TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کا بیان - ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کا بیان - کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 20 · 8 Hadith
۔ (۱۰۲۱۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ مَرَّتْ سَحَابَۃٌ فَقَالَ: ((اَتَدْرُوْنَ مَاھٰذَا؟)) قَالَ: قُلْنَا: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((الْعَنَانُ وَرَوَایَا الْاَرْضِ، یَسُوْقُہُ اللّٰہُ اِلٰی مَنْ لَا یَشْکُرُہُ مِنْ عِبَادِہِ، وَلَا یَدْعُوْنَہُ، اَتَدْرُوْنَ مَا ھٰذِہِ فَوْقَکُمْ؟)) قُلْنَا: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((الرَّقِیْعُ، مَوْجٌ مَکْفُوْفٌ وَسَقْفٌ مَحْفُوْظٌ، اَتَدْرُوْنَ کَمْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَھُمَا؟)) قُلْناَ: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((مَسِیْرَۃُ خَمْسِ مِائَۃِ عَامٍ، قَالَ: اَتَدْرُوْنَ مَاالَّتِیْ فَوْقَھَا؟)) قُلْنَا: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((سَمَائٌ اُخْرٰی، اَتَدْرُوْنَ کَمْ بَیْنَھَا وَبَیْنَھَا؟)) قُلْنَا: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((مَسِیْرَۃُ خَمْسِ مِائَۃِ عَامٍ۔)) حَتّٰی عَدَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: ((اَتَدْرُوْنَ مَافَوْقَ ذٰلِکَ؟)) قُلْنَا: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((اَلْعَرْشُ۔)) قَالَ: ((اَتَدْرُوْنَ کَمْ بَیْنَہُ وَبَیْنَ السَّمَائِ السَّابِعَۃِ؟)) قُلْنَا: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((مَسِیْرَۃُ خَمْسِ مِائَۃِ عَامٍ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((اَتَدْرُوْنَ مَاھٰذَا تَحْتَکُمْ؟)) قُلْنَا: اللّٰہُ وَ رَسُوْلْہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((اَرْضٌ، اَ تَدْرُوْنَ مَا تَحْتَھَا؟)) قُلْنَا: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((اَرْضٌ اُخْرٰی، اَتَدْرُوْنَ کَمْ بَیْنَھَا وَبَیْنَھَا؟)) قُلْنَا: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((مَسِیْرَۃُ خَمْسِ مِائَۃِ عَامٍ۔)) حَتّٰی عَدَّ سَبْعَ اَرْضٍ ثُمَّ قَالَ: ((وَاَیْمُ اللّٰہِ! لَوْ دَلَّیْتُمْ اَحَدَکُمْ بِحَبْلٍ اِلَی الْاَرْضِ السُّفْلَی السَّابِعَۃِ لَھَبَطَ، ثُمَّ قَرَاَ {ھُوَ الْاَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاھِرُ وَالْبَاطِنُ وَھُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ}۔)) (مسند احمد: ۸۸۱۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک بدلی گزری، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بدلی ہے اور زمین کو سیراب کرنے والی ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ان بندوں کی طرف چلائے جا رہا ہے، جو نہ اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور نہ اس کو پکارتے ہیں، اچھا کیا تم یہ جانتے ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آسمان ہے، یہ ایک موج ہے، جس کو روک دیا گیا ہے اور محفوظ چھت ہے، کیا تم جانتے ہوں کہ اس کے اور تمہارے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ سو برسوں کی مسافت ہے، کیا تم جانتے ہو کہ اُس کے اوپر کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک اور آسمان ہے، کیا تم جانتے ہو کہ اِس آسمان اور اُس آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سات آسمانوں کو شمار کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ ساتویں آسمان کے اوپر کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عرش ہے، کیا تم جانتے ہو کہ عرش اور ساتویں آسمان کے مابین کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ سو سالوں کی مسافت ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تم یہ جانتے ہو کہ تمہارے نیچے کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین ہے، اچھا کیا تمہیں اس چیز کا علم ہے کہ اس کے نیچے کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک اور زمین ہے، کیا تم جانتے ہو کہ اُس کے نیچے کیا ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک اور زمین ہے، کیا تم جانتے ہو کہ اِس زمین سے اُس زمین تک کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پانچ سو برسوں کی مسافت ہے۔ یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سات زمینیں شمار کیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور اللہ کی قسم ہے کہ اگر تم ساتویں زمین تک رسی لٹکاؤ تو وہ ساتویں زمین سے جا لگے لگی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: وہی پہلے ہے اور وہی پیچھے، وہی ظاہر ہے اور وہی مخفی، اور ہر چیز کو بخوبی جاننے والا ہے۔ (سورۂ حدید: ۳)
Takhreej
(۱۰۲۱۵) تخریج: اسنادہ ضعیف، الحکم بن عبد الملک مجمع علی ضعفہ، وقتادۃ مدلس، وعنعن، والحسن البصری لم یسمع من ابی ھریرۃ أخرجہ الترمذی: ۳۲۹۸ (انظر: ۸۸۲۸)
Explanation
فوائد:… آسمانِ دنیا کا نام رَقِیْع ہے، ایک قول کے مطابق اس کا اطلاق ہر آسمان پر بھی ہوتا ہے۔
10215
Sahih
۔ (۱۰۲۱۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَخَذَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَدِیْ فَقَالَ: ((خَلَقَ اللّٰہُ التُّرْبَۃَیَوْمَ السَّبْتِ، وَخَلَقَ الْجِبَالَ فِیْھَایَوْمَ الْاَحَدِ، وَخَلَقَ الشَّجَرَ فِیْھَایَوْمَ الْاِثْنَیْنِ، وَخَلَقَ الْمَکْرُوْہَ یَوْمَ الثُّلاَ ثَائِ، وَخَلَقَ النُّوْرَ یَوْمَ الْاَرْبِعَائِ، وَبَثَّ فِیْھَا الدَّوَابَ یَوْمَ الْخَمِیْسِ، وَخَلَقَ آدَمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ بَعْدَ الْعَصْرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ آخِرَ الْخَلْقِ فِیْ آخِرِ سَاعَۃٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَۃِ فِیْمَا بَیْنَالْعَصْرِ اِلَی الْلَیْلِ۔)) (مسند أحمد: ۸۳۲۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا او ر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہفتے والے دن کو مٹی، اتوار کو پہاڑ، سوموار کو درخت، منگل کو مکروہ چیزیں، بدھ کو نور، جمعرات کو چوپائے پیدا کئے اور آدم علیہ السلام ،جو کہ آخری مخلوق تھے، کو جمعہ کے روز بعد از وقت ِ عصر جمعہ کی آخری گھڑی میں پیدا کیا،یہ گھڑی عصر سے رات (غروبِ آفتاب) تک کے وقت کے مابین ہوتی ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۱۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۸۹ (انظر: ۸۳۴۱)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ ہی ہے، جس نے ایسے کیا اور جو اس ترتیب کی حکمت کو جانتا ہے۔
10216
Zaeef
۔ (۱۰۲۱۷)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنَّا قَدْ نُھَیْنَا اَنْ نَسْاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ شَیْئٍ فَکَانَ یُعْجِبُنَا اَنْ یَجِيْئَ الرَّجُلُ مِنْ اَھْلِ الْبَادِیَۃِ الْعَاقِلُ فَیَسْاَلُہُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ، فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ الْبَادِیَۃِ فَقَالَ: یَامُحَمَّدُ! اَتَانَا رَسُوْلُکَ فَزَعَمَ لَنَا اَنَّکَ تَزْعَمُ اَنَّ اللّٰہَ اَرْسَلَکَ، قَالَ: ((صَدَقَ۔)) قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَائَ؟ قَالَ: ((اَللّٰہُ۔)) قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الْاَرْضَ؟ قَالَ: ((اَللّٰہُ۔)) قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ ھٰذِہِ الْجِبَالَ، وَجَعَلَ فِیْھَا مَاجَعَلَ؟ قَالَ: ((اَللّٰہُ۔)) قَالَ: فَبِالَّذِیْ خَلَقَ السَّمَائَ وَخَلَقَ الْاَرْضَ، وَنَصَبَ ھٰذِہِ الْجِبَالَ، آللّٰہُ اَرْسَلَکَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۸۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کرنے سے منع کیا جاتا تھا، اس لیےیہ بات ہمیں بڑی پسند تھی کہ کوئی عقلمند دیہاتی آدمی آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کرے اور ہم سنیں، پس ایک دیہاتی آدمی آیا اور اس نے کہا: اے محمد! آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا، اس نے اس خیال کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ اس نے کہا: اچھایہ بتائیں کہ کس نے آسمان کو پیدا کیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ نے۔ اس نے کہا: کس نے زمین کو پیدا کیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: کس نے ان پہاڑوں کو گاڑھا اور ان میں کئی خزانے ودیعت رکھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم، جس نے آسمان پیدا کیا، زمین پیدا کی اور پہاڑ پیدا کیے، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے ؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔
Takhreej
(۱۰۲۱۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲ (انظر: ۱۲۴۵۷)
10217
Zaeef
۔ (۱۰۲۱۸)۔ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، اَنَّہُ دَخَلَ عَلَی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، وَھُوَ یُخَاصِمُ فِیْ اَرْضٍ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : یَا اَبَا سَلَمَۃَ! اجْتَنِبِ الْاَرْضَ، فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ ظَلَمَ قِیْدَ شِبْرٍ مِنَ الْاَرْضِ، طُوِّقَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ سَبْعِ اَرْضِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۵۷)
۔ ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے مروی ہے کہ وہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئے، جبکہ وہ زمین کے بارے میں کوئی جھگڑا کر رہے تھے، سیدہ نے کہا: اے ابو سلمہ! زمین سے بچ، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کی ایک بالشت کے بقدر زمین ظلم سے اپنے قبضہ میں لے لی، اس کو قیامت کے روز سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔
Takhreej
(۱۰۲۱۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۱۲(انظر: ۲۴۳۵۳)
Explanation
فوائد:… ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّ یَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَہُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ قَدِیْرٌ وَّاَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْء ٍ عِلْمًا } … اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور زمین سے بھی ان کی مانند ۔ ان کے درمیان حکم نازل ہوتا ہے، تاکہ تم جان لو کہ بیشک اللہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے اور یہ کہ بے شک اللہ نے یقینا ہر چیز کو علم سے گھیر رکھا ہے ۔ (سورۂ طلاق: ۱۲) معلوم ہوا کہ سات آسمانوں کی طرح سات زمینیں ہیں۔ قدیم لوگوں نے روئے زمین کو سات حصوںپر تقسیم کیا تھا، ہر حصے کو اقلیم کہتے تھے، بعض نے سات زمینوں سے یہ ہفت اقلیم مراد لیے ہیں، بعد میں ان کو سات براعظم کہا گیا،یہ قول راجح معلوم ہوتا ہے، اس کی دو وجوہات ہیں: (۱)قرآن و حدیث میں اکثر و بیشتر السموات کے مقابلے میں لفظ الارض مستعمل ہوا، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ زمین دراصل ایک ٹکڑا ہی ہے۔ (۲) زمین ہتھیالینے والے کو سات زمینوں کی مٹی کھود کر اس کا طوق پہنایا جائے گا، اور اس زمین میں ساتوں زمینیں موجود ہیں۔ اگر سات زمینوں سے مراد سات زمینیں ہی لیں کہ وہ آسمانوں کی طرح الگ الگ ہیں تو ان میں سے ایک زمین وہ ہے، جس پر ہم رہ رہیں ہیں، پھر باقی چھ زمینیں کہاں ہیں، نیز ان پر کون سی مخلوق رہتی ہے، ان سوالات کو اللہ تعالیٰ کے سپر کیا جائے گا۔
10218
Sahih
۔ (۱۰۲۱۹)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ زَیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((مَنْ اَخَذَ مِنَ الْاَرْضِ مَا لَیْسَ لَہُ، طُوِّقَہُ اِلَی السَّابِعَۃِ مِنَ الْاَرْضِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَمَنْ قُتِلَ دُوْنَ مَالِہِ فَھُوَ شَھِیْدٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۲)
۔ سیدنا سعید بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے زمین کا وہ حصہ ہتھیا لیا، جو اس کا نہیں ہے تو اس کو قیامت کے دن ساتویں زمین تک طوق پہنایا جائے گا ، اور جو آدمی اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے، وہ شہید ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۱۹) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۵۸۰،و النسائی: ۷/۱۱۵(انظر: ۱۶۴۲)
