TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب الْأَشْرِبَة - مشروبات کا بیان - کھانوں کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 3 of کھانوں کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 5 · 23 Hadith
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا. مُتَّفق عَلَيْهِ. وزادَ مسلمُ فِي روايةٍ ويقولُ: «إِنَّه أرْوَى وأبرَأُ وأمرأ»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ پینے کے دوران تین سانس لیا کرتے تھے ۔ بخاری ، مسلم ۔ اور امام مسلم ؒ نے ایک روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے : آپ ﷺ فرماتے تھے :’’ یہ (تین سانس لینا) زیادہ پیاس بجھاتا ہے ، صحت افزا ہے اور زیادہ باعث ہضم ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۶۳۱) و مسلم (۱۲۳ / ۲۰۲۸) ۔ 5687
4263
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن الشّرْب من قي السقاء
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مشکیزے کے منہ سے پینے سے منع فرمایا ہے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۶۲۹) و مسلم (لم اجدہ) ۔
4264
Sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ. زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَاخْتِنَاثُهَا: أَنْ يُقْلَبَ رَأْسُهَا ثُمَّ يُشْرَبَ مِنْهُ
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مشکیزوں کے منہ موڑ کر ان سے پانی پینے سے منع فرمایا ہے ۔ اور ایک روایت میں اضافہ نقل کیا ہے : مشکیزوں کا منہ موڑنا یہ ہے کہ اس کا دہانہ اُلٹا کر پھر ان سے پیا جائے ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۶۲۵) و مسلم (۱۱۱ / ۲۰۲۳) ۔ 5272
4265
Sahih
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
انس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے منع فرمایا کہ آدمی کھڑا ہو کر پیئے ۔ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۱۳ / ۲۰۲۴) ۔ 5275
4266
Sahih
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَشْرَبَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَائِمًا فَمَنْ نَسِيَ مِنْكُمْ فَلْيَسْتَقِئْ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص کھڑا ہو کر نہ پیئے ، تم میں سے جو شخص بھول جائے تو وہ قے کر دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۱۱۶ / ۲۰۲۶) ۔ 5279
4267
Sahih
وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے ڈول میں آبِ زم زم نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر نوش فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۶۳۷) و مسلم (۱۲۰ / ۲۰۲۳) ۔ 5283
4268
Sahih
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ قَعَدَ فِي حَوَائِجِ النَّاسِ فِي رَحَبَةِ الْكُوفَةِ حَتَّى حَضَرَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ ثُمَّ أُتِيَ بِمَاءٍ فَشَرِبَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَذَكَرَ رَأسه وَرجلَيْهِ ثمَّ قَامَ فَشرب فَصله وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أُنَاسًا يَكْرَهُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نمازِ ظہر ادا کی پھر لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے وہ کوفہ کے چبوترے پر بیٹھ گئے حتی کہ نماز عصر کا وقت ہو گیا ، پھر پانی لایا گیا تو انہوں نے پانی پیا ، اپنا چہرا اور ہاتھ دھوئے ، اور راوی نے ذکر کیا ، آپ نے اپنا سر اور دونوں پاؤں دھوئے ، پھر کھڑے ہوئے اور بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا ، پھر فرمایا : لوگ کھڑے ہو کر پینا ناپسند کرتے ہیں ، جبکہ نبی ﷺ نے اسی طرح کیا جیسے میں نے کیا ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۵۶۱۶) ۔
4269
Sahih
وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ فَسَلَّمَ فَرَدَّ الرَّجُلُ وَهُوَ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي شَنَّةٍ وَإِلَّا كَرَعْنَا؟» فَقَالَ: عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فِي شَنٍّ فَانْطَلَقَ إِلَى الْعَرِيشِ فَسَكَبَ فِي قَدَحٍ مَاءً ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعَادَ فَشَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَهُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ایک انصاری صحابی کے پاس تشریف لے گئے اور آپ کے ساتھ آپ کے ایک ساتھی بھی تھے ، آپ نے سلام کیا تو اس آدمی نے سلام کا جواب دیا جبکہ آدمی باغ کو پانی لگا رہا تھا ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اگر تیرے پاس رات کا باسی پانی مشکیزے میں ہے تو ٹھیک ورنہ ہم تالاب سے منہ لگا کر پی لیتے ہیں ۔‘‘ اس آدمی نے عرض کیا ، میرے پاس رات کا باسی پانی ہے ، وہ سائبان کی طرف گیا ، پیالے میں پانی ڈالا پھر اس پر گھر میں پلی ہوئی بکری کا دودھ دھویا (اور اسے آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا) تو نبی ﷺ نے نوش فرمایا ، وہ آدمی دوبارہ لایا تو اس آدمی نے پیا ، جو کہ آپ کے ساتھ تھا ۔ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۵۶۱۳) ۔
4270
Sahih
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: «إِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ فِي آنِية الْفضة وَالذَّهَب»
ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے تو وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ انڈیلتا ہے ۔‘‘ بخاری مسلم ۔ متفق علیہ ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے :’’ بے شک جو شخص چاندی اور سونے کے برتن میں کھاتا اور پیتا ہے ۔‘‘
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۵۶۲۴) و مسلم (۱ / ۲۰۶۵) ۔ 5385
4271
Sahih
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ وَلَا الدِّيبَاجَ وَلَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلَا تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهِيَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ»
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ باریک اور موٹا ریشمی کپڑا مت زیب تن کرو اور سونے چاندی کے برتن میں پیو اور نہ ان کی پلیٹوں میں کھاؤ ، کیونکہ وہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۵۲۶) و مسلم (۴ / ۲۰۶۷) ۔ 5394
4272
Sahih
وَعَن أنسٍ قَالَ: حُلِبَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ دَاجِنٌ وَشِيبَ لَبَنُهَا بِمَاءٍ مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي فِي دَارِ أَنَسٍ فَأُعْطِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ فَشَرِبَ وَعَلَى يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ عُمَرُ: أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ: الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ وَفِي رِوَايَةٍ: «الْأَيْمَنُونَ الْأَيْمَنُونَ أَلاَ فيَمِّنوا»
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے لیے گھر میں پلی ہوئی بکری کا دودھ دھویا گیا اور پھر اس کے ساتھ انس ؓ کے گھر کے کنویں کا پانی ملایا گیا ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں وہ پیالہ پیش کیا گیا تو آپ نے اسے نوش فرمایا ، آپ کے بائیں طرف ابوبکر ؓ تھے اور آپ کے دائیں طرف ایک اعرابی تھا ، عمر ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ابوبکر کو دیں ، لیکن آپ نے اس اعرابی کو عطا فرمایا جو کہ آپ ﷺ کے دائیں طرف تھا ، پھر فرمایا :’’ دایاں تو دایاں ہی ہے ۔‘‘ ایک روایت میں ہے :’’ دائیں طرف والوں کو ، دائیں طرف والوں کو ، سنو ! دائیں طرف والوں کو مقدم رکھو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۳۵۲ و الروایۃ الثانیۃ : ۲۵۷۱) و مسلم (۱۲۵ / ۲۰۲۹ و الروایۃ الثانیۃ : ۱۲۶ / ۲۰۲۹) ۔ 5290
4273
Sahih
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ أَصْغَرُ الْقَوْمِ وَالْأَشْيَاخُ عَنْ يَسَارِهِ فَقَالَ: «يَا غُلَامُ أَتَأْذَنُ أَنْ أُعْطِيَهُ الْأَشْيَاخَ؟» فَقَالَ: مَا كُنْتُ لِأُوثِرَ بِفَضْلٍ مِنْكَ أَحَدًا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأعْطَاهُ إِيَّاه وَحَدِيث أبي قتادةَ سنذكر فِي «بَابِ الْمُعْجِزَاتِ» إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى
سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ کی خدمت میں ایک پیالہ پیش کیا گیا تو آپ نے اس سے نوش فرمایا ، آپ کے دائیں طرف ایک چھوٹا سا لڑکا تھا جبکہ عمر رسیدہ لوگ آپ کے بائیں طرف تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ لڑکے ! کیا تم اجازت دیتے ہو کہ میں یہ پیالہ عمر رسیدہ اشخاص کو دے دوں ؟‘‘ اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میں آپ کی بچی ہوئی چیز اپنے علاوہ کسی کو دینا پسند نہیں کرتا ، آپ ﷺ نے وہ اسے ہی عطا فرمایا ۔ متفق علیہ ۔ ہم ابوقتادہ ؓ سے مروی حدیث ان شاء اللہ تعالیٰ باب المعجزات میں ذکر کریں گے ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۳۵۱) و مسلم (۱۲۷ / ۲۰۳۰) 0 حدیث ابی قتادۃ سیاتی (۵۹۱۱) ۔ 5292
