TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مخلوقات میں پہلی چیز کا بیان اور اس میںپانی، عرش، لوح محفوظ اور قلم کا ذکر ہو گا - مخلوقات میں پہلی چیز کا بیان اور اس میںپانی، عرش، لوح محفوظ اور قلم کا ذکر ہو گا - کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 20 · 8 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۱۰۲۰۵)۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اقْبَلُوْا الْبُشْرٰییَا بَنِیْ تَمِیْمٍ۔)) قَالَ: قَالُوْا: قَدْ بَشَّرْتَنَا فَاَعْطِنَا؟ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَتَغَیَّرَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) قَالَ: ((اقْبَلُوْا الْبُشْرٰییَا اَھْلَ الْیَمْنِ۔)) (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: اِذْ لَمْ یَقْبَلْھَا بَنُوْ تَمِیٍمٍ) قَالَ: قُلْنَا قَدْ قَبِلْنَا فَاَخْبِرْنَا عَنْ اَوَّلِ ھٰذَا الْاَمْرِ کَیْفَ کَانَ ؟ قَالَ: ((کَانَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی قَبْلَ کُلِّ شَیْئٍ، وَکَانَ عَرْشُہُ عَلَیَ الْمَائِ، وَکَتَبَ فِیْ اللَّوْحِ ذِکْرَ کُلِّ شَیْئٍ۔)) قَالَ: وَاَتَانِیْ آتٍ فَقَالَ:یَا عِمْرَانُ! اِنْحَلَّتْ نَاقَتُکَ مِنْ عِقَالِھَا، قَالَ: فَخَرَجْتُ فَاِذَا السَّرَابُ یَنْقَطِعُ بَیْنِیْ وَبَیْنَھَا قَالَ: فَخَرَجْتُ فِیْ اَثَرِھَا فَـلَا اَدْرِیْ مَا کَانَ بَعْدِیْ۔ (مسند احمد: ۲۰۱۱۷)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے بنو تمیم! خوشخبری قبول کرو۔ انھوں نے کہا: خوشخبری تو آپ نے ہمیں دے دی ہے، اب ہمیں (کچھ مال و متاع) دیں،یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر بنو تمیم خوشخبری قبول نہیں کرنا چاہتے تو اے اہل یمن! تم قبول کر لو۔ ہم نے کہا: جی ہم نے قبول کی، پس آپ ہمیں اس عالم کی ابتدا کے بارے میں بتائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہر چیز سے پہلے تھا، اس وقت اس کا عرش پانی پر تھا، اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز کا ذکر لکھا۔ اتنے میں ایک آنے والے نے کہا: اے عمران! تیری اونٹنی رسی کھلا گئی ہے، پس میں اس کو پکڑنے کے لیے نکل پڑا، (وہ اتنی دور جا چکی تھی کہ) اس کے اور میرے درمیان ایک سراب نظر آ رہا تھا، پس میں اس کے پیچھے چلا گیا اور یہ نہ جان سکا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے بعد کیا ارشاد فرمایا۔
Takhreej
(۱۰۲۰۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۱۹۱، ۷۴۱۸ (انظر: ۱۹۸۷۶)
10205
Sahih
۔ (۱۰۲۰۶)۔ عَنْ وَکِیْعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّہِ اَبِیْ رَزِیْنٍ الْعُقَیْلِیِّ اَنَّہُ قَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیْنَ کَانَ رَبُّنَا عَزَّوَجَلَّ قَبْلَ اَنْ یَخْلُقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ؟ قَالَ: ((کَانَ فِیْ عَمَائٍ، مَا فَوْقَہُ ھَوَائٌ، وَمَا تَحْتَہُ ھَوَائٌ، ثُمَّ خَلَقَ عَرْشَہُ عَلَی الْمَائِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۳۰۱)
۔ سیدنا ابو رزین عقیلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! زمین و آسمان کی تخلیق سے قبل ہمارا ربّ کہاں تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ باریک بادل میں تھا، اس کے نیچے بھی ہوا تھی اور اوپر بھی ہوا تھی، پھر اس نے پانی پر اپنا عرش پیدا کیا۔
Takhreej
(۱۰۲۰۶) تخریج: اسنادہ ضعیف،وکیع بن حدس مجھول الحال، أخرجہ الترمذی: ۳۱۰۹، وابن ماجہ: ۱۸۲ (انظر: ۱۶۲۰۰)
10206
Zaeef
