TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خرید و فروخت کا بیان - خرید و فروخت کا بیان - Book 11 of Mishkat with Urdu and English Translation

Book 11 of Mishkat, with 17 chapters and 282 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

282 Hadith · 17 Chapters
بَاب الْكسْب وَطلب الْحَلَال
کسب اور طلب حلال کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وكسْبِ الزَّمارةِ. رَوَاهُ فِي شرح السّنة
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت اور گانے والی (گلوکارہ یا زانیہ) کی کمائی سے منع فرمایا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البغوی فی شرح السنہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۸ / ۲۳ ح ۲۰۳۸) [و البیھقی ۶ / ۱۲۶] * ھشام بن حسان مدلس و عنعن ۔
2779
Zaeef
بَاب الْكسْب وَطلب الْحَلَال
کسب اور طلب حلال کا بیان
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَبِيعُوا الْقَيْنَاتِ وَلَا تَشْتَرُوهُنَّ وَلَا تُعَلِّمُوهُنَّ وَثَمَنُهُنَّ حَرَامٌ وَفِي مِثْلِ هَذَا نَزَلَتْ: (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لهْوَ الحَديثِ) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَعلي بن يزِيد الرواي يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ جَابِرٍ: نُهِيَ عَن أكل أهر فِي بَابِ مَا يَحِلُّ أَكْلُهُ إِنْ شَاءَ الله تَعَالَى
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ گانے والیوں کو بیچو نہ انہیں خریدو اور نہ ہی انہیں تربیت دو ، اور ان کی قیمت حرام ہے ۔ ایسے مسائل کے متعلق یہ حکم نازل ہوا :’’ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو بیہودہ باتیں خریدتے ہیں ۔‘‘ احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اور علی بن یزید ، راوی حدیث میں ضعیف ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔ اور ہم جابر سے مروی حدیث : آپ ﷺ نے بلی کھانے سے منع فرمایا ۔ ان شاءاللہ تعالیٰ باب ما یحل اکلہ میں ذکر کریں گے ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف [جذا] ، رواہ الترمذی (۱۲۸۲) و ابن ماجہ (۲۱۶۸) [علی بن یزید : ضعیف جدًا] 0 حدیث جابر یاتی (۴۱۲۸) ۔
2780
Zaeef
بَاب الْكسْب وَطلب الْحَلَال
کسب اور طلب حلال کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَلَبُ كَسْبِ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ فرائض کے بعد کسب حلال کی تلاش بھی فرض ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۸۷۴۱) [و الطبرانی فی الکبیر (۱۰ / ۹۰ ح ۹۹۹۳)] * فیہ عباد بن کثیر : متروک ۔
2781
Zaeef
بَاب الْكسْب وَطلب الْحَلَال
کسب اور طلب حلال کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أُجْرَةِ كِتَابَةِ الْمُصْحَفِ فَقَالَ: لَا بَأْسَ إِنَّمَا هُمْ مُصَوِّرُونَ وَإِنَّهُمْ إِنَّمَا يَأْكُلُونَ من عمل أَيْديهم. رَوَاهُ رزين
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ان سے قرآن کریم کی کتابت کی اجرت کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : کوئی حرج نہیں ، وہ تو (حروف کے) مصور ہی ہیں ، اور وہ اپنے ہاتھوں کی کمائی ہی کھاتے ہیں ۔ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
Takhreej
لم اجدہ ، رواہ رزین (لم اجدہ) [و روی ابن ابی داود فی المصاحف (ص ۱۴۷) عن الاعمش قال :’’ حدیث عن سعید بن جبیر قال : سئل ابن عباس عن کتاب المصاحف فقال : انما ھو مصور ‘‘ و سندہ ضعیف ، و رواہ ایضًا (ص ۱۹۹) و سندہ ضعیف ، الاعمش لم یسمعہ من سعید بن جبیر عن ابن عباس رضی اللہ عنہ] ۔
2782
Zaeef
بَاب الْكسْب وَطلب الْحَلَال
کسب اور طلب حلال کا بیان
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ؟ قَالَ: «عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ
رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں ، عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! کون سا کسب سب سے پاکیزہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کرنا اور ہر اچھی تجارت ۔‘‘ ضعیف ، رواہ احمد ۔
Takhreej
