TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1047 - ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان - Establishing the prayer and the sunnah regarding them - Sunnan Ibn e Maja in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 5 in this chapter
ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏ وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَحَدُنَا يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَوَ كُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ؟ .
It was narrated that Abu Hurairah said: “A man came to the Prophet (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah! One of us performs prayer in a single garment.’ The Prophet (ﷺ) said: ‘Does everyone have two garments?’”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر شخص کو دو کپڑے میسر ہیں ؟ ۱؎۔
1047
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 1, Book 5, Hadith 1047 Arabic reference : Book 5, Hadith 1100
Conclusion
تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۳۱۴۵)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلا ۴۹ (۲۵۸)، صحیح مسلم/الصلاة ۵۲ (۵۱۵)، سنن ابی داود/الصلاة ۸ ۷ (۶۲۵)، سنن النسائی/القبلة ۱۴ (۷۶۴)، موطا امام مالک/الجماعة ۹ (۳۰)، مسند احمد (۶/۲۳۰، ۲۳۹، ۲۸۵، ۳۴۵، ۴۹۵، ۴۹۸، ۴۹۹، ۵۰۱)، سنن الدارمی/الصلاة ۹۹ (۱۴۱۰)
Explanation
شرح و تفصیل
اور ظاہر ہے کہ ہر شخص کو دو کپڑے نہیں مل سکتے، اکثر کے پاس ایک ہی کپڑا ہوتا ہے، اور نماز سب پر فرض ہے، تو ضرور ایک کپڑے میں نماز جائز ہو گی، جمہور علماء کے نزدیک نماز ایک کپڑے میں جائز ہے گو اس کے پاس دوسرے کپڑے بھی ہوں، اور بعضوں نے کہا کہ افضل یہ ہے کہ دو کپڑوں میں نماز پڑھے گو ایک کپڑے میں بھی جائز ہے

Related Chapters

2,259
1
Chapter: What Has Been Related About Performing Salat In One Garment
باب: ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
نماز میں مسلمانوں کے ننگا ہونے کی ممانعت اور ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا جواز
Musnad Ahmad
3
دوکپڑوں میں نماز کے مستحب ہونے اور ایک کپڑے میں جائز ہونے کا بیان اور صرف قمیص میں نماز پڑھنے والے شخص کا بیان کہ اگر شرمگاہ کھلنے کا اندیشہ ہو تو وہ کیا کرے
Musnad Ahmad
4
ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
مرد کا ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان جس کا کوئی حصہ اس کے کندھے پر نہ ہو۔
Sunnan Nisai
6
(45)Chapter: What Had Been Related About Performing The (Five Obligatory) Prayers With One Wudu
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers
باب: دو نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
8
ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنے اور ایک وضو کے ساتھ ایک سے زائد نمازیں پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
9
دھاری دار کپڑے میں، صرف ایک کپڑے میں اور ایسے کپڑے میں جس کا کچھ حصہ نمازی پر اور کچھ حائضہ عورت پر ہو نماز کے جواز کا بیانْ
Musnad Ahmad
10
(4) CHAPTER. To offer As-Salat (the prayers) with a single garment wrapped round the body.
اس بیان میں کہ صرف ایک کپڑے کو بدن پر لپیٹ کر نماز پڑھنا جائز و درست ہے
Sahih Bukhari
11
(5) CHAPTER. If someone offers Salat (prayer) wrapped in a single garment, he should cross its corners round his shoulders.
جب ایک کپڑے میں کوئی نماز پڑھے تو اس کو کندھوں پر ڈالے
Sahih Bukhari
12
(11) CHAPTER. To pray without a Rida.
بغیر چادر اوڑھے صرف ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے
Sahih Bukhari
13
Chapter: Praying In A Single Garment, And How It Should Be Worn
ایک کپڑے میں نماز پڑھنا اور اس کے پہننے کا طریقہ
Sahih Muslim
14
CHAPTER: Praying In A Garment In Which He Has Engaged In Intercourse.