۔ (۱۰۲۰۷)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ اِذَا رَاَیْتُکَ طَابَتْ نَفْسِیْ، وَقَرَّتْ عَیْنِیْ، فَاَنْبِئْنِیْ عَنْ کُلِّ شَیْئٍ؟ فَقَالَ: ((کُلُّ شَیْئٍ خُلِقَ مِن مَائٍ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنْبِئْنِیْ عَنْ اَمْرٍ اِذَا اَخَذْتُ بِہٖدَخَلْتُالْجَنَّۃَ؟ قَالَ: ((اَفْشِ السَّلَامَ، وَاَطْعِمِ الطَّعَامَ، وَصَلِ الْاَرْحَامَ، وَقُمْ بِاللَّیْل وَالنَّاسُ نِیَامٌ، ثُمَّ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ بِسَلَامٍ۔)) (مسند احمد: ۷۹۱۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب میں آپ کو دیکھتا ہوں تو میرا نفس خوش ہو جاتا ہے اور میری آنکھ ٹھنڈی ہو جاتی ہے، پس آپ مجھے ہر چیز کے بارے میں بتائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے ایسے حکم کے بارے میں بتلائیں کہ اگر میں اس پر عمل کروں، تو جنت میں داخل ہو جاؤں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سلام کو عام کر، کھانا کھلا، صلہ رحمی کر اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو قیام کر اور پھر جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جا۔
Takhreej
(۱۰۲۰۷) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۱۲۹، وابن حبان: ۵۰۸، ۲۵۵۹ (انظر: ۷۹۳۲)
10207
Sahih
۔ (۱۰۲۰۸)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی الْقَلْمَ، ثُمَّ قَالَ لَہُ: اُکْتُبْ، فَجَرٰی فِیْ تِلْکَ السَّاعَۃِ بِمَا ھُوَ کَائِنٌ اِلٰییَوْمِ الْقِیَامَۃِ)) (مسند احمد: ۲۳۰۸۱)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا اور پھر اس سے کہا: لکھ، پس وہ اسی گھڑی میں چلی اور قیامت تک ہونے والے امور لکھ دیئے۔
Takhreej
(۱۰۲۰۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۴۷۰۰، والترمذی: ۲۱۵۵، ۳۳۱۹(انظر: ۲۲۷۰۵)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سب سے پہلی مخلوق قلم ہے، شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ رقمطراز ہیں: کئی لوگوں کے دلوں میں یہ عقیدہ مضبوط ہوچکا ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا نور پیدا کیا، لیکنیہ عقیدہ بے بنیاد ہے او رعبد الرزاقl کی حدیث کی سند معروف نہیں ہے۔ نیز اس حدیث میں ان لوگوں کا بھی ردّ ہے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کو پہلی مخلوق تصور کرتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس اس دعوی کی کوئی واضح نص موجود نہیں ہے، سب کچھ استنباط و اجتہاد کی روشنی میں کہا گیا۔ قلم کے پہلی مخلوق ہونے کے دلائل واضح ہیں، ایسی واضح نصوص کے موجودگی میں کسی دوسرے اجتہاد کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ ان احادیث کا یہ مطلب بیان کرنا کہ عرش کے بعد پہلی مخلوق قلم ہے، باطل ہے۔ اگر عرش کے اول المخلوق ہونے پر کوئی قطعی نص ہوتی تو ایسی تاویل کی گنجائش مل سکتی تھی۔ بعض فلسفی قسم کے لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ حوادث کی کوئی ابتدا نہیںہے اور ہر مخلوق سے پہلے کسی نہ کسی مخلوق کا وجود ضروری ہے۔ اگر اس نظریے کو درست تسلیم کر لیا جائے تو کسی چیز کو اول المخلوق نہیں کہا جا سکتا۔ جبکہ اس حدیث ِ مبارکہ میں ایسے لوگوں کا ردّ کیا گیا ہے اور قلم کو سب سے پہلی مخلوق قرار دے کر یہ ثابت کیا گیا کہ مخلوقات کی ایک ابتدا ہے، اس ابتدا سے پہلے مخلوق کا کوئی فرد موجود نہ تھا۔ (صحیحہ: ۱۳۳) یہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے کہ وہ ازل سے ہے، ابد تک رہے گا، اس کی ابتدا ہے نہ انتہا۔
10208
Sahih
۔ (۱۰۲۰۹)۔ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْبَطْحَائِ فَمَرَّتْ سَحَابَۃٌ فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اَتَدْرُوْنَ مَا ھٰذَا؟)) قَالَ: قُلْنَا: الْسَحَابُ، قَالَ: ((وَالْمُزْنُ)) قُلْنَا: وَ الْمُزْنُ، قَالَ: ((وَالْعَنَانُ۔)) قَالَ: فَسَکَتْنَا، فَقَالَ: ((ھَلْ تَدْرُوْنَ کَمْ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْاَرْضِ؟)) قَالَ: قُلْنَا: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((بَیْنَھُمَا مَسِیْرَۃُ خَمْسِ مِائَۃِ سَنَۃٍ، وَمِنْ کُلِّ سَمَائٍ اِلَی سَمَائٍ مَسِیْرَۃُ خَمْسِ مِائَۃِ سَنَۃٍ، وَکِثْفُ کُلِّ سَمَائٍ مَسِیْرَۃُ خَمْسِ مِائَۃِ سَنَۃٍ، وَفَوْقَ السَّمَائِ السَّابِعَۃِ بَحْرٌ بَیْنَ اَسْفَلِہِ وَاَعْلَاہُ کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْاَرْضِ، ثُمَّ فَوْقَ ذٰلِکَ ثَمَانِیْۃُ اَوْعَالٍ بَیْنَ رُکَبِھِنَّ وَاَظْلَافِھِنِّ کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْاَرْضِ ثُمَّ فَوْقَ ذٰلِکَ الْعَرْشُ بَیْنَ اَسْفَلِہِ وَاَعْلَاَہُ کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْاَرْضِ وَاللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَوْقَ ذٰلِکَ، لَیْسَیَخْفٰی عَلَیْہِ مِنْ اَعْمَالِ بَنِیْ آدَمَ شَیْئٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۰)
۔ سیدنا عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ وادیٔ بطحاء میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک بدلی گزری، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: یہ بادل ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مُزْن بھی کہتے ہیں؟ ہم نے کہا:: جی مُزْن بھی کہتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو عَنَان بھی کہتے ہیں؟ ہم جواباً خاموش رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت جتنا فاصلہ ہے، اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک پانچ سو برسوں کی مسافت ہے، جبکہ ہر آسمان کی موٹائی بھی پانچ سو برس ہے اور ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے، اس کی گہرائی اتنی ہی ہے، جتنا زمین سے آسمان تک کا فاصلہ ہے، اس کے اوپر پہاڑی بکرے کی شکل کے آٹھ فرشتے ہیں، ان کے کھر سے گھٹنے تک کی لمبائی اتنی ہے، جتنی زمین سے آسمان تک کی مسافت ہے، پھر اس کے اوپر عرش ہے، عرش کے اوپر والے اور نیچے والے حصے کے درمیان زمین و آسمان کی مسافت جتنا فاصلہ ہے، اس کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس پر بنو آدم کے اعمال میں سے کوئی عمل مخفی نہیں ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۰۹) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، یحییٰ بن العلاء الرازی متروک الحدیث، وقال احمد: کذاب یضع الحدیث، وسماک بن حرب وان کان صدوقا کان ربما لقّن، فاذا انفرد باصل لم یکن حجۃ، وقد تفرد بھذہ الروایۃ عن عبد اللہ بن عمیرۃ، أخرجہ ابوداود: ۴۷۲۴، ۴۷۲۵، والترمذی: ۳۳۲۰ (انظر: ۱۷۷۰)
10209
Zaeef
۔ (۱۰۲۱۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا سَاَلْتُمُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ فَسَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ، فَاِنَّہُ وَسْطُ الْجَنَّۃِ وَاَعْلَی الْجَنَّۃِ، وَفَوْقُ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ عَزَّوَجَلَّ، وَمِنْہُ تَفَجَّرُ اَوْ تَتَفَجَّرُ اَنْھَارُ الْجَنَّۃِ۔))، (شَکَّ اَبُوْ عَامِرٍ اَحَدُ الرُّوَاۃِ)۔ (مسند احمد: ۸۴۰۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو، کیونکہ وہ جنت کا اعلی و افضل حصہ اور مقام ہے، اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے، اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔
Takhreej
(۱۰۲۱۰) تخریج: حدیث صحیح (انظر: ۸۴۱۹)
Explanation
فوائد:… اس قسم کی احادیث کے متن کو سمجھ لینا کافی ہے، کیفیت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دینا چاہیے۔
10210
Sahih
۔ (۱۰۲۱۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : فَذَکَرَہٗ۔ (مسنداحمد: ۸۴۵۵)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا، پھر اسی طرح کی حدیث بیان کی۔
Takhreej
(۱۰۲۱۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
10211
Sahih
