TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 10209 - مخلوقات میں پہلی چیز کا بیان اور اس میںپانی، عرش، لوح محفوظ اور قلم کا ذکر ہو گا - کتاب کی قسم یعنی تاریخ جہاں کی تخلیق کی کتاب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 8 in this chapter
مخلوقات میں پہلی چیز کا بیان اور اس میںپانی، عرش، لوح محفوظ اور قلم کا ذکر ہو گا
۔ (۱۰۲۰۹)۔ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: کُنَّا جُلُوْسًا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْبَطْحَائِ فَمَرَّتْ سَحَابَۃٌ فَقَالَ: رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اَتَدْرُوْنَ مَا ھٰذَا؟)) قَالَ: قُلْنَا: الْسَحَابُ، قَالَ: ((وَالْمُزْنُ)) قُلْنَا: وَ الْمُزْنُ، قَالَ: ((وَالْعَنَانُ۔)) قَالَ: فَسَکَتْنَا، فَقَالَ: ((ھَلْ تَدْرُوْنَ کَمْ بَیْنَ السَّمَائِ وَالْاَرْضِ؟)) قَالَ: قُلْنَا: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((بَیْنَھُمَا مَسِیْرَۃُ خَمْسِ مِائَۃِ سَنَۃٍ، وَمِنْ کُلِّ سَمَائٍ اِلَی سَمَائٍ مَسِیْرَۃُ خَمْسِ مِائَۃِ سَنَۃٍ، وَکِثْفُ کُلِّ سَمَائٍ مَسِیْرَۃُ خَمْسِ مِائَۃِ سَنَۃٍ، وَفَوْقَ السَّمَائِ السَّابِعَۃِ بَحْرٌ بَیْنَ اَسْفَلِہِ وَاَعْلَاہُ کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْاَرْضِ، ثُمَّ فَوْقَ ذٰلِکَ ثَمَانِیْۃُ اَوْعَالٍ بَیْنَ رُکَبِھِنَّ وَاَظْلَافِھِنِّ کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْاَرْضِ ثُمَّ فَوْقَ ذٰلِکَ الْعَرْشُ بَیْنَ اَسْفَلِہِ وَاَعْلَاَہُ کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْاَرْضِ وَاللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَوْقَ ذٰلِکَ، لَیْسَیَخْفٰی عَلَیْہِ مِنْ اَعْمَالِ بَنِیْ آدَمَ شَیْئٌ۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۰)
۔ سیدنا عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ وادیٔ بطحاء میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں سے ایک بدلی گزری، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: یہ بادل ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مُزْن بھی کہتے ہیں؟ ہم نے کہا:: جی مُزْن بھی کہتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو عَنَان بھی کہتے ہیں؟ ہم جواباً خاموش رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت جتنا فاصلہ ہے، اور ہر آسمان سے دوسرے آسمان تک پانچ سو برسوں کی مسافت ہے، جبکہ ہر آسمان کی موٹائی بھی پانچ سو برس ہے اور ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے، اس کی گہرائی اتنی ہی ہے، جتنا زمین سے آسمان تک کا فاصلہ ہے، اس کے اوپر پہاڑی بکرے کی شکل کے آٹھ فرشتے ہیں، ان کے کھر سے گھٹنے تک کی لمبائی اتنی ہے، جتنی زمین سے آسمان تک کی مسافت ہے، پھر اس کے اوپر عرش ہے، عرش کے اوپر والے اور نیچے والے حصے کے درمیان زمین و آسمان کی مسافت جتنا فاصلہ ہے، اس کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس پر بنو آدم کے اعمال میں سے کوئی عمل مخفی نہیں ہے۔
10209
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۱۰۲۰۹) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، یحییٰ بن العلاء الرازی متروک الحدیث، وقال احمد: کذاب یضع الحدیث، وسماک بن حرب وان کان صدوقا کان ربما لقّن، فاذا انفرد باصل لم یکن حجۃ، وقد تفرد بھذہ الروایۃ عن عبد اللہ بن عمیرۃ، أخرجہ ابوداود: ۴۷۲۴، ۴۷۲۵، والترمذی: ۳۳۲۰ (انظر: ۱۷۷۰)

Related Chapters

66
1
تمام ان چیزوں کا بیان جس سے مساجد کو محفوظ رکھا جائے
Musnad Ahmad
2
چوری میں محفوظ جگہ کا اعتبار کرنے کا بیان اور لوٹنے والے، ڈاکہ ڈالنے والے، خیانت کرنے والے اور عاریہ کا انکار کرنے والے کا بیان اور ان چیزوں کی وضاحت جن میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
Musnad Ahmad
3
اس چیز کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلوقات کے دلوں میں جو رحمت ودیعت رکھی ہے، یہ اس کی رحمت کا (۱۰۰ واں) حصہ ہے
Musnad Ahmad
4
(16) CHAPTER. Whoever said that the Prophet did not leave anything after his death, except what is between the two binders (of the Quran).
اس کے بارے میں جس نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قرآن ترکہ میں چھوڑا وہ سب مصحف میں دو لوحوں کے درمیان محفوظ ہے ‘ اس کا کہنایہ صحیح ہے
Sahih Bukhari
5
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: “Nay! This is a Glorious Quran (Inscribed), in Al-Lauh Al-Mahfuz (The Preserved Tablet).” (V.85:21,22)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ البروج میں فرمانا بلکہ وہ عظیم قرآن ہے جو لوح محفوظ میں ہے ۔
Sahih Bukhari
6
CHAPTER: One who steals a thing from a place where it is protected.
باب: جو شخص کسی چیز کو محفوظ مقام سے چرائے اس کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
7
Chapter: : What Has Been Related About The Virtue Of The First Row
باب: پہلی صف کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related That The Prophet (saws) Would Not Raise His Hands Except For The First Time
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم صرف پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھاتے تھے
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About the Length Of The Sitting After The First Two Rak'ah
باب: پہلی دونوں رکعتوں میں قعدہ (تشہد کے لیے بیٹھنے) کی مقدار کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About The Prostrations Of As-Sahw Before The Salaam
باب: سلام سے پہلی سجدہ سہو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related [About] The Muslims Is The One From (The Harm Of) Whose Tongue And Hand (other) Muslims Are Safe
باب: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ (کے شر) سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں
Jam e Tirmazi
12
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
13
زمین میں بنائی جانے والی سب سے پہلی مسجداور مساجد بنانے کی فضیلت
Musnad Ahmad
14
مساجد کو گندگیوں سے محفوظ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
15
مساجد کو ناپسندیدہ بدبوؤں سے محفوظ رکھنا
Musnad Ahmad
16
پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے اور دوسری دو رکعتوں میں اس کا پڑھنے کا مسنون ہونے یا نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
17
امام کا پہلی رکعت کو لمبا کرنے اوراس شخص کا انتظار کرنے کا بیان جس کو وہ داخل ہوتا ہوا محسوس کرے، تاکہ وہ رکعت پا لے
Musnad Ahmad
18
پہلی صف کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
19
نمازِ خوف کی مشروعیت کا سبب، اس کا حکم اور یہ کب ادا کی جائے گی نماز خوف کی اقسام میں سے پہلی قسم کا بیان
Musnad Ahmad
20
نماز خوف کی ساتویں صورت ایک گروہ کا پہلی رکعت میں قیام سے لے کر پہلے سجدے تک امام کے ساتھ شریک ہونا اور دوسرے گروہ کا اُسی رکعت کے دوسرے سجدے میں شریک ہونا، پھر ’’دوسری رکعت‘‘ میں سب کا امام کے ساتھ شرکت کرنا
Musnad Ahmad
21
روزے دار کے لیے مسواک کرنے، کلی کرنے، ناک میںپانی چڑھانے اور گرمی کی وجہ سے غسل کرنے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
22
محاربین اور راستوں کو غیر محفوظ کر دینے والوں کا بیان
Musnad Ahmad
23
بعض صحابہ کا اپنے دین کو فتنے سے بچانے کے لیے حبشہ کی طرف ہجرت کر جانا اور اس سفر کا اسلام کی پہلی ہجرت ہونا
Musnad Ahmad
24
اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہمیشہ جاہلیت کے عیوب اور بتوں کی عبادت سے محفوظ رکھا
Musnad Ahmad
25
فصل اول: گمراہ کرنے والے حکمرانوں کا بیان، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے
Musnad Ahmad
26
باب پنجم: اس امر کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو طاعون اور دجال کے دخول سے محفوظ رکھا ہے اور آخری زمانے تک یہاں اہل ایمان باقی رہیں گے
Musnad Ahmad
27
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
Musnad Ahmad
28
ان لوگوں کا تذکرہ، جن کو اللہ تعالیٰ فتنۂ دجال سے محفوظ رکھے گا
Musnad Ahmad
29
( CHAPTER. )
( وحی کی علامات ، وحی کا محفوظ کرنا )
Sahih Bukhari
30
(42) CHAPTER. (What is said regarding) the memorization of the (religious) knowledge.
علم کو محفوظ رکھنے کے بیان میں
Sahih Bukhari
31
(103) CHAPTER. Prolonging the first two Raka and shortening the last two.
عشاء کی پہلی دو رکعات لمبی اور آخری دو رکعات مختصر کرنی چاہئیں
Sahih Bukhari
32
(110) CHAPTER. To prolong the first Raka.
پہلی رکعت ( میں قرآت ) طویل ہونی چاہئے
Sahih Bukhari
33
(142) CHAPTER. Sitting straight in a Witr prayer (i .e., an odd Raka) and then getting up.
اس شخص کے بارے میں جو شخص نماز کی طاق رکعت ( پہلی اور تیسری ) میں تھوڑی دیر بیٹھے اور پھر اٹھ جائے
Sahih Bukhari
34
(3) CHAPTER. The legal way of the celebrations on the two Eid festivals for the Islamic World (Muslims).
اس بارے میں کہ مسلمانوں کے لیے عید کے دن پہلی سنت کیا ہے ؟
Sahih Bukhari
35
(18) CHAPTER. The first Raka of the eclipse prayer is longer (than the second).
گرہن کی نماز میں پہلی رکعت کا لمبا کرنا
Sahih Bukhari
36
(11) CHAPTER. No Hima (private pasture) except according to what Allah and His Messenger did.
اللہ اور اس کے رسول کے سوا کوئی اور چراگاہ محفوظ نہیں کرسکتا
Sahih Bukhari
37
(11) CHAPTER. The Imam distributes what (war booty) is presented before him and keeps aside the share of those who are not present or are absent at the time (of distribution).
خلیفہ المسلمین کے پاس غیر لوگ جو تحائف بھیجیں ان کا بانٹ دینا اور ان میں سے جو لوگ موجود نہ ہوں ان کا حصہ چھپا کر محفوظ رکھنا
Sahih Bukhari
38
(27) CHAPTER. What our predecessors used to store of food, meat, etc., in their houses and carry with them while on a journey.
سلف صالحین اپنے گھروں میں اور سفروں میں جس طرح کا کھانا میسر ہوتا اور گوشت وغیرہ محفوظ رکھ لیا کرتے تھے ۔
Sahih Bukhari
39
(9) CHAPTER. A believer is safe except if he transgresses Allah's legal limits or takes others rights.
مسلمان کی پیٹھ محفوظ ہے ہاں جب کوئی حد کا کام کرے تو اس کی پیٹھ پر مار لگا سکتے ہیں ۔
Sahih Bukhari
40
(47) CHAPTER. Whoever considers the interpretation of the first interpreter of one's dream as not invalid if he does not interpret it correctly.
اگر پہلی تعبیر دینے والا غلط تعبیر دے تو اس کی تعبیر سے کچھ نہ ہوگا
Sahih Bukhari
41
Chapter: The saying of the Prophet (saws): Light, How could I see Him? and: I saw Light
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کا فرمان:’’ اللہ نہیں سوتا اور یہ کہ اس کا حجاب نو ر ہے ، اگر وہ اس (حجاب) کو ہٹا دے تو اس کے رخ انور کی تجلیات اس کے منتہائے نظر تک ساری مخلوقات کو راکھ کر دیں ‘‘
Sahih Muslim
42
Chapter: The Command To Be Calm During The Prayer And The Prohibition Of Gesturing With One's Hand And Raising It When Saying The Salam; And Completing The First Rows, Aligning In Them, And The Command To Come Together
نماز میں سکون اختیار کرنے کا حکم اور سلام پھیرتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کرنے اور ہاتھ اٹھانے کی ممانعت، نیز پہلی صفوں کو مکمل کرنے اور ان میں جڑنے اور مل کر کھڑے ہونے کا حکم
Sahih Muslim
43
Chapter: Straightening The Rows; The Virtue Of The Front Row And Then The Next; Competing With One Another For The Front Row; The People Of Virtue Should Take Precedence And Be Closest To The Imam
صفوں کو برابر اور سیدھا کرنا اور اولیت کے حساب سے صفوں کی فضیلت، پہلی صف میں شرکت کے لیے ازدحام اور مسابقت، جن لوگوں کو (دوسروں پر) فضیلت حاصل ہے ان کو آگے کرنا اور امام کے قریب جگہ دینا۔
Sahih Muslim
44
Chapter: Al-Madinah is protected against the plague and the Dajjal entering it
مدینہ منورہ طاعون اور دجال کے داخلے سے محفوظ ہے
Sahih Muslim
45
Chapter: The Prohibition Of Playing Nardashir
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام مخلوقات پر فضیلت:۔
Sahih Muslim
46
Chapter: The Beginning Of Creation And The Creation Of Adam, (Peace Be Upon Him)
مخلوقات(کی تخلیق) کی ابتدا اور حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق
Sahih Muslim
47
Chapter: About Hell - May Allah Protect Us From It
جہنم ،اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے!
Sahih Muslim
48
ابتدائی ایام ،انبیاء اور عجیب مخلوقات کا بیان
Silsila Sahih
49
CHAPTER: Rows For Women, And Their Distance From The First Row.
باب: مردوں کا پہلی صف سے پیچھے رہ جانا مکروہ ہے اور عورتوں کی صف بندی کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
50
CHAPTER: Standing Up In The Single (Odd Numbered Rak’ah).
باب: پہلی اور تیسری رکعت سے اٹھنے کی کیفیت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
No related chapter matched that.

Related Hadith

5
Musnad Ahmad
1486
۔ (۱۴۸۶) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَیْدٍ وَأَبِیْ بَشِیْرٍ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی بِہِمْ ذَاتَ یَوْمٍ فَمَرَّتْ امْرَأَۃٌ بِالْبَطْحَائِ فَأَشَارَ إِلَیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تَأَخَّرِیْ، فَرَجَعَتْ حَتّٰی صَلّٰی ثُمَّ مَرَّتْ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۳۳)
سیّدنا عبد اللہ بن زید اور ابو بشر انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک دن ان کو بطحاء مقام پر نماز پڑھا رہے تھے، ایک عورت نے گزرنا چاہا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اشارہ کیا کہ وہ پیچھے ہوجائے، پس وہ وا پس لوٹ گئی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھ لی تو پھر وہ گزری۔
Musnad Ahmad
1668
۔ (۱۶۶۸) عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: صَلَّیْتُ الظُّہْرَ بِالْبَطْحَائِ خَلْفَ شَیْخٍ أَحْمَقَ فَکَبَّرَ ثِنْتَیْنِ وَعِشْرِیْنَ تَکْبِیْرَۃً،یُکَبِّرُ إِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأَسَہُ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: تِلْکَ صَلَاۃُ أَبِی الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۶)
عکرمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: میں نے بطحاء میں ایک شیخ کی اقتداء میں ظہر کی نماز پڑھی ہے، اس بیوقوف نے تو بائیس تکبیریں کہہ دی ہیں، جب وہ سجدہ کرتا اور اس سے سر اٹھاتا تو تکبیر کہتا تھا۔ (یہ سن کر) سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ تو ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز ہے۔
Musnad Ahmad
4129
۔ (۴۱۲۹) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی قَالَ: قَرَأْتُ عَلٰی أَبِی قُرَّۃَ مَوْسَی بْنِ طَارِقٍ قَالَ: قَالَ مَوْسَی بْنُ عُقْبَۃَ وَقَالَ نَافِعٌ، کَانَ عَبْدُاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ عُمَرَ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما إِذَا صَدَرَ مِنَ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَۃِ أَنَاخَ بِالْبَطْحَائِ الَّتِی بِذِی الْحُلَیْفَۃِ (وَأَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ) حَدَّثَہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُعَرِّسُ بِہَا حَتّٰییُصَلِّیَ صَلَاۃَ الصُّبْحِ۔ (مسند احمد: ۵۵۹۴)
۔ جنابِ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب حج یا عمرہ کے بعد واپس لوٹتے تو ذوالحلیفہ کے قریب بطحاء میں ضرور ٹھہرتے اور کہتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہاں رات بسر کیا کرتے تھے، اور اسی مقام پر نماز فجر ادا کرتے تھے۔
Musnad Ahmad
4577
۔ (۴۵۷۷) عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ أَنْ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَہْجَعُ ھَجْعَۃً بِالْبَطْحَائِ وَذَکَرَ أَنَّ رَسُوْلََ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۴۸۲۸)
۔ بکر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما وادیٔ بطحاء میں کچھ دیر سوتے تھے اور بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی ایسے ہی کیا تھا۔
Musnad Ahmad
4578
۔ (۴۵۷۷) عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ أَنْ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَہْجَعُ ھَجْعَۃً بِالْبَطْحَائِ وَذَکَرَ أَنَّ رَسُوْلََ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۴۸۲۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ سب حضرات وادی محصّب میں ٹھہرا کرتے تھے۔