TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3158 - بَابُ إِعْلَانِ النِّكَاحِ وَالْخِطْبَةِ وَالشَّرْطِ - نکاح کا بیان - Mishkat in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 19 of 20 in this chapter
بَابُ إِعْلَانِ النِّكَاحِ وَالْخِطْبَةِ وَالشَّرْطِ
اعلان نکاح ، خطبہ / منگنی اور شرط کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّمَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي أول الْإِسْلَام كَانَ الرجل يقدم الْبَلدة لَيْسَ لَهُ بِهَا مَعْرِفَةٌ فَيَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ بِقَدْرِ مَا يرى أَنَّهُ يُقِيمُ فَتَحْفَظُ لَهُ مَتَاعَهُ وَتُصْلِحُ لَهُ شَيَّهُ حَتَّى إِذَا نَزَلَتِ الْآيَةُ (إِلَّا عَلَى أَزوَاجهم أَو مَا ملكت أَيْمَانهم) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَكُلُّ فَرْجٍ سِوَاهُمَا فَهُوَ حرَام. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، متعہ اسلام کے ابتدائی دور میں تھا وہ اس طرح کہ آدمی شہر میں جاتا ، اس کی وہاں جان پہچان نہ ہوتی تو وہ وہاں اپنے قیام کے اندازے کے مطابق عورت سے شادی کر لیتا تو وہ اس کے سامان کی حفاظت کرتی اور اس کے لیے کھانا تیار کرتی حتی کہ جب یہ آیت نازل ہوئی :’’ مگر اپنی بیویوں پر یا اپنی لونڈیوں پر ۔‘‘ ابن عباس ؓ نے فرمایا :’’ ان دونوں (بیوی اور لونڈی) کی شرم گاہ کے سوا ہر شرم گاہ حرام ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
3158
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
(ضَعِيف)
Conclusion
تخریج
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۱۲۲) * موسی بن عبیدۃ : ضعیف ۔

Related Chapters

313
1
Chapter: What Has Been Related About Publicizing The Marriage
باب: نکاح کے اعلان کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About The Marriage Khutbah
باب: خطبہ نکاح کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Conditions When Contracting A Marriage
باب: عقد نکاح کے وقت شرط لگانے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
نکاح کے خطبہ کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
5
نکاح کی شرائط اور ممنوعہ شرطوں کا بیان
Musnad Ahmad
6
نکاح کے اعلان اور اس میں کھیل کود اور دف بجانے کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
7
خطبۃ الحاجہ یعنی نکاح اور دیگر مواقع پر دئیے جانے والے خطبہ کے الفاظ وعبارات کا بیان
Musnad Ahmad
8
(6) CHAPTER. The terms and the conditions of Mahr at the time of the marriage contract.
نکاح کے وقت مہر کی شرطیں
Sahih Bukhari
9
(8) CHAPTER. The conditions which are not permissible in the contracts of marriage.
جو شرطیں نکاح میں جائز نہیں ان کا بیان
Sahih Bukhari
10
(46) CHAPTER. None should ask for the hand of a lady who is already engaged to his brother (Muslim), but one should wait till the first suitor marries her or leaves her.
کسی مسلمان بھائی نے ایک عورت کو پیغام بھیجا ہو تو دوسرا شخص اس کو پیغام نہ بھیجے جب تک وہ اس سے نکاح نہ کرے یا پیام نہ چھوڑ دے یعنی منگنی توڑ دے ۔
Sahih Bukhari
11
(48) CHAPTER. Al-Khutba (for Nikah) (a speech delivered at the time of concluding the marriage contract).
( عقد سے پہلے ) نکاح کا خطبہ پڑھنا ۔
Sahih Bukhari
12
(53) CHAPTER. The conditions stipulated in the marriage (contract).
نکاح میں جو شرطیں کی جائیں ( ان کا پورا کرنا ضروری ہے ) ۔
Sahih Bukhari
13
(54) CHAPTER. The conditions that are not lawful in the marriage contract.
وہ شرطیں جو نکاح میں جائز نہیں ۔
Sahih Bukhari
14
CHAPTER: Regarding A Sermon For The Marriage.