۔ (۱۰۲۱۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَدَّقَ اُمَیَّۃَ بْنَ اَبِیْ صَلْتٍ فِیْ شَیْئٍ مِنْ شِعْرِہِ فَقَالَ: رَجُلٌ وَثَوْرٌ تَحْتَ رِجْلِ یَمِیْنِہِ، وَالنَّسْرُ لِلْاُخْرٰی وَلَیْثٌ مُرْصَدُ۔ فَقَالَ النَّبیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَدَقَ، وَقَالَ: وَالشَّمْسُ تَطْلُعُ کُلَّ آخِرِ لَیْلَۃٍ حَمْرَائَیُصْبِحُ لَوْنُھَا یَتَوَرَّدُ تَاْبٰی فَمَا تَطْلُعُ لَنَـا فِیْ رِسْلِھَـا اِلَّا مُـعَـذَّبَـۃً وَاِلَّا تُجْـــلَدُ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : صَدَقَ۔ (مسند احمد: ۲۳۱۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے امیہ کے بعض اشعار کی تصدیق کی تھی، اس نے ایک شعر یہ کہا تھا: (حاملین عرش میں کوئی) مرد کی صورت پر ہے، کوئی بیل کی صورت پر ہے، اللہ تعالیٰ کی دائیں ٹانگ کے نیچے، تو کوئی گدھ کی صورت ہے اور کوئی گھات بیٹھے ہوئے شیر کی صورت پر۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: امیہ نے سچ کہا ہے۔ ایک دفعہ اس نے یہ شعر کہا تھا: اور ہر رات کے آخر میں سورج طلوع ہوتا ہے، اس وقت وہ سرخ ہوتا ہے اور اس کا رنگ گلابی نظر آ رہا ہوتا ہے ، وہ انکار کردیتا ہے اور نرمی کے ساتھ طلوع نہیں ہوتا، وگرنہ اس کو عذاب دیا جاتا ہے اور کوڑے لگائے جاتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۱۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… حاملین عرش کے بارے میں درج ذیل روایت صحیح ہے: سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (( اُذِنَ لِيْ اَنْ اُحَدِّثَ عَنْ مَلَکٍ مِنْ مَلَائِکَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی مِنْ حَمَلَۃِ الْعَرْشِ، مَابَیْنَ شَحْمَۃِ اُذُنِہٖاِلٰی عَاتِقِہٖمَسِیْرَۃُ سَبْعِ مِئَۃِ سَنَۃٍ۔)) … مجھے اجازت دی گئی ہے کہ میں حاملینِ عرش فرشتوں میں ایک فرشتے کییہ (جسامت) بیان کروں کہ اس کی کان کی لو سے کندھے تک کا فاصلہ سات سو سال مسافت کا ہے۔ (ابوداود: ۴۷۲۷) یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے مناظر ہیں۔ جس فرشتے کی کان کی لو اور اس کے مونڈھے کا درمیان کا فاصلہ سات سو سال کی مسافت کا ہو، اس کا باقی وجود کتنا بڑا ہو گا۔ ربّ جلیل ہی ہے جو تعریف و توصیف اور حمد وثنا کا مستحق ہے۔
10212
Sahih

Chapters

20
01
مخلوقات میں پہلی چیز کا بیان اور اس میںپانی، عرش، لوح محفوظ اور قلم کا ذکر ہو گا
8 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ جنت اور جہنم کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ اب موجود ہیں
2 Hadith
03
ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کا بیان
8 Hadith
04
پہاڑوں، لوہے، آگ، ہوا، زمانے، دن اور رات کو پیدا کرنے کا بیان
3 Hadith
05
سمندروں اور دریاؤں کا بیان
6 Hadith
06
سورج، چاند اور ستاروں کا بیان
9 Hadith
07
بادل، گرج اور ہواؤں کا بیان
8 Hadith
08
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
8 Hadith
09
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
15 Hadith
10
جنوں کی تخلیق اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان
14 Hadith
11
جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قرآن سننے کا بیان
6 Hadith
12
ارواح، آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی تخلیق کا بیان
8 Hadith
13
سیدہ حوائ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی تخلیق کا بیان
1 Hadith
14
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کابیان کہ پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں
1 Hadith
15
اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ}کابیان
3 Hadith
16
جنین کی تخلیق اور رحم میں اس کی تکوین کا بیان
2 Hadith
17
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
5 Hadith
18
آدم علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے جھگڑے کا بیان
1 Hadith
19
آدم علیہ السلام کے بیٹوں قابیل اور ہابیل وغیرہ کا بیان
3 Hadith
20
آدم علیہ السلام کی وفات، غسل، تکفین، نماز جنازہ اور تدفین کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.