TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

سورج، چاند اور ستاروں کا بیان - سورج، چاند اور ستاروں کا بیان - کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 6 of کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 20 · 9 Hadith
۔ (۱۰۲۳۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، فِیْ صِفَۃِ صَلَاۃِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ کُسُوْفِ الشَّمْسِ قَالَتْ: فَانْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَ قَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاثَنْیٰ عَلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ((اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ، وَ اِنَّھُمْا لَا یَخْسِفَانِ لِمُوْتِ اَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ، فَاِذَا رَاَیْتُمُوْھُمَا فَکَبِّرُوْا وَادْعُوْا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ، وَصَلُّوْا، وَتَصَدَّقُوْا۔)) الحدیث (مسند احمد: ۲۵۸۲۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کسوف کی کیفیت بیان کرتی ہوئی کہتی ہیں: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہو چکا تھا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ دیا، حمدو ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: بیشک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں، ان کو نہ کسی کی موت کی وجہ سے گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے، پس جب تم ان کو دیکھو تو اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو، اللہ تعالیٰ کو پکارو، نماز پڑھو اور صدقہ کرو۔
Takhreej
(۱۰۲۳۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۰۴۴، ۵۲۲۱، ومسلم: ۹۰۱ (انظر: ۲۵۳۱۲)
10232
Sahih
۔ (۱۰۲۳۳)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَا اَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللّٰہِ، لَا یَخْسِفَانِ لِمُوْتِ اَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ، فَاِذَا رَاَیْتُمْ ذٰلِکَ فَافْزَعُوْا اِلَی الصَّلَاۃِ، وَاِلَی الصَّدَقَۃِ، وَاِلٰی ذَکْرِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۵۳۲)
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: اے لوگو! بیشک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوںمیں سے دو نشانیاں ہیں، ان کو کسی کی موت کی وجہ سے گرہن لگتا ہے نہ کسی کی زندگی سے، جب تم اس چیز کو دیکھو تو نماز، صدقہ اور اللہ کے ذکر کی طرف پناہ حاصل کرو۔
Takhreej
(۱۰۲۳۳) تخریج: ھذا حدیث طویل، وھو ضعیف بھذہ السیاقۃ، فقد انفرد بہ فلیح الخزاعی وھو ممن لا یحتمل تفردہ، فقد تکلم بعض الأئمۃ فی حفظہ، ومحمد بن عباد لم یذکروا لہ سماعا من اسماء بنت ابی بکر، أخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۳۹۹، والطبرانی فی الکبیر : ۲۴/ ۲۴۰ (انظر: ۲۶۹۹۲)
Explanation
فوائد:… لیکن اس طویل حدیث کے جو الفاظ اِس متن میں مذکور ہیں، وہ دوسرے شواہد کی بنا پر صحیح ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا نظام زمین پر ہونے والے واقعات سے متأثر نہیں ہوتا۔
10233
Zaeef
۔ (۱۰۲۳۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: رَاٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الشَّمْسَ حِیْنَ غَرَبَتْ فَقَالَ: ((فِیْ نَارِ اللّٰہِ الْحَامِیَۃِ، لَوْ لَا مَا یَزَعُھَا مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ لَاَھْلَکَتْ مَا عَلَی الْاَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۶۹۳۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سورج کو غروب ہوتے ہوئے دیکھا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کی دہکتی ہوئی آگ میں غروب ہوا ہے، اگر اللہ تعالیٰ کے حکم نے اس کو نہ روکا ہوا ہوتا تو اس نے زمین پر موجودتمام چیزوں کو ہلاک کر دینا تھا۔
