عبید بن رفاعہ اپنے والد سے اور وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تاجروں کو فاجروں کے زمرے میں جمع کیا جائے گا بجز اس کے جس نے تقوی اختیار کیا ، نیکی کی اور صدقہ کیا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذی (۱۲۱۰) و ابن ماجہ (۲۱۴۶) و الدارمی (۲ / ۱۶۳ ح ۲۵۴۱) ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بیع خیار کے علاوہ خریدو فروخت کرنے والے میں سے ہر ایک کو ، جُدا نہ ہونے سے پہلے تک (بیع کو پختہ کرنے یا فسخ کرنے کا) اختیار ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے ’’ جب دو بیع کرنے والے بیع کرتے ہیں تو انہیں ایک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے تک اپنی بیع کے بارے میں اختیار ہوتا ہے ، یا پھر ان کی بیع خیار ہو ، پس جب ان کی بیع اختیار ہو گی تو وہ واجب ہو جائے گی ۔‘‘ متفق علیہ ۔
اور ترمذی کی ایک روایت میں ہے :’’ خریدو فروخت کرنے والوں کو ایک دوسرے سے جدُا ہونے سے پہلے تک اختیار باقی رہتا ہے ، یا پھر انہوں نے بیع خیار کی ہو ۔
اور صحیحین کی روایت میں ہے :’’ یا ان دونوں میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی سے کہے کہ تجھے اختیار حاصل ہے ۔ ((یختارا)) کے بجائے ((اِختَر)) ’’ اختیار کی شرط کر ‘‘ کا لفظ ہے ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۱۰۷) و مسلم (۴۳ ۔ ۴۵ / ۱۵۳۱) و الترمذی (۲۴۵ [ و سندہ صحیح]) ۔ 3853-3856
حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ خریدو فروخت کرنے والوں کو جُدا ہونے تک اختیار باقی رہتا ہے ، اگر انہوں نے سچ بولا اور (مال کے بارے میں) وضاحت کی تو ان دونوں کے لیے ان کی بیع میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور اگر انہوں نے (مال کے نقص وغیرہ کو) چھپایا اور جھوٹ بولا تو ان کی بیع سے برکت ختم ہو جاتی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۰۷۹) و مسلم (۴۷ / ۱۵۳۲) ۔ 3858
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے نبی ﷺ سے فرمایا : بیع میں میرے ساتھ دھوکہ ہو جاتا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم بیع کرو تو کہا کرو : دھوکہ فریب نہیں چلے گا ۔‘‘ وہ آدمی یہ الفاظ کہا کرتا تھا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۱۱۷) و مسلم (۴۸ / ۱۵۳۳) ۔ 3860
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ خریدو فروخت کرنے والوں کو جُدا ہونے سے پہلے تک اختیار ہوتا ہے الا یہ کہ بیع اختیار ہو ، اور اس کے لیے اس اندیشے کے پیش نظر اپنے ساتھی سے جُدا ہونا جائز نہیں کہ وہ اس (بیع) کی واپسی کا مطالبہ نہ کرے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
Takhreej
حسن ، رواہ الترمذی (۱۲۴۷ وقال : حسن) و ابوداؤد (۳۴۵۶) و النسائی (۷ / ۲۵۱ ۔ ۲۵۲ ح ۴۴۸۸) ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے ، کھلانے والے ، لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی ، اور فرمایا :’’ (گناہ میں) وہ سب برابر ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سونے کے بدلے سونا ، چاندی کے بدلے چاندی ، گندم کے بدلے گندم ، جو کے بدلے جو ، کھجور کے بدلے کھجور ، اور نمک کے بدلے نمک ایک دوسرے کے برابر ہوں اور نقد بنقد ہوں ، جب یہ اصناف بدل جائیں تو پھر اگر وہ نقد ہوں تو جیسے چاہو بیچو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سونا سونے کے بدلے ، چاندی چاندی کے بدلے ، گندم گندم کے بدلے ، جو جو کے بدلے ، کھجور کھجور کے بدلے ، اور نمک نمک کے بدلے برابر برابر اور نقد بنقد ہوں ، جس شخص نے زیادہ دیا یا جس نے زیادہ کا مطالبہ کیا تو اس نے سودی کام کیا ، اور اس میں لینے والا اور دینے والا برابر ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سونے کو سونے کے برابر ہی فروخت کرو ، ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو ، چاندی کو چاندی کے برابر ہی فروخت کرو اور ایک دوسرے میں کمی بیشی نہ کرو ، اور اس میں سے غیر موجود چیز کو موجود چیز کے بدلے فروخت نہ کرو ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ سونے کو سونے کے بدلے اور چاندی کو چاندی کے بدلے میں باہم برابر وزن میں فروخت کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۱۷۷) و مسلم (۷۵ ۔ ۷۷ / ۱۵۸۴) ۔ 4054
عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سونے کی سونے کے بدلے ، چاندی کی چاندی کے بدلے ، گندم کی گندم کے بدلے ، جو کی جو کے بدلے اور کھجور کی کھجور کے بدلے ادھار بیع کرنا سود ہے لیکن اگر دست بدست ہو تو جائز ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۱۳۴) و مسلم (۷۹ / ۱۵۸۶) ۔ 4059
ابوسعید ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو خیبر پر عامل مقرر کیا ، تو وہ اچھی قسم کی کھجوریں لے کر آپ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا خیبر کی ساری کھجوریں اسی طرح کی ہیں ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول ! ہم دو صاع کے بدلے یہ ایک صاع اور تین صاع کے بدلے دو صاع لے لیتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ایسے نہ کیا کرو ، ساری کھجوریں درہموں کے حساب سے بیچ دیا کرو اور پھر درہموں کے بدلے عمدہ قسم کی کھجوریں خرید لیا کرو ۔‘‘ اور فرمایا :’’ وزن کی جانے والی تمام چیزوں میں بھی یہی اصول ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۲۰۱) و مسلم (۹۵ / ۱۵۹۳) ۔ 4082
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، بلال ؓ برنی (بڑی عمدہ قسم کی) کھجوریں لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی ﷺ نے ان سے پوچھا :’’ یہ کہاں سے لائے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہمارے پاس نکمی کھجوریں تھیں میں نے ان کے دو صاع کے عوض ان کا ایک صاع لیا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ افسوس ! افسوس ! یہ تو بالکل سود ہے ، بالکل سود ہے ، ایسے نہ کرو ، بلکہ جب تم خریدنا چاہو تو ان کھجوروں کو فروخت کرو ، پھر اس (قیمت) کے عوض انہیں خریدو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۳۱۲) و مسلم (۹۶ / ۱۵۹۴) ۔ 4083
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک غلام آیا تو اس نے ہجرت پر نبی ﷺ کی بیعت کی ، جبکہ آپ ﷺ کو معلوم نہ تھا کہ وہ غلام ہے ، اتنے میں اس کا مالک آیا اور اس کا مطالبہ کرنے لگا تو نبی ﷺ نے اسے فرمایا :’’ اسے مجھے بیچ دو ۔‘‘ آپ ﷺ نے دو حبشی غلاموں کے بدلے میں اسے خرید لیا ، اس کے بعد آپ کسی سے بیعت نہیں لیتے تھے حتی کہ آپ اس سے پوچھ لیتے کیا وہ غلام ہے یا آزاد ؟‘‘ رواہ مسلم ۔
فضالہ بن ابی عُبید ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے خیبر کے دن بارہ دینار کے بدلے میں ایک ہار خریدا جس میں سونا اور گھونگھے تھے ، میں نے اس ہار کو کھول دیا تو میں نے اس میں بارہ دینار سے زیادہ سونا پایا ، میں نے نبی ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کو نہ بیچا جائے حتی کہ اسے کھول کر الگ کر لیا جائے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگوں پر ایسا وقت بھی آئے گا کہ تمام لوگ سود کھانے والے ہوں گے ، اگر کوئی اسے نہیں بھی کھائے گا تو اس کا اثر اس تک پہنچ جائے گا ۔‘‘ اور اس طرح بھی مروی ہے کہ ’’ اس کا غبار پہنچ جائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۲ / ۴۹۴ ح ۱۰۴۱۵) و ابوداؤد (۳۳۳۱) و النسائی (۷ / ۲۴۳ ح ۴۴۶۰) و ابن ماجہ (۲۲۷۸) * الحسن البصری مدلس و لم یصرح بالسماع و الجمھور علی انہ لم یسمع من ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ۔