TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سمندروں اور دریاؤں کا بیان - سمندروں اور دریاؤں کا بیان - کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 20 · 6 Hadith
۔ (۱۰۲۲۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فُجِّرَتْ اَرْبَعَۃُ اَنْھَارٍ مِنَ الْجَنَّۃِ، الْفُرَاتُ، وَالنِّیْلُ، وَسَیْحَانُ، وَجَیْحَانُ۔)) (مسند احمد: ۷۵۳۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چار دریا جنت سے پھوٹتے ہیں: فرات، نیل، سیحان اور جیحان۔
Takhreej
(۱۰۲۲۶) تخریج:أخرجہ ۲۸۳۹(انظر: ۷۵۴۴)
10226
Sahih
۔ (۱۰۲۲۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَیْحَانُ وَجَیْحَانُ وَالنِّیْلُ وَالْفُرَاتُ وَکُلٌ مِنْ اَنْھَارِ الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۷۸۷۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سیحان، جیحان، فرات اور نیل ساری جنت کی نہروں میں سے ہیں۔
Takhreej
(۱۰۲۲۷) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: جس طرح انسان کی اصل جنت سے ہے، اسی طرح ممکن ہے کہ دریائے نیل اور دریائے فرات کی اصل جنت سے ہو، جیسا کہ ارشادِ نبوی ہے: ((فُجِّرَتْ اَرْبَعَۃُ اَنْھَارٍ مِنَ الْجَنَّۃِ: اَلْفَرَاتُ وَالنَّیْلُ، وَالسَّیْحَانُ وَجَیْحَانُ۔)) (مسند احمد) … چار نہریں جنت سے پھوٹتی ہیں: فرات، نیل، سیحان، جیحان۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ دریا معروف چشموں سے پھوٹ رہے ہیں۔اس تعارض کو یوں دور کیا جائے گا کہ حدیث کا تعلق غیبی امور سے ہے، جس پر ایمان لانااور اس کی اطلاع دینے والے کے سامنے سر تسلیمِ خم کرنا واجب ہے، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَـلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰییُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لَایَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا ۔} (سورۂ نسا: ۶۵) … سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں، ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں۔
10227
Sahih
۔ (۱۰۲۲۸)۔ عَنْ صَبَّاحِ بْنِ اَشْرَسَ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ الْمَدِّ وَالْجَزْرِ فَقَالَ: اِنَّ مَلَکًا مُوَکَّلٌ بِقَامُوْسِ الْبَحْرِ فَاِذَا وَضَعَ رِجْلَہُ فَاضَتْ، وَاِذَا رَفَعَھَا غَاضَتْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۶۲۶)
۔ صباح بن اشرس سے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مد و جزر کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: ایک فرشتے کو سمندر کے درمیانے اور بڑے حصے پر مقرر کیا گیا ہے ، جب وہ اپنی ٹانگ اس میں رکھتا ہے تو پانی زیادہ ہو جاتا ہے اور جب وہ اس کو اٹھا لیتا ہے تو پانی کم ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۲۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، صبّاح مجھول (انظر: ۲۳۲۳۸)
Explanation
فوائد:… مشاہدہ یہ ہے کہ چاند کی وجہ سے سمندر میں مدّ و جزر کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔
10228
Zaeef
۔ (۱۰۲۲۹)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لَیْسَ مِنْ لَیْلَۃٍ اِلَّا وَالْبَحْرُ یُشْرِفُ فِیْھَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ عَلَی الْاَرْضِ، یَسْتَاْذِنُ اللّٰہَ فِیْ اَنْ یَنْفَضِحَ عَلَیْھِمْ فَیَکُفُّہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۳۰۳)
۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر رات کو سمندر تین بار زمین پر جھانکتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے زمین والوں پر بہہ پڑنے کی اجازت طلب کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس کو روک لیتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۲۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ الشیخ الذی روی عنہ العوام بن حوشب، وابو صالح مولی عمر مجھول ایضا(انظر: ۳۰۳)
Explanation
فوائد:… زمین پر (۸۰) فیصد پانی ہے اور (۲۰) فیصد خشکی، جب پانی بغاوت کر جائے تو انسان اس کے سامنے بالکل بے بس ہو جاتا ہے، سیلاب کے موقع پر مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، اب تو سونامی کا واقعہ بڑا مشہور ہو گیا ہے۔
10229
Zaeef