Takhreej
(۱۰۲۳۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ مولی عبد اللہ بن عمرو (انظر: ۶۹۳۴)
10234
Zaeef
۔ (۱۰۲۳۵)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((تَغِیْبُ الشَّمْسُ تَحْتَ الْعَرْشِ فَیُؤْذَنُ لَھَا فَتَرْجِعُ، فَاِذَا کَانَتْ تِلْکَ اللَّیْلَۃُ الَّتِیْ تَطْلَعُ صَبِیْحَتَھَا مِنَ الْمَغْرِبِ لَمْ یُؤْذَنْ لَھَا، فَاِذَا اَصْبَحَتْ قِیْلَ لَھَا: اطْلُعِیْ مِنْ مَکَانِکِ ثُمَّ قَرَأَ {ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا اَنْ تَاْتِیَھُمُ الْمَلَائِکَۃُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّکَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ}۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۲۵)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سورج عرش کے نیچے غروب ہوتا ہے، پھر اس کو اجازت دی جاتی ہے، پس وہ لوٹ آتا ہے، جب وہ رات ہو گی، جس کی صبح کو سورج نے مغرب سے طلوع ہونا ہو گا، اس کو اجازت نہیں دی جائے گی، پس جب وہ صبح کرے گا تو اس سے کہا جائے گا: تو اسی جگہ سے طلوع ہو، جہاں سے غروب ہوا ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی: کیایہ لوگ صرف اس امر کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیںیا ان کے پاس آپ کا ربّ آ ئے یا آپ کے رب کی کوئی (بڑی) نشانی آئے۔ (سورۂ انعام: ۱۵۸)
Takhreej
(۱۰۲۳۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵۹ (انظر: ۲۱۳۰۰)
Explanation
فوائد:… سورج کا عرش کے نیچے غروب ہونا اور سجدہ کرنا، اس قسم کے امور پر مشتمل احادیث ِ صحیحہ پر ایمان لانا ضروری ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کی کیفیت کو بھی سمجھا جائے، جبکہ سورج ہر وقت عرش کے نیچے ہی رہتا ہے اور کوئی گھڑی ایسی نہیں گزرتی، جس میں یہ اپنے ربّ کے سامنے مطیع نہ ہو رہا ہو، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُ لَہُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ} … کیا تو دیکھتا نہیں کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرتا ہے، مثلا سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور بہت زیادہ لوگ۔ (سورۂ حج: ۱۸) ابو العالیہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: آسمان میں موجود ہر ستارہ، سورج اور چاند غروب ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے، پھر اس کو آگے بڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ یہ بات بھی معلوم ہے کہ سورج ہر وقت فلک میں رہتا ہے، پس یہ ہر وقت فلک میں تسبیح بیان کرتا ہے اور ہر وقت سجدہ کرتا ہے اور ہر رات کو اجازت طلب کرتا ہے، جیسا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے، وہ اس طرح سجدہ کرتا ہے، جیسا اس کے لیے مناسب ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی و انکساری کا اظہار کرتا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ سورج ہر گھڑی میںکسی علاقے کے لیے غروب ہو رہا ہے اور کسی علاقے کے لیے طلوع ہو رہا ہے، سو یہ ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کر رہا ہے اور آگے چلنے کی اجازت لے رہا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اپنے رسالے قنوت الأشیاء کلھا للہ میں سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کییہ حدیث ذکر کی اور کہا: پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس حدیث میں اس چیز کی خبر دی ہے کہ سورج غروب ہونے کے بعد سجدہ کرتا ہے اور اجازت لیتا ہے۔ پھر انھوں نے ابو العالیہ کا مذکورہ بالا قول پیش کیا۔