4274
Sahih
عَن ابنِ عمَرَ قَالَ: كُنَّا نَأْكُلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَمْشِي وَنَشْرَبُ وَنَحْنُ قِيَامٌ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں چلتے پھرتے اور کھڑے ہو کر بھی کھا پی لیا کرتے تھے ۔ ترمذی ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ الترمذی (۱۸۸۰) و ابن ماجہ (۳۳۰۱) و الدارمی (۲ / ۱۲۰ ح ۲۱۳۱) ۔
4275
Sahih
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جده قَالَ: رَأَيْت رَسُول لله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ قَائِمًا وَقَاعِدًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، میں نے دیکھا رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر بھی اور بیٹھ کر بھی پی لیا کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۸۸۳ وقال : حسن صحیح) ۔
4276
Sahih
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الْإِنَاءِ أَوْ يُنْفَخَ فِيهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۳۷۲۸) و ابن ماجہ (۳۴۲۸ ۔ ۳۴۲۹) ۔
4277
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَشْرَبُوا وَاحِدًا كَشُرْبِ الْبَعِيرِ وَلَكِنِ اشْرَبُوا مَثنى وثُلاثَ وَسَمُّوا إِذَا أَنْتُمْ شَرِبْتُمْ وَاحْمَدُوا إِذَا أَنْتُمْ رفعتُم» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اونٹ کی طرح ایک ہی گھونٹ میں نہ پیو بلکہ دو اور تین گھونٹوں میں پیو اور جب تم پیو تو اللہ کا نام لو اور جب تم برتن منہ سے ہٹاؤ تو الحمد للہ کہو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۸۸۵ وقال : غریب) * یزید بن سنان الجزری : ضعیف و شیخہ کانہ یعقوب (ضعیف) والا فمجھول ۔
4278
Zaeef
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ فَقَالَ رَجُلٌ: الْقَذَاةَ أَرَاهَا فِي الْإِنَاءِ قَالَ: «أَهْرِقْهَا» قَالَ: فَإِنِّي لَا أُرْوَى مِنْ نَفَسٍ وَاحِدٍ قَالَ: «فَأَبِنِ الْقَدَحَ عَنْ فِيكَ ثُمَّ تَنَفَّسْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ والدارمي
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مشروب میں پھونک مارنے سے منع فرمایا تو ایک آدمی نے عرض کیا ، برتن میں گرا ہوا تنکا دیکھوں تو پھر (کیا کروں) ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے پھینک دو ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، میں ایک سانس سے سیراب نہیں ہوتا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے منہ سے پیالہ ہٹا ، پھر سانس لے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی (۱۸۸۷ وقال : حسن صحیح) و الدارمی (۲ / ۱۱۹ ح ۲۱۷۲) ۔
4279
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ وَأَنْ يُنْفَخَ فِي الشَّرَابِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے پیالے کے ٹوٹے ہوئے حصے سے پینے سے اور مشروب میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
حسن ، رواہ ابوداؤد (۳۷۲۲) ۔
4280
Sahih
وَعَن كبْشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ مِنْ فِي قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ قَائِمًا فَقُمْتُ إِلَى فِيهَا فَقَطَعْتُهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غريبٌ صَحِيح
کبشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو آپ نے لٹکے ہوئے مشکیزے سے کھڑے ہو کر پانی پیا ، میں نے اس (مشکیزے) کے منہ کی طرف توجہ رکھی اور میں نے اس (مشکیزے کے منہ) کو کاٹ لیا ۔ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۸۹۲) و ابن ماجہ (۳۴۲۳) ۔
4281
Sahih
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ أَحَبُّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوَ الْبَارِدَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا
امام زہری نے عروہ کی سند سے عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کو ٹھنڈا شیریں مشروب زیادہ پسند تھا ۔ ترمذی اور انہوں نے کہا : صحیح وہ ہے جو زہری کی سند سے نبی ﷺ سے مرسل روایت کیا گیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۱۸۹۵) * الزھری مدلس و عنعن ولہ شاھد ضعیف عند احمد (۱ / ۳۳۸) ۔
4282
Zaeef