
(۱۰۲۳۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن حیی مجھول، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۵۹۶، والبیھقی: ۴/ ۳۳۴ (انظر: ۱۷۹۶۰)
Explanation
فوائد:… سمندر کو جہنم قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ سمندری سفر بڑے خطرے سے خالی نہیں ہے، جب سمندر کے بیچ میں کوئی مسئلہ بن جائے تو آدمی اپنے آپ کو بالکل بے سہارا سمجھنے لگتا ہے، لہٰذا حج یا اس قسم کی اہم ضرورت کے لیے سمندری سفر کرنا چاہیے، وگرنہ نہیں۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: بیشک ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی اٹھاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کریں تو پیاس لگتی ہے، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سمندر کا پانی پاک اور پاک کرنے والا ہے، اس کا ذائقہ جیسا بھی ہو، نیز سمندر کا مردار حلال ہے، اس سے مراد وہ جانور ہے، جو پانی کے علاوہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