۔ (۱۰۲۳۰)۔ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ یَعْلٰی، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْبَحْرُھُوَ جَھَنَّمُ۔)) قَالُوْا لِیَعْلٰی: فَقَالَ: اَلا تَرَوْنَ اَنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: {نَارًا اَحَاطَ بِھِمْ سُرَادِقُھَا} قَالَ: لَا، وَالَّذِیْ نَفْسُ یَعْلٰی بِیَدِہِ لَا اَدْخُلُھَا اَبَدًا حَتّٰی اُعْرَضَ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، وَلَا یُصِیْبُنِیْ مِنْھَا قَطَرَۃٌ حَتّٰی اَلْقَی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۲۴)
۔ سیدنایعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سمندر جہنم ہی ہے۔ لوگوں نے سیدنایعلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ظالموں کے لیے ہم نے وہ آگ تیار کر رکھی ہے، جس کی قناتیں انہیں گھیر لیں گی۔ (سورۂ کہف: ۲۹) انھوں نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میںیعلی کی جان ہے! میں اس میں کبھی بھی داخل نہیں ہوں گا، یہاں تک کہ مجھے اللہ تعالیٰ پر پیش کیا جائے اور اس کا ایک قطرہ مجھ تک نہیں پہنچ سکتا، یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ سے جا ملوں۔
Takhreej
(۱۰۲۳۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، محمد بن حیی مجھول، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۵۹۶، والبیھقی: ۴/ ۳۳۴ (انظر: ۱۷۹۶۰)
Explanation
فوائد:… سمندر کو جہنم قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ سمندری سفر بڑے خطرے سے خالی نہیں ہے، جب سمندر کے بیچ میں کوئی مسئلہ بن جائے تو آدمی اپنے آپ کو بالکل بے سہارا سمجھنے لگتا ہے، لہٰذا حج یا اس قسم کی اہم ضرورت کے لیے سمندری سفر کرنا چاہیے، وگرنہ نہیں۔
10230
Zaeef
۔ (۱۰۲۳۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَاَلَ رَجُلٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّا نَرْکَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِیْلَ مِنَ الْمَائِ فَاِنْ تَوَضَّأْنَا بِہٖعَطِشْنَا،اَفَنَتَوَضَّاُمِنْمَائِالْبَحْرِ؟فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھُوَ الطَّھُوْرُ مَاؤُہُ، الْحِلُّ مَیْتَتُہُ۔)) (مسند احمد: ۸۷۲۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: بیشک ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی اٹھاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کریں تو پیاس لگتی ہے، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۳۱) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۸۳، وابن ماجہ: ۳۸۶، والترمذی: ۶۹، والنسائی: ۱/ ۵۰ (انظر: ۸۷۳۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سمندر کا پانی پاک اور پاک کرنے والا ہے، اس کا ذائقہ جیسا بھی ہو، نیز سمندر کا مردار حلال ہے، اس سے مراد وہ جانور ہے، جو پانی کے علاوہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔
10231
Sahih

Chapters

20
01
مخلوقات میں پہلی چیز کا بیان اور اس میںپانی، عرش، لوح محفوظ اور قلم کا ذکر ہو گا
8 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ جنت اور جہنم کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ اب موجود ہیں
2 Hadith
03
ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کا بیان
8 Hadith
04
پہاڑوں، لوہے، آگ، ہوا، زمانے، دن اور رات کو پیدا کرنے کا بیان
3 Hadith
05
سمندروں اور دریاؤں کا بیان
6 Hadith
06
سورج، چاند اور ستاروں کا بیان
9 Hadith
07
بادل، گرج اور ہواؤں کا بیان
8 Hadith
08
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
8 Hadith
09
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
15 Hadith
10
جنوں کی تخلیق اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان
14 Hadith
11
جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قرآن سننے کا بیان
6 Hadith
12
ارواح، آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی تخلیق کا بیان
8 Hadith
13
سیدہ حوائ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی تخلیق کا بیان
1 Hadith
14
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کابیان کہ پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں
1 Hadith
15
اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ}کابیان
3 Hadith
16
جنین کی تخلیق اور رحم میں اس کی تکوین کا بیان
2 Hadith
17
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
5 Hadith
18
آدم علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے جھگڑے کا بیان
1 Hadith
19
آدم علیہ السلام کے بیٹوں قابیل اور ہابیل وغیرہ کا بیان
3 Hadith
20
آدم علیہ السلام کی وفات، غسل، تکفین، نماز جنازہ اور تدفین کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.