10235
Sahih
۔ (۱۰۲۳۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَاطَلَعَ الْنَجْمُ صَبَاحًا قَطُّ، وَبِقَوْمٍ عَاھَۃٌ اِلَّا رُفِعَتْ اَوْ خَفَّتْ۔)) (مسند احمد: ۹۰۲۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب صبح کے وقت (ثریا) ستارہ طلوع ہوتا ہے اور اس وقت جو قوم جس بیماری میں مبتلا ہوتی ہے تو وہ بیمارییا تو سرے سے ختم ہو جاتی ہے، یا اس میں تخفیف کر دی جاتی ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۳۶) تخریج: حدیث حسن، أخرجہ الطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۲۲۸۶(انظر: ۹۰۳۹)
10236
Sahih
۔ (۱۰۲۳۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا طَلَعَ النَّجْمُ ذَا صَبَاحٍ رُفِعَتِ الْعَاھَۃُ۔))(مسند احمد: ۸۴۷۶)
۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب (ثریا) ستارہ صبح کے وقت طلوع ہوتا ہے، تو آفت ختم کر دی جاتی ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۳۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… عثمان بن عبد اللہ بن سراقہ کہتے ہیں: ہم لوگ سفر میں تھے، جبکہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بھی ہمارے ساتھ تھے، میں نے ان سے پھلوں کی بیع کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے آفت کے اٹھ جانے تک پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کون سی چیز آفت کو دور کرتی ہے؟ انھوں نے کہا: ثریا ستارے کا طلوع ہو جانا۔ (صحیح بخاری: ۱۴۸۶، صحیح مسلم: ۱۵۳۴، واللفظ لاحمد) حافظ ابن حجر نے کہا: ثریا ایک ستارہ ہے، یہ موسم گرم کے شروع میں صبح کے وقت طلوع ہوتا ہے، اس وقت حجاز کی سرزمین میں شدید گرمی کا اور پھلوں کے پکنے کا موسم ہوتا ہے، جو حقیقت معتبر ہے، وہ تو پھلوں کا پکنا ہی ہے، البتہ اس کی علامت ثریا ستارہ ہے۔
10237
Sahih
۔ (۱۰۲۳۸)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ھٰرُوْنَ، ثَنَا ھِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: کُنَّا مَعَ اَبِیْ قَتَادَۃَ عَلٰی ظَھْرِ بَیْتِنَا فَرَاٰی کَوْکَبًا اِنْقَضَّ فَنَظَرُوْا اِلَیْہِ، فَقَالَ اَبُوْ قَتَادَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: اِنَّا قَدْ نُھِیْنَا اَنْ نُتْبِعَہُ اَبْصَارَنَا۔ (مسند احمد: ۲۲۹۱۶)
۔ محمد کہتے ہیں: ہم سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ اپنے گھر کی چھت پر تھے، انھوں نے ایک ستارے کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا، پھر لوگوں نے اس کی طرف دیکھا تو انھوں نے کہا: ہمیں اس سے منع کیا گیا کہ ہم اس کو دیکھیں۔
Takhreej
(۱۰۲۳۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ عبد الرزاق: ۲۰۰۰۷، والحاکم: ۴/ ۲۷۶ (انظر: ۲۲۵۴۹)
10238
Sahih
۔ (۱۰۲۳۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَتْ: اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِیْ فَاَرَانِی الْقَمَرَ حَتّٰی طَلَعَ فَقَالَ: ((تَعَوِّذِیْ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ ھٰذَا الْغَاسِقِ اِذَا وَقَبَ۔)) (مسند احمد: ۲۶۲۳۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے چاند کو طلوع ہوتے ہوئے دکھایا اور فرمایا: تو اللہ کی پناہ طلب کر اس غاسق کے شرّ سے، جب اس کی تاریکی پھیل جائے۔
Takhreej
(۱۰۲۳۹) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الطیالسی: ۱۴۸۶، وابویعلی: ۴۴۴۰، والحاکم: ۲/ ۵۴۰ (انظر: ۲۵۷۱۱)
Explanation
