TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بادل، گرج اور ہواؤں کا بیان - بادل، گرج اور ہواؤں کا بیان - کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 7 of کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 7 of 20 · 8 Hadith
۔ (۱۰۲۴۱)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ، اَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ سَعْدٍ اَخْبَرَنِیْ اَبِیْ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا اِلٰی جَنْبِ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ فِیْ الْمَسْجِدِ فَمَرَّ شَیْخٌ جَمِیْلٌ مِنْ بَنِیْ غِفَارٍ وَفِیْ اُذُنَیْہِ صَمَمٌ اَوْ قَالَ: وَقْرٌ، اَرْسَلَ اِلَیْہِ حُمَیْدٌ فَلَمَّا اَقْبَلَ قَالَ: یَا ابْنَ اَخِیْ! اَوْسِعْ لَہُ فِیْمَا بَیْنِیْ وَبَیْنَکَ، فَاِنَّہُ قَدْ صَحِبَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ الشَّیْخُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُنْشِیئُ السَّحَابَ فَیَنْطِقُ اَحْسَنَ النُّطْقِ وَیَضْحَکُ اَحْسَنَ الضِّحْکِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۸۶)
۔ سعد کہتے ہیں: میں حمید بن عبد الرحمن کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے بنو غفار کے ایک خوبصورت بزرگ کا گزر ہوا، ان کے کانوں میں بہرا پن تھا، جب حمید نے ان کی طرف پیغام بھیجا تو وہ متوجہ ہوئے، اِدھر حمید نے کہا: میرے بھتیجے! میرے اور اپنے درمیان ان کے لیے وسعت پیدا کرو، کیونکہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابی ہیں، اس بزرگ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بیشک اللہ تعالیٰ بادل کو پیدا کرتا ہے، پس وہ بہترین انداز میں بولتا ہے اور بہترین انداز میں ہنستا ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۴۱) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۵۲۲۰ (انظر: ۲۳۶۸۶)
Explanation
فوائد:… ہر مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا احساس اور اس کے بارے میں شعور ہے، پتھروں کا اللہ کے خوف کی وجہ سے لڑھک پڑنا، موسی علیہ السلام نے جس پتھر پر کپڑے رکھے تھے، اس کا دوڑ پڑنا اور موسی علیہ السلام کا اس کو مارنا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف لائے تو تنے کا رونا، وغیرہ۔ یہی معاملہ بادلوں کا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْہِنَّ وَ اِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖوَلٰکِنْلَّاتَفْقَہُوْنَتَسْبِیْحَہُمْ اِنَّہٗکَانَحَلِیْمًا غَفُوْرًا۔} … ساتوں آسمان اور زمین اور جو بھی ان میں ہے اسی کی تسبیح کر رہے ہیں۔ ایسی کوئی چیز نہیں جو اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ تم اس کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے۔ وہ بڑا بردبار اور بہت بخشنے والا ہے۔ (سورۂ بنی اسرائیل: ۴۴)
10241
Sahih
۔ (۱۰۲۴۲)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ وَالصَّوَاعِقَ قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ، وَلَا تُھْلِکْنَا بِعَذَابِکَ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۵۷۶۳)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب گرج اور کڑک کی آواز سنتے تو فرماتے: اے اللہ! نہ ہمیں اپنے غضب کے ساتھ ہلاک کر اور نہ عذاب کے ساتھ ہمیں تباہ کر، اور ہمیں اس سے پہلے ہی عافیت دے دے۔
Takhreej
