TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان - بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان - کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 8 of کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 20 · 8 Hadith
۔ (۱۰۲۴۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: مَا رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی غَیْمًا اِلَّا رَاَیْتُ فِیْ وَجْھِہِ الْھَیْجَ فَاِذَا اَمْطَرَتْ سَکَنَ۔ (مسند احمد: ۲۴۹۷۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: جب بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بادل نظر آتا تو میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے میں خوف اور گھبراہٹ کے آثار دیکھتی، جب وہ بارش برساتا تو تب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سکون میں آتے۔
Takhreej
(۱۰۲۴۹) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۲۴۴۷۴)
10249
Sahih
۔ (۱۰۲۵۰)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا رَاٰی مَخِیْلَۃً تَغَیَّرَ وَجَھُہُ، وَدَخَلَ وَخَرَجَ وَاَقْبَلَ وَاَدْبَرَ، فَاِذَا اَمْطَرَتْ سُرِّیَ عَنْہُ فَذُکِرَ ذٰلِکَ لَہُ فَقَالَ: ((مَا اَمِنْتُ اَنْ یَکُوْنَ کَمَا قَالَ اﷲُ : {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِھِمْ} اِلٰی {رِیْحٍٍ فِیْھَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ}۔)) (مسند احمد: ۲۵۸۵۶)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بادل دیکھتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ بدل جاتا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آنا جانا شروع کر دیتے تھے، جب بارش برسنا شروع ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ کیفیت چھٹ جاتی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس بارے میں کوئی امن نہیں ہے کہ ممکن ہے کہ یہ وہی چیز ہو، جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کہا: {فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِہِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِض’‘ مُّمْطِرُنَا بَلْ ھُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِہٖرِیْح’‘ فِیْھَا عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘۔} پھر جب انھوں نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہ بادل ہم پر برسنے والا ہے، (نہیں) بلکہ دراصل یہ وہ (عذاب) ہے، جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے ۔ (سورۂ احقاف: ۲۴)
Takhreej
(۱۰۲۵۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۸۹۱ (انظر: ۲۵۳۴۲)
Explanation
فوائد:… یہ آیت قوم ہود کے بارے میں ہے، وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ بارش آنے والی ہے، لیکن اس بادل کا انجام یہ نکلا کہ{ تُدَمِّرُکُلَّ شَیْئٍ بِاَمْرِ رَبِّھَا فَاَصْبَحُوْالَا یُرٰٓی اِلَّا مَسٰکِنُہُمْ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ۔} … جو ہر چیز کو اپنے رب کے حکم سے برباد کر دے گی، پس وہ اس طرح ہو گئے کہ ان کے رہنے کی جگہوں کے سوا کوئی چیز دیکھائی نہ دیتی تھی، اسی طرح ہم مجرم لوگوں کو بدلہ دیتے ہیں۔ (سورۂ احقاف: ۲۵)
10250
Sahih
۔ (۱۰۲۵۱)۔ وَعَنْھَا اَیْضًا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا رَاٰی نَاشِئًا مِنْ اُفُقٍ مِنْ آفَاقِ السَّمَائِ، تَرَکَ عَمَلَہُ، وَاِنْ کَانَ فِیْ صَلَاتِہِ ثُمَّ یَقُوْلُ : ((اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیْہِ۔)) فَاِنْ کَشَفَ اللّٰہُ حَمِدَ اللّٰہَ، وَاِنْ مَطَرَتْ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ صَیِّبًا نَافِعًا۔)) (مسند احمد: ۲۶۰۸۷)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب آسمان کے کسی افق میں کوئی بادل اٹھتے ہوئے دیکھتے تو اپنا کام چھوڑ دیتے، اگرچہ آپ نماز ادا کر رہے ہوتے اور پھر فرماتے: اے اللہ! میں اس شرّ سے تیری پناہ میں آتا ہوں، جو اس میں ہے۔ پس اگر اللہ تعالیٰ اس کو صاف کر دیتا تو اس کی حمد بیان کرتے اور اگر وہ بارش برسانا شروع کر دیتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: اے اللہ! نفع بخش بارش نازل کرنا۔