فوائد:… امام مبارکپوری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: غاسق سے مراد چاند یا رات ہے، جب سرخی غروب ہو جائے، جب چاند کو گرہن لگتا ہے، اس وقت بھی وقب کا لفظ بولا جاتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چاند گرہن سے پناہ مانگنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ایسی نشانی ہے، جو مصیبت و آزمائش پر دلالت کرتی ہے۔ دوسرا معنییہ ہے کہ غاسق سے مراد رات ہے، جب مشرق کی طرف اس کا اندھیرا چھا جائے، رات سے پناہ مانگنے کی وجہ یہ ہے کہ رات کو آفات کا انتشار عام ہوتا ہے، ایک قول کے مطابق غاسق سے مراد ثریا ستارہ ہے، جب وہ گر جائے اور غروب ہو جائے، ابن جریر نے اپنی تفسیر میں کہا: میرے نزدیک بہتر بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غاسق کے شرّ سے پناہ طلب کریں، جب رات اندھیروں میں داخل ہو تی ہے تو اس کو غاسق کہتے ہیں، جب ستارہ غروب ہوتا ہے تو اس کو غاسق کہتے ہیں اور جب چاند چھا جائے تو اس کو بھی غاسق کہتے ہیں، پس غاسق کی تحصیص نہ کی جائے، بلکہ اس کو عام رکھ کر اس سے پناہ مانگی جائے۔ (ملخص از: تحفۃ الاحوذی: ۹/ ۲۱۳)
10239
Sahih
۔ (۱۰۲۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَمْ تَرَوْا اِلٰی مَا قَالَ رَبُّکُمْ عَزَّوَجَلَّ؟ قَالَ: مَا اَنْعَمْتُ عَلٰی عِبَادِیْ مِنْ نِعْمَۃٍ اِلَّا اَصْبَحَ فَرِیْقٌ مِنْھُمْ بِھَا کَافِرِیْنَ،یَقُوْلُوْنَ: الْکَوْکَبُ وَبِالْکَوْکَبِ۔)) (مسند احمد: ۸۷۹۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات کی طرف نہیں دیکھتے، جو تمہارے ربّ نے کہی ہے؟ اس نے کہا: جب بھی میں اپنے بندوں پر کوئی نعمت کرتا ہوں تو ان میں ایک فریق تو میرے ساتھ کفر کرنے والا ہو جاتا ہے، وہ کہتا ہے: ستارے نے بارش برسائی، ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۴۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۲ (انظر: ۸۸۱۱)
Explanation
فوائد:… جو نعمت کو ستاروں کی طرف منسوب کرتاہے، کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش نازل ہوئی ہے تو وہ مشرک ہو جاتا ہے اور جو اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والا ہو گا۔
10240
Sahih

Chapters

20
01
مخلوقات میں پہلی چیز کا بیان اور اس میںپانی، عرش، لوح محفوظ اور قلم کا ذکر ہو گا
8 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ جنت اور جہنم کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ اب موجود ہیں
2 Hadith
03
ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کا بیان
8 Hadith
04
پہاڑوں، لوہے، آگ، ہوا، زمانے، دن اور رات کو پیدا کرنے کا بیان
3 Hadith
05
سمندروں اور دریاؤں کا بیان
6 Hadith
06
سورج، چاند اور ستاروں کا بیان
9 Hadith
07
بادل، گرج اور ہواؤں کا بیان
8 Hadith
08
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
8 Hadith
09
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
15 Hadith
10
جنوں کی تخلیق اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان
14 Hadith
11
جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قرآن سننے کا بیان
6 Hadith
12
ارواح، آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی تخلیق کا بیان
8 Hadith
13
سیدہ حوائ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی تخلیق کا بیان
1 Hadith
14
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کابیان کہ پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں
1 Hadith
15
اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ}کابیان
3 Hadith
16
جنین کی تخلیق اور رحم میں اس کی تکوین کا بیان
2 Hadith
17
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
5 Hadith
18
آدم علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے جھگڑے کا بیان
1 Hadith
19
آدم علیہ السلام کے بیٹوں قابیل اور ہابیل وغیرہ کا بیان
3 Hadith
20
آدم علیہ السلام کی وفات، غسل، تکفین، نماز جنازہ اور تدفین کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.