باب: جس کپڑے میں جماع کرے ، اس میں نماز پڑھنے کے حکم کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
15
ہر نماز کے لیے وضو کرنے اور ایک وضو سے ساری نمازیں پڑھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
16
حائضہ عورت کے کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
17
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے ایک امتی کے پیچھے نماز پڑھنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
18
ایک ہی تیمم سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
19
تصویر والے کپڑے کی جانب (رخ کر کے) نماز پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
ایک قمیص میں نماز پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
21
مرد کا ایسے کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان جس کا کچھ حصہ اس کی بیوی پر ہو۔
Sunnan Nisai
22
ریشمی کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
23
جسم سے لگے کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
24
جب تین افراد ہوں: ایک مرد، ایک بچہ اور ایک عورت تو باجماعت نماز پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
25
باب: مزدلفہ میں دو نمازیں ایک ساتھ پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
26
(95)Chapter: [What Has Been Related] About AI-Mustahadah That She Can Combine Two Prayers With One Ghusl
باب: مستحاضہ ایک غسل سے دو نمازیں ایک ساتھ جمع کر سکتی ہے
Jam e Tirmazi
27
Chapter: Something else (about the timings of Salat)
باب: اوقات نماز سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Delaying The Asr Prayer
باب: نماز عصر دیر سے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Delaying The Last Isha Prayer
باب: نماز عشاء دیر سے پڑھنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
30
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: : What Has Been Related About Prayer After Asr And After Fajr Is Disliked
باب: عصر اور فجر کے بعد نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: : What Has Been Related About Salat After Asr
باب: عصر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About Salat Before Maghrib
باب: مغرب سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers While [A Resident]
باب: حضر (اقامت کی حالت) میں دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About Salat Behind The Line Alone
باب: صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays While Another Man Is With Him
باب: آدمی اکیلا نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ساتھ صرف ایک آدمی ہو تو مقتدی کہاں کھڑا ہو؟
Jam e Tirmazi
37
Chapter: Something else about that
باب: طریقہ نماز سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About Salat On A Khumrah
باب: چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Salat On The Hasir (Mat)
باب: چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About Salat On Busut
باب: بچھونے پر نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Salat In Al-Hitan
باب: باغات میں نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About Salat In Sheep Pens And The Resting Area Of Camels
باب: بکریوں کے باڑوں اور اونٹ باندھنے کی جگہوں میں نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Salat On A Beast Whichever Direction It Is Facing
باب: سواری کے اوپر نماز پڑھنے کا بیان جس طرف بھی وہ متوجہ ہو جائے
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About Salat Toward One's Mount
باب: سواری کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About Salat When Sleepy
باب: اونگھتے وقت نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About The Salat While Sitting Is Half Of The Salat While Standing
باب: بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر پڑھنے سے آدھا ہے
Jam e Tirmazi
47
Chapter: [What Has Been Related] About Voluntary Prayers While Sitting
باب: بیٹھ کر نفل نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Gather The Hair During Salat
باب: جوڑا باندھے ہوئے نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked to Intertwine The Fingers During Salat
باب: نماز میں ایک ہاتھ کی انگلیوں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About Salat In Sandals
باب: جوتے پہن کر نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,419
Jam e Tirmazi
147
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ،‏‏‏‏ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَصَلَّى، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا فَرَغَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، ‏‏‏‏‏‏فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا ،‏‏‏‏ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ أَوْ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ .
Abu Hurairah narrated: A Bedouin entered the Masjid while the Prophet was sitting. He prayed, then when he was finished, he said: 'O Allah! Have mercy upon me and Muhammad, and do not have mercy on anyone along with us.' The Prophet turned, towards him and said: 'You have restricted something that is unrestricted.' It was not long before he was urinating in the Masjid. So the people rushed to him. But Prophet said: 'Pour a bucket of water over it - or - a tumbler of water over it.' Then he said: 'You have been sent to make things easy (for the people); you have not been sent to make things difficult for them.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اس نے نماز پڑھی، جب نماز پڑھ چکا تو کہا: اے اللہ تو مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم مت فرما۔ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”تم نے ایک کشادہ چیز ( یعنی رحمت الٰہی ) کو تنگ کر دیا“، پھر ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ وہ مسجد میں جا کر پیشاب کرنے لگا، لوگ تیزی سے اس کی طرف بڑھے، تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر ایک ڈول پانی بہا دو، پھر آپ نے فرمایا: ”تم تو آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہونا کہ سختی کرنے والے“ ۱؎۔
Jam e Tirmazi
1190
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Abu Hurairah narrated that: The Prophet said: No woman should ask for the divorce of her sister (in religion) in order to spill what is in her container.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ جو اس کے برتن میں ہے اُسے اپنے میں انڈیل لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ سے بھی روایت ہے۔
Sahih Muslim
3766
وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلاَمًا أَسْوَدَ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ ‏ هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ‏ ‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏ ‏ فَمَا أَلْوَانُهَا ‏ ‏ ‏.‏ قَالَ حُمْرٌ ‏.‏ قَالَ ‏ ‏ هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ‏ ‏ ‏.‏ قَالَ إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا ‏.‏ قَالَ ‏ ‏ فَأَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ ‏ ‏ ‏.‏ قَالَ عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ ‏.‏ قَالَ ‏ ‏ وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ ‏ ‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported: There came a person to the Prophet (may peace he upon him) ) from Banu Fazara and said: My wife has given birth to a child who is black, whereupon Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Have you any camels? He said: Yes. He again said: What is this colour? He said: They are red. He said: Is there a dusky one among them? He said: Yes, there are dusky ones among them He said: How has it come about? He said: It is perhaps the strain to which it has reverted, whereupon he (the Holy Prophet) said: It is perhaps the strain to which he (the child) has reverted.
ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے ایک شخص بنی فزارہ میں سے آیا روسل اﷲ ﷺ کے پاس او رکہا میری جورو کو ایک کالا بچہ پیدا ہوا ہے ( تو وہ میرا معلوم نہیں ہوتا کیونکہ میں کالا نہیں ہوں ) ۔ جناب رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا تیرے پاس اونٹ ہیں؟ اس کہا ہاں ہیں ۔ آپ نے فرمایا ان کا رنگ کیا ہے؟ وہ بولا لال ہے ۔ آپ نے فرمایا ان میں کوئی خاکی بھی ہے؟ اس نے کہا ہاں خاکی بھی ہیں ۔ آپ نے فرمایا پھر یہ رنگ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا کسی رگ نے گھسیٹ لیا ہوگا ۔
Sunnan Ibn e Maja
292
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْفِطْرَةُ خَمْسٌ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ، ‏‏‏‏‏‏الْخِتَانُ، ‏‏‏‏‏‏وَالِاسْتِحْدَادُ، ‏‏‏‏‏‏وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، ‏‏‏‏‏‏وَنَتْفُ الْإِبِطِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَصُّ الشَّارِبِ .
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: 'The deeds connected to the Fitrah are five (or five things are connected to the Fitrah): circumcision, shaving the pubic hairs, clipping the nails, plucking the armpit hairs and trimming the mustache.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیزیں فطرت ہیں ۱؎، یا پانچ باتیں فطرت میں سے ہیں: ختنہ کرانا، ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا، ناخن تراشنا، بغل کے بال اکھیڑنا، مونچھوں کے بال تراشنا ۔
Sunnan Ibn e Maja
851
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمِّنُوا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When the reciter says Amin, then say Amin, for the angels say Amin, and if a person’s Amin coincides with the Amin of the angels, his previous sins will be forgiven.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، اس لیے کہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں، اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
1092
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى قَدْرِ مَنَازِلِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَوْا الصُّحُفَ وَاسْتَمَعُوا الْخُطْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَالْمُهَجِّرُ إِلَى الصَّلَاةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي بَقَرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي كَبْشٍ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَةَ وَالْبَيْضَةَ ، ‏‏‏‏‏‏زَادَ سَهْلٌ فِي حَدِيثِهِ:‏‏‏‏ فَمَنْ جَاءَ بَعْدَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا يَجِيءُ بِحَقٍّ إِلَى الصَّلَاةِ.
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “When Friday comes, angels stand at every door of the mosque and record the names of the people who come, in order of arrival. When the Imam comes out, they close their records and listen to the sermon. The first one who comes to the prayer is like one who sacrifices a camel; the one who comes after him is like one who sacrifices a cow; the one who comes after him is like one who sacrifices a ram,” (and so on) until he made mention of a hen and an egg. Sahl added in his Hadith: “And whoever comes after that comes only to do his duty with regard to the prayer.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے متعین ہوتے ہیں، وہ لوگوں کے نام ان کے درجات کے مطابق لکھتے رہتے ہیں، جو پہلے آتے ہیں ان کا نام پہلے ( ترتیب وار ) لکھتے ہیں، اور جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے رجسٹر بند کر دیتے ہیں اور خطبہ سنتے ہیں، لہٰذا جمعہ کے لیے سویرے جانے والا ایک اونٹ قربان کرنے والے، اور اس کے بعد جانے والا گائے قربان کرنے والے، اور اس کے بعد جانے والا مینڈھا قربان کرنے والے کے مانند ہے یہاں تک کہ آپ نے مرغی اور انڈے ( کی قربانی ) کا بھی ذکر فرمایا اور سہل نے اپنی حدیث میں اتنا زیادہ بیان کیا کہ جو کوئی اس کے ( خطبہ شروع ہو چکنے کے ) بعد آئے تو وہ صرف اپنا فریضہ نماز ادا کرنے کے لیے آیا ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
1244
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، ‏‏‏‏‏‏بِمَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ .
It was narrated that Abu Hurairah said: “When the Messenger of Allah (ﷺ) raised his head from Ruku’ in the Subh prayer, he said: ‘O Allah, save Al-Walid bin Walid, Salamah bin Hisham and ‘Ayyash bin Abu Rabi’ah, and the oppressed in Makkah. O Allah, tighten Your grip on Mudar, and send them years of famine like the famine of Yusuf.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے: «اللهم أنج الوليد بن الوليد وسلمة بن هشام وعياش بن أبي ربيعة والمستضعفين بمكة اللهم اشدد وطأتك على مضر واجعلها عليهم سنين كسني يوسف» اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ کے کمزور حال مسلمانوں کو نجات دیدے، اے اللہ! تو اپنی پکڑ قبیلہ مضر پر سخت کر دے، اور یوسف علیہ السلام کے عہد کے قحط کے سالوں کی طرح ان پر بھی قحط مسلط کر دے ) ۱؎۔
Sunnan Ibn e Maja
1477
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏ وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ تَكُنْ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ تَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Hasten with the funeral (procession), for if the person was righteous then you are advancing him towards good, and if he was otherwise then it is evil which you are taking off of your necks.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازہ کو جلدی لے کر چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو نیکی کی طرف جلدی پہنچا دو گے، اور اگر بد ہے تو بدی کو اپنی گردن سے اتار پھینکو گے ۔
Sunnan Ibn e Maja
1603
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَمُوتُ لِرَجُلٍ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَيَلِجَ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ .
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said: “No man who loses three of his children will ever enter the Fire, except in fulfillment of the oath (of Allah).”*
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے تین بچے انتقال کر جائیں، وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا مگر قسم پوری کرنے کے لیے ۱؎ ۔