(۱۰۲۴۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف حجاج بن ارطاۃ، ولجھالۃ حال ابی مطر، أخرجہ الترمذی: ۳۴۵۰ (انظر: ۵۷۶۳)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ھُوَالَّذِیْیُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّیُنْشِیُٔ السَّحَابَ الثِّقَالَ۔ وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖوَالْمَلٰٓئِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِھَا مَنْ یَّشَآئُ} … وہی ہے جو تمھیں بجلی دکھاتا ہے، ڈرانے اور امید دلانے کے لیے اور بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔ اور (بادل کی) گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے۔ اور وہ کڑکنے والی بجلیاں بھیجتا ہے، پھر انھیں ڈال دیتا ہے جس پر چاہتا ہے۔ (سورۂ رعد: ۱۲، ۱۳) یعنی اللہ تعالیٰ بجلی کے ذریعے جس کو چاہتا ہے، ہلاک کر ڈالتاہے۔
10242
Zaeef
۔ (۱۰۲۴۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَقْبَلَتْ یَھُوْدٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فقَالُوْا: یَا اَبَا الْقَاسِمِ! اِنَّا نَسْاَلُکَ عَنْ خَمْسَۃِ اَشْیَائٍ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ وَفِیْہِ قَالُوْا: اَخْبِرْنَا مَا ھٰذَا الرَّعْدُ؟ قَالَ: ((مَلَکٌ مِنْ مَلَائِکَۃِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مُوَکَّلٌ بِالسَّحَابِ بِیَدِہِ، اَوْ فِیْیَدِہِ مِخْرَاقٌ مِنْ نَارٍ یَزْجُرُ بِہٖالسَّحَابَیَسُوْقُہُ حَیْثُ اَمَرَ اللّٰہُ۔)) قَالُوْا: فَمَا ھٰذَا الصَّوْتُ الَّذِیْ نَسْمَعُ قَالَ: ((صَوْتُہُ۔)) قَالُوْا: صَدَقْتَ۔(مسند احمد: ۲۴۸۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ یہودی لوگ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اے ابوالقاسم! ہم آپ سے پانچ اشیاء کے بارے میں سوال کریں گے، ……، پھر انھوں نے پوری حدیث ذکر کی، اس میں یہ بھی تھا: انھوں نے کہا: آپ ہمیں یہ بتائیں کہ کڑک کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کو بادلوں کا نظام سپرد کیا گیا ہے، اس کے ہاتھ میںآگ کی ایک تلوار ہوتی ہے، وہ اس کے ذریعے بادلوں کو ڈانٹتا ہے اور اللہ کے حکم کے مطابق ان کو چلا کر لے جاتا ہے۔ انھوں نے کہا: ہم جو آواز سنتے ہیں،یہ کون سی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اسی کی آواز ہوتی ہے۔ یہودیوں نے کہا: آپ نے سچ کہا۔
Takhreej
(۱۰۲۴۳) تخریج: حدیث صحیح دون قصۃ الرعد، فقد تفرد بھا بُکیر بن شھاب، ھو لم یرو عنہ سوی اثنین، وقال ابو حاتم: شیخ، وقال الذھبی فی المیزان : عراقی صدوق، أخرجہ الترمذی: ۳۱۱۷(انظر: ۲۴۸۳)
10243
Sahih
۔ (۱۰۲۴۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَالَ رَبُّکُمْ عَزَّوَجَلَّ: لَوْ اَنَّ عِبَادِیْ اَطَاعُوْنِیْ لَاَسْقَیْتُھُمُ الْمَطْرَ بِاللَّیْلِ وَ اَطْلَعْتُ عَلَیْھِمُ الشَّمْسَ بِالنَّھَارِ، وَ لَمَا اَسَمَعْتُھُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ۔ وَق۔الَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنّ۔ حُسْنُ الظَّنِّ بِاللّٰہِ مِنْ حُسَنِ عِبَادَۃِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۹۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ربّ نے کہا: اگرمیرے بندے میری اطاعت کریں تو میں ان پر رات کو بارش نازل کروں گا، دن کو سورج نکال دوں گا اور میں ان کو گرج کی آواز تک نہیں سناؤں گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا، اس کی اچھی عبادت میں سے ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۴۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، صدقۃ بن موسی ضعیف، وسُمیر بن نھار جھّلہ الدارقطنی، أخرجہ الطیالسی: ۲۵۸۶، والبزار: ۶۶۴، والحاکم: ۴/ ۲۵۶ (انظر: ۸۷۰۸)
Explanation
فوائد:… یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہو گی کہ دن کے معمولات بھی متاثر نہ ہوں اور بارش بھی ہو جائے اور وہ بھی ایسے پرسکون انداز میں گرج کی کوئی آواز سنائی نہ دے۔