Explanation
فوائد:… دوسرے کی زمین ہتھیا لینے والے کے حق میں سخت وعید بیان کی گئی ہے۔
10219
Sahih
۔ (۱۰۲۲۰)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ الظُّلْمِ اَعْظَمُ؟ قَالَ: ((ذِرَاعٌ مِنَ الْاَرْضِ یَنْتَقِصُہُ مِنْ حَقِّ اَخِیْہِ، فَلَیْسَتْ حَصَاۃٌ مِنَ الْاَرْضِ اَخَذَھَا اِلَّا طُوِّقَھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃَ اِلٰی قَعْرِ الْاَرْضِ، وَلَا یَعْلَمُ قَعْرَھَا اِلَّا الَّذِیْ خَلَقَھَا۔)) (مسند احمد: ۳۷۶۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا ظلم بڑا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک ہاتھ زمین، جس کو آدمی اپنے بھائی کے حق سے ہتھیا لیتا ہے، قیامت کے دن زمین کی تہہ تک اس حصے کا طوق اس آدمی کو ڈالا جائے گا اور ایک کنکری کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا، اور زمین کی تہہ کو کوئی نہیں جانتا، مگر وہی جس نے اس کو پیدا کیا ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۲۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد اللہ بن لھعیۃ ولانقطاعہ، فابو عبد الرحمن الحبلی لم یُذکر انہ روی عن ابن مسعود، وروایتہ عن صغار الصحابۃ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۰۵۱۶ (انظر: ۳۷۶۷)
10220
Sahih
۔ (۱۰۲۲۱)۔ عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ،یُحَدِّثُ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَاْتِیْ الشَّیْطَانُ الْاِنْسَانَ فیَقُوْلُ : مَنْ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ؟ فَیَقُوْلُ : اللّٰہُ، ثُمَّ یَقُوْلُ : مَنْ خَلَقَ الْاَرْضَ؟ فَیَقُوْلُ : اللّٰہُ، حَتّٰییَقُوْلُ : مَنْ خَلَقَ اللّٰہَ، فَاِذَا وَجَدَ اَحَدُکُمْ ذٰلِکَ فَلْیَقُل : آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۱۱)
۔ سیدنا خزیمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: شیطان انسان کے پاس آ کرکہتا ہے: کس نے آسمانوں کو پیدا کیا؟ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ نے، وہ اگلا سوال کرتا ہے: کس نے زمین کو پیدا کیا؟ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ نے، (سوالات کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ وہ یہ کہتا : کس نے اللہ کو پیدا کیا، جب کوئی اس چیز کو محسوس کرے تو وہ کہے: آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ (میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا ہوں)۔
Takhreej
(۱۰۲۲۱) تخریج: متن الحدیث صحیح،لکن من حدیث ابی ھریرۃ وعائشۃ (انظر: ۲۱۸۶۷)
10221
Sahih
۔ (۱۰۲۲۲)۔ عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَالَ: لِیْ، اِنَّ اُمَّتَکَ لَا یَزَالُوْنَیَتَسَائَ لُوْنَ فِیْمَا بَیْنَھُمْ حَتّٰییَقُوْلُوْا: ھٰذَا اللّٰہُ خَلَقَ النَّاسَ فَمَنْ خَلَقَ اللّٰہَ؟)) (مسند احمد: ۱۲۰۱۸)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: تیری امت کے لوگ آپس میں ایک دوسرے سے سوال کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ وہ یہ بھی کہہ دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے۔
Takhreej
(۱۰۲۲۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۲۹۶، ومسلم: ۱۳۶ (انظر: ۱۱۹۹۵)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کی ذات ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا، اس کی نہ کوئی ابتدا ہے اور نہ کوئی انتہا۔ اس وسیع و عریض کائنات کی ہر چیز اپنی تخلیق میں اُس کی محتاج ہے اور وہ ہر معاملے میں ہر ایک سے غنی ہے۔ مذکورہ بالا اور اس موضوع سے متعلقہ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ جب کسی مسلمان کے ذہن میں اللہ تعالیٰ کے پیدا ہونے کے بارے میں سوال پیدا ہو، وہ شیطان کے وسوسے کا نتیجہ ہو یا کسی انسان کی ایجاد، تو اس کو چاہیے کہ درج ذیل تین دعاؤں میں سے کوئی ایک دعا پڑھے اور اس وسوسے کو ردّ کر دے۔ ۱۔ آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ (میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا) پڑھنا۔ ۲۔ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ پڑھنا اور ایسے وسوسوں کو دفع کرنا۔ ۳۔ اَللّٰہُ أَحَدٌ، اَللّٰہُ الصَّمَدُ، لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗکُفُوًاأَحَدٌ۔پڑھنا،بائیں جانب تھوکنا اور پھر اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھنا ۔ شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ لکھتے ہیں: یہ احادیث ِ صحیحہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جس کو شیطان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ جیسے سوال کا وسوسہ ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کا جواب دینے سے پہلو تہی کرے اور ان احادیث میں بیان کیے گئے اذکار کا اہتمام کرے، ان تین احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ درج ذیل دعا پڑھ لیا کرے (تاکہ تینوں احادیث پر عمل ہو جائے): آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ۔اَللّٰہُأَحَدٌ،اَللّٰہُالصَّمَدُ،لَمْیَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗکُفُوًاأَحَدٌ۔ پھر تین دفعہ بائیں طرف تھوکے، اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھے اور اس وسوسے کو دفع کر دے۔ میرا خیال ہے کہ جو آدمی پرخلوص انداز میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اطاعت کرتے ہوئے یہ امور سرانجام دے گا، وہ اس قسم کے وسوسوں سے محفوظ رہے گا اور شیطان کو دھتکار دیا جائے گا۔ ایسے وسوسے کو دفع کرنے کے لیے نبوی تعلیم اس امر سے زیادہ مفید ہے کہ اس سوال کے جواب میں عقلی دلائل پیش کیے جائیں اور مقابل کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ کیا جائے، کیونکہ ایسے معاملات میں بحث و تمحیص سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ لیکن افسوس ہے کہ اکثر مسلمان رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان تعلیمات سے غافل ہیں۔ ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ضروری نہیں کہ سائل کے ہر سوال کا جواب دیا جائے، بلکہ مشتبہ اور پیچیدہ امور کا جواب دینے کے بجائے احکامِ شریعت پر عمل کیا جائے۔
10222
Sahih

Chapters

20
01
مخلوقات میں پہلی چیز کا بیان اور اس میںپانی، عرش، لوح محفوظ اور قلم کا ذکر ہو گا
8 Hadith
02
اس چیز کا بیان کہ جنت اور جہنم کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ اب موجود ہیں
2 Hadith
03
ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور ان کے درمیان والی چیزوں کا بیان
8 Hadith
04
پہاڑوں، لوہے، آگ، ہوا، زمانے، دن اور رات کو پیدا کرنے کا بیان
3 Hadith
05
سمندروں اور دریاؤں کا بیان
6 Hadith
06
سورج، چاند اور ستاروں کا بیان
9 Hadith
07
بادل، گرج اور ہواؤں کا بیان
8 Hadith
08
بادل، بارش، اولے اور موسم سردا کا بیان
8 Hadith
09
فرشتوں کی تخلیق کا بیان
15 Hadith
10
جنوں کی تخلیق اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان
14 Hadith
11
جنوں کے ایک گروہ کے اسلام لانے، ان کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آنے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے قرآن سننے کا بیان
6 Hadith
12
ارواح، آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی تخلیق کا بیان
8 Hadith
13
سیدہ حوائ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کی تخلیق کا بیان
1 Hadith
14
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کابیان کہ پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں
1 Hadith
15
اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ آدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ}کابیان
3 Hadith
16
جنین کی تخلیق اور رحم میں اس کی تکوین کا بیان
2 Hadith
17
آدم علیہ السلام کی خطا کے سبب، ان کے جنت سے نکلنے اور ان کی نبوت کی دلیل کا بیان
5 Hadith
18
آدم علیہ السلام اور موسی علیہ السلام کے جھگڑے کا بیان
1 Hadith
19
آدم علیہ السلام کے بیٹوں قابیل اور ہابیل وغیرہ کا بیان
3 Hadith
20
آدم علیہ السلام کی وفات، غسل، تکفین، نماز جنازہ اور تدفین کا بیان
1 Hadith
No chapter matched that.