TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تکبر اور گھمنڈ سے بے زاری اور تواضع کا بیان - تکبر اور گھمنڈ سے بے زاری اور تواضع کا بیان - Zuhd - Sunnan Ibn e Maja with Urdu and English Translation

Chapter 16 of Zuhd in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 16 of 39 · 7 Hadith
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ جَمِيعًا،‏‏‏‏ عَنْ الْأَعْمَشِ،‏‏‏‏ عَنْ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ عَنْ عَلْقَمَةَ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ،‏‏‏‏ وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ .
It was narrated from ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “No one will enter Paradise who has pride in his heart equal to the weight of a grain of mustard seed, and no one will enter Hell who has faith in his heart equal to the weight of a grain of mustard seed.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جنت میں نہیں داخل ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر و غرور ہو گا اور وہ شخص جہنم میں نہیں جائے گا، جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا ۱؎۔
Takhreej
«انظر حدیث (رقم:۵۹)
Explanation
تو معلوم ہوا کہ اگر رائی کے دانے کے برابر بھی آدمی میں ایمان ہو گا تو وہ تکبر و غرور نہ کرے گا اور جب وہ غرور کرتا ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ ذرہ برابر بھی اس میں ایمان نہیں ہے، اور اس کا جنت میں جانا مشکل ہے، اس لیے آدمی کو اس سے ممکن طور پر دور رہنا چاہئے، اور اللہ تعالیٰ سے اس سے چھٹکارا پانے کی دعا کرنی چاہئے، تاکہ آدمی صاف دل اور متواضع طبیعت کے ساتھ دنیا سے جائے، اور ایمان اور عمل صالح کی برکت سے اللہ کی رحمت کا مستحق ہو، اور جنت اس کا آخری ٹھکانہ ہو۔
4173
Sahih
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ،‏‏‏‏ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ،‏‏‏‏ عَنْ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ:‏‏‏‏ الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي،‏‏‏‏ وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي،‏‏‏‏ مَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا أَلْقَيْتُهُ فِي جَهَنَّمَ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah, the Glorified, says: ‘Pride is My cloak and greatness My robe, and whoever competes with Me with regard to either of them, I shall throw him into Hell.’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بڑائی ( کبریائی ) میری چادر ہے، اور عظمت میرا تہہ بند، جو ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے بھی مجھ سے جھگڑے، ( یعنی ان میں سے کسی ایک کا بھی دعویٰ کرے ) میں اس کو جہنم میں ڈال دوں گا ۔
Takhreej
«سنن ابی داود/اللباس ۲۹ (۴۰۹۰)،(تحفة الأشراف:۱۲۱۹۲)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البروالصلة ۳۸ (۲۶۲۰)، مسند احمد (۲/۲۴۸،۳۷۶،۴۱۴ھ ۴۲۷،۴۴۲)
4174
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَهَارُونُ بْنُ إِسْحَاق،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ،‏‏‏‏ عَنْسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ:‏‏‏‏ الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي،‏‏‏‏ وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي،‏‏‏‏ فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا أَلْقَيْتُهُ فِي النَّارِ .
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah the Glorified, says: ‘Pride is My cloak and greatness My robe, and whoever competes with Me with regard to either of them, I shall throw him into Hell.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بڑائی میری چادر ہے، اور عظمت میرا تہہ بند ہے، جو ان دونوں میں سے ایک کے لیے بھی مجھ سے جھگڑا کرے گا، میں اس کو آگ میں ڈال دوں گا ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۵۵۷۷، ومصباح الزجاجة:۱۴۸۱)
4175
Sahih
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ،‏‏‏‏ أَنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ يَتَوَاضَعُ لِلَّهِ سُبْحَانَهُ دَرَجَةً،‏‏‏‏ يَرْفَعُهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً،‏‏‏‏ وَمَنْ يَتَكَبَّرُ عَلَى اللَّهِ دَرَجَةً،‏‏‏‏ يَضَعُهُ اللَّهُ بِهِ دَرَجَةً،‏‏‏‏ حَتَّى يَجْعَلَهُ فِي أَسْفَلِ السَّافِلِينَ .
It was narrated from Abu Sa’eed that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever humbles himself one degree for the sake of Allah, Allah will raise him in status one degree, and whoever behaves arrogantly towards Allah one degree, Allah will lower him in status one degree, until He makes him among the lowest of the low.”
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے ایک درجہ تواضع کیا، تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کر دے گا، اور جو اللہ تعالیٰ پر ایک درجہ تکبر اختیار کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک درجہ نیچے کر دے گا، یہاں تک کہ اس کو تمام لوگوں سے نیچے درجہ میں کر دے گا ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۰۶۷، ومصباح الزجاجة:۱۴۸۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۷۶)
4176
Zaeef
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ،‏‏‏‏ وَسَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،‏‏‏‏ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ إِنْ كَانَتِ الْأَمَةُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَتَأْخُذُ بِيَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَمَا يَنْزِعُ يَدَهُ مِنْ يَدِهَا حَتَّى تَذْهَبَ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ مِنْ الْمَدِينَةِ فِي حَاجَتِهَا .
It was narrated that Anas bin Malik said: “If a female slave among the people of Al-Madinah were to take the hand of the Messenger of Allah (ﷺ), he would not take his hand away from hers until she had taken him wherever she wanted in Al-Madinah so that her needs may be met.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اگر اہل مدینہ میں سے کوئی ایک باندی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنا ہاتھ نہ چھڑاتے، یہاں تک کہ وہ آپ کو اپنی ضرورت کے لیے جہاں چاہتی لے جاتی ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۰۶، ومصباح الزجاجة:۱۴۸۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۷۴،۲۱۵)
Explanation
یہ آپ کے تواضع کا حال تھا کہ ایک لونڈی کے ساتھ تشریف لے جاتے، اور اس کا کام کر دیتے حالانکہ تمام مخلوقات میں آپ افضل اور اعلیٰ تھے، اور بڑے بڑے دنیا کے بادشاہ درجہ میں آپ کے غلام کے غلام سے بھی کم تھے۔
4177
Sahih
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ،‏‏‏‏ عَنْ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَعُودُ الْمَرِيضَ،‏‏‏‏ وَيُشَيِّعُ الْجِنَازَةَ،‏‏‏‏ وَيُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ،‏‏‏‏ وَيَرْكَبُ الْحِمَارَ،‏‏‏‏ وَكَانَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ،‏‏‏‏ وَالنَّضِيرِ عَلَى حِمَارٍ،‏‏‏‏ وَيَوْمَ خَيْبَرَ عَلَى حِمَارٍ مَخْطُومٍ بِرَسَنٍ مِنْ لِيفٍ،‏‏‏‏ وَتَحْتَهُ إِكَافٌ مِنْ لِيفٍ .
It was narrated that Anas bin Malik said: “The Messenger of Allah (ﷺ) used to visit the sick, attend funerals, accept the invitations of slaves and ride donkeys. On the day (of the battle) of Quraizah and Nadir, he was riding a donkey. On the day of Khaibar he was riding a donkey that was bridled with palmfibers and beneath him was a packsaddle made of palmfibers.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت کرتے، جنازے کے پیچھے جاتے، غلام کی دعوت قبول کر لیتے، گدھے کی سواری کرتے، جس دن بنو قریظہ اور بنو نضیر کا واقعہ ہوا، آپ گدھے پر سوار تھے، خیبر کے دن بھی ایک ایسے گدھے پر سوار تھے جس کی رسی کھجور کی چھال کی تھی، اور آپ کے نیچے کھجور کی چھال کا زین تھا۔
Takhreej
«سنن الترمذی/الجنائز ۳۲ (۱۰۱۷)،(تحفة الأشراف:۱۵۸۸)
4178
Zaeef
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي،‏‏‏‏ عَنْ مَطَرٍ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ مُطَرِّفٍ،‏‏‏‏ عَنْعِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَطَبَهُمْ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَوْحَى إِلَيَّ:‏‏‏‏ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ .
It was narrated from ‘Iyad bin Himar that the Prophet (ﷺ) addressed them and said: “Allah has revealed to me that you should be humble towards one another so that none of you boasts to another.”
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: بیشک اللہ عزوجل نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم تواضع و فروتنی اختیار کرو، یہاں تک کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے ۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الأدب ۴۸ (۴۸۹۵)،(تحفة الأشراف:۱۱۰۱۶)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنةوصفة نعیمہا ۱۶ (۲۸۶۵)
4179
Sahih