باب: خطبہ نکاح کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
15
خطبہ نکاح کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
16
نکاح کے اعلان کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
17
نکاح میں شرط کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
18
باب: نکاح کے وقت کون سا کلام (خطبہ) پڑھنا مستحب ہے؟
Sunnan Nisai
19
باب: نکاح کی شرطوں کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
باب: دف بجا کر اور بلند آواز سے نکاح کا اعلان۔
Sunnan Nisai
21
Chapter: What Has Been Related About The Dislike For Buying, Selling, Loudly Seeking Out A Lost Item And Reciting Poetry In The Masjid
باب: مسجد میں خرید و فروخت کرنے، کھوئی ہوئی چیز کا اعلان کرنے اور شعر پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Khutbah On the Minbar
باب: منبر پر خطبہ دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About Curtailing The Khutbah
باب: خطبہ کے درمیانی ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About The Direction The Imam Faces When Delivering The Khutbah
باب: خطبہ کے وقت امام کی طرف منہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: [What Has Been Related] About Two Rak'ah When One Arrives While the Imam Is Delivering The Khubah
باب: خطبہ کے دوران آدمی آئے تو پہلے دو رکعت نماز پڑھے
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About If Being Disliked to Talk While The Imam Is Delivering The Khutbah
باب: امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گفتگو کرنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
27
Chapter: [What Has Been Related] About It Being Disliked To Step Over (The Necks Of Others) On Friday
باب: جمعہ کے دن (دوران خطبہ) لوگوں کی گردنیں پھاندنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About Al-Habwah Being Disliked While The Imam Is Delivering The Khutbah
باب: امام کے خطبہ دینے کی حالت میں احتباء کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
Chapter: [What Has Been Related] About The Eid Prayers Before The Khutbah
باب: عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About: One Who Is Married For Three Things
باب: عورت سے عام طور پر تین باتوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About The Times In Which Marriage Is Recommended
باب: ان اوقات کا بیان جن میں نکاح کرنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Marriage Except With A Wali
باب: ولی کے بغیر نکاح صحیح نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Marriage Except With A Wali
باب: ولی کے بغیر نکاح نہ ہونے سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About: There Is No Marriage Except With Proof (Bayyinah)
باب: گواہ کے بغیر نکاح درست نہیں
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About A Slave Marrying Without The Permission Of His Owner
باب: مالک کی اجازت کے بغیر غلام کے نکاح کر لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Emancipates A Slave Woman, Then Marries Her
باب: لونڈی کو آزاد کر کے اس سے نکاح کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About (The Prohibition of) Mut'ah
باب: نکاحِ متعہ کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of The Shigar Marriage
باب: نکاح شغار کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About: A Woman Should Not Be Married Along With Her Paternal Aunt Nor Her Maternal Aunt
باب: پھوپھی کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بھتیجی سے نکاح کرنے اور خالہ کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی بھانجی سے نکاح کرنے کی حرمت کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What has been related about: There is no divorce before marriage
باب: نکاح سے پہلے طلاق واقع نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
بَاب الْخطْبَة وَالصَّلَاة
خطبہ اور نماز جمعہ کا بیان
Mishkat
42
بَابٌ خُطْبَةُ يَوْمِ النَّحْرِ
قربانی کے دن خطبہ دینے ، ایام تشریق میں کنکریاں مارنے اور وداع کا بیان
Mishkat
43
بَاب النّظر إِلَى المخطوبة وَبَيَان العورات
جس کو پیغامِ نکاح دیا جائے اسے دیکھنے اور پردہ کی چیزوں کا بیان
Mishkat
44
بَابُ الْوَلِيِّ فِي النِّكَاحِ وَاسْتِئْذَانِ الْمَرْأَةِ
نکاح میں ’’ولی‘‘ ہونے اور عورت سے اجازت طلب کرنے کا بیان
Mishkat
45
جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
46
دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
47
جو لوگ خطبۂ جمعہ کے دوران نبی کریمaسے بھاگ گئے تھے، ان کے قصے کا بیان
Musnad Ahmad
48
خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز عید کے دو رکعت کے ہونے کا اور عیدگاہ میں امام کے سامنے سترہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
49
عیدین کے خطبہ اور اس کے احکامات کا بیان، اور عورتوں کو وعظ کرنے اور ان کو صدقہ کرنے پر ابھارنے کا بیان
Musnad Ahmad
50
جمعہ کے خطبہ میں بارش کے لیے دعا کرنے اور نماز کے بغیر یہ دعا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

748
Jam e Tirmazi
1122
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ أَخُو قَبِيصَةَ بْنِ عُقْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا كَانَتْ الْمُتْعَةُ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ كَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ الْبَلْدَةَ لَيْسَ لَهُ بِهَا مَعْرِفَةٌ فَيَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ بِقَدْرِ مَا يَرَى أَنَّهُ يُقِيمُ، ‏‏‏‏‏‏فَتَحْفَظُ لَهُ مَتَاعَهُ وَتُصْلِحُ لَهُ شَيْئَهُ حَتَّى إِذَا نَزَلَتِ الْآيَةُ إِلا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ سورة المؤمنون آية 6 . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ فَكُلُّ فَرْجٍ سِوَى هَذَيْنِ فَهُوَ حَرَامٌ .