10244
Zaeef
۔ (۱۰۲۴۵)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَسُبُّوْا الرِّیْحَ فَاِنَّھَا تَجِیْئُ بِالرَّحْمَۃِ وَالْعَذَابِ، وَلٰکِنْ سَلُوْا اللّٰہَ خَیْرَھَا، وَتَعَوَّذُوْا بِہٖمِنْشَرِّھَا۔)) (مسنداحمد: ۹۶۲۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہوا کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہیہ رحمت کو بھی لاتی ہے اور عذاب کو بھی، تم اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کیا کرو اور اس کے شرّ سے پناہ طلب کیا کرو۔
Takhreej
(۱۰۲۴۵) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۷۲۷ (انظر: ۹۶۲۹)
10245
Sahih
۔ (۱۰۲۴۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: اَخَذَتِ النَّاسَ رِیْحٌ بِطَرِیْقِ مَکَّۃَ، وَعَمَرُبْنُ الْخَطَّابِ حَاجٌ فَاشْتَدَّتْ عَلَیْھِمْ فَقَالَ عُمَرُ لِمَنْ حَوْلَہُ: مَنْ یُحَدِّثُنَا عَنِ الرِّیْحِ؟ فَلَمْ یُرْجِعُوْا اِلَیْہِ شَیْئًا، فَبَلَغَنِی الَّذِیْ سَاَلَ عَنْہُ عُمَرُ مِنْ ذٰلِکَ، فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِیْ حَتّٰی اَدْرَکْتُہُ، فَقُلْتُ: یَا اِمَیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اُخْبِرْتُ اَنَّکَ سَاَلْتَ عَنِ الرِّیْحِ، وَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اَلرِّیْحُ مِنْ رَوْحِ اللّٰہِ، تَاْتِیْ بِالرَّحْمَۃِ وَتَاْتِیْ بِالْعَذَابِ، فَاِذَا رَاَیْتُمُوْھَا فَـلَا تَسُبُّوْھَا، وَسَلُوْا اللّٰہَ خَیْرَھَا، وَاسْتَعِیْذُوْا بِہٖمِنْشَرِّھَا۔)) (مسنداحمد: ۷۶۱۹)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ لوگ مکہ مکرمہ کے راستے میں تھے، ہوا چلنے لگی، سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حج کرنے جا رہے تھے، ہوا سخت ہو گئی، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے ارد گرد کے لوگوں سے پوچھا: کون ہمیں ہوا کے بارے میں بیان کرے گا؟ لوگوں نے کوئی جواب نہ دیا، جب مجھے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سوال کا علم ہوا تو میں نے اپنی سواری کو تیزی سے چلایا،یہاں تک کہ ان کو پا لیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہوا کے بارے میں سوال کیا ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ہوا کی اصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے، یہ رحمت کے ساتھ بھی آتی ہے اور عذاب کے ساتھ بھی، پس جب تم اس کو دیکھو تو اس کو برا بھلا مت کہا کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کیا کرو اور اس کے شرّ سے پناہ طلب کیا کرو۔
Takhreej
(۱۰۲۴۶) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابوداود: ۵۰۹۷ (انظر: ۷۶۳۱)
Explanation
فوائد:… ہوا اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند ہے، اس کے اندر خیر بھی ہوتی ہے اور شرّ بھی، بندے کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند چیز کو برا بھلا نہ کہے، بلکہ اس سے خیر کا سوال کرے اور اس کے شرّ کی پناہ طلب کرے۔
10246
Sahih
۔ (۱۰۲۴۷)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَفَرٍ قَالَ: فَھَبَّتْ رِیْحٌ شَدِیْدَۃٌ فَقَالَ: ((ھٰذِہِ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ۔)) قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِیْنَۃَ، اِذَا ھُوَ قَدْ مَاتَ مُنَافِقٌ عَظِیْمٌ مِنْ عُظَمَائِ الْمُنَافِقِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۳۱)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک سفر میں تھے، بڑی سخت ہوا چلی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کسی منافق کی موت کی وجہ سے ہے۔ پس جب ہم مدینہ میں آئے تو دیکھا کہ بڑے منافقوں میں سے ایک بڑا منافق مر چکا تھا۔
