TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خرید و فروخت کا بیان - خرید و فروخت کا بیان - Book 11 of Mishkat with Urdu and English Translation

Book 11 of Mishkat, with 17 chapters and 282 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

282 Hadith · 17 Chapters
بَاب الرِّبَا
سود کا بیان
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ وَلَا الْبُرَّ بِالْبُرِّ وَلَا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ وَلَا التَّمْرَ بِالتَّمْرِ وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ يَدًا بِيَدٍ وَلَكِنْ بِيعُوا الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ وَالْمِلْحَ بِالتَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ» . رَوَاهُ الشَّافِعِي
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سونے کو سونے کے بدلے میں ، چاندی کو چاندی ، گندم کو گندم ، جو کو جو ، کھجور کو کھجور اور نمک کو نمک کے بدلے میں فروخت نہ کرو ، ہاں یہ کہ وہ برابر برابر ، نقد بنقد اور دست بدست ہوں ۔ اور سونے کو چاندی کے بدلے میں ، چاندی کو سونے کے بدلے میں ، گندم کو جو کے بدلے میں ، جو کو گندم کے بدلے میں ، کھجور کو نمک اور نمک کو کھجور کے بدلے میں دست بدست جیسے تم چاہو بیچو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الشافعی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ الشافعی فی الام (۳ / ۱۵) [و مسلم فی صحیحہ : ۱۵۸۷] ۔
2819
Sahih
بَاب الرِّبَا
سود کا بیان
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ شِرَاءِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ فَقَالَ: «أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟» فَقَالَ: نَعَمْ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ. رَوَاهُ مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ سے تازہ کھجوروں کے بدلے میں چھوہارے خریدنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب کھجور خشک ہو جاتی ہے تو کیا وہ (وزن میں) کم ہو جاتی ہے ؟‘‘ تو اس شخص نے عرض کی ، جی ہاں ، آپ ﷺ نے اسے اس سے منع فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ مالک (۲ / ۶۲۴ ح ۱۳۵۳) و الترمذی (۱۲۲۵ وقال : حسن صحیح) و ابوداؤد (۳۳۵۹) و النسائی (۷ / ۲۶۸ ۔ ۲۶۹ ح ۴۵۴۹) و ابن ماجہ (۲۲۶۴) ۔
2820
Sahih
بَاب الرِّبَا
سود کا بیان
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ مُرْسَلًا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نهى عَن بَيْعِ اللَّحْمِ بِالْحَيَوَانِ قَالَ سَعِيدٌ: كَانَ مِنْ مَيْسِرِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ
سعید بن مسیّب ؒ سے مرسل روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حیوان کے بدلے گوشت کی بیع سے منع فرمایا ہے ۔ سعید ؒ نے فرمایا : یہ جاہلیت کے جوئے کی ایک صورت تھی ۔ صحیح ، رواہ البغوی فی شرح السنہ ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۸ / ۷۶ ح ۲۰۷۳) [و مالک فی الموطا ۲ / ۶۵۵ ح ۱۳۹۶] * السند ضعیف لا رسالہ و لہ شواھد عند ابی داود (۳۳۵۶) و الترمذی (۱۲۳۷) و غیرھما ۔
2821
Sahih
بَاب الرِّبَا
سود کا بیان
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حیوان کے بدلے حیوان کی ادھار بیع سے منع فرمایا ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذی (۱۲۳۷ وقال : حسن صحیح) و ابوداؤد (۳۳۵۶) و النسائی (۷ / ۲۹۲ ح ۴۶۲۴) و ابن ماجہ (۲۲۷۰) و الدارمی (۲ / ۲۵۴ ح ۲۵۶۷) ۔
2822
Sahih
بَاب الرِّبَا
سود کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَن يُجهِّزَ جَيْشًا فنفدتِ الإِبلُ فأمرَهُ أَن يَأْخُذَ عَلَى قَلَائِصِ الصَّدَقَةِ فَكَانَ يَأْخُذُ الْبَعِيرَ بِالْبَعِيرَيْنِ إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں لشکر تیار کرنے کا حکم فرمایا تو اونٹ کم پڑ گئے ، پھر آپ نے انہیں حکم فرمایا کہ وہ صدقہ کی جوان سال اونٹنیوں کے وعدہ پر اونٹ لے لیں ، چنانچہ وہ ایک اونٹ دو اونٹنیوں کے بدلے صدقہ کے اونٹ آنے تک کے وعدہ پر لے رہے تھے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۳۳۵۷) * عمرو بن حریش مجھول الحال و للحدیث شواھد ضعیفۃ ۔
2823
Zaeef
بَاب الرِّبَا
سود کا بیان
عَنْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ» . وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «لَا رِبًا فِيمَا كَانَ يدا بيد»
اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ سود ادھار میں ہے ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جو نقد بنقد ہو اس میں سود نہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۱۷۸ ۔ ۲۱۷۹) و مسلم (۱۰۱ ۔ ۱۰۳ / ۱۵۹۶) ۔
2824
Sahih
بَاب الرِّبَا
سود کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ غَسِيلِ الْمَلَائِكَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دِرْهَمُ رِبًا يَأْكُلُهُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَشَدُّ مِنْ سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ زِنْيَةً» . رَوَاهُ أَحْمَدُ والدراقطني وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَادَ: وَقَالَ: «مَنْ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنَ السُّحت فَالنَّار أولى بِهِ»
غسیل الملائکہ حنظلہ ؓ کے بیٹے عبداللہ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص جانتے ہوئے ایک درہم سود کھاتا ہے تو یہ چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے بھی زیادہ سنگین ہے ۔‘‘ اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ، اور یہ اضافہ نقل کرتے ہوئے فرمایا :’’ جس شخص کا گوشت حرام سے تیار ہوا ہو تو آگ اس کی زیادہ حق دار ہے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ احمد و الدارقطنی و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
ضعیف ، رواہ احمد (۵ / ۲۲۵ ح ۲۲۳۰) و الدارقطنی (۳ / ۱۶ ح ۲۸۱۹) * سندہ ضعیف ، فی سماع ابن ابی ملیکۃ من عبداللہ بن حنظلۃ لھذا الحدیث نظر و للحدیث علۃ أخری و شواھد ضعیفۃ عند ابن ماجہ (۲۲۷۴) و غیرہ ۔ ** البیھقی فی شعب الایمان (۵۵۱۸) عن ابن عباس و سندہ ضعیف جدًا ، فیہ محمد بن الفضل بن جابر ثنا یحیی بن اسماعیل بن عباس عن حسین بن قیس الرجی [متروک] عن عکرمۃ عن ابن عباس الخ ۔
2825
Zaeef
بَاب الرِّبَا
سود کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرِّبَا سَبْعُونَ جُزْءًا أيسرها أَن الرجل أمه»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سود کے (گناہ کے) ستر حصے ہیں ، ان میں سے کم تر گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے نکاح (جماع) کرے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۲۲۷۴) و البیھقی فی شعب الایمان (۵۵۲۱) * ابو معشر نجیح بن عبد الرحمن السندی ضعیف و للحدیث شواھد ضعیفۃ عند ابن الجارود (۶۴۷) و الحاکم (۲ / ۳۷) و غیرھما ۔
2826
Zaeef
بَاب الرِّبَا
سود کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِ الرِّبَا وَإِنْ كَثُرَ فإِنَّ عاقبتَه تصيرُ إِلى قُلِّ: رَوَاهُمَا ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ. وَرَوَى أَحْمد الْأَخير
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک سود خواہ کتنا بھی زیادہ ہو جائے لیکن اس کا انجام فقرو ذلت ہے ۔‘‘ ان دونوں روایات کو ابن ماجہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں جبکہ آخری حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان و احمد ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ ابن ماجہ (۲۲۷۹) و البیھقی فی شعب الایمان (۵۵۱۱) و احمد (۱ / ۳۹۵ ح ۳۷۵۴ ، ۱ / ۴۲۴ ح ۴۰۲۶) [و صححہ الحاکم (۲ / ۳۷) و وافقہ الذھبی] ۔
2827
Sahih
بَاب الرِّبَا
سود کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ فِيهَا الْحَيَّاتُ تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا . رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ معراج کی رات میں ایک قوم کے پاس آیا جن کے پیٹ گھروں کی مانند تھے جن میں سانپ ان کے پیٹ کے باہر سے نظر آ رہے تھے ، میں نے کہا : جبریل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا :’’ سود خور ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۲ / ۳۵۳ ح ۸۶۲۵) و ابن ماجہ (۲۲۷۳) * فیہ ابو الصلت : مجھول و علی بن زید بن جدعان : ضعیف ۔
2828
Zaeef
بَاب الرِّبَا
سود کا بیان
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم لعن آكِلَ الرِّبَا وَمُوَكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَمَانِعَ الصَّدَقَةِ وَكَانَ ينْهَى عَن النوح. رَوَاهُ النَّسَائِيّ
علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا آپ نے سود کھانے والے ، کھلانے والے ، اس کے لکھنے والے اور زکوۃ نہ دینے والے پر لعنت فرمائی ، اور آپ ﷺ نوحہ کرنے سے منع کیا کرتے تھے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ النسائی ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ النسائی (۸ / ۱۴۷ ح ۵۱۰۶) * الحارث الاعور ضعیف و لبعض الحدیث شواھد ضعیفۃ ۔
2829
Zaeef
بَاب الرِّبَا
سود کا بیان
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ آخِرَ مَا نَزَلَتْ آيَةُ الرِّبَا وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ وَلَمْ يُفَسِّرْهَا لَنَا فَدَعُوا الرِّبَا وَالرِّيبَةَ. رَوَاهُ ابْن مَاجَه والدارمي
عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ آخری آیت سود کے بارے میں نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے لیکن آپ نے اس کی ہمیں تفسیر نہیں بتائی تھی ، تم سود اور مثل سود ترک کر دو ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۲۲۷۶) و الدارمی (۱ / ۵۱ ۔ ۵۲ ح ۱۳۱) * قتادۃ مدلس و عنعن و للحدیث طریق آخر عند الاسماعیلی کما فی مسند الفاروق لابن کثیر (۲ / ۵۷۱) و سندہ ضعیف ۔
2830
Zaeef
بَاب الرِّبَا
سود کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا فَأَهْدَي إِلَيْهِ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى الدَّابَّةِ فَلَا يَرْكَبْهُ وَلَا يَقْبَلْهَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ جَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ قَبْلَ ذَلِكَ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی کسی کو قرض دے ، پھر وہ (مقروض) شخص اس کو کوئی تحفہ دے یا اسے سواری پر بٹھائے تو وہ اس پر سوار ہو نہ اس تحفہ کو قبول کرے ۔ البتہ اگر ان کے درمیان یہ کام (تحائف کا تبادلہ وغیرہ) پہلے سے ہی جاری ہو تو جائز ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۲۴۳۲) و البیھقی فی شعب الایمان (۵۵۳۲) * عتبۃ : لیس شامیًا و روایۃ اسماعیل بن عیاش عن غیر الشامیین ضعیفۃ ۔
2831
Zaeef
بَاب الرِّبَا
سود کا بیان
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَقْرَضَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَلَا يَأْخُذُ هَدِيَّةً» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي تَارِيخِهِ هَكَذَا فِي الْمُنْتَقى
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب آدمی ، آدمی کو قرض دے تو پھر وہ ہدیہ قبول نہ کرے ۔‘‘ امام بخاری نے اسے تاریخ میں روایت کیا ، اور المنتقی میں بھی اسی طرح ہے ۔ لم اجدہ ، رواہ البخاری فی تاریخہ ۔
Takhreej
لم اجدہ ، رواہ البخاری (فی تاریخہ (لم اجدہ و لعلہ لا اصل لہ) و ذکرہ فی منتقی الاخبار (۲۹۷۰) ۔
2832
Zaeef
بَاب الرِّبَا
سود کا بیان
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ: قدمت الْمَدِينَة فَلَقِيت عبد الله بن سلا م فَقَالَ: إِنَّك بِأَرْض فِيهَا الرِّبَا فَاش إِذا كَانَ لَكَ عَلَى رَجُلٍ حَقٌّ فَأَهْدَى إِلَيْكَ حِمْلَ تَبْنٍ أَو حِملَ شعيرِ أَو حَبْلَ قَتٍّ فَلَا تَأْخُذْهُ فَإِنَّهُ رِبًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
ابوبردہ بن ابوموسی ٰ بیان کرتے ہیں ، میں مدینہ گیا تو میں نے عبداللہ بن سلام ؓ سے ملاقات کی تو انہوں نے فرمایا : تم ایسے ملک میں رہتے ہو جہاں سود عام ہے ، جب تمہارا کسی آدمی پر کوئی حق ہو اور وہ گھاس کا ایک گٹھا یا جو یا جنگلی ہرے چارے کا ایک گٹھا بطور ہدیہ بھیجے تو اسے نہ لو کیونکہ وہ سود ہے ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۳۸۱۴) ۔
2833
Sahih
بَابُ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا مِنَ الْبُيُوعِ
ممنوعہ بیوع (تجارت) کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ: أَنْ يَبِيع تمر حَائِطِهِ إِنْ كَانَ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلَا وَإِنْ كَانَ كرْماً أنْ يَبيعَه زبيبِ كَيْلَا أَوْ كَانَ وَعِنْدَ مُسْلِمٍ وَإِنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ نَهَى عَنْ ذلكَ كُله. مُتَّفق عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ قَالَ: والمُزابنَة: أنْ يُباعَ مَا فِي رُؤوسِ النَّخلِ بتمْرٍ بكيلٍ مُسمَّىً إِنْ زادَ فعلي وَإِن نقص فعلي)
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ’’مزابنہ ‘‘ سے منع فرمایا ہے ، اور وہ یہ ہے کہ وہ اپنے باغ کا پھل ، اگر کھجور ہو تو معلوم شدہ مقدار خشک کھجور کے ساتھ ، اگر انگور ہو تو اسے منقی کے ساتھ ناپ کر ، اور مسلم میں ہے : اگر کھیتی ہو تو اناج کے ساتھ ناپ کر بیچنا ، آپ ﷺ نے ان سب صورتوں سے منع فرمایا ہے ۔ بخاری ، مسلم ۔ اور صحیحین ہی کی روایت میں ، آپ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا ہے ، اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجوروں کے درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک کھجوروں کے ساتھ مقررہ پیمانے سے بیچنا ، اور یوں کہے کہ اگر زیادہ ہو تو میرا اور اگر کم ہو تو میں دوں گا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۲۰۵) و مسلم (۷۵ / ۱۵۴۲) ۔ 3899
2834
Sahih
بَابُ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا مِنَ الْبُيُوعِ
ممنوعہ بیوع (تجارت) کا بیان
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةُ: أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ الزَّرْعَ بِمِائَةِ فَرَقٍ حِنطةً والمزابنةُ: أنْ يبيعَ التمْرَ فِي رؤوسِ النَّخْلِ بِمِائَةِ فَرَقٍ وَالْمُخَابَرَةُ: كِرَاءُ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ والرُّبُعِ. رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مخابرہ ، محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے ۔ محاقلہ یہ ہے کہ آدمی سو فرق (وزن کا پیمانہ) گندم کے بدلے کھیتی فروخت کر دے ، مزابنہ یہ ہے کہ وہ سو فرق کھجور کے بدلے میں کھجوروں کو درختوں پر فروخت کر دے ، اور مخابرہ یہ ہے کہ زمین کو تہائی یا چوتھائی حصے پر کاشت کرنے کو دیا جائے ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۸۱ ۔ ۸۴ / ۱۵۳۶) ۔
2835
Sahih
بَابُ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا مِنَ الْبُيُوعِ
ممنوعہ بیوع (تجارت) کا بیان
وَعَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ وَعَنِ الثُّنْيَا وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ ، مزابنہ ، مخابرہ ، باغ کو کئی سال پر ٹھیکے پر دینے اور استثنا سے منع کیا ہے ، البتہ آپ ﷺ نے اندازہ لگانے کی اجازت فرمائی ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۸۵ / ۱۵۳۶) ۔ 3908-3910-3911
2836
Sahih
بَابُ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا مِنَ الْبُيُوعِ
ممنوعہ بیوع (تجارت) کا بیان
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن بيعِ التمْر بالتمْرِ إِلَّا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا
سہل بن ابی حشمہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے خشک کھجور کے بدلے تازہ کھجور بیچنے سے منع فرمایا ، البتہ آپ نے اندازہ لگانے کی اجازت دی ، وہ یہ ہے کہ اس کو اندازہ سے خشک کھجوروں کے عوض بیچ دیا جائے ، تاکہ اس کے مالک تازہ کھجوریں کھا سکیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۱۹۱) و مسلم (۶۷ / ۱۵۴۰) ۔ 3913
2837
Sahih
بَابُ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا مِنَ الْبُيُوعِ
ممنوعہ بیوع (تجارت) کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ فِيمَا دُونَ خَمْسَة أوسق أَو خَمْسَة أوسق شكّ دَاوُد ابْن الْحصين
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پانچ وسق یا اس سے کم خشک کھجور کے اندازہ سے تازہ کھجوروں کو بیچنے کی اجازت فرمائی ۔‘‘ داؤد بن حصین راوی کو پانچ یا پانچ سے کم میں شک ہوا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۱۹۰) و مسلم (۷۱ / ۱۵۴۱) ۔ 3887
2838
Sahih

Chapters

17
01
بَاب الْكسْب وَطلب الْحَلَال
کسب اور طلب حلال کا بیان
31 Hadith
02
بَاب المساهلة فِي الْمُعَامَلَات
معاملہ کرنے میں نرمی کا بیان
11 Hadith
03
بَاب الْخِيَار
اختیار کا بیان
6 Hadith
04
بَاب الرِّبَا
سود کا بیان
27 Hadith
05
بَابُ الْمَنْهِيِّ عَنْهَا مِنَ الْبُيُوعِ
ممنوعہ بیوع (تجارت) کا بیان
41 Hadith
06
باب [فی البیع المشروط]
مشروط تجارت کا بیان
8 Hadith
07
بَاب السّلم وَالرَّهْن
بیع سلم اور رہن کا بیان
9 Hadith
08
بَاب الاحتكار
ذخیرہ اندوزی کا بیان
7 Hadith
09
بَاب الإفلاس والانظار
افلاس اور مہلت دینے کا بیان
31 Hadith
10
بَاب الشّركَة وَالْوكَالَة
شراکت اور وکالت کا بیان
8 Hadith
11
بَاب الْغَصْب وَالْعَارِية
غصب کرنے اور مستعار لینے کا بیان
23 Hadith
12
بَاب الشُّفْعَة
شفعہ کا بیان
11 Hadith
13
بَاب الْمُسَاقَاة والمزارعة
مساقات اور مزارعت کا بیان
9 Hadith
14
بَاب الْإِجَارَة
اجارہ کا بیان
10 Hadith
15
بَاب إحْيَاء الْموَات وَالشرب
بنجر زمین کو آباد کرنے اور پانی کی باری کا بیان
17 Hadith
16
بَاب العطايا
عطیات کا بیان
25 Hadith
17
بَاب اللّقطَة
لُقطہ کا بیان
8 Hadith
No chapter matched that.