Muhammad bin Ka'b narrated that: Ibn Abbas said: Mut'ah was only during the beginning of Islam. A man would arrive in a land that he was not familiar with so he would marry a woman for the extent of time that he thought he would remain there. So his Mut'ah was upheld and his case was fine until the (following) Ayah was revealed: Except their wives or what their right hands possess. Then every private part other than those became unlawful.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ متعہ ابتدائے اسلام میں تھا۔ آدمی جب کسی ایسے شہر میں جاتا جہاں اس کی جان پہچان نہ ہوتی تو وہ اپنے قیام کی مدت تک کے لیے کسی عورت سے شادی کر لیتا۔ وہ اس کے سامان کی حفاظت کرتی۔ اس کی چیزیں درست کر کے رکھتی۔ یہاں تک کہ جب آیت کریمہ «إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم» ”لوگ اپنی شرمگاہوں کو صرف دو ہی جگہ کھول سکتے ہیں، ایک اپنی بیویوں پر، دوسرے اپنی ماتحت لونڈیوں پر“، نازل ہوئی تو ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: ان دو کے علاوہ باقی تمام شرمگاہیں حرام ہو گئیں۔
Mishkat
29
عَن معَاذ بن جبل قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سفر فَأَصْبَحت يَوْمًا قَرِيبا مِنْهُ وَنحن نسير فَقلت يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدنِي عَن النَّار قَالَ لقد سَأَلتنِي عَن عَظِيمٍ وَإِنَّهُ لِيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْت ثُمَّ قَالَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ الصَّوْمُ جُنَّةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةُ كَمَا يُطْفِئُ المَاء النَّار وَصَلَاة الرجل من جَوف اللَّيْل قَالَ ثمَّ تَلا (تَتَجَافَى جنُوبهم عَن الْمضَاجِع) حَتَّى بَلَغَ (يَعْمَلُونَ) ثُمَّ قَالَ أَلَا أَدُلُّكَ بِرَأْس الْأَمر كُله وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَأْسُ الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ ثُمَّ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ قُلْتُ بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ فَقَالَ كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نتكلم بِهِ فَقَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ أَوْ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه
معاذ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور کر دے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے ایک بہت بڑی بات کے متعلق پوچھا ہے ، لیکن وہ ایسے شخص کے لیے آسان ہے ، جس پر اللہ تعالیٰ اسے آسان فرما دے ، تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ، نماز قائم کرو ، زکوۃ ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ابواب خیر کے متعلق نہ بتاؤں ؟ روزہ ڈھال ہے ، صدقہ گناہوں کو ایسے مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے ، اور رات کے اوقات میں آدمی کا نماز پڑھنا (گناہوں کو مٹا دیتا ہے ) ۔‘‘ پھر آپ نے (سورۃ السجدہ کی آیت) تلاوت فرمائی :’’ ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں ۔‘‘ حتیٰ کہ آپ نے ’’ وہ عمل کیا کرتے تھے ‘‘ تک تلاوت مکمل فرمائی ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں دین کی بنیاد اس کے ستون اور اس کی چوٹی کے متعلق نہ بتاؤں ؟‘‘ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! ضرور بتائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ دین کی بنیاد اسلام ہے ، اس کا ستون نماز اور اس کی چوٹی جہاد ہے ۔‘‘ پھر فرمایا :’’ کیا میں تمہیں ان سب سے بڑی چیز کے متعلق نہ بتاؤں ؟‘‘ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، اللہ کے نبی ! ضرور بتائیں ، آپ نے اپنی زبان کو پکڑ کر فرمایا :’’ اسے روک لو ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! ہم اس سے جو کلام کرتے ہیں کیا اس پر ہمارا مؤاخذا ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ معاذ ! تیری ماں تجھے گم پائے ۔ لوگوں کو ان کی زبانوں کی کاٹ ہی ان کے چہروں یا نتھنوں کے بل جہنم میں گرائے گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ۔ رواہ احمد (۵/ ۲۳۱ ح ۲۲۳۶۶) والترمذی (۲۶۱۶) و ابن ماجہ (۳۹۷۳) و احمد (۵ / ۲۳۶ ، ۲۳۷ ، ۲۴۸) ۔