Takhreej
(۱۰۲۴۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۸۲ (انظر: ۱۴۳۷۸)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۰۲۳۲ا، ۱۰۲۳۳) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نظام زمین پر ہونے والے موت و حیات اور خوشی و غمی کے واقعات سے متاثر نہیں ہوتا۔ اس حدیث میں جس ہوا کا ذکر ہے، یہ دراصل اللہ تعالیٰ کا کوئی لشکر تھا، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے یہ بتلانا چاہتے تھے کہ فلاں منافق مر گیا ہے، اس طرح سے اس ہوا کو اس کی موت کی علامت قرار دینا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ تھا۔
10247
Sahih
۔ (۱۰۲۴۸)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا ھَبَّتِ الرِّیْحُ عُرِفَ ذٰلِکَ فِیْ وَجْھِہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۶۴۸)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب ہوا چلتی تھی تو اس چیز کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے سے پتہ چل جاتا تھا (کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پریشان ہو رہے ہیں)۔
Takhreej
(۱۰۲۴۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۰۳۴(انظر: ۱۲۶۲۱)
Explanation
فوائد:… ہوا کے اندر خیر بھی ہو سکتی ہے اور شرّ بھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شرّ کے خطرے کی وجہ سے پریشان ہو جاتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ جب شرّ کا باعث بن سکنے والی چیز وجود پکڑے تو اللہ تعالیٰ کی مراقبت کی تیاری کی جائے اور اس کی طرف پناہ پکڑی جائے، اختلاف ِ حالات و ظروف سے بندے کو متاثر ہونا چاہیے۔
10248
Sahih

Chapters

20
01
مخلوقات میں پہلی چیز کا بیان اور اس میںپانی، عرش، لوح محفوظ اور قلم کا ذکر ہو گا
8 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ جنت اور جہنم کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ اب موجود ہیں
2 Hadith
03
ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کا بیان
8 Hadith
04
پہاڑوں، لوہے، آگ، ہوا، زمانے، دن اور رات کو پیدا کرنے کا بیان
3 Hadith
05
سمندروں اور دریاؤں کا بیان
6 Hadith
06
سورج، چاند اور ستاروں کا بیان
9 Hadith
07
بادل، گرج اور ہواؤں کا بیان
8 Hadith
08
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
8 Hadith
09
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
15 Hadith
10
جنوں کی تخلیق اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان
14 Hadith
11
جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قرآن سننے کا بیان
6 Hadith
12
ارواح، آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی تخلیق کا بیان
8 Hadith
13
سیدہ حوائ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی تخلیق کا بیان
1 Hadith
14
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کابیان کہ پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں
1 Hadith
15
اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ}کابیان
3 Hadith
16
جنین کی تخلیق اور رحم میں اس کی تکوین کا بیان
2 Hadith
17
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
5 Hadith
18
آدم علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے جھگڑے کا بیان
1 Hadith
19
آدم علیہ السلام کے بیٹوں قابیل اور ہابیل وغیرہ کا بیان
3 Hadith
20
آدم علیہ السلام کی وفات، غسل، تکفین، نماز جنازہ اور تدفین کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.