ضعیف ، رواہ احمد (۴ / ۱۴۱ ح ۱۷۳۹۷ نسخۃ محققۃ) * المسعودی اختلط و للحدیث و شواھد ضعیفۃ عند الحاکم (۲ / ۱۰) و الطبرانی (الاوسط : ۲۱۶۱) و غیرھما ۔
2783
Zaeef
بَاب الْكسْب وَطلب الْحَلَال
کسب اور طلب حلال کا بیان
وَعَن أبي بكرِ بنِ أبي مريمَ قَالَ: كَانَتْ لِمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ جَارِيَةٌ تَبِيعُ اللَّبَنَ وَيَقْبِضُ الْمِقْدَامُ ثَمَنَهُ فَقِيلَ لَهُ: سُبْحَانَ اللَّهِ أَتَبِيعُ اللَّبَنَ؟ وَتَقْبِضُ الثَّمَنَ؟ فَقَالَ نَعَمْ وَمَا بَأْسٌ بِذَلِكَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَنْفَعُ فِيهِ إِلَّا الدِّينَارُ وَالدِّرْهَم» . رَوَاهُ أَحْمد
ابوبکر بن ابومریم بیان کرتے ہیں ، مقدام بن معدیکرب ؓ کی ایک لونڈی دودھ بیچا کرتی تھی اور مقدام ؓ اس کی قیمت وصول کرتے تھے ، ان سے کہا گیا ، سبحان اللہ ! کیا وہ دودھ بیچتی ہے اور تم اس کی قیمت وصول کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، اس میں کوئی حرج نہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ لوگوں پر ایسا وقت بھی آئے گا جس میں درہم و دینار ہی انہیں فائدہ پہنچائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۴ / ۱۳۳ ح ۱۷۳۳۳) * فیہ ابوبکر بن ابی مریم ضعیف مختلط ۔
2784
Zaeef
بَاب الْكسْب وَطلب الْحَلَال
کسب اور طلب حلال کا بیان
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كُنْتُ أُجَهِّزُ إِلَى الشَّامِ وَإِلَى مِصْرَ فَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ فَأَتَيْتُ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كُنْتُ أُجَهِّزُ إِلَى الشَّامِ فَجَهَّزْتُ إِلَى العراقِ فقالتْ: لَا تفعلْ مالكَ وَلِمَتْجَرِكَ؟ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا سَبَّبَ اللَّهُ لِأَحَدِكُمْ رِزْقًا مِنْ وَجْهٍ فَلَا يَدَعْهُ حَتَّى يَتَغَيَّرَ لَهُ أَوْ يَتَنَكَّرَ لَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَه
نافع بیان کرتے ہیں ، میں شام اور مصر کی طرف سامان تجارت بھیجا کرتا تھا ، چنانچہ اب میں نے عراق کی طرف سامان بھیجنے کی تیاری کی تو میں ام المومنین عائشہ ؓ کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا ، ام المومنین ! میں شام کی طرف سامان تجارت بھیجا کرتا تھا ، لیکن اب میں نے عراق کے لیے تیاری کی ہے ، انہوں نے فرمایا : ایسے نہ کرو ، تمہارے تجارتی مرکز کو کیا ہوا ؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب اللہ تعالیٰ کسی شخص کی روزی کا کوئی سبب بنائے تو وہ اسے نہ چھوڑے جب تک کہ (عدم منافع کی وجہ سے) اس میں تبدیلی رونما نہ ہو یا اسے اس میں نقصان ہونے لگے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۶ / ۲۴۶ ح ۲۶۶۲۰) * فیہ الزبیر بن عبید : مجھول و نافع مجھول الحال وھو غیر مولی ابن عمر و مخلد بن الضحاک و ثقہ ابن حبان وحدہ ۔
2785
Zaeef
بَاب الْكسْب وَطلب الْحَلَال
کسب اور طلب حلال کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غُلَامٌ يُخْرِّجُ لَهُ الْخَرَاجَ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْكُلُ مِنْ خَرَاجِهِ فَجَاءَ يَوْمًا بشيءٍ فأكلَ مِنْهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ الْغُلَامُ: تَدْرِي مَا هَذَا؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: كُنْتُ تَكَهَّنْتُ لِإِنْسَانٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَا أُحسِنُ الكهَانةَ إِلاَّ أَنِّي خدَعتُه فلَقيَني فَأَعْطَانِي بِذَلِكَ فَهَذَا الَّذِي أَكَلْتَ مِنْهُ قَالَتْ: فَأَدْخَلَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ فَقَاءَ كُلَّ شَيْءٍ فِي بَطْنه. رَوَاهُ البُخَارِيّ
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ابوبکر ؓ کا ایک غلام تھا ، وہ آپ کو خراج دیا کرتا تھا ، اور ابوبکر ؓ اس کے خراج میں سے کھایا کرتے تھے ، ایک روز وہ کچھ لے کر آیا تو ابوبکر ؓ نے اس میں سے کھایا ۔ غلام نے آپ سے کہا : کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کیا تھا ؟ تو ابوبکر ؓ نے فرمایا : وہ کیا تھا ؟ اس نے کہا : میں جاہلیت میں ایک انسان کے لیے کہانت کیا کرتا تھا ، حالانکہ مجھے کہانت نہیں آتی تھی ، میں نے تو اسے صرف دھوکہ ہی دیا تھا ، وہ مجھے ملا ہے تو اس نے مجھے یہ عطا کیا ہے جس میں سے آپ نے کھایا ہے ، وہ بیان کرتی ہیں ، ابوبکر ؓ نے اپنا ہاتھ (منہ میں) ڈالا اور پیٹ کی ہر چیز قے کر ڈالی ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۳۸۴۲) ۔
2786
Sahih
بَاب الْكسْب وَطلب الْحَلَال
کسب اور طلب حلال کا بیان
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ جَسَدٌ غُذِّيَ بالحرَامِ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حرام سے پرورش پانے والا جسم جنت میں نہیں جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۵۷۵۹) [و ابو یعلی ۱ / ۸۵ ح ۸۴ و اللفظ لہ ، و الحاکم (۴ / ۱۲۷ ح ۷۱۶۴)] * فیہ عبدالواحد بن زید البصری الزاھد ضعیف ضعیفہ الجمھور و فرقد بن یعقوب السبخی ضعیف ضعیفہ الجمھور و لم اقف علی السند الحسن لھذا الحدیث ۔
2787
Zaeef
بَاب الْكسْب وَطلب الْحَلَال
کسب اور طلب حلال کا بیان
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّهُ قَالَ: شَرِبَ عمر بن الْخطاب لَبَنًا وَأَعْجَبَهُ وَقَالَ لِلَّذِي سَقَاهُ: مَنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا اللَّبَنُ؟ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَرَدَ عَلَى مَاءٍ قَدْ سَمَّاهُ فَإِذَا نَعَمٌ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ وَهُمْ يَسْقُونَ فَحَلَبُوا لِي مِنْ أَلْبَانِهَا فَجَعَلْتُهُ فِي سِقَائِيَ وَهُو هَذَا فَأَدْخَلَ عُمَرُ يَدَهُ فاسْتقاءَه. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان
زید بن اسلم ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے دودھ پیا اور انہیں خوشگوار محسوس ہوا ۔ جس شخص نے دودھ پلایا تھا اس سے دریافت کیا کہ تو نے یہ دودھ کہاں سے حاصل کیا ؟ اس نے بتایا کہ وہ ایک تالاب پر گیا جس کا اس نے نام لیا ۔ وہاں زکوۃ کے اونٹ تھے جن کو وہ پانی پلا رہے تھے ، انہوں نے مجھے بھی ان کا دودھ دھو کر دیا میں نے دودھ کو اپنے مشکیزے میں ڈال لیا یہ وہ دودھ تھا ۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے اپنا ہاتھ منہ میں ڈالا اور دودھ کی قے کر دی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۵۷۷۱ ، نسخۃ محققۃ : ۵۳۸۷) [من طریق مالک عن زید بن اسلم بہ و ھذا فی الموطا (۱ / ۲۶۹)] * السند منقطع ، زید لم یدرک عمر رضی اللہ عنہ ۔
2788
Zaeef
بَاب الْكسْب وَطلب الْحَلَال
کسب اور طلب حلال کا بیان
وَعَن ابنِ عُمَرَ قَالَ: مَنِ اشْتَرَى ثَوْبًا بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ وَفِيهِ دِرْهَمٌ حَرَامٌ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهَ صَلَاةً مَا دَامَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَدْخَلَ أُصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ وَقَالَ صُمَّتَا إِنْ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. وَقَالَ: إِسْنَادُهُ ضَعِيف
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، جو شخص دس درہم میں کوئی کپڑا خریدے اور ان میں ایک درہم حرام کا ہو تو جب تک وہ کپڑا اس پر رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں کرتا ، پھر انہوں نے اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈال کر فرمایا : اگر میں نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے نہ سنی ہو تو یہ دونوں (کان) بہرے ہو جائیں ۔ احمد ، بیہقی فی شعب الایمان ۔ اور فرمایا : اس کی اسناد ضعیف ہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۲ / ۹۸ ح ۵۷۳۲) و البیھقی فی شعب الایمان (۶۱۱۴ ، نسخۃ محققۃ : ۵۷۰۷ بسند مختلف و قال البیھقی :’’ وھو اسناد ضعیف ‘‘ و سند ضعیف لعلل) * فیہ بقیۃ (مدلس) عن الولید الحمصی عن عثمان بن زفر عن ھاشم (لا اعرفہ انظر تعجیل المنفعۃ ص ۴۲۸) عن ابن عمر بہ ۔
2789
Zaeef
بَاب المساهلة فِي الْمُعَامَلَات
معاملہ کرنے میں نرمی کا بیان
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ وَإِذَا اشْتَرَى وَإِذَا اقْتَضَى رَوَاهُ البُخَارِيّ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اس آدمی پر رحم فرمائے جو بیچتے ، خریدتے اور تقاضا کرتے وقت نرمی اور کشادہ دلی کا مظاہرہ کرے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۲۰۷۶) ۔
2790
Sahih
بَاب المساهلة فِي الْمُعَامَلَات
معاملہ کرنے میں نرمی کا بیان
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ فِيمَنْ قَبْلَكُمْ أَتَاهُ الْمَلَكُ لِيَقْبِضَ رُوحَهُ فَقيل لَهُ: هَل علمت مَنْ خَيْرٍ؟ قَالَ: مَا أَعْلَمُ. قِيلَ لَهُ انْظُرْ قَالَ: مَا أَعْلَمُ شَيْئًا غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا وَأُجَازِيهِمْ فَأُنْظِرُ الْمُوسِرَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ فَأَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم سے پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا ، فرشتہ اس کی روح قبض کرنے کے لیے اس کے پاس آیا تو اس سے پوچھا گیا : کیا تم نے کوئی نیکی کا کام کیا ہے ؟ اس نے کہا : مجھے پتہ نہیں ، پھر اسے کہا گیا : دیکھ لو اس نے کہا : مجھے اس کے علاوہ تو کوئی اور بات یاد نہیں کہ میں دنیا میں لوگوں کے ساتھ بیع کیا کرتا تھا ، اور میں ان سے اچھے انداز سے تقاضا کیا کرتا تھا ، میں مال دار شخص کو مہلت دے دیتا تھا جبکہ تنگدست کو ویسے ہی معاف کر دیا کرتا تھا ، اللہ تعالیٰ نے اسے جنت میں داخل فرما دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۳۴۵۱) و مسلم (۲۶ / ۱۵۶۰) ۔ 3993
2791
Sahih
بَاب المساهلة فِي الْمُعَامَلَات
معاملہ کرنے میں نرمی کا بیان
وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ نَحْوَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ «فَقَالَ اللَّهُ أَنَا أَحَق بذا مِنْك تجاوزوا عَن عَبدِي»
اور صحیح مسلم کی روایت بھی اسی طرح ہے جو کہ عقبہ بن عامر ؓ اور ابومسعود انصاری ؓ سے مروی ہے :’’ میں اس کا تجھ سے زیادہ حق دار ہوں ، (فرشتو !) میرے بندے سے درگزر فرماؤ ۔‘‘ رواہ ،مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۲۹ / ۱۵۶۰) ۔ 3996
2792
Sahih
بَاب المساهلة فِي الْمُعَامَلَات
معاملہ کرنے میں نرمی کا بیان
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَلِفِ فِي الْبَيْعِ فَإِنَّهُ يُنَفِّقُ ثُمَّ يَمْحَقُ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بیع کرتے وقت زیادہ قسمیں اٹھانے سے بچو ، کیونکہ اس سے تجارت کو فروغ تو ملتا ہے لیکن پھر وہ ختم ہو جاتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۳۲ / ۱۶۰۷) ۔ 4126
2793
Sahih
بَاب المساهلة فِي الْمُعَامَلَات
معاملہ کرنے میں نرمی کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحلف منفقعة للسلعة ممحقة للبركة»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ قسم سودے کو رواج دیتی ہے لیکن برکت ختم ہو جاتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۰۸۷) و مسلم (۱۳۱ / ۱۶۰۶) ۔ 4125
2794
Sahih
بَاب المساهلة فِي الْمُعَامَلَات
معاملہ کرنے میں نرمی کا بیان
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» . قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَابُوا وَخَسِرُوا مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانٌ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحلف الْكَاذِب» . رَوَاهُ مُسلم
ابوذر ؓ نبی سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ روز قیامت تین قسم کے لوگوں سے کلام فرمائے گا نہ (نظر رحمت سے) اُن کی طرف دیکھے گا اور نہ ہی ان کا تزکیہ فرمائے گا اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہو گا ۔‘‘ ابوذر ؓ نے عرض کیا ، وہ تو ناکام و نامراد ہو گئے ، اللہ کے رسول ! وہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا :’’ ازار لٹکانے والا ، احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم سے اپنا سودا بیچنے والا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۷۱ / ۱۰۶) ۔
2795
Sahih
بَاب المساهلة فِي الْمُعَامَلَات
معاملہ کرنے میں نرمی کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ معَ النبِّيِينَ والصِّدِّيقينَ والشهداءِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالدَّارَقُطْنِيّ.
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سچا امانت دار تاجر انبیا علیہم السلام ، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و الدارمی و الدارقطنی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۲۰۹ وقال : صحیح) و الدارقطنی (۳ / ۷) [و الدارمی (۲ / ۲۴۷ ح ۲۵۴۲)] * ابو حمزہ میمون ضعیف و فی السند علل أخری و الحدیث من مراسیل الحسن البصری رحمہ اللہ ، و قال الدارمی رحمہ اللہ :’’ ابو حمزہ ھذا ھو صاحب ابراھیم وھو میمون الاعور‘‘ ۔
2796
Zaeef
بَاب المساهلة فِي الْمُعَامَلَات
معاملہ کرنے میں نرمی کا بیان
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنِ ابْنِ عُمَرَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيّ: هَذَا حَدِيث غَرِيب
ابن ماجہ نے اسے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے ، اور ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Takhreej
ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۲۱۳۹) * کثوم بن جوشن : ضعیف ، کما قال البوصیری و غیرہ ۔
2797
Zaeef
بَاب المساهلة فِي الْمُعَامَلَات
معاملہ کرنے میں نرمی کا بیان
وَعَن قيس بن أبي غَرزَة قَالَ: كُنَّا نُسَمَّى فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمَاسِرَةَ فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
قیس بن ابی غرزہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے دور میں ہم (تاجروں) کو ’’ بروکر ‘‘ (دلال) کہا جاتا تھا ، رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو کہ اس سے بہتر تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تاجروں کی جماعت ! بیع کرتے وقت لغو باتیں ہو جاتی ہیں اور قسمیں بھی ہوتی ہیں ، لہذا تم اس کے ساتھ صدقہ کو شامل کر لیا کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ ابوداؤد (۳۳۲۶) و الترمذی (۱۲۰۸ وقال : حسن صحیح) و النسائی (۷ / ۱۴ ۔ ۱۵ ح ۳۸۹۲) و ابن ماجہ (۲۱۴۵) ۔
2798
Sahih

Chapters

17
01
بَاب الْكسْب وَطلب الْحَلَال
کسب اور طلب حلال کا بیان
31 Hadith
02
بَاب المساهلة فِي الْمُعَامَلَات
معاملہ کرنے میں نرمی کا بیان
11 Hadith
03
بَاب الْخِيَار
اختیار کا بیان
6 Hadith
04
بَاب الرِّبَا
سود کا بیان
27 Hadith
05
بَابُ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا مِنَ الْبُيُوعِ
ممنوعہ بیوع (تجارت) کا بیان
41 Hadith
06
باب [فی البیع المشروط]
مشروط تجارت کا بیان
8 Hadith
07
بَاب السّلم وَالرَّهْن
بیع سلم اور رہن کا بیان
9 Hadith
08
بَاب الاحتكار
ذخیرہ اندوزی کا بیان
7 Hadith
09
بَاب الإفلاس والانظار
افلاس اور مہلت دینے کا بیان
31 Hadith
10
بَاب الشّركَة وَالْوكَالَة
شراکت اور وکالت کا بیان
8 Hadith
11
بَاب الْغَصْب وَالْعَارِية
غصب کرنے اور مستعار لینے کا بیان
23 Hadith
12
بَاب الشُّفْعَة
شفعہ کا بیان
11 Hadith
13
بَاب الْمُسَاقَاة والمزارعة
مساقات اور مزارعت کا بیان
9 Hadith
14
بَاب الْإِجَارَة
اجارہ کا بیان
10 Hadith
15
بَاب إحْيَاء الْموَات وَالشرب
بنجر زمین کو آباد کرنے اور پانی کی باری کا بیان
17 Hadith
16
بَاب العطايا
عطیات کا بیان
25 Hadith
17
بَاب اللّقطَة
لُقطہ کا بیان
8 Hadith
No chapter matched that.