Mishkat
106
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَيْسَ لَهُمَا فِي الْإِسْلَامِ نَصِيبٌ: الْمُرْجِئَةُ وَالْقَدَرِيَّةُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میری امت میں زمین میں دھنس جانا اور صورتیں بدل جانا ہو گا اور یہ حال تقدیر کو جھٹلانے والوں میں ہو گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۴۶۱۳) و الترمذی (۲۱۵۳ ، ۲۱۵۲) و ابن ماجہ (۴۰۶۱) و سیاتی طرفہ (۱۱۶) ۔
Mishkat
1675
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا. اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ. اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعا فرماتے :’’ اے اللہ ! ہمارے زندوں ، ہمارے مردوں ، ہمارے موجود اور ہمارے غیر موجود ، ہمارے چھوٹوں اور ہمارے بڑوں ہمارے مردوں اور ہماری عورتوں کی مغفرت فرما ، اے اللہ ! تو ہم میں سے جسے زندہ رکھے تو اسے اسلام پر زندہ رکھ اور تو ہم میں سے جسے فوت کرے تو اسے ایمان پر فوت کرنا ، اے اللہ ! ہمیں اس کے اجر سے محروم کرنا نہ اس کے بعد ہمیں فتنے کا شکا کرنا ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد و الترمذی وابن ماجہ ۔
Mishkat
2279
وَعَن عبد الله بن يسر: أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيَّ فَأَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ أَتَشَبَّثُ بِهِ قَالَ: لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا بِذكر اللَّهِ) رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيث حسن غَرِيب
عبداللہ بن بسر ؓ سے روایت ہے کہ کسی آدمی نے عرض کیا اللہ کے رسول ! شرائع اسلام (فرض ، نفلی عبادات) مجھ پر غالب آ گئے ، آپ کسی ایک چیز کے متعلق مجھے بتائیں کہ میں اس کے ساتھ تمسک (لگاؤ) اختیار کر لوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تیری زبان پر ہر وقت اللہ کا ذکر جاری رہنا چاہیے ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۳۷۵) و ابن ماجہ (۳۷۹۳) ۔
Mishkat
2399
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ إِذَا أَمْسَى وَإِذَا أَصْبَحَ ثَلَاثًا رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَة» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ
ثوبان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب کوئی مسلمان آدمی صبح و شام تین مرتبہ کہتا ہے :’’ میں اللہ کے رب ہونے پر ، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد (ﷺ) کے نبی ہونے پر راضی ہوں ۔‘‘ تو پھر اللہ پر حق ہے کہ وہ روز قیامت اس (شخص) کو راضی کرے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی ۔
Mishkat
2428
عَن طلحةَ بنِ عبيدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
طلحہ بن عبیداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب چاند دیکھتے تو آپ یہ دعا پڑھتے تھے :’’ اے اللہ ! تو اسے امن و ایمان اور سلامتی و اسلام کے ساتھ ہم پر طلوع فرما ، (اے چاند !) میرا اور تیرا رب اللہ ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Mishkat
2751
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «آخِرُ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْإِسْلَامِ خَرَابًا الْمَدِينَةُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اسلامی بستیوں میں سے مدینہ ایسی بستی ہے جو سب سے آخر میں ویران ہو گی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Mishkat
2947
وَعَن عمرَان ابْن حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عمران بن حصین ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسلام میں جلب ، جنب اور شغار نہیں اور جو شخص کوئی لوٹ مار کرے تو وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