Takhreej
(۱۰۲۵۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۵۰۹۹(انظر: ۲۵۵۷۰)
Explanation
فوائد:… اس لیے جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی بادل کو دیکھتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خوف لاحق ہو جاتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس میں عذاب ہو، جب وہ بارش برسانے لگتا، تب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بے فکر ہوتے۔ نماز کو چھوڑنے کا معنییہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو نماز ادا کر رہے ہوتے تھے، اس سے فارغ ہونے کے بعد مزید نماز نہ پڑھتے، بلکہ بادل کے شر سے پناہ مانگنا شروع کر دیتے۔
10251
Sahih
۔ (۱۰۲۵۲)۔ عَنْ مُعَاوِیَۃَ اللَّیْثِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَکُوْنُ النَّاسُ مُجْدِبِیْنَ فَیَنْزِلُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلَیْھِمْ رِزْقًا مِنْ رِزْقِہِ فَیُصْبِحُوْنَ مُشْرِکِیْنَ۔)) فَقِیْلَ لَہُ: وَکَیْفَ ذَاکَ؟ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِِ! قَالَ: ((یَقُوْلُوْنَ: مُطِرْنَا بِنَوْئِ کَذَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۲۲)
۔ سیدنا معاویہ لیثی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ قحط زدہ ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ (بارش کی صورت میں) اپنا رزق نازل کرتا ہے تو وہ مشرک بن جاتے ہیں۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگ کہتے ہیں کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۵۲) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الطیالسی: ۱۲۶۲، والطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۱۰۴۳(انظر: ۱۵۵۳۷)
Explanation
فوائد:… بارش اللہ تعالیٰ کے حکم اور مشیت سے نازل ہوتی ہے، اس میں کسی غیر کی رضا یا عدم رضا کا کوئی دخل نہیں ہے، جو شخص اس بارش کے نزول کو غیر اللہ کی طرف منسوب کرے گا، وہ کافر ہو جائے گا۔
10252
Sahih
۔ (۱۰۲۵۳)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مُطِرْنَا عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَخَرَجَ فَحَسَرَ ثَوْبَہُ حَتّٰی اَصَابَہُ الْمَطَرُ، قَالَ: فَقِیْلَ لَہُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لِمَ صَنَعْتَ ھٰذَا؟ قَالَ: ((لِاَنَّہُ حَدِیْثُ عَھْدٍ بِرَبِّہِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۳۹۲)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں بارش ہوئی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لے گئے، (اپنے جسم کے بعض حصے سے) کپڑا ہٹایا،یہاں تک کہ اس حصے پر بارش کا پانی لگا، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیونکہیہ اپنے ربّ کی طرف سے نئی نئی آئی ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۵۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۸۹۸ (انظر: ۱۲۳۶۵)
Explanation
فوائد:… یعنی اللہ تعالیٰ ابھی ابھی اس بارش کو ایجاد کر کے نازل کر رہا ہے، جبکہ بارش رحمت ہے، اس لیے اس انداز میں تبرک حاصل کرنا چاہیے۔
10253
Sahih
۔ (۱۰۲۵۴)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: مُطِرْنَا بَرَدًا، وَ اَبُوْ طَلْحَۃَ صَائِمٌ فَجَعَلَ یَاْکُلُ مِنْہُ، قِیْلَ لَہُ: اَتَاْکُلُ مِنْہُ وَ اَنْتَ صَائِمٌ؟ فَقَالَ: اِنّمَا ھٰذَا بَرَکَۃٌ۔ (مسند احمد: ۱۴۰۱۶)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بارش میں اولے برسے، سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اولے کھانا شروع کر دیئے، جبکہ وہ روزے دار بھی تھے، کسی نے کہا: کیا تم روزے کی حالت میں یہ اولے کھاتے ہو؟ انھوں نے کہا: یہ تو برکت ہیں۔
Takhreej
(۱۰۲۵۴) تخریج: اسنادہ صحیح أخرجہ البزار: ۱۰۲۲، وابویعلی: ۱۴۲۴، ۳۹۹۹(انظر: ۱۳۹۷۱)
Explanation
فوائد:… یہ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ذاتی اجتہاد ہے، اولے کھانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
10254
Sahih
۔ (۱۰۲۵۵)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((الشِّتَائُ رَبِیْعُ الْمُؤْمِنِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۳۹)
۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: موسم سرما، مؤمن کے لیے بہار ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۵۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، ولضعف دراج فی روایتہ عن ابی الھیثم، أخرجہ ابویعلی: ۱۳۸۶، والبیھقی: ۴/ ۲۹۷ (انظر: ۱۱۷۱۶)
Explanation
فوائد:… عامر بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((الصَّوْمُ فِی الشِّتَائِ الْغَنِیْمَۃُ الْبَارِدَۃُ۔)) … سردیوں کے روزے مفت کی غنیمت ہیں۔ (ابن ابی شیبہ: ۲/ ۱۸۱، بیہقی: ۴/ ۴۹۶، صحیحہ: ۱۹۲۲) حدیث کا مفہوم واضح ہے کہ دن چھوٹے ہوتے ہیں اور پیاس کا کوئی تصور نہیں ہوتا، ایسے میںمسلمان کو مالِ غنیمت اکٹھا کر لینا چاہیے۔
10255
Zaeef
۔ (۱۰۲۵۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ السَّنَۃَ لَیْسَ بِاَنْ لَا یَکُوْنَ فِیْھَا مَطَرٌ، وَلٰکِنَّ السَّنَۃَ اَنْ تُمْطِرَنَا السَّمَائُ وَلَا تُنْبِتَ الْاَرْضُ۔)) (مسند احمد: ۸۴۹۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک قحط سالییہ نہیں ہے کہ بارش نہ ہو، بلکہ قحط سالی تو یہ ہے کہ آسمان بارش برسائے، لیکن زمین کچھ نہ اگائے۔
Takhreej
(۱۰۲۵۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۰۴ (انظر: ۸۵۱۱)
Explanation
فوائد:… اس کا سبب نافرمانیوں کی کثرت اور ان کی پروا نہ کرنا ہو گی۔ بارش کا نہ ہونا بھی قحط سالی ہے، جیسا کہ دوسری نصوص سے ثابت ہوتا ہے، لیکنیہ قحط سالی کی خطرناک صورت ہے کہ بارش بھی ہو رہی ہو، لیکن زمین کچھ نہ اگا رہی ہو۔
10256
Sahih

Chapters

20
01
مخلوقات میں پہلی چیز کا بیان اور اس میںپانی، عرش، لوح محفوظ اور قلم کا ذکر ہو گا
8 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ جنت اور جہنم کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ اب موجود ہیں
2 Hadith
03
ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کا بیان
8 Hadith
04
پہاڑوں، لوہے، آگ، ہوا، زمانے، دن اور رات کو پیدا کرنے کا بیان
3 Hadith
05
سمندروں اور دریاؤں کا بیان
6 Hadith
06
سورج، چاند اور ستاروں کا بیان
9 Hadith
07
بادل، گرج اور ہواؤں کا بیان
8 Hadith
08
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
8 Hadith
09
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
15 Hadith
10
جنوں کی تخلیق اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان
14 Hadith
11
جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قرآن سننے کا بیان
6 Hadith
12
ارواح، آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی تخلیق کا بیان
8 Hadith
13
سیدہ حوائ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی تخلیق کا بیان
1 Hadith
14
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کابیان کہ پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں
1 Hadith
15
اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ}کابیان
3 Hadith
16
جنین کی تخلیق اور رحم میں اس کی تکوین کا بیان
2 Hadith
17
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
5 Hadith
18
آدم علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے جھگڑے کا بیان
1 Hadith
19
آدم علیہ السلام کے بیٹوں قابیل اور ہابیل وغیرہ کا بیان
3 Hadith
20
آدم علیہ السلام کی وفات، غسل، تکفین، نماز جنازہ اور تدفین کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.