TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بَاب العطاس والتثاؤب - چھینک مارنے اور جمائی لینے کا بیان - آداب کا بیان - Mishkat with Urdu and English Translation

Chapter 6 of آداب کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 22 · 13 Hadith
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ فَإِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ وَحَمِدَ اللَّهَ كَانَ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ. فَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَان فَإِذا تثاءب أحدكُم فليرده مااستطاع فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَثَاءَبَ ضَحِكَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذا قَالَ: هَا ضحك الشَّيْطَان مِنْهُ
ابوہریرہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ چھینکنے کو پسند فرماتا ہے اور جمائی لینے کو ناپسند فرماتا ہے ۔ جب تم میں سے کوئی چھینک مارے اور ’’اَلْحَمْدُ لِلہِ‘‘ کہے ، تو اسے سننے والے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اسے ’’یَرْحَمُکَ اللہُ‘‘ ’’اللہ تم پر رحم فرمائے‘‘ کہے ۔ رہی جمائی تو وہ شیطان کی طرف سے ہے ، جب تم میں سے کوئی جمائی لیتا ہے تو وہ روکنے کی مقدور بھر کوشش کرے ، کیونکہ جب تم میں سے کوئی جمائی لیتا ہے تو شیطان اس سے مسکراتا ہے ۔‘‘ بخاری ۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے :’’ کیونکہ تم میں سے کوئی ایک (جمائی کے وقت) آواز نکالتا ہے تو شیطان اس سے ہنستا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری و مسلم ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۶۲۲۶ ، الروایۃ الاولی ، ۶۲۲۳ و الروایۃ الثانیۃ) و مسلم (۵۶ / ۲۹۹۴ الروایۃ الثانیۃ) ۔
4732
Sahih
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: إِذا عطسَ أحدُكم فلْيقلِ: الحمدُ لِلَّهِ وَلْيَقُلْ لَهُ أَخُوهُ - أَوْ صَاحِبُهُ - يَرْحَمُكَ اللَّهُ. فإِذا قَالَ لَهُ يَرْحَمك الله قليقل: يهديكم الله وَيصْلح بالكم رَوَاهُ البُخَارِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی چھینک مارے تو وہ ((اَلْحَمْدُ لِلہِ)) کہے اور اس کا (مسلمان) بھائی یا اس کا ساتھی اسے ((یَرْحَمُکَ اللہُ)) کہے ، جب وہ اسے ((یَرْحَمُکَ اللہُ)) کہے تو یہ (چھینک مارے والا) کہے : اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کر دے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
Takhreej
رواہ البخاری (۶۲۲۴) ۔
4733
Sahih
وَعَن أنسٍ قَالَ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ. فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ شَمَّتَّ هَذَا وَلَمْ تُشَمِّتْنِي قَالَ: «إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ وَلم تحمَدِ الله» . مُتَّفق عَلَيْهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، دو آدمیوں نے نبی ﷺ کے پاس چھینک ماری تو آپ نے ان میں سے ایک کو چھینک کا جواب دیا جبکہ دوسرے کو نہ کہا ، تو اس شخص نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ نے اس کے لیے دعا فرمائی جبکہ میرے لیے دعا نہیں فرمائی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس لیے کہ اس نے ’’الحمد للہ‘‘ کہا ، جبکہ تم نے ’’الحمد للہ‘‘ نہیں کہا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
Takhreej
متفق علیہ ، رواہ البخاری (۶۲۲۵) و مسلم (۵۳ / ۲۹۹۱) ۔ 7486
4734
Sahih
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتُوهُ وَإِنْ لَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ فَلَا تُشَمِّتُوهُ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جب تم میں سے کوئی چھینک مارے اور ’’الحمد للہ‘‘ کہے تو تم اسے دعا دو ۔ اور اگر وہ ’’الحمد للہ‘‘ نہ کہے تو تم اس کے لیے دعا نہ کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۵۴ / ۲۹۹۲) ۔ 7488
4735
Sahih
وَعَن سلمةَ بن الْأَكْوَع أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُ: «يَرْحَمُكَ اللَّهُ» ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَى فَقَالَ: «الرَّجُلُ مَزْكُومٌ» . رَوَاهُ مُسلم وَفِي رِوَايَة التِّرْمِذِيّ أَنَّهُ قَالَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ: «إِنَّهُ مَزْكُومٌ»
سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو سنا ، جبکہ ایک آدمی نے آپ کے پاس چھینک ماری ، تو آپ ﷺ نے اس کے لیے کہا : ((یَرْحَمُکَ اللہُ)) پھر اس نے دوسری مرتبہ چھینک ماری تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بندے کو زکام لگا ہوا ہے ۔‘‘ اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اسے تیسری مرتبہ (چھینک آنے پر) فرمایا کہ ’’ اسے زکام لگا ہوا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم و الترمذی ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۵۵ / ۲۹۹۳) و الترمذی (۲۷۴۳) ۔ 7489
4736
Sahih
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : «إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَمْسِكْ بِيَدِهِ عَلَى فَمه فإِنَّ الشيطانَ يدخلُ» . رَوَاهُ مُسلم
ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو وہ اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھے کیونکہ شیطان (منہ میں) داخل ہو جاتا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Takhreej
رواہ مسلم (۵۷ / ۲۹۹۵) ۔ 7491
4737
Sahih
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَطَسَ غَطَّى وَجْهَهُ بِيَدِهِ أَوْ ثَوْبِهِ وَغَضَّ بِهَا صَوْتَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيح
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب چھینک مارتے تو آپ اپنے ہاتھ یا اپنے کپڑے سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیتے اور اس کے ساتھ وہ اپنی آواز پست کرتے تھے ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۷۴۵) و ابوداؤد (۵۰۲۹) ۔
4738
Sahih
وَعَن أبي أَيُّوب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذا عطسَ أحدكُم فلْيقلْ: الحمدُ لله عَلَى كُلِّ حَالٍ وَلْيَقُلِ الَّذِي يَرُدُّ عَلَيْهِ: يَرْحَمك الله وَليقل هُوَ: يهديكم وَيصْلح بالكم رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ والدارمي
ابوایوب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی چھینک مارے تو وہ کہے : ہر حال پر اللہ کا شکر ہے ۔ اور جو شخص اسے جواب دے تو وہ کہے : اللہ تم پر رحم فرمائے ۔ اور وہ (چھینک مارنے والا) کہے : اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کر دے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۷۴۱) [و ابن ماجہ (۳۷۱۵)] و الدارمی (۲ / ۲۸۳ ح ۲۶۶۲) * محمد بن ابی لیلی ضعیف و حدیث البخاری (۶۲۲۴) یغنی عنہ ۔
4739
Zaeef
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: كَانَ الْيَهُودُ يَتَعَاطَسُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجُونَ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ: يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ فَيَقُولُ: «يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، یہود ، نبی ﷺ کے پاس اس امید پر چھینک مارا کرتے تھے کہ آپ انہیں ((یَرْحَمُکُمُ اللہ)) کہیں ، آپ ﷺ کہا کرتے تھے :’’ اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری حالت درست کر دے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی (۲۷۳۹ وقال : حسن صحیح) و ابوداؤد (۵۰۳۸) ۔
4740
Sahih
وَعَن هلالِ بن يسَاف قَالَ: كُنَّا مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. فَقَالَ لَهُ سَالِمٌ: وَعَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ. فَكَأَنَّ الرَّجُلَ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ فَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَقُلْ إِلَّا مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْكَ وَعَلَى أُمِّكَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلْيَقُلْ لَهُ مَنْ يَرُدُّ عَلَيْهِ: يرحمكَ اللَّهُ وَليقل: يغْفر لي وَلكم رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد
ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں ، ہم سالم بن عبید کے ساتھ تھے کہ اتنے میں لوگوں میں سے ایک آدمی نے چھینک ماری تو اس نے کہا : السلام علیکم ! (یہ سن کر) سالم نے کہا : تجھ پر اور تیری ماں پر ، گویا اس آدمی نے اپنے دل میں کچھ ناراضی محسوس کی ، انہوں نے فرمایا : سن لو ! میں نے تمہیں صرف وہی کچھ کہا ہے جو نبی ﷺ نے کہا تھا (ایک دفعہ) ایک آدمی نے نبی ﷺ کے پاس چھینک ماری تو اس نے کہا : السلام علیکم ! نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تجھ پر اور تیری ماں پر ، (پھر آپ ﷺ نے فرمایا ) جب تم میں سے کوئی چھینک مارے تو وہ ((اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ)) کہے ، اور جو اسے جواب دے تو وہ کہے : ((یَرْحَمُکَ اللہُ)) ، اور پھر وہ کہے : اللہ مجھے اور تمہیں بخش دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۷۴۰) و ابوداؤد (۵۰۳۱) * قال الحاکم :’’ الوھم فی روایۃ جریر (بن عبدالحمید) ھذا ظاھر فإن ھلال بن یساف لم یدرک سالم بن عبید ولم یروہ و بینھما رجل مجھول ‘‘ فالسند معلل ۔
4741
Zaeef
وَعَن عبيد بن رِفَاعَة عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «شَمِّتِ الْعَاطِسَ ثَلَاثًا فَإِنْ زَادَ فَشَمِّتْهُ وَإِنْ شِئْتَ فَلَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب
عبید بن رفاعہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ چھینک مارنے والے کو تین مرتبہ دعائیہ جواب دو ، وہ اگر اس سے زیادہ مرتبہ چھینک مارے تو پھر اگر تم چاہو تو اسے دعائیہ جواب دو اور اگر تم چاہو تو (جواب) نہ دو ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۵۰۳۶) و الترمذی (۲۷۴۴) * عبیدۃ : لایعرف حالھا و حمیدۃ لم یوثقھا غیر ابن حبان و ابو خالد یزید بن عبد الرحمن الدالانی مدلس و عنعن ۔
4742
Zaeef
وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: «شَمِّتْ أَخَاكَ ثَلَاثًا فَإِنْ زَادَ فَهُوَ زُكَامٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا أَنَّهُ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں :’’ اپنے (مسلمان) بھائی کو (چھینک مارنے کے جواب میں) تین بار دعائیہ جواب دو ، اگر چھینکوں میں اضافہ ہو جائے تو وہ زکام ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔ اور انہوں (راوی سعید المقبری) نے کہا : میں ان کے متعلق یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے حدیث کو نبی ﷺ کی طرف مرفوع کیا ہے ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۵۰۳۴) ۔
4743
Sahih
عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ إِلَى جَنْبِ ابْن عمَرَ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَأَنَا أَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ وَلَيْسَ هَكَذَا. عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقُولَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
نافع ؒ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر ؓ کے پہلو میں چھینک ماری تو کہا :’’ اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں ، اور رسول اللہ ﷺ پر سلام ہو ، (یہ سن کر) ابن عمر ؓ نے فرمایا : میں بھی کہتا ہوں : ہر قسم کی حمد اللہ کے لیے ہے ، اور رسول اللہ ﷺ پر سلام ہو ۔ مگر اس طرح کہنا ثابت نہیں ہے ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھایا تھا کہ ہم کہیں : ہر حال پر اللہ کا شکر ہے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۷۳۸) ۔
4744
Sahih

Chapters

22
01
بَاب السَّلَام
سلام کا بیان
39 Hadith
02
بَاب الاسْتِئْذَان
اجازت طلب کرنے کا بیان
10 Hadith
03
بَاب المصافحة والمعانقة
مصافحہ اور معانقہ کا بیان
18 Hadith
04
بَاب الْقيام
بطورِ تعظیم کھڑے ہونے کا بیان
12 Hadith
05
بَاب الْجُلُوس وَالنَّوْم وَالْمَشْي
بیٹھنے ، سونے اور چلنے کا بیان
25 Hadith
06
[6] بَاب العطاس والتثاؤب
چھینک مارنے اور جمائی لینے کا بیان
13 Hadith
07
بَاب الضحك
ہنسنے کا بیان
5 Hadith
08
بَاب الْأَسَامِي
ناموں کا بیان
33 Hadith
09
بَاب الْبَيَان وَالشعر
بیان و شعر کا بیان
29 Hadith
10
بَابُ حِفْظِ اللِّسَانِ
حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان
66 Hadith
11
بَاب الْوَعْد
وعدے کا بیان
6 Hadith
12
بَاب المزاح
مزاح (خوش طبعی) کا بیان
9 Hadith
13
بَاب الْمُفَاخَرَة
مفاخرت اور عصبیت کا بیان
18 Hadith
14
بَاب الْبر والصلة
حسن سلوک اور صلہ رحمی کرنے کا بیان
36 Hadith
15
بَابُ الشَّفَقَةِ وَالرَّحْمَةِ
مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
56 Hadith
16
بَابُ الْحُبِّ فِي
اللہ کے لیے اور اللہ کی طرف سے محبت کا بیان
24 Hadith
17
بَابُ مَا يُنْهَى
ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان
26 Hadith
18
بَابُ الْحَذَرِ وَالتَّأَنِّي
معاملات میں احتیاط و تحمل اختیار کرنے کا بیان
15 Hadith
19
بَابُ الرِّفْقِ وَالْحَيَاءِ
نرمی ، حیا اور حسن خلق کا بیان
36 Hadith
20
بَاب الْغَضَب وَالْكبر
غصے اور تکبر کا بیان
19 Hadith
21
بَاب الظُّلم
ظلم کا بیان
14 Hadith
22
بَاب الْأَمر بِالْمَعْرُوفِ
نیکی کا حکم دینے کا بیان
18 Hadith
No chapter matched that.