Chapters

39
01
دنیا سے بے رغبتی کا بیان
5 Hadith
02
دنیا کے غم و فکر کا بیان
3 Hadith
03
دنیا کی مثال
7 Hadith
04
جس کی لوگ پرواہ نہ کریں اس کا بیان
5 Hadith
05
فقراء کی فضیلت
2 Hadith
06
فقراء کا مقام و مرتبہ
3 Hadith
07
فقیروں کے ساتھ بیٹھنے کی فضیلت
4 Hadith
08
مالداروں کا بیان
8 Hadith
09
قناعت کا بیان
7 Hadith
10
آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معیشت (گزر بسر) کا بیان
7 Hadith
11
آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بچھونے کا بیان
4 Hadith
12
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی معیشت کا بیان
5 Hadith
13
گھر بنانے اور اجاڑنے کا بیان
4 Hadith
14
توکل اور یقین کا بیان
5 Hadith
15
حکمت و دانائی کا بیان
4 Hadith
16
تکبر اور گھمنڈ سے بے زاری اور تواضع کا بیان
7 Hadith
17
شرم و حیاء کا بیان
6 Hadith
18
حلم اور بردباری کا بیان
4 Hadith
19
غمگین ہونے اور رونے کا بیان
8 Hadith
20
عمل قبول نہ ہونے کا ڈر رکھنے کا بیان
4 Hadith
21
ریا اور شہرت کا بیان
6 Hadith
22
حسد کا بیان
3 Hadith
23
بغاوت و سرکشی کا بیان
4 Hadith
24
ورع اور تقویٰ و پرہیزگاری کا بیان۔
6 Hadith
25
لوگوں کی عمدہ تعریف و توصیف کا بیان
6 Hadith
26
نیت کا بیان
4 Hadith
27
انسان کی آرزو اور عمر کا بیان
6 Hadith
28
نیک کام کو ہمیشہ کرنے کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
29
گناہوں کو یاد کرنے کا بیان
5 Hadith
30
توبہ کا بیان
11 Hadith
31
موت کی یاد اور اس کی تیاری کا بیان
8 Hadith
32
قبر اور مردے کے گل سڑ جانے کا بیان
7 Hadith
33
حشر کا بیان
9 Hadith
34
امت محمدیہ کی صفات
11 Hadith
35
روز قیامت اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید
8 Hadith
36
حوض کوثر کا بیان
6 Hadith
37
شفاعت کا بیان
11 Hadith
38
جہنم کے احوال و صفات کا بیان
10 Hadith
39
جنت کے احوال و صفات کا بیان
14 Hadith
No chapter matched that.