TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3144 - بَابُ إِعْلَانِ النِّكَاحِ وَالْخِطْبَةِ وَالشَّرْطِ - نکاح کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 20 in this chapter
بَابُ إِعْلَانِ النِّكَاحِ وَالْخِطْبَةِ وَالشَّرْطِ
اعلان نکاح ، خطبہ / منگنی اور شرط کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَو يتْرك»
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی اپنے (مسلمان) بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغامِ نکاح نہ بھیجے حتی کہ وہ نکاح کر لے یا چھوڑ دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
3144
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
Conclusion
تخریج
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۱۴۴) و مسلم (۵۲ / ۱۴۱۳) ۔ 3459

Related Chapters

313
1
Chapter: What Has Been Related About Publicizing The Marriage
باب: نکاح کے اعلان کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About The Marriage Khutbah
باب: خطبہ نکاح کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Conditions When Contracting A Marriage
باب: عقد نکاح کے وقت شرط لگانے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
نکاح کے خطبہ کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
5
نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
Musnad Ahmad
6
نکاح کے اعلان اور اس میں کھیل کود اور دف بجانے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
7
خطبۃ الحاجہ یعنی نکاح اور دیگر مواقع پر دئیے جانے والے خطبہ کے الفاظ وعبارات کا بیان
Musnad Ahmad
8
(6) CHAPTER. The terms and the conditions of Mahr at the time of the marriage contract.
نکاح کے وقت مہر کی شرطیں
Sahih Bukhari
9
(8) CHAPTER. The conditions which are not permissible in the contracts of marriage.
جو شرطیں نکاح میں جائز نہیں ان کا بیان
Sahih Bukhari
10
(46) CHAPTER. None should ask for the hand of a lady who is already engaged to his brother (Muslim), but one should wait till the first suitor marries her or leaves her.
کسی مسلمان بھائی نے ایک عورت کو پیغام بھیجا ہو تو دوسرا شخص اس کو پیغام نہ بھیجے جب تک وہ اس سے نکاح نہ کرے یا پیام نہ چھوڑ دے یعنی منگنی توڑ دے ۔
Sahih Bukhari
11
(48) CHAPTER. Al-Khutba (for Nikah) (a speech delivered at the time of concluding the marriage contract).
( عقد سے پہلے ) نکاح کا خطبہ پڑھنا ۔
Sahih Bukhari
12
(53) CHAPTER. The conditions stipulated in the marriage (contract).
نکاح میں جو شرطیں کی جائیں ( ان کا پورا کرنا ضروری ہے ) ۔
Sahih Bukhari
13
(54) CHAPTER. The conditions that are not lawful in the marriage contract.
وہ شرطیں جو نکاح میں جائز نہیں ۔
Sahih Bukhari
14
CHAPTER: Regarding A Sermon For The Marriage.
باب: خطبہ نکاح کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
15
خطبہ نکاح کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
16
نکاح کے اعلان کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
17
نکاح میں شرط کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
18
باب: نکاح کے وقت کون سا کلام (خطبہ) پڑھنا مستحب ہے؟
Sunnan Nisai
19
باب: نکاح کی شرطوں کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
باب: دف بجا کر اور بلند آواز سے نکاح کا اعلان۔
Sunnan Nisai
21
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Buying, Selling, Loudly Seeking Out A Lost Item And Reciting Poetry In The Masjid
باب: مسجد میں خرید و فروخت کرنے، کھوئی ہوئی چیز کا اعلان کرنے اور شعر پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Khutbah On the Minbar
باب: منبر پر خطبہ دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Curtailing The Khutbah
باب: خطبہ کے درمیانی ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About The Direction The Imam Faces When Delivering The Khutbah
باب: خطبہ کے وقت امام کی طرف منہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: [What Has Been Related] About Two Rak'ah When One Arrives While the Imam Is Delivering The Khubah
باب: خطبہ کے دوران آدمی آئے تو پہلے دو رکعت نماز پڑھے
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About If Being Disliked to Talk While The Imam Is Delivering The Khutbah
باب: امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گفتگو کرنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
27
Chapter: [What Has Been Related] About It Being Disliked To Step Over (The Necks Of Others) On Friday
باب: جمعہ کے دن (دوران خطبہ) لوگوں کی گردنیں پھاندنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Al-Habwah Being Disliked While The Imam Is Delivering The Khutbah
باب: امام کے خطبہ دینے کی حالت میں احتباء کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: [What Has Been Related] About The Eid Prayers Before The Khutbah
باب: عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About: One Who Is Married For Three Things
باب: عورت سے عام طور پر تین باتوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Times In Which Marriage Is Recommended
باب: ان اوقات کا بیان جن میں نکاح کرنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Marriage Except With A Wali
باب: ولی کے بغیر نکاح صحیح نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Marriage Except With A Wali
باب: ولی کے بغیر نکاح نہ ہونے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Marriage Except With Proof (Bayyinah)
باب: گواہ کے بغیر نکاح درست نہیں
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About A Slave Marrying Without The Permission Of His Owner
باب: مالک کی اجازت کے بغیر غلام کے نکاح کر لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Emancipates A Slave Woman, Then Marries Her
باب: لونڈی کو آزاد کر کے اس سے نکاح کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About (The Prohibition of) Mut'ah
باب: نکاحِ متعہ کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of The Shigar Marriage
باب: نکاح شغار کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About: A Woman Should Not Be Married Along With Her Paternal Aunt Nor Her Maternal Aunt
باب: پھوپھی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بھتیجی سے نکاح کرنے اور خالہ کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بھانجی سے نکاح کرنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What has been related about: There is no divorce before marriage
باب: نکاح سے پہلے طلاق واقع نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
بَاب الْخطْبَة وَالصَّلَاة
خطبہ اور نماز جمعہ کا بیان
Mishkat
42
بَابٌ خُطْبَةُ يَوْمِ النَّحْرِ
قربانی کے دن خطبہ دینے ، ایام تشریق میں کنکریاں مارنے اور وداع کا بیان
Mishkat
43
بَاب النّظر إِلَى المخطوبة وَبَيَان العورات
جس کو پیغامِ نکاح دیا جائے اسے دیکھنے اور پردہ کی چیزوں کا بیان
Mishkat
44
بَابُ الْوَلِيِّ فِي النِّكَاحِ وَاسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ
نکاح میں ’’ولی‘‘ ہونے اور عورت سے اجازت طلب کرنے کا بیان
Mishkat
45
جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
46
دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
47
جو لوگ خطبۂ جمعہ کے دوران نبی کریمaسے بھاگ گئے تھے، ان کے قصے کا بیان
Musnad Ahmad
48
خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز عید کے دو رکعت کے ہونے کا اور عیدگاہ میں امام کے سامنے سترہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
49
عیدین کے خطبہ اور اس کے احکامات کا بیان، اور عورتوں کو وعظ کرنے اور ان کو صدقہ کرنے پر ابھارنے کا بیان
Musnad Ahmad
50
جمعہ کے خطبہ میں بارش کے لیے دعا کرنے اور نماز کے بغیر یہ دعا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

7,817
Jam e Tirmazi
1134
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَقُتَيْبَةُ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قُتَيْبَةُ:‏‏‏‏ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ أَحْمَدُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ:‏‏‏‏ إِنَّمَا مَعْنَى كَرَاهِيَةِ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ:‏‏‏‏ إِذَا خَطَبَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فَرَضِيَتْ بِهِ فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَخْطُبَ عَلَى خِطْبَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ الشَّافِعِيُّ:‏‏‏‏ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ:‏‏‏‏ هَذَا عِنْدَنَا إِذَا خَطَبَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فَرَضِيَتْ بِهِ وَرَكَنَتْ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَخْطُبَ عَلَى خِطْبَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا قَبْلَ أَنْ يَعْلَمَ رِضَاهَا أَوْ رُكُونَهَا إِلَيْهِ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَخْطُبَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَالْحُجَّةُ فِي ذَلِكَ حَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ‏‏‏‏‏‏حَيْثُ جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ خَطَبَاهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَرَجُلٌ لَا يَرْفَعُ عَصَاهُ عَنِ النِّسَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ انْكِحِي أُسَامَةَ فَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَنَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّ فَاطِمَةَ لَمْ تُخْبِرْهُ بِرِضَاهَا بِوَاحِدٍ مِنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ أَخْبَرَتْهُ لَمْ يُشِرْ عَلَيْهَا بِغَيْرِ الَّذِي ذَكَرَتْ.
Abu Hurairah narrated that: The Messenger of Allah said: A man is not to sell over his brother's sale, nor is he to propose to whom his brother has proposed.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ کوئی اپنے بھائی کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سمرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- مالک بن انس کہتے ہیں: آدمی کے اپنے بھائی کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجنے کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے کسی عورت کو پیغام دیا ہو اور وہ عورت اس سے راضی ہو گئی ہو، تو کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجے، ۴- شافعی کہتے ہیں کہ اس حدیث کہ آدمی اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے کا مطلب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جب آدمی نے کسی عورت کو پیغام بھیجا ہو اور وہ عورت اس سے راضی ہو گئی ہو اور اس کی طرف مائل ہو گئی ہو تو ایسی صورت میں کسی کے لیے درست نہیں کہ وہ اس کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجے، لیکن اس کی رضا مندی اور اس کا میلان معلوم ہونے سے پہلے اگر وہ اسے پیغام دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کی دلیل فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کی یہ حدیث ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر ذکر کیا کہ ابوجہم بن حذیفہ اور معاویہ بن ابی سفیان نے انہیں نکاح کا پیغام دیا ہے تو آپ نے فرمایا: ”ابوجہم کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنا ڈنڈا عورتوں سے نہیں اٹھاتے ( یعنی عورتوں کو بہت مارتے ہیں ) رہے معاویہ تو وہ غریب آدمی ہیں ان کے پاس مال نہیں ہے، لہٰذا تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو“۔ ہمارے نزدیک اس حدیث کا مفہوم ( اور اللہ بہتر جانتا ہے ) یہ ہے کہ فاطمہ نے ان میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی اپنی رضا مندی کا اظہار نہیں کیا تھا اور اگر وہ اس کا اظہار کر دیتیں تو اسے چھوڑ کر آپ انہیں اسامہ رضی الله عنہ سے نکاح کا مشورہ نہ دیتے۔
Sahih Bukhari
2140
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْفَأَ مَا فِي إِنَائِهَا .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle forbade the selling of things by a town dweller on behalf of a desert dweller; and similarly Najsh was forbidden. And one should not urge somebody to return the goods to the seller so as to sell him his own goods; nor should one demand the hand of a girl who has already been engaged to someone else; and a woman should not try to cause some other woman to be divorced in order to take her place.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال و اسباب بیچے اور یہ کہ کوئی ( سامان خریدنے کی نیت کے بغیر دوسرے اصل خریداروں سے ) بڑھ کر بولی نہ دے۔ اسی طرح کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے میں مداخلت نہ کرے۔ کوئی شخص ( کسی عورت کو ) دوسرے کے پیغام نکاح ہوتے ہوئے اپنا پیغام نہ بھیجے۔ اور کوئی عورت اپنی کسی دینی بہن کو اس نیت سے طلاق نہ دلوائے کہ اس کے حصہ کو خود حاصل کر لے۔
Sahih Bukhari
5144
وَلَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَتْرُكَ .
And none should ask for the hand of a girl who is already engaged to his (Muslim) brother, but one should wait till the first suitor marries her or leaves her.
اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے یہاں تک کہ وہ نکاح کرے یا چھوڑ دے۔
Sahih Muslim
3442
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ صَحْفَتَهَا وَلْتَنْكِحْ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللهُ لَهَا
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: A man must not make proposal of marriage to a woman when his brother has done so already. And he must not offer a price for a thing for which his brother had already offered a price; and a woman must not be combined in marriage with her father's sister, nor with her mother's sister, and a woman must not ask to have her sister divorced in order to deprive her of what belongs to her, but she must marry, because she will have what Allah has decreed for her.
ہشام نے محمد بن سیرین سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر ( اپنے ) نکاح کا پیغام نہ دے ، اور نہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے ، اور نہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں نکاح کیا جائے اور نہ کوئی عورت اپنی ( مسلمان ) بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ اس کی پلیٹ کو ( اپنے لیے ) انڈیل لے ۔ اسے ( پہلی بیوی کی طلاق کا مطالبہ کیے بغیر ) نکاح کر لینا چاہئے ، بات یہی ہے کہ جو اللہ نے اس کے لیے لکھا ہوا ہے وہی اس کا ہے
Sunnan Abu Dawood
2080
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ .
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم as saying “ A man should not seek the hand of a woman in marriage when his brother has already sought her hand. ”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے ۔
Jam e Tirmazi
1292
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَخْطُبْ بَعْضُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ بَعْضٍ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمُرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَسُومُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْنَى الْبَيْعِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ هُوَ السَّوْمُ.
Narrated Ibn 'Umar: That the Messenger of Allah (ﷺ) said: None of you is to sell over the sale of others, nor to propose over the proposal of others. [He said:] There are narration on this topic from Abu Hurairah and Samurah. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of Ibn 'Umar is a Hasan Sahih Hadith. And it has been reported from the Prophet (ﷺ) that he said: Do not haggle in competition with your brother's haggling. And the meaning of sale in this Hadith of the Prophet (ﷺ), according to some of the people of knowledge is to haggle
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے ۱؎ اور نہ کوئی کسی کے شادی کے پیغام پر پیغام دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور سمرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا آدمی اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ کرے۔ ۴- اور بعض اہل علم کے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی اس حدیث میں بیع سے مراد بھاؤ تاؤ اور مول تول ہے۔
Sahih Muslim
3458
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، أَوْ يَتَنَاجَشُوا، أَوْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، أَوْ يَبِيعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا، أَوْ مَا فِي صَحْفَتِهَا»، زَادَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ: «وَلَا يَسُمِ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as having forbidden a dweller of the town selling the merchandise of a villager or outbidding in a sale (in order that another might fall into a snare), or a person making the proposal of marriage when his brother has already made such a proposal, or entering into a transaction when his brother has already entered; and a woman asking the divorce of her sister in order to deprive her of what belongs to her. 'Amr made this addition: The person should not purchase in opposition to his brother.
عمرو ناقد ، زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی ۔ زہیر نے کہا : سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے سودا بیچے یا لوگ ( خریداری کی نیت کے بغیر ) بڑھ چڑھ کر قیمت لگائیں یا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغامِ نکاح پر نکاح کا پیغام بھیجے ، یا کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرے ۔ اور نہ ہی کوئی عورت ( اس غرض سے ) اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ کرے کہ جو کچھ اس کے برتن میں ہے یا اس کی پلیٹ میں ہے وہ اسے ( اپنے لیے ) انڈیل لے ۔ عمرو نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : اور نہ کوئی آدمی اپنے بھائی کے کیے جانے سودے پر سودا بازی کرے
Sunnan Ibn e Maja
1867
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَخْطُبِ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ .
It was narrated from Abu Hurairah that: the Messenger of Allah said: “A man should not propose to a woman to whom his brother has already proposed.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ دے ۱؎۔
Sunnan Nisai
3241
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ مُحَمَّدٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تَنَاجَشُوا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَا يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا .
Narrated Abu Hurairah: It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: 'Do not artificially inflate prices, a resident should not sell for a Bedouin, a man should not offer more for something that has already been bought by his brother, no one should propose marriage to a woman when someone else has already proposed to her, and no woman should try to bring about the divorce of her sister, in order to deprive her of the blessings that she has.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( دھوکہ دینے کیلئے ) چیزوں کی قیمت نہ بڑھاؤ ۱؎، کوئی شہری دیہاتی کا مال نہ بیچے ۲؎، اور کوئی اپنے بھائی کے بیع پر بیع نہ کرے، اور نہ کوئی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام دے، کوئی عورت اپنی بہن ( سوکن ) کے طلاق کی طلب گار نہ بنے کہ اس کے برتن میں جو کچھ ہے پلٹ کر خود لے لے“ ۳؎۔