TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عمل قبول نہ ہونے کا ڈر رکھنے کا بیان - عمل قبول نہ ہونے کا ڈر رکھنے کا بیان - Zuhd - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Chapter 20 of Zuhd in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 20 of 39 · 4 Hadith
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،‏‏‏‏ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيِّ،‏‏‏‏ عَنْعَائِشَةَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ سورة المؤمنون آية 60،‏‏‏‏ أَهُوَ يُضَافُ الرَّجُلُ الَّذِي يَزْنِي وَيَسْرِقُ وَيَشْرَبُ الْخَمْرَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ لَا،‏‏‏‏ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ،‏‏‏‏ أَوْ يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ،‏‏‏‏ وَلَكِنَّهُ الرَّجُلُ يَصُومُ وَيَتَصَدَّقُ وَيُصَلِّي،‏‏‏‏ وَهُوَ يَخَافُ أَنْ لَا يُتَقَبَّلَ مِنْهُ .
It was narrated that ‘Aishah said: “I said: ‘O Messenger of Allah, ‘And those who give that (their charity) which they give (and also do other good deeds) with their hearts full of fear.” [23:60] Is this the one who commits adultery, steals and drinks alcohol?’ He said: ‘No, O daughter of Abu Bakr’ – O daughter of Siddiq – rather it is a man who fasts and gives charity and prays, but he fears that those will not be accepted from him.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! «والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة» ( سورة الومنون: 60 ) سے کیا وہ لوگ مراد ہیں جو زنا کرتے ہیں، چوری کرتے ہیں اور شراب پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں: ابوبکر کی بیٹی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدیق کی بیٹی! اس سے مراد وہ شخص ہے جو روزے رکھتا ہے، صدقہ دیتا ہے، اور نماز پڑھتا ہے، اور ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو اس کا یہ عمل قبول نہ ہو ۔
Takhreej
«سنن الترمذی/تفسیر القرآن ۲۴ (۳۱۷۵)،(تحفة الأشراف:۱۶۳۰۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۱۵۹،۲۰۵)
4198
Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ عِمْرَانَ الدِّمَشْقِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ رَبٍّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ كَالْوِعَاءِ،‏‏‏‏ إِذَا طَابَ أَسْفَلُهُ طَابَ أَعْلَاهُ،‏‏‏‏ وَإِذَا فَسَدَ أَسْفَلُهُ فَسَدَ أَعْلَاهُ .
Mu’awiyah bin Abu Sufyan said: “I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘Deeds are like vessels. If the lower part is good then the upper part will be good, and if the lower part is bad then the upper part will be bad.’”
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اعمال برتن کی طرح ہیں، جب اس میں نیچے اچھا ہو گا تو اوپر بھی اچھا ہو گا، اور جب نیچے خراب ہو گا تو اوپر بھی خراب ہو گا ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۴۵۸، ومصباح الزجاجة:۱۴۹۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۹۴)
Explanation
پس جو اعمال خلوص اور صدق دل سے کئے جائیں ان کی تاثیر آدمی پر پڑتی ہے، اور لوگ خواہ مخواہ ایسے شخص کو اچھا سمجھتے ہیں، لیکن جو اعمال ریا کی نیت سے کئے جائیں اس کے کرنے والے پر نور نہیں ہوتا، اور تامل سے اس کا خبیث باطن عاقل آدمی کو ظاہر ہوتا ہے۔
4199
Sahih
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ،‏‏‏‏ عَنْ وَرْقَاءَ بْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ أَبُو الزِّنَادِ،‏‏‏‏ عَنْالْأَعْرَجِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّى فِي الْعَلَانِيَةِ فَأَحْسَنَ،‏‏‏‏ وَصَلَّى فِي السِّرِّ فَأَحْسَنَ،‏‏‏‏ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ هَذَا عَبْدِي حَقًّا .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “If a person prays in public and does it well, and he prays in secret and does it well, then Allah says: ‘This man is truly My slave.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک جب بندہ سب کے سامنے نماز پڑھتا ہے تو اچھی طرح پڑھتا ہے، اور تنہائی میں نماز پڑھتا ہے تو بھی اچھی طرح پڑھتا ہے، ( ایسے ہی بندے کے متعلق ) اللہ عزوجل فرماتا ہے: یہ حقیقت میں میرا بندہ ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۳۹۳۶، ومصباح الزجاجة:۱۴۹۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۵۳۷)
4200
Zaeef
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ،‏‏‏‏ وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنْ الْأَعْمَشِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا،‏‏‏‏ فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِمُنْجِيهِ عَمَلُهُ ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ وَلَا أَنَا،‏‏‏‏ إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Be moderate and adhere to moderation, for there is no one among you who will be saved by his deeds.” They said: “Not even you, O Messenger of Allah?” He said: “Not even me. Unless Allah encompasses me with mercy and grace from Him.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو، اور سیدھے راستے پر رہو، کیونکہ تم میں سے کسی کو بھی اس کا عمل نجات دلانے والا نہیں ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا: اللہ کے رسول! آپ کو بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور مجھے بھی نہیں! مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت وفضل سے مجھے ڈھانپ لے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۳۹۳، ومصباح الزجاجة:۱۴۹۶)
Explanation
«قاربوا» اور «سددوا» دونوں کے معنی قریب ہی کے ہیں، یعنی عبادت میں اعتدال کرو اور میانہ روی پر مضبوطی سے رہو، جہاں تک خوشی سے ہو سکے عبادت کرو، جب دل اکتا جائے تو عبادت بند کر دو، بعضوں نے کہا: «قاربوا» کا یہ معنی ہے کہ عبادت سے اللہ تعالی کی قربت چاہو، بعضوں نے کہا: کثرت عبادت سے قرب حاصل کرو لیکن صحیح وہی ترجمہ ہے جو اوپر لکھا گیا اور وہی مناسب ہے اس عبادت کے، کسی کو اس کے اعمال نجات نہیں دیں گے، اس حدیث سے فخر اور تکبر کی جڑ کٹ گئی، اگر کوئی عابد اور زہد ہو تو بھی اپنی عبادت پر گھمنڈ نہ کرے، اور گناہگاروں کو ذلیل نہ سمجھے اس لئے کہ نجات فضل اور رحمت الہی پر موقوف ہے، لیکن اس میں شک نہیں کہ اعمال صالحہ اللہ کے فضل و احسان اور اس کی رحمت و رأفت کا قرینہ ہیں، اور ان سے نجات کی امید قوی ہوئی ہے باقی اختیار مالک کو ہے «اللہم اغفرلنا وارحمنا»۔
4201
Sahih

Chapters

39
01
دنیا سے بے رغبتی کا بیان
5 Hadith
02
دنیا کے غم و فکر کا بیان
3 Hadith
03
دنیا کی مثال
7 Hadith
04
جس کی لوگ پرواہ نہ کریں اس کا بیان
5 Hadith
05
فقراء کی فضیلت
2 Hadith
06
فقراء کا مقام و مرتبہ
3 Hadith
07
فقیروں کے ساتھ بیٹھنے کی فضیلت
4 Hadith
08
مالداروں کا بیان
8 Hadith
09
قناعت کا بیان
7 Hadith
10
آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معیشت (گزر بسر) کا بیان
7 Hadith
11
آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بچھونے کا بیان
4 Hadith
12
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی معیشت کا بیان
5 Hadith
13
گھر بنانے اور اجاڑنے کا بیان
4 Hadith
14
توکل اور یقین کا بیان
5 Hadith
15
حکمت و دانائی کا بیان
4 Hadith
16
تکبر اور گھمنڈ سے بے زاری اور تواضع کا بیان
7 Hadith
17
شرم و حیاء کا بیان
6 Hadith
18
حلم اور بردباری کا بیان
4 Hadith
19
غمگین ہونے اور رونے کا بیان
8 Hadith
20
عمل قبول نہ ہونے کا ڈر رکھنے کا بیان
4 Hadith
21
ریا اور شہرت کا بیان
6 Hadith
22
حسد کا بیان
3 Hadith
23
بغاوت و سرکشی کا بیان
4 Hadith
24
ورع اور تقویٰ و پرہیزگاری کا بیان۔
6 Hadith
25
لوگوں کی عمدہ تعریف و توصیف کا بیان
6 Hadith
26
نیت کا بیان
4 Hadith
27
انسان کی آرزو اور عمر کا بیان
6 Hadith
28
نیک کام کو ہمیشہ کرنے کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
29
گناہوں کو یاد کرنے کا بیان
5 Hadith
30
توبہ کا بیان
11 Hadith
31
موت کی یاد اور اس کی تیاری کا بیان
8 Hadith
32
قبر اور مردے کے گل سڑ جانے کا بیان
7 Hadith
33
حشر کا بیان
9 Hadith
34
امت محمدیہ کی صفات
11 Hadith
35
روز قیامت اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید
8 Hadith
36
حوض کوثر کا بیان
6 Hadith
37
شفاعت کا بیان
11 Hadith
38
جہنم کے احوال و صفات کا بیان
10 Hadith
39
جنت کے احوال و صفات کا بیان
14 Hadith
No